تہذبیوں کا تصادم اور توہین رسالت ــــ خورشید ندیم کے جواب میں — اسد احمد

0
  • 99
    Shares

تہذیب کی اساس فکری اور نظری ہے، جس کا بنیادی تقاضا نفاذ اور استمرار ہے۔ اَساس با ایں معنی کہ کوئی تہذیب زندگی، انسان کی حقیقت اور اس کے مقصدِ زندگی کا کیا تصور رکھتی ہے۔ چنانچہ اس میں تصورِاِلٰہ، تصورِحقیقت، خیروشر کا معیار اور اس نوع کے دیگر بنیادی تصورات شامل ہیں، ان تصورات پر کسی تہذیب کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس مقام سے بالکل عیاں ہوجاتا ہے کہ اسلام اور دیگر تہذیبوں میں نمایاں اور واضح فروق موجود ہیں۔ اوپر مذکور ہوا کہ تہذیب کی بنیاد نظری ہے اس ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے ساتھ تمام تہذیبوں کا ایک نظری اختلاف موجود ہے۔

یورپ کے نشاۃِ ثانیہ سے پہلے اسلام کا دیگر مذہبی تہذیبوں کے ساتھ مذکورہ تصورات پراختلاف ضرور تھا، شدت اگرچہ اتنی نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود بھی مسیحیت اسلام کا سب بڑا حریف رہا ہے۔ یہ حریفانہ تعلق صرف نظری حد تک محدود نہیں ہے، اس کا سب سے بڑا ثبوت صدیوں تک پھیلا ہوا صلیبی جنگوں کا سلسلہ ہے۔ پھر نشاۃِ ثانیہ نے کلیسا کا فسوں توڑ دیا، تو اسلام اور مغربی تہذیب کا فکری لحاظ سے اس قدر وسیع بُعد پیدا ہوا کہ دونوں میں کسی بھی لحاظ سے کوئی بھی قدرِمشترک باقی نہیں رہی۔ اب دونوں کا نظری تصادم نا گزیر ہے۔ اس بات پر اسلام اور مغرب دونوں متفق ہیں کہ ہمارا تصادم ہیں۔

چنانچہ مغرب کی جانب سے ہم ترجمانی کا دعویٰ نہیں کرتے اگر چہ انہوں نے نظری وعملی دونوں میدانوں میں بارہا ثابت کیا ہے کہ اسلام ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہ آج کی بات نہیں مغربی تہذیب جس کوکھ سے نکلی ہے ــــیعنی رومی اور یونانی تہذیبــــ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے تصادم چلا آرہا ہے۔ گیارہویں صدی اور ازمنہ وسطیٰ میں عیسائی دنیا مذہب کے نام پر اسلام کے خلاف نکل پڑی۔ رومی تہذیب کی آخری سینگ، یعنی موجودہ مغربی دنیا، کے ساتھ بھی مختلف شکلوں میں یہ تصادم جاری رہا۔ تاہم اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ تصادم ہر زمانے میں ہر سطح پر موجود رہا ہے۔ لیکن موجودہ مغربی تہذیب نے جو شکل اختیار کی ہے وہ نہایت بھیانک ہے۔

تصادم کے معنیٰ لازماً اور دائمی جھگڑا اور جنگ Perpetual War نہیں ہے، لیکن دونوں کی بنیادیں یکسر مختلف ہیں۔ اس فکری تصادم پر جانبین میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مغرب کی crude and soft power نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ جبر پر ہماری اجارہ داری ہے۔ لیکن اس جبر کے اندر بھی ایسا دجل و فریب پنہاں ہے کہ اس کا جبر بھی نہایت حسین لگتا ہے۔ لہذا مغرب صرف فکری تصادم تک محدود نہیں رہا بلکہ نفاذ کے لیے بھی ہر جائز و ناجائز کوشش کی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کو طعنے دینا تب شروع ہوئے جب ان کی تلوار زنگ آلود ہوئی، کمزور کو ہمیشہ یہ طعنے سننا پڑتے ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو مغرب اور اسلام کے درمیان ثالث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس دعویٰ کا اظہار خورشید ندیم صاحب نے گزدشتہ دنوں اپنے کالم میں کیا ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ اسلام اور مغرب کے مابین کوئی تصادم نہیں یہ محض دونوں جانب بیٹھے کچھ جذباتی قسم کے لوگ ہیں جو اس قسم کا جنگجویانہ مزاج رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سراج منیرکا تصور تہذیب (ٓآخری حصہ): عزیز ابن الحسن

 

سوال یہ ہے کہ ان کو یہ اجازت کس نے دی کہ اپنی طرف سے دونوں جانب کا فیصلہ کریں؟ ہم اس بحث میں نہیں جانا چاہتے کہ ابھی تک مغربی academia نے کیا کچھ پیش کیا ہے۔ مثلاً ہنٹنگٹن (Huntington) کا مشہور زمانہ تھیسس “The Clash of Civilizations” کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ہنٹنگٹن کوئی غیر ذمہ دار آدمی یا ”کچھ لوگ” نہیں ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤس کے سیکورٹی پلاننگ کے لیے نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کے اس تھیسس نے پوری دنیا پر بہت گہرا اثر ڈالا اوریہ سادہ لوح قلم کار کہہ رہے ہیں کہ یہ ”کچھ لوگ ہیں“ جو ایسا کہتے ہیں۔ باقی باتوں سے صرفِ نظر کرکے صرف اس پر توجہ دیں کہ ٹرمپ کی پالیسیاں اس خیال کی manifestation ہیں۔ “دی واشنگٹن پوسٹ” کے مضمون نگار نے اس کو یوں coin کیا:Samuel Huntington, a prophet for” “the Trump era۔

مسیحیت کا ذکر چلا تو یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ 9/11 کے بعد جارج ڈبلیو بش نے باقاعدہ صلیبی جنگ (Crusade) کا اعلان کردیا، اس کی تصدیق بھی اہم حکومتی ذمہ داران، وزیردفاع Donald Rumsfeld اور ایک اہم ذمہ دار Colin Powell کرچکے ہیں۔ عراق اور افغانستان پر ناجائز حملے اس کے علاوہ ہیں، بش اور ٹونی بلئیر نے معافی بھی مانگی تھی۔ John Chilcot کی مبسوط دستاویز “The Iraq Inquiry Report” 2016ء میں شائع ہوئی اس میں بتایا گیا کہ عراق پر حملہ درست فیصلہ نہیں تھا۔ تاہم ہنٹنگٹن نے صرف یہ نہیں بتایا کہ سرد جنگ کے بعد ٹکراؤ تہذیبوں کی ہوگی بلکہ مغرب کو تجاویز بھی دیں کہ اس وقت کون سی تہذیب زندہ ہے اور اٹھنے کی پوزیشن میں ہے۔ جیسا کہ ”ابلیس کی مجلسِ شوریٰ “ کے آخر میں ابلیس بتاتا ہے:

 ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اِس اُمت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

 ہنٹنگٹن نے صرف یہ پیش نہیں کیا کہ مغربی تہذیب کواصل کے ساتھ تصادم درپیش ہے بلکہ اس کو راستے سے ہٹانے کے لیے تجاویز بھی دیے ہیں۔ اگر خورشید ندیم صاحب صرف اس کو پڑھ لیے تھے یا RAND Corporation کی بعض رپورٹوں پر نظر ڈالتے تو یہ بے بنیاد دعویٰ کبھی نہ کرتے۔ اتنا بڑا دعویٰ انہوں نے صرف یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق کے توہین رسالت کے حالیہ فیصلے پر قائم کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کو مغرب کی بہت بڑی انصاف پسندی معلوم ہوتی ہے۔ آج تک یورپ جس گستاخی کا مرتکب ہو رہا تھا تو ان لوگوں کو یہ کبھی بھی نا انصافی معلوم نہیں ہوئی نہ کبھی انہوں اس پر بات کی۔ جب بھی یورپ میں کسی نے گستاخی کی تو یہ الٹا مسلمانوں پر بجلیاں گرانے لگ جاتے ہیں۔ جب بھی کہیں حملہ ہوجائے، بالخصوص یورپ، میں تو اس قسم کے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ حملہ اور مسلمان ہو، اگر کوئی دوسرا نکلے تو پھر یہ سانپ سونگھ جاتے ہیں۔ یورپ نے یہ فیصلہ انصاف پسندی کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ انہوں نے دباؤ میں اتنا بڑا فیصلہ صادر کیا۔ ورنہ یہ فیصلہ لبرل اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ اس بحث تفصیل کا تقاضا کرتا ہے لیکن ہائڈیگر کا ایک جملہ کافی ہے: ” freedom is nothingness”۔ “ اس ضمن میں ایک دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کل اسی عدالت نے کوئی اور ایسا فیصلہ دیا جو صریح اسلامی اصولوں کے خلاف ہو تو پھر ان کی پوزیشن کیا ہوگی؟

علاوہ ازیں خورشید ندیم صاحب تو ہیومن رائٹس کے فضائل میں شمار کرتے ہیں لیکن آج تک یورپ میں جو گستاخیاں ہورہی تھیں ان کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟ اوپر عرض کیا کہ اس احتجاج کا نتیجہ ہے جو مسلمانوں نے ایک عرصے سے جاری رکھا۔

فاضل مضمون نگار نے مسلمانوں کو دعوت کی تلقین کرتے ہیں اس موقع پر ان کو مسلمانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا کہ ان کے احتجاج سے یورپی عدالت اس فیصلہ پر مجبور ہوا۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے حسبِ روایت مسلمانوں کو مطعون کیا ہے۔ عجیب منطق ہے یہ لوگ ہمیشہ محکوم سے مطالبات کرتے ہیں انھوں نے کبھی استعمار سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ ظلم بند کریں!

آخر میں لکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ مغرب مین تصادم کی نفسیات رکھنے والوں کو غلبہ حاصل نہیں ہے اور ہنٹنگٹن کے نظریے کو لوگ مغرب کا اجماعی عقیدہ سمجھتے ہیں۔ اس کی مثال میں زید حامد اور بیت اللہ محسود کو پیش کیا ہے کہ یہ ایسا ہے جیسے کوئی ان لوگوں کو پاکستانی قوم کا نمائندہ بنا کر پیش کردے۔ یہ مثال غلط ہے، یہاں وہ عدمِ تصادم کی بات کرتے ہیں تو مثال یوں بنتی ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تصادم نہیں ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی خورشید ندیم صاحب کو امتِ مسملہ کا نمائندہ بنا کر پیش کردے۔ یہ وہ ”کچھ لوگ“ ہیں جو کہتے ہیں کہ تصادم نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: