مولانا سمیع الحق کی الم ناک شہادت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اسرار مدنی

0
  • 111
    Shares

گورارنگ ،لمبا قدا عتدال میں ڈھلی ہوئی، رنگت نکھری ہوئی داڑھی صاف، پر تمکنت چہرہ، چال باوقار، گفتگو بامحاورہ و دل نشین، زبان کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی، لباس سادہ و صاف، سر پر خاص قسم کا عمامہ، سادگی اور دلکشی کا حسین مرقع اکابر کی چلتی پھرتی تصویر، نہ اپنی علمیت پر غرہ اور نہ احساس کمتری کا شکار، راست فکر اور احقاق حق اور ابطال باطل کے فریضے کو بحسن ِ خوبی نبھانے والے، کشتی ملت کو بھنور سے نکالنے کیلئے مستعد و سرگرم، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق رحمتہ اللہ تعالیٰ کے افکار و علوم کے علمی و روحانی وارث اور جانشین مولانا سمیع الحق صاحب قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے۔

ان کی عہد ساز شخصیت عمل پیہم جہد مسلسل اور یقین محکم سے عبارت تھی۔ وہ دل و دماغ میں علم کاا یک بحر بیکراں اور صبر و استقامت کا کوہِ گرا تھے۔ وہ بیسویں صدی کی قابل فخر اور جامع الصفات والکمالات شخصیت تھے، جو میدان تدریس کے عظیم شہسوار، علم حدیث کے ماہر اور بہترین شارح اور ایک طرح دار صاحبِ قلم، میدان تقریر میں فصاحت و بلاغت کا بہتا ہوا چشمہ اور تحقیق و تصنیف کے میدان کے ماہر، کہنہ مشق، باریک بین، نکتہ دان اور زیرک محقق تھے، علم و کمال، دانش و بینش ، عبقریت اور نابغیث کا یہ آفتاب و مہتاب ۱۹۳۷ء کے آواخر اکوڑہ خٹک میں طلوع ہوا۔

ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم اور اسکے قائم کردہ انجمن تعلیم القرآن ہائی سکول سے حاصل کیا۔ ۱۹۵۷ء میں دورئہ حدیث پڑھ کر ۱۹۵۸ء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے دورئہ تفسیر پڑھنے گئے۔ اپنے لازوال ذکاوت وفطانت کے باعث حضرت شیخ کاپورا درس قلمبند کیا، جبکہ اکابر عرب وعجم میں سے شیخ الحدیث مولانا فخر الدین (دارالعلوم دیوبند)، شیخ الحدیث مولانا غور غشتوی، حضرت شیخ بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی اور الشیخ علوی مالکی (مکہ مکرمہ) نے اعزازی سندات سے نوازا۔ بچپن ہی سے شوق کتاب اور ذوق مطالعہ اپنے عظیم والد سے ورثہ میں ملی، چنانچہ ابتدا میں مولانا مناظر احسن گیلانی اور مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی نے آپ کے فکرو دانش کوجِلا بخشی، چنانچہ گیارہ بارہ سال کی عمر میں قلم و قرطاس کے پر خار وادی میں قدم رکھا اور اس مقام پر پہنچ گئے کہ خوشہ چیناں علم و دانش آ پ کے علم و کمال سے استفادہ کرنے لگے جس پر آپ کی بچپن کی ڈائریاں شاہد ہیں۔

اسی سلسلے کو بڑھاتے ہوئے ۵۶۹۱ میں ماہنامہ ”الحق” کا اجرا کیا جس نے اپنے ۰۵ سالہ زندگی میں علم وفن، ادب و صحافت، اشاعتِ اسلام کی ہر محاذ میں موثر کردار ادا کیا، چنانچہ موتمر المصنفین بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سے ان کی تصانیف قادیانیت کے بارے میں ملت اسلامیہ کا مقف، کاروان آخرت، قرآن کریم اور تعمیر اخلاق، شریعت بل کا معرکہ، حقائق السنن (شرح جامع ترمذی)، اسلام اور عصر حاضر، ذین المحافل شرح شمائل ترمذی، خطبات حق اور اسلام کام نظام اکل وشرب، مکاتیب مشاہیر (10جلد)، خطبات مشاہیر (10جلد) ہیں جس کی ترتیب و تدوین حضرت الاستاذ ۳۰ یا ۴۰ سال سے کام کر رہے تھے جو سات ضخیم جلدوں میں طبع ہوئی ہیں ان کی سب سے بڑی خواہش تفسیر لاہوریؒ کی تکمیل تھی جس میں26 پاروں کا کام مکمل ہو چکا ہے اور شہادت سے قبل بھی اس کی ترتیب و تدوین میں ہمہ تن مصروف تھے۔

تصوف میں حضرت مولانا عبد الغفور عباسی مہاجر مدنی سے بیعت و تعلق رہا، جبکہ تحریکات میں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۷ء میں مارچ سے مئی تک ہری پور میں پسِ دیوار زنداں رہے۔ جب سے دارالعلوم کے اہتمام کی ذمہ داری سنبھالی تو اپنے شبانہ روز محنت، مخلصانہ کاوشوں اور صلاحیتوں کے باعث دار العلوم حقانیہ کا پوری دنیا میں ایک بین الاقوامی تشخص قائم کیا، اسی طرح آپ کے اہتمام میں دارالعلوم دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی، جس پر دارالعلوم کے بلند و بالا عمارتیں شاہد و عادام ہیں۔

انہوں نے جب سیاست کے پرخار وادی میں قدم رکھا تو اپنے اجتہادی فکر و نظر کے بنا پر اسلامی ریاست کی ایک زبردست تاریخ رقم کی، چنانچہ ۱۹۵۷ء سینٹ کے ممبر بنے، ۱۹۸۶ ء میں جمعیت کے سیکرٹری جنرل اور یہیں سے شریعت بل کی صبر آزما جدوجہد کا آغاز کیا اور اسی مقصد کے لئے متحدہ شریعت کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے صد ر آپ کے والد ماجد رحمتہ اللہ تھے۔ متحدہ علما کونسل کے سیکرٹری جنرل، اسلامی جمہوری اتحاد کے سنیئر نائب صدر، متحدہ دینی محاذ کے داعی اور کنوئیر، جبکہ ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔

اس کے علاوہ بہت سے ملکی اور بین الاقوامی اسلامی تحریکات سے وابستہ رہے۔ چنانچہ ۲۰۰۱ء میں سود کے خلاف آل پارٹیز کا انعقاد کیا، جبکہ جہاد افغانستان اور تحریک طالبان میں مجاہدین کے اتحاد کو عبوری حکومت کے تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اسی سلسلہ میں پاک افغان ڈیفنس کونسل تشکیل دی گئی۔ جس کے داعی، کنوئیر ہی تھے، اس کا پہلا اجلاس بھی دارالعلوم حقانیہ کے دار الحدیث ایوان شریعت میں ہوا، جس کے پہلے صدر اتفاق رائے سے منتخب ہوئے ……چنانچہ اسی کونسل نے آگے چل کر متحدہ مجلس عمل کی شکل اختیار کر لی…… اس کے بعد متحدہ مجلس عمل میں مرکزی نائب صدر رہے اس کے بعد چالیس جماعتوں پر مشتمل دفاع پاکستان کونسل بنائی اور تا دم آخریں اس کے چیئرمین رہے ان کی شہادت پاکستان سمیت دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی لاکھوں لوگ پریشان اور غم سے نڈھال ہیں۔

مولانا سمیع الحق کے چار صاحبزادوں مولانا حامد الحق حقانی، مولانا حافظ راشد الحق، اسامہ سمیع اور حزیمہ سمیع سمیت ان کے تقریباً لاکھوں شاگردوں اور عقیدت مندوںکے لئے انتہائی سخت امتحان ہے اللہ تعالی سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: