ازالہ: زندگی سے جڑا کسیلا سچ — سدرہ راو کا افسانہ

0
  • 48
    Shares

میرے اردگرد بسے لوگوں میں سے کسی کی زندگی سے جڑا کسیلا سچ۔۔۔۔۔


ساڈا چڑیاں دا چنبا وے       بابل اساں اڈ جانا

ہفتہ بھر سے جاری ڈھولک کے بعد آج سامنے والوں کے ہاں لڑکی کی مہندی کی رسم جوش و خروش سے جاری تھی۔ سردیوں کی مختصر شاموں کی وجہ سے دوپہر ڈھلتے ہی ڈیک چلا دیا گیا۔ شادی پہ آئے مہمان کزنز نے رسموں کی مناسبت سے، بہت سے پاکستانی اور ہندوستانی گانے یکجا کر کے پہلے ہی ترتیب دے لیے تھے کہ عین وقت پر ڈھونڈنے کی فرصت نہ ہو گی۔

حوریہ چھت پر کپڑے سکھا رہی تھی جب یہ گانا لگا۔ اسے سن کر مایوں کی دلہن تو کیا، گھر کی چھت پہ کھڑی حوریہ، رخصت ہوتی دلہن کی طرح بِلک بِلک کر رو دی۔ اسے کبھی بابا کی کمی محسوس نہ ہوئی ہو گی۔ مگر آج اپنے بابا کے ساتھ کی خواہش بہت شدت سے امڈ کر اس کی آنکھوں کے رستے بہنے لگی۔ اس کا دل چاہا خدا سے پوچھے

‘بتا اب کس کے کاندھے لگ کر روؤں’۔

پل بھر میں یادیں اسے تپتے صحراؤں سے گزارتے، بیابان رستوں کی خاردار پگڈنڈیوں پہ گھسیٹتے اس کے ماضی میں لے گئیں، جہاں وہ بڑوں کی مرضی اور اپنی چاہت سے بہت سے وعدوں کے وفا ہونے کی امنگ لیے مجتبیٰ کی دلہن بنی بیٹھی تھی۔

مجتبیٰ حوریہ کا خالہ زاد کزن ہے۔ وہ بچپن سے ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ باپ کے گزرنے کے بعد ماں اور اکلوتے بھائی پر مشتمل حوریہ کی چھوٹی سی فیملی خاندان والوں کے رحم و کرم پر گزر بسر کر رہی تھی۔ حوریہ کی شادی کا خرچ بھی سب نے راضی خوشی بانٹ لیا تھا۔

مجتبیٰ کے لیے اس کی حوریہ چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھی۔ حوریہ کو بھی جب قدر کرنے والا شوہر ملا تو اسے اپنی ہی قسمت پر رشک آنے لگا۔ مجتبیٰ کو بھی شادی سے پہلے حوریہ سے کیا ہوا ایک اک وعدہ یاد تھا جنہیں پورا کرنے کے لیے اب وہ ہر ممکن طریقے سے کوشش میں مصروف رہتا۔ حوریہ بہت خوش تھی۔ اس کی آنکھیں ہر وقت تشکر کی نمی سے بھیگی رہتیں۔

سال بھی نہ گذرا کہ ان کے آنگن میں ایک ننھی سی قلقاری سنائی دینے لگی، جس نے انہیں نئے خوبصورت رشتوں میں پرو دیا۔ مجتبیٰ نے اس کا نام ماہ نور رکھا تھا، لیکن گھر پہ سب اسے حوریہ کی حور کہتے تھے۔ دبلی پتلی، ہنس مکھ سی وہ چڑیا سارے آنگن میں یہاں سے وہاں پھدکتی پھرتی۔ ایک طرف وہ باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ماں کی آنکھوں کا نور تھی، تو دوسری طرف دادا دادی کے چہروں پہ مسکراہٹ کی وجہ بھی وہی تھی۔

ان کی کائنات مکمل تھی۔ بلائیں لیتی ماں، پل پل شفقت کا احساس دلاتا باپ، والدین کی دعائیں، بیٹی کی صورت رب کی رحمت اور خوشنودی، سبھی کچھ تھا۔۔۔

وقت گزرتا گیا۔ ان کے ہاں حور کے بہن یا بھائی کے دنیا میں ویلکم کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ کچھ دن بعد وہ اپنی شادی کی تیسری سالگرہ بھی منانے والے تھے کہ ہنستی بستی اس آئیڈیل فیملی کی زندگی میں اوتھیلو (Othello) ڈیسڈی مونا (Desdemona) کی کہانی جیسا موڑ آیا۔ ان کی خوشیوں بھری زندگی کو کسی ایاگو (Iago) کی نظر لگ گئی، جس نے اپنے کچھ مقاصد کے حصول کے لیے مجتبیٰ کے دل میں حوریہ کی طرف سے شک کا بیج بو دیا۔

مجتبیٰ دوسری بار باپ بننے پر خوش تھا، لیکن اب اس کی گرمجوشی پہلے سی نہ تھی۔ اس کی خاموشی حوریہ کو “something went wrong” (کچھ گڑبڑ ہے) کا الارم دے رہی تھی۔

ماہ نور اب بولنا سیکھ رہی تھی۔ مجتبیٰ آتے جاتے حور کو کہتا، “آپ کی ماما دو نمبر ہیں”۔ اور وہ بچی جملے کی کاٹ سے انجان، خوشی خوشی اپنی ٹوٹی پھوٹی، توتلی سی زبان میں “مما دو نمبر، مما دو نمبر” کہتے تالیاں بجاتی رہتی۔

حوریہ کو مجتبیٰ کا اچانک بدلتا رویہ خوف زدہ کر رہا تھا۔ روایتی شوہروں کی فطرت سے انجان حوریہ نے سوچا کہ مجتبیٰ کو اس سے کوئی شکوہ ہے تو ایک دن زبان پر بھی آ جائے گا۔ اس کا انتظار طویل ہوتا گیا، لیکن مجتبی کی چپ نہ ٹوٹی۔ وہ اب بات بے بات بگڑنے لگا تھا۔ حوریہ کبھی پوچھ بھی لیتی تو کھل کر بات کرنے کی بجائے وہ صرف اتنا ہی کہتا؛

“تم دو نمبر عورت ہو، تم نے میرے ساتھ بے وفائی کی ہے۔”

مگر وہ اپنے خدشات اور اس غلط فہمی کے جنم کی وجہ شئیر کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ ان کے رشتے میں چبھن بھری سرد مہری در آئی۔ بات علیحدگی اور پھر طلاق تک پہنچ گئی۔ عدالت لگی نہ کیس چلا۔ اور پھر ایک دن کسی صفائی کا موقع دیے بغیر، تین جملے بول کر اس نے حوریہ کو اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا۔ بچے بھی کسی مزاحمت کے بغیر حوریہ کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔

حوریہ بہت سے سوالوں سے گِھری دونوں بچوں کو آغوش میں بھرے اپنی ماں کی دہلیز پہ آن دھری تھی۔ اپنی ممتا بھلائے، آج وہ خود اپنی ماں کی آغوش میں سر رکھ کر گہری نیند سونا چاہتی تھی۔۔۔

کرائے کے گھر میں رہتی، رشتہ داروں کے رحم و کرم پر گھر کا خرچ چلاتی، حوریہ کی بیوہ ماں امیروں کی اولاد کے ناز کہاں سے اٹھاتی۔ دوسری طرف حوریہ پر مجتبیٰ کے لگائے جھوٹے الزامات کی وجہ سے اب اکثر رشتے داروں نے مالی مدد کی طرف سے ہاتھ کھینچ لیے تھے۔

خاندان والوں کے طعنوں نے جینا محال کیا تو حوریہ کی ماں نے اپنی بیٹی اور نواسے نواسی کو لے کر لاہور شفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی جاننے والے کے توسط سے گھر کرائے پر لے کر وہ لوگ مختصر سے سامان کے ساتھ اپنا آبائی شہر بہاولپور چھوڑ کر لاہور آ کر رہنے لگے۔ شادی سے پہلے بہن پر جان چھڑکنے والا بھائی اب اسے کڑوی کڑوی نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔ یتیموں جیسے دو معصوموں کا خرچ اٹھانے کے لیے بہت بڑا دل چاہیے تھا جو اس کے بھائی کے پاس نہ تھا۔

ماہ نور اپنی مما کو سارے گھر میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے چھت پر آ گئی۔ کھوئی کھوئی نظروں سے ٹکٹکی باندھے، دور کہیں کوئی منظر دیکھتے، گرم گرم آنسو بہاتی حوریہ پلر سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔
ماہ نور نے قریب آ کر بازو سے ہلایا۔

“مما معیز بہت دیر سے رو رہا ہے۔ نانو کہہ رہی ہیں اس کے لیے فیڈر بنا دیں۔”

حوریہ کی کلائی پر ماہ نور کا ہاتھ کسی طور مرہم سے کم نہ تھا۔ وہ بذات خود ایک مرہم تھی جو طلاق کے بعد سے اسکے زخموں کو رفتہ رفتہ بھرتے اسے زندہ رکھے ہوئے تھی۔ یادوں کا طلسم بہت خاموشی سے ٹوٹا تھا اور وہ گانا بھی ختم ہو چکا تھا۔

“بیٹا آپ چلو، میں کپڑے پھیلا کر آتی ہوں۔
سیڑھیاں دھیان سے اترنا۔”
حوریہ کپڑے پھیلانے لگی۔

نئے شہر میں کرائے کا گھر، بِلوں کے اخراجات اور بچوں کی ضروریات کے لیے حوریہ نے کبھی پرائیویٹ سکول میں جاب کی تو ساتھ کپڑوں کی سلائی کی۔ کبھی کبھار بھائی کا دل نرم پڑتا تو وہ گھر خرچ کے نام پر دو چار ہزار بہن کے ہاتھ پہ رکھ دیا کرتا۔ جس قدر بے آسرا زندگی یہ لوگ گزار رہے تھے، اب انہیں زکوٰۃ خیرات لینے سے بھی انکار نہ تھا۔ سکول کی ٹیچرز اور محلے والوں نے حالات دیکھتے ہوئے انکے گزر بسر کے لیے لگی بندھی کچھ رقم اور راشن باندھ دیا تھا۔

ماہ نور کے چھوٹے ہوتے کپڑے، بڑے ہوتے معیز کی بڑھتی خوراک اور ماں کی دن بدن گرتی صحت۔۔۔۔ اس کی زندگی میں بس یہی کچھ تھا جس سے اسے وقت کے گزرنے کا احساس ہوتا تھا، اس کی اپنی زندگی تو آج بھی اسی لمحے میں کہیں رکی ہوئی تھی جہاں مجتبیٰ نے تین جملے بول کر اسے اپنی زندگی سے بے دخل کیا تھا۔

سمے کا پہیہ وقت کو گھسیٹتے بارہ سال آگے کھینچ لایا۔ یعنی ہر لمحہ خود کو زندہ رہنے پر کامیابی سے آمادہ کرتے بارہ برس بیت گئے تھے، جس کا ایک اک پل حوریہ نے انگلیوں پہ گن کر گزارا تھا۔ اس دوران حوریہ کی کم عمری کی وجہ سےکچھ رشتے بھی آتے۔ مگر وہ بچوں سے دور ہونے پر آمادہ نہ تھی۔ بلآخر ایک ایسا پروپوزل آیا جسے حوریہ کے بچوں کے اسکے ساتھ رہنے پر اعتراض نہ تھا۔

شومئی قسمت، کچھ ہی دن گزرے کہ نئے شوہر کے نئے نئے تیور دکھائی دینے لگے، جس سے دنیا کے خوبصورت ترین رشتے کو نبھانا حوریہ کے لیے ایک بار پھر مشکل ہو گیا۔ حوریہ کی روح پہلے ہی دکھوں سے چور تھی، اس میں مزید ذہنی و جسمانی تشدد سہنے کی ہمت نہیں تھی، اس لیے خلع لینے میں عافیت جانی۔ اور یوں ایک بار پھر مرد کے ہاتھوں ستائی حوریہ، ماں کی آغوش میں پناہ لینے آگئی

اس طویل عرصے میں گھر کے بڑوں کی کسی پرانی رنجش کے سبب سازش کے تانے بانے کھلنے لگے۔ نتیجے میں حوریہ پر لگے الزامات کی حقیقت مجتبیٰ پر ظاہر ہوگئی۔ سنی سنائی بات پر یقین کرنے سے نہ صرف اس کے حصے میں تنہائی آئی تھی بلکہ مزید تین زندگیاں بھی اس کے غلط فیصلے کی سزا بھگت رہی تھیں۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ پیار کرنے کے لیے بھی عقلمندی ضروری ہے۔ اس نے بے اختیار دہرایا۔ ” I loved but not wisely. ”

اس نے دل ہی دل میں کچھ فیصلہ کیا، اور اب وہ ایک لمحہ بھی مذید ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

اک طویل مسافت کے بعد آج ایک بار پھر حوریہ اُسی کمرے میں مجتبٰی کے سامنے بمشکل اپنی سانسیں سنبھالے بیٹھی تھی۔ مجتبیٰ کی زوجیت کے لیے حوریہ کا اقرار اور اب اس کے ہونٹوں پہ سجی نرم مسکراہٹ اس بات کا اظہار تھا کہ اس نے معاف کر دیا ہے۔ مجتبیٰ آنکھوں میں اپنی غلطی کے اعتراف، ندامت، تشّکر، شرمندگی اور احسان مندی کے ڈھیروں آنسو لیے، اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے خاموش بیٹھا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: