’اگر مولانا مودودی یہی فیصلہ کرتے تو وہ بھی غلط کرتے‘۔ عبدالکریم عابد

0

تحریر: احمد حاطب صدیقی

عابد صاحب اُن چند لوگوں میں سے ایک ہیں جن کا طرزِ تحریر ہمیں بہت متاثر کرتا تھا۔ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ہم بھی اُنھی کی طرح کے چھوٹے چھوٹے، مختصر، سادہ اور اثر آفریں فقروں میں اپنی بات کہنے کا سلیقہ سیکھ لیں۔

جب ہم کچھ پڑھنے اور پڑھ کر سمجھنے کے قابل ہوئے تو ہمارے گھر کے بزرگوں میں عابدؔ صاحب کی تحریروں کا بھی بڑا چرچا تھا۔ اُس وقت ملک کو سوشل اِزم کے حوالے کرنے کی ایک نام نہاد تحریک عروج پر تھی۔ اور تمام ترقی پسند ادیب، شاعر، دانشور، فلسفی اور تجزیہ نگار اِس پُر کشش نعرے کے حمایتی ہوگئے تھے کہ:
’’روٹی، کپڑا اور مکان…مانگ رہا ہے ہر انسان!‘‘

کارل مارکس اِن منگتے انسانوں، غریبوں، محنت کشوں اور کسانوں کے محسن سمجھے اور سمجھائے جانے لگے تھے۔ ماؤزے تنگ اِن میں سے ایک گروہ کے اور لینن دوسرے گروہ کے رہبرورہنما بن گئے تھے۔ اُس وقت کمیونزم اور سوشل اِزم کا حمایتی ہوناگویا پڑھے لکھے، قابل اور دانشور ہونے کی علامت بن گیا تھا۔ محلوں میں رہ کر جھونپڑو ں کے خواب دیکھنا سیاسی لیڈروں کا فیشن تھا۔ صحافت میں تو یہ عفریت بُری طرح گھس آیاتھا۔ اور جسے دیکھیے بیگنی رنگ کا ’سرخا‘ بنا پھرتا تھا۔

اﷲ اپنی رحمتیں نازل فرمائے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پر، جنھوں نے علمی، فلسفیانہ، دانشورانہ اور عام فہم سطح پر بھی اِس فتنہ کاہمہ گیر مقابلہ کیا اور معاشرے کے ہر طبقے میں اسلام کی دعوت عملاً پہنچا کر تمام باطل نظریات کے جھاڑ جھنکار اُکھاڑ پھینکے۔ صورتِ حال یہ ہوگئی تھی کہ اُس دور میں جو شخص بھی اﷲ کے دین کی کاملیت اور رسول اﷲﷺ کی شریعت کی جامعیت کی بات کرتا اُس پر جھٹ ’جماعتِ اسلامی کا ایجنٹ‘ ہونے کا الزام دھر دیا جاتا۔ اور ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ ایسے اکثر افراد اِس ’الزام‘ کی تردید کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ کیوں کہ ’جماعتِ اسلامی کا ایجنٹ‘ ہونا ملحدانہ نظریات رکھنے والی بیرونی تنظیموں کا ایجنٹ ہونے سے بہر حال بہتر تھا۔ وہ تو بہت سے لوگوں کی بابت بہت بعد میں معلوم ہوا کہ بِچارے یونہی ’جماعتیے‘ مشہور ہو گئے تھے۔ جماعتِ اسلامی سے اُن کا کوئی تنظیمی تعلق نہ تھا۔ بس اُن کا ’قصور‘ یہ تھا کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ آج بھی صرف محمد رسول اﷲؐ کا دین ہی تمام انسانیت کے تمام مسائل کا حل ہے۔

تمہیدی بات بہت لمبی ہوگئی۔ کہنا یہ تھا کہ اُس دور کی صحافت میں عبد الکریم عابد صاحب اُن گنے چُنے چند صحافیوں میں سے ایک تھے، جوصحافتی محاذ پر بیرونی نظریات کے ایجنٹوں سے برسرِ پیکار تھے۔ پس وہ بھی ’جماعتی‘ قرار دیے گئے اور انھی معنوں میں مرتے دم تک جماعتی رہے۔ جماعتِ اسلامی چوں کہ اپنے ارکان اور کارکنان ہی میں نہیں، حامیوں اور ناصروں میں بھی یہ عقیدہ عملی طور پر راسخ کردیتی ہے کہ اسلام ایک نظریۂ حیات، ایک کوڈ آف لائف ہے، اور زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی کے لیے ہماری نظر صرف ہادیٔ برحقؐ ہی کی طرف اُٹھنی چاہیے، چناں چہ کسی نے یہ ٹھیک ہی کہا ہے کہ:

’’ اگر کوئی شخص جماعتِ اسلامی سے نکل بھی جائے تو جماعتِ اسلامی اُس کے اندر سے نہیں نکلتی‘‘۔

سوشل اِزم اور کمیونزم کے موضوعات پر عابدؔ صاحب کی پُر مغز تحریروں نے بڑے لوگوں کو متاثر کیا۔’کارل مارکس کا نفسیاتی تجزیہ‘ اُن کا ایک ایسا کارنامہ تھا جس نے پورے برِّ صغیر میں اُن کی دھوم مچادی۔اشتراکیت کے خلاف اُنھوں نے بڑے معرکے کی چیزیں لکھیں۔
مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ عبدالکریم عابد صاحب صرف پانچویں جماعت پاس تھے؟عابد ؔصاحب نے بڑی محنت کوش اور کٹھن زندگی گذاری۔ ایسی زندگی کا انتخاب اُنھوں نے خود کیا تھا۔ ورنہ ایک اُردو محاورے کے مطابق وہ ’منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے‘۔ اُنھوں نے اپنے حالاتِ زندگی کو’جسارت‘ میں قسط وار لکھنا شروع کیا۔ یہ’آپ بیتی‘ کم اور’جگ بیتی‘ زیادہ تھی۔ اس قیمتی دستاویز کو کتابی صورت میں چھاپا گیا مگر یہ مقبول کتاب چھپتے ہی عدم دستیاب ہوگئی۔ بعد میں برادر شاہد ہاشمی نے ادارۂ معارفِ اسلامی کراچی سے یہ کتاب’ سفر آدھی صدی کا‘ کے نام سے پھر شائع کردی۔ اِس کتاب میں عبدالکریم عابد صاحب نے اپنے نصف صدی کے مشاہدات، تجربات اور واقعات اپنے شستہ طرزِ تحریر میں نہایت بے تکلفی سے بیان کیے ہیں۔جب اُنھوں نے بمبئی میں آنکھ کھولی تھی تو یہ برٹش انڈیا کا ایک شہر تھا۔اُنھوں نے تاریخ بنتے اور بگڑتے دیکھی۔ اپنی زندگی میں اُنھوں نے جن مشاہیرکے ساتھ کام کیا، جن سے ملاقاتیں ہوئیں اور جن سے دوستیاں رہیں، سب کا تذکرہ نہایت صاف گوئی کے ساتھ کیا ہے۔
اپنی آپ بیتی میں عابدؔ صاحب لکھتے ہیں:
’’ جب میری عمر بارہ برس کی تھی تو علم و ادب کی نامور شخصیتوں میں حد درجہ جاذبیت معلوم ہوتی تھی اور اس جاذبیت کے زیرِ اثر میرا فیصلہ تھا کہ زندگی علم و ادب اور صحافت کے کوچے میں بسر کروں گا اور دولت کمانے یا مادی اعتبا ر سے کامیا ب زندگی کے لوازمات سے بے پروا رہوں گا۔یہ خواب اس لحاظ سے بھی ایک دیوانے کا خواب تھا کہ خاندانی حالات اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے تھے اور زندگی میں کسی کالج یا یونیورسٹی کی شکل دیکھنے کی نوبت نہیں آئی تھی اور پانچویں جماعت پر تعلیم ختم کرکے کاروباری زندگی کا آغاز کرنا پڑا تھا جو کا فی مصروفیت کی زندگی ہوتی ہے‘‘۔
عابدؔ صاحب نے اپنی زندگی اپنے اس خواب کے عین مطابق گذاری۔ تمام عُمر علم و ادب اور صحافت کے کوچے میں بسرہوئی اور دولت کمانے یا مادی اعتبا ر سے کامیا ب زندگی گذارنے کی بجائے اُنھوں نے علمی دُنیا کی کج کُلاہی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ گو کہ اُن کی زندگی تکالیف میں گذری لیکن وہ واقعی کامیاب زندگی کے لوازمات سے بے پرواہی رہے۔ اُنھوں نے بہت سی شاہانہ پیش کشوں کو ٹھکرا کر اپنی درویشی برقرار رکھی۔ ابتدا میں اُنھوں نے سخت فاقہ مستی کی کے دن بھی گذارے۔ اُس زمانے میں بقول اُن کے چار آنے میں آدمی پیٹ بھر کر کھا سکتا تھا۔ لیکن بعض اوقات یہ چار آنے بھی نہیں ہوتے تھے۔ صبح کے ناشتے یا شام کے کھانے کا ناغہ کرنا پڑتا تھا۔ کرایہ پر مکان لینے کی استطاعت نہ تھی۔عارضی ٹھکانا بدلتا رہتا تھا۔ ایسا بھی ہوا کہ موسم ِ سرما میں رات فُٹ پاتھ پر سو کر گذاری۔ مگر اُن کا کہنا تھا کہ:
’’اِن حالات کے باوجود سچے دوستوں کے درمیان رہ کر طبیعت ہشاش بشاش رہتی تھی‘‘۔

اُنھوں نے پاکستان میں اپنی باضابطہ صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ ’تسنیم‘ لاہور سے کیاتھا۔ مولانا نصراﷲ خاں عزیزؔ ایڈیٹر تھے۔ بہت جلد عابدؔ صاحب مولانا کے حکم پر’تسنیم ‘ اور ہفت روزہ ’ایشیا‘ کے اداریے اور شذرات لکھنے لگے۔عابدؔ صاحب نے طنز و مزاح کے کالم بھی لکھے ہیں۔ وہ بہت اچھے ’مزاح شناس‘ بھی تھے۔

اپنی کتاب میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’…لاہور میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ اُس زمانے میں پیش آیا جب میں ’تسنیم ‘ میں ملازم تھا۔ ضیا ء الاسلام انصاری، خالد محمود، حمید ہاشمی اور میں رات کی کاپی کے بعد ایک ہوٹل میں بیٹھے تھے کہ ایک پولیس والا اپنے ساتھیوں سمیت آیا اور ہمیںدیکھ کر مشتعل ہوگیا۔ گالیاں دینے لگا کہ:
’’ راتوں کو مٹر گشت کیوں کرتے ہو؟‘‘
ہم نے سمجھایا کہ:
’’ ہمارا کام رات ایک بجے ختم ہوتا ہے۔‘‘
وہ کہنے لگا کہ:
’’ ایساکون ساکام ہے جودن میں نہیں ہوسکتا اور آدھی رات تک چلتاہے؟‘‘
سخت تکرار کے بعد ہاتھاپائی کی نوبت ہوگئی۔ ضیاء الاسلام انصاری اور ایک ہیڈ کانسٹبل گتھم گتھا ہوگئے۔ حمید ہاشمی نے جو ’امروز‘ کے نیوز ایڈیٹر تھے بیچ بچاؤ کیا۔ اور لوگ بھی آگئے تھے اس لیے ہماری جان چھوٹ گئی۔ ورنہ وہ تھانے لے جانے پر مُصر تھا۔دوسرے دن صحافیوں کے وفد نے آئی جی سے ملاقات کی۔ انسپکٹر معطل ہوا۔ پھر معافی مانگنے اخباروں کے دفتر وں میںآیااور معافی پاکر ملازمت پربحال ہوا‘‘۔

عبدالکریم عابد صاحب نے متعدد اخبارات و جرائد میں ملازمت کی۔ وہ کئی جرائد کے بانی ایڈیٹر بھی رہے، جن میں کراچی کے ہفت روزہ ’اخبارِ خواتین‘ اور ہفت روزہ ’اخبارِ جہاں‘ بھی شامل ہیں۔

مگر جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں عبد الکریم عابد صاحب سے ہمارے تعارف کا حوالہ روزنامہ ’جسارت‘ کراچی بنا۔۱۹۷۰ء میں روزنامہ ’جسارت‘ پہلے پہل اولیا ئے کرام کے شہر ملتان سے جاری ہوا تھا۔ اُس وقت ’جسارت‘ کے ایڈیٹر الطاف حسن قریشی صاحب تھے۔ ایڈیٹر کیا ؟ مالک و مختا ر تھے! مگر یہ بڑی دلچسپ کہانی ہے۔

در اصل ’جسارت‘ کا نام اُس وقت کے امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی، چودھری غلام محمد مرحوم کا تجویز کردہ تھا۔ وہ اِس اخبار کو کراچی سے نکالنا چاہتے تھے۔ یہ منصوبہ اصلاً اُنھی کا تھا۔ الطاف صاحب نے جب اِسی نام سے ملتان سے اپنا اخبار نکال لیا تو چودھری صاحب مرحوم بہت خفا ہوئے۔ اُنھوں نے (بقول عبد الکریم عابد صاحب) اِسے ’جسارت‘ کا نام غصب کرنے کی واردات قرار دیا۔ مگر وہ دَور بہت اچھا دَور تھا۔اُس دور کے لوگ خفا ہو کر یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ:
’’ تُم اپنامنہ اُدھر کرو، ہم اپنا مُنہ اِدھر کریں‘‘۔

دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے منہ ایک دوسرے ہی کی طرف کرلیے، کچھ گلہ شکوہ کیا اور چند ماہ بعد کراچی سے بھی ’جسارت‘کا اجرا ہو گیا۔ اِس کے ایڈیٹر بھی الطاف حسن قریشی صاحب ہی رہے۔ بعد میں الطاف صاحب ’جسارت‘کی ایڈیٹری سے دست بردار ہوگئے اور عبدالکریم عابد صاحب ایڈیٹر مقرر ہوئے۔’جسارت‘ ملتان بند ہوگیا اور یہ اخبار صرف کراچی کا ہورہا۔

’جسارت‘ پہلے ہی دن سے اسم با مسمیٰ رہاہے۔ ایک لطیفہ یہ ہوا کہ ایک روز الطاف حسن قریشی صاحب نے سید ضمیر جعفری مرحوم کو فون کیا اور پوچھا:
’’آپ نے ہمارا ’جسارت‘ دیکھا؟‘‘
ضمیر جعفری صاحب نے حیران ہوکر پوچھا:
’’قریشی صاحب! آپ کی اُردو کو کیا ہوگیا ہے؟ ’جسارت‘ کو تو دہلی اور لکھنؤ ہی کے شعراء نے نہیں، پشاور کے شعراء نے بھی مؤنث ہی باندھا ہے‘‘۔

عبد الکریم عابد صاحب کے اولین دور میں اخبار کا نظریاتی تشخص پروان چڑھا۔عابد صاحب کی تحریروں نے کمیونزم اور سوشل اِزم کی نظریاتی تحریک کا زبردست مقابلہ کیا اور ’جسارت‘ کے قارئین کو دلائل کے اسلحہ سے مسلح کر دیا۔ مخالفین نے، جن کے پاس اِن دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا، کئی بار ’جسارت‘ کے دفتر پرحملہ بھی کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ ایک صاحب تو دستی بم بھی اُٹھالائے تھے۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ صاحب سی آئی ڈی کے تھے۔ بم چلانے کا چانس نہ ملا تواِسے مجبوراًسی آئی ڈی میں واپس جمع کرانا پڑا۔

’جسارت‘ کے اولین میگزین ایڈیٹر تو عبدالکریم عابد صاحب ہی تھے، مگر ہم نے اُن کی ’میگزین ایڈیٹری‘ کا زمانہ نہیں دیکھا۔ جب ’جسارت‘میں ہمارا آنا جانا شروع ہوا تو وہ الطاف حسن قریشی صاحب کی جگہ مدیرِ’جسارت‘ ہوچکے تھے۔
عبدالکریم عابد صاحب کو بھی ہم نے پہلی بار روزنامہ ’جسارت‘ کراچی کے دفتر ہی میں دیکھا تھا۔ سنولایا ہوا رنگ، چوڑا کتابی چہرہ، بڑی بڑی اور تیز عُقابی نگاہیں رکھنے والی گہری آنکھیں، انتہائی سنجیدہ اور مسکراہٹ سے گویا پرہیز کرنے والی شخصیت۔سادہ سی بوشرٹ اورپتلون زیبِ تن کیے ہوئے،پاؤں میں سینڈل۔ ہم حیران رہ گئے کہ :
’’یا اﷲ یہ ہیں عبدالکریم عابد صاحب ؟‘‘

یہ 1971ء کے اوائل کا ذکر ہے اور اُس زمانے میں عابد صاحب کے لکھے کی بڑی دھوم تھی۔اورہم اُن کے اداریے اور خصوصی مقالے پابندی سے پڑھتے تھے۔ہماراخیال تویہ تھا کہ اُن کی شخصیت بڑی کلف دار ہوگی۔ اُن کے قریب جانے سے بھی ہول آتا ہوگا۔ ہر وقت موٹی موٹی ادق اصطلاحات استعمال کرتے ہوں گے اور نہایت’علمناک‘ با تیں کرتے ہوں گے۔ مگر یہ تو بالکل عام سے انسان نکلے۔ جس وقت ہم نے اُن کو دیکھا تھا وہ اپنے ’جناتی خط‘ میں لکھا ہوا کوئی اداریہ کاتب صاحب کو اُن کی نشست پر خود پہنچانے جارہے تھے۔کیا عجب کہ پڑھ کر سناتے بھی ہوں۔ اُن کا لکھاہوا (چھپنے سے پہلے) پڑھنا کسی انسان کے بس کی بات تو نہ تھی۔صرف کاتب ہی پڑھ سکتے تھے یا وہ خود۔

ہمارے خیال میںاتنے بڑے ایڈیٹر کو تو گھنٹی بجا کر چپراسی کو بلانا چاہیے تھا اور اداریہ اُس کے ہاتھ سے یا ’تُھرو پراپر چینل‘ بھجوانا چاہیے تھا۔ مگر وہ عبد الکریم عابد صاحب تھے۔مردِدرویش!

اُن سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ اُن کی تحریروں میں بڑی بے باکی ہوتی تھی، مگر وہ اپنے قلم سے مخالفین کی بھی شخصی توہین و تذلیل کبھی نہیں کرتے تھے۔ جس پر تنقید کرتے اُس کا نام بھی القاب و آداب کے ساتھ لکھتے تھے۔ ہمیشہ نظریات اور خیالات ہی سے اختلاف کا اظہار کرتے تھے اور اختلاف کو ’دُشمنی‘ نہیں سمجھتے تھے۔ اُن کے پیرایۂ اظہار میں ایک وقار تھا۔اُن کے طرزِ تحریر میں بھی وضع داری تھی۔

’ جسارت‘ کا آغاز ایک ایسے بحرانی دور میں ہوا تھا جب ہمارے ملک کی تاریخ تبدیل ہورہی تھی۔۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتیجے میں ایک ایسا منقسم مینڈیٹ سامنے آیا تھا جس نے بعد میں ملک ہی کو تقسیم کردیا۔ اُس زمانے میں عبدالکریم عابد صاحب اکثر خبروں والے صفحہ پر ایک ’مقالۂ خصوصی‘ لکھا کرتے تھے جو بالعموم انتہائی اہم موضوع پر ہوتا۔ یہ مقالہ دراصل حکام اور عوام دونوں کو دعوتِ فکر دینے والا ایک اداریہ ہوتا تھا۔ اُنھوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کے خلاف بہت سخت اداریے لکھے۔ اِنھی میں سے ایک مقالۂ خصو صی میں 20مارچ1971ء کو اُنھوں نے’’ پاکستان چاہیے یا بھٹو چاہیے؟‘‘ کے عنوان سے لکھا:

’’مجیب الرحمٰن اور عوامی لیگ کے خیالات اگر غلط ہیں تو اُن کی اصلاح بعد میں ہوسکتی ہے لیکن ملک ایک بار ٹوٹ گیا تو پھر یہ قیامت تک ایک ہونے کا نہیں۔ اگر شیخ مجیب کے خیالات غلط تھے تو اُنھیں غلط خیالات کے ساتھ الیکشن لڑ نے کی اجازت کیوں دی گئی؟ اور اِن خیالات پر اب مشرقی پاکستان کی رائے عامہ نے اپنی مہرِ توثیق ثبت کردی ہے تو نہ یہ مناسب ہے کہ مشرقی پاکستان کو چھوڑ دیا جائے اور نہ یہ مناسب ہے کہ مشرقی پاکستان کی رائے عامہ کو زبردستی اپنے خیالات کا غلام بنایا جائے۔

’’اگر مرکز میں شیخ مجیب وزیرِ اعظم بنتے ہیں اور مسٹر بھٹو قائدِ حزبِ اختلاف ہوتے ہیں تو اِس کے نفسیاتی اثرات مشرقی پاکستان پر بہت اہم ہوں گے اور اس وقت مشرقی پاکستان میں جو عام اندازِ فکر ہے اِسے تبدیل کرنے میں بالآخر مسٹر بھٹو کو کامیابی ہوگی۔اگر مجیب الرحمٰن وزیرِ اعظم بننے کے بعد واقعی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو ملکی مفادات کے خلاف ہوں تو اِن حرکتوں کے خلاف خود مشرقی پاکستان کی رائے عامہ میں ردِّ عمل پیدا ہوگا‘‘۔

جس زمانے میں محولہ بالا اداریے شائع ہورہے تھے، اُس زمانے میں بھی اخبارات پر سنسر لگا ہواتھا۔ عبد الکریم عابد صاحب کو اپنے لکھے ہوئے اداریوں کی پاداش میں روزانہ کراچی کے مارشل لا ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا جاتا تھا۔ مارشل لا آفیسرز دو دو گھنٹے تک عابد صاحب کو دروازے کے باہر کھڑا رکھتے تاکہ وہ اپنی توہین محسوس کریں۔ توہینِ مزید یہ کہ جو جرائم پیشہ افرادآتے تھے اُن کے لیے تو کرسی بچھا دی جاتی تھی مگر عابد صاحب کو خاص طور پر کھڑا ہی رکھا جا تا تھا۔ طرح طرح کی دھمکیاں الگ دی جاتیں۔ مگر عابد صاحب سچ مچ کے مردِ درویش تھے،اِن باتوں کو کبھی خاطر میں نہیں لائے۔ اور کبھی اپنے آپ کو ’مجاہدِ صحافت‘ بناکر بھی نہیں پیش کیا۔

ہمارے رہنمایانِ کرام، خواہ وہ حزبِ اختلاف میں ہوں یا حزبِ اقتدار میں،ایسے دور اندیش اور دوربین دانشوروں کے رحلت کر جانے کے بعد تو بڑے پُردرد الفاظ میں تعزیتی بیانات جاری کرتے ہیں۔ مگر جب وہ ہمارے درمیان موجود ہوتے ہیں تو اُن کی باتوں پر کوئی کان تک نہیں دھرتا۔ زندگی میں اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اتنا ہی یاد دلانا کافی ہے کہ عابد صاحب کو اپنے سرطان کے مرض کے مہنگے علاج کے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے ’زیادہ‘ لکھنے کی مشقت میں مبتلا ہونا پڑا۔جب کہ ابھی کچھ دن قبل اداکار رنگیلا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، جن کے علا ج کے اخراجات، اخباری اطلاعات کے مطابق سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف( سعودی عرب میں رہتے ہوئے) برداشت کر رہے تھے۔

عبدالکریم عابد صاحب کی حالاتِ حاضرہ پر بڑی گہری نظر ہوتی تھی۔ بعد میں بھی اُن کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں پوری ہوئیں۔ جونیجو صاحب کی حکومت کی برطرفی سے دو دن قبل ہی اُنھوں نے لکھ دیا تھا کہ:
’’ ضیاء الحق صاحب اب کسی نئے جونیجو کی تلاش میں ہیں‘‘۔
اسی طرح غلام اسحٰق خان کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی بر طرفی کا قوی امکان اُنھوں نے اپنے جس ’’سیاست نامہ‘‘ میں ظاہر کیا تھا اتفاق سے وہ عین اُسی روز شائع ہوا جس روز غلام اسحاق خان بے سان و گمان اچانک ٹیلی وژن پر نمودار ہوگئے کہ:
’’ عزیز ہم وطنو! …‘‘
کشش صدیقی صاحب کہا کرتے تھے کہ:
’’ عابد صاحب سیاسی تجزیہ نگار نہیں نجومی ہیں نجومی!‘‘

عابد صاحب نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ’جسارت‘ کے لیے ماہرینِ فن جمع کیے تھے۔ روزنامہ’حریت‘ سے صلاح الدین صاحب مرحوم اور محترم متین الرحمٰن مرتضیٰ کو وہی لے کر آئے تھے۔ اُس زمانے میں صلاح الدین صاحب نیوز ایڈیٹر تھے اور متین صاحب اداریہ نویس۔

جیسا کہ اوپر ذکر آچکاہے، عابدؔ صاحب نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کے خلاف بہت سخت اداریے لکھے۔اُنھوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ :
’’ فوجی کارروائی سے مسئلہ حل نہیں ہوگااور ملک دو ٹکڑے ہو جائے گا۔‘‘
مگر جب جماعتِ اسلامی (مغربی و مشرقی) پاکستان نے بھارت اور عوامی لیگ کے ہاتھوں ملک ٹوٹ جانے سے بچانے کی کوشش میںمشرقی پاکستان کی فوجی حکومت کی کابینہ میںشمولیت اختیار کرلی اور فوج کا ساتھ دیا تو عبدالکریم عابدؔ صاحب نے ’جسارت‘ کی ادارت سے استعفیٰ دے دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ:
’’ میں اپنے اِس اختلاف کو اپنی حد تک ہی رکھنا چاہتاتھا۔ مجھے نظر آرہاتھاکہ اِس ڈرامے کا ڈراپ سین قریب ہے۔میںنے بہتر سمجھاکہ اپنے قلم کو فوجی ایکشن کی حمایت سے ملوث نہ کروں۔‘‘

اُن کے استعفیٰ پر سب دنگ رہ گئے۔ جماعتِ اسلامی کراچی کے رہنماؤں سے لے کر امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تک سب نے زور دیا کہ عابدؔ صاحب اپنا استعفیٰ واپس لے لیں۔لیکن عابدؔ صاحب کا فیصلہ پختہ تھا۔ جس موقف پر اُن کو انشراحِ صدر نہ تھا وہ اُس کی حمایت میں اپنا قلم استعمال نہیں کر سکتے تھے۔

ایک دلچسپ بات اور کہ…ملک کے تقریباً ہر ادارے کی طرح اخبارات میں بھی شخصی اور ذاتی بنیادوںپر گروہ بندیاں ہوجاتی ہیں اور یہ گروپنگ بالعمو م ادارے کے سب سے بڑے عہدیدار کے خلاف ہوتی ہے۔ تو ایسی ہی ایک گروہ بندی مدیرِ ’جسارت‘ کے خلاف بھی ہوگئی۔ عابدؔ صاحب کبھی گروپنگ کرنے والے آدمی ہی نہیں رہے۔ چناں چہ اُنھوں نے جواب میں اپنا کوئی گروپ نہیں بنایا۔ مخالف گروپ کے نمایاں لوگوں میں صلاح الدین صاحب مرحوم کا نام لیا جاتا تھا۔ جب عابدؔ صاحب نے استعفیٰ دے دیا تو صلاح الدین صاحب کو بھی اُن کی عظمت کا احساس ہوا۔ صلاح الدین صاحب، جو اُس وقت نیوز ایڈیٹر تھے،عابدؔ صاحب کو منانے کے لیے اُن کے گھرگئے اور کہا کہ:

’’مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ نے استعفیٰ واپس نہیںلیا تو کسی ایسے شخص کو ایڈیٹر بنا دیا جائے گا جس سے ہم سب کارکن مصیبت میں پھنس جائیں گے۔اس لیے آپ ہمارا خیال کرکے استعفیٰ واپس لے لیں‘‘۔

مگر جب استعفیٰ واپس لینے کے سلسلے میںسب کا کہناسننا بے کا ر گیا اور عابدؔ صاحب اپنے فیصلے پر اٹل رہے تواُن سے کہا گیا کہ:
’’اب آپ ہی بتائیے کہ اِن حالات میں ہم آپ جیسا ایڈیٹر کہاں سے لائیں گے؟‘‘
عابد صاحب کی بڑائی دیکھیے کہ اُنھوں نے تمام گروہ بندیوں اور گروپنگ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اور ذاتی اختلاف سے بالاتر ہوکر یہ جواب دیا کہ:
’’آپ کے پاس صلاح الدین جیسا با صلاحیت شخص موجود ہے، اُسے ایڈیٹر بنا دیجیے!‘‘
یوں صلاح الدین صاحب ’جسارت‘ کے ایڈیٹر بنے۔

1984ء میں صلاح الدین صاحب جماعتِ اسلامی کراچی سے اختلافات کی وجہ سے مستعفی ہوگئے تو عبدالکریم عابدؔ صاحب سے ایک بار پھر’جسارت‘ کی ادارت سنبھالنے کو کہا گیا اور اُنھوں نے’جسارت‘ کی ڈوبتی کشتی کو، جو صلاح الدین صاحب کے اچانک چھوڑ جانے سے ہچکولے کھانے لگی تھی، ایک بار پھر سنبھالا دے کر رواں دواں کردیا۔

1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے روزنامہ’جنگ‘کراچی کے ایڈیٹر جناب محمود احمد مدنی مرحوم کو گُلشنِ اقبال کراچی سے قومی اسمبلی کا امیدوار بنایا۔ مدنی صاحب مرحوم الیکشن ہار گئے۔ ہارنے کی پاداش میںمیرخلیل الرحمٰن صاحب مرحوم نے مدنی صاحب مرحوم کو ’جنگ‘کی ملازمت سے نکال دیا۔اب جماعتِ اسلامی نے عابدؔ صاحب کی جگہ مدنی صاحب مرحوم کو’جسارت‘ کا ایڈیٹر بنا دیا۔ مدنی صاحب ’جسارت‘ چھوڑ کر علامہ عباس حیدر عابدی صاحب کے اخبار’حریت‘ میں چلے گئے تو لاہور سے ایک بار پھر عبدالکریم عابد صاحب کو بلا کر ایڈیٹر بنا دیا گیا۔غرض کہ اِسی طرح ہوتا رہا۔تا آں کہ جب ’جسارت‘ میں مالی مشکلات کی وجہ سے عملے میں تخفیف کی گئی اورچُن چُن کر چھانٹی کی گئی تو عابدؔ صاحب بھی یہ کہہ کر واپس لاہور چلے گئے کہ:

’’ایک تو مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ پُرانے ساتھی مجبوراً علیٰحدہ ہوں اور میں بیٹھا رہوں۔ دوسرے اِس اخبار کو چیف ایگزیکٹو (معظم علی قادری) کی موجودگی میں کسی ایڈیٹر کی ضرورت نہیں‘‘۔

1985ء میں انتخابات سے قبل ضیاء الحق صاحب نے ایک ریفرنڈم کرایا تھا۔ سوال یہ تھا کہ یہ قوم اسلامی نظام چاہتی بھی ہے یا نہیں؟ سوال تو بہت اہم تھا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ نکالا گیا تھا کہ اگر یہ قوم اسلامی نظام چاہتی ہے تو وہ ضیاء الحق کو آئندہ پانچ برسوں کے لیے ’منتخب صدر‘ کی حیثیت سے قبول کرلے۔

تمام اسلامی قوتوں اور خاص طور پر جماعتِ اسلامی کے لیے یہ بڑی آزمایش کا موقع تھا۔ ضیاء الحق کی آمرانہ صدارت کو مسترد کرنے کے لیے یہ ریفرنڈم بہ آسانی کلی طور پر مسترد کیا جا سکتا تھا۔مگر یہی استرداد ایک ریفرنس بن جاتا اور ہرجگہ Quoteکیاجاتا کہ ضیاء الحق نے ریفرنڈم کراکے دیکھ لیا، یہ قوم اسلامی نظام کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہیں نکلی۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ نے سوال کے نتیجہ سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

ظاہر ہے کہ عبدالکریم عابد صاحب اِس فیصلے کی کبھی حمایت نہیں کر سکتے تھے۔ اُنھی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک روز محترم کششؔ صدیقی صاحب کے کمرے میںاسی موضوع پر گرماگرم بحث چھڑ گئی۔ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط؟ عابدؔ صاحب برابر والے کمرے میں بیٹھے اپنا ’’سیاست نامہ ‘‘ لکھ رہے تھے، شورشراباسُن کر آگئے اور بحث میں شریک ہوگئے۔اُن کے دلائل کے آگے بھلاکس کو بولنے کہ ہمت ہوتی۔ اپنے کمرے کو واپس جاتے جاتے عابد صاحب یہ بھی کہہ گئے کہ:
’’اگر آج مولانا مودودیؒ زندہ ہوتے تو ایسا غلط فیصلہ کبھی نہ کرتے‘‘۔

کششؔ صدیقی صاحب جو جماعتِ اسلامی کے رُکن اور اُس محفل میں شوریٰ کے فیصلے کے حمایتی تھے،عابدؔ صاحب کے اپنے کمرے میںچلے جانے اور اُن کے کُرسی کھسکا کر بیٹھنے کی آواز سُن لینے کے بعد تقریباً زیرِ لب بولنے والے انداز میں بولے کہ:
’’ اگر مولانا مودودیؒ ہوتے تو وہ بھی یہی فیصلہ کرتے‘‘۔
اﷲ جانے عابد صاحب کے کان کتنے تیز تھے کہ اپنے کمرے سے اُٹھ کر دوڑتے ہوئے آئے۔ اپنے ہاتھوںکی اُنگلیوں میں دبے ہوئے قلم سے کششؔ صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ:
’’… تووہ بھی غلط کرتے…‘‘
اور اُسی طرح دوڑتے ہوئے واپس جاکر اپنا’’سیاست نامہ‘‘ مکمل کرنے لگے۔

عبدالکریم عابد صاحب کی اچانک رحلت قوم اور دُنیائے صحافت کے لیے تو صدمے کا باعث ہے ہی۔ مگر اِس افسردہ اور سوگوار کالم نگار کاصدمہ ذاتی بھی ہے۔اس عاجز پر اُن کی خصوصی عنایات تھیں۔گذشتہ سفرِ لاہور کے موقع پر اُنھوں نے بطورِ خاص اپنے گھر (واقع ٹاؤن شپ) مدعو کیا اور ایک طویل نشست کی۔ اُن سے وہی ملاقات آخری ملاقات بن گئی۔مگر ہمارے لیے بڑے اعزاز اور فخرومباہات کی بات یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنی خود نوشت میں ہمارا تذکرہ کیا ہے اور تعریفی و ستائشی کلمات سے کیا ہے۔ طنز ومزاح پر مبنی کالم لکھنے والوں میں اُنھوں نے ملک نصراﷲ خاں عزیز، مجید لاہوری، ابراہیم جلیس، ابنِ انشا،چراغ حسن حسرت اور غریبِ شہر(مشفق خواجہ)کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی ذکر کر دیا ہے۔ یوں خاک کے ایک ذرّے کو ہم دوشِ ثریا کردیاہے۔ہماری حوصلہ افزائی تو وہ زبانی بھی کیا کرتے تھے۔

عابد صاحب ’غائب دماغ پروفیسروں‘ کی طرح بھلکڑ تھے۔ایک قصہ کششؔ صدیقی صاحب نے سنایا اور دوقصے ’جسارت‘ کے ڈرائیور ظفر نے۔کششؔ صاحب کاسنا یاہوا قصہ یہ ہے کہ ’جسارت‘ کی کاپی پریس میں جانے کو تیار تھی اور محض اداریہ تیار نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی تھی۔ عابد صاحب ابھی تک اپنے لکھے سے مطمئن نہ تھے اور کتربیونت میں مصروف تھے۔ آخر کششؔ صاحب جا کر اُن کے ’سر پر سوار‘ ہوگئے۔ عابد صاحب نے یہ دیکھا تو پوچھا:
’’چائے پیئں گے؟‘‘
کششؔ صاحب نے فرمایا:
’’نہیں میں چائے نہیں پیوں گا، جلدی سے اداریہ مکمل کرکے دیجیے۔ کاپی لیٹ ہوجائے گی‘‘۔
مگر عابد صاحب نے سامنے سے گزرتے ہوئے کینٹین کے ’چھوٹے‘ کو دو چائے لانے کا حکم دیا اور کششؔ صاحب سے کہا: ’’بیٹھ جائیے‘‘۔
کششؔ صاحب بیٹھ گئے۔ چائے کے دو کپ آگئے۔ مگر عابد صاحب لکھنے میں جٹے رہے۔چائے ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ مگر وضع دار کشش ؔ صاحب نے سوچا کہ عابد صاحب پینا شروع کریں تو میں بھی پیالی اُٹھاؤں۔عابد صاحب لکھنے میں محو تھے۔چائے کو پالا مارچکا تھا۔ یکایک وہ چونکے: ’’ارے؟ وہ دو پیالی چائے رکھ گیا ہے‘‘۔
یہ کہہ کر پہلے ایک پیالی اُٹھا کر غٹاغٹ پی گئے پھر پُھرتی سے دوسری پیالی بھی اُٹھا لی اور وہ بھی غٹاغٹ پی گئے۔ کششؔ صاحب منہ دیکھتے رہ گئے۔

ظفر نے جو دو قصے سنائے اُن میں سے ایک تو یہ تھا کہ عابد صاحب کو اُن کے فلیٹ واقع معمار کمپلیکس سہراب گوٹھ سے دفتر لانے کے لیے روزانہ گاڑی جاتی تھی۔ ایک روز ڈرائیور نے اوپر جاکر گھنٹی بجائی۔ گاڑی آجانے کی اطلاع دی اور خود نیچے اُتر آیا۔ نیچے اُتر کر ذرا دیر کو فلیٹ کے پیچھے گیا اور واپس آگیا۔اُس روز خلافِ معمول خاصی دیر ہوئی۔جب آدھا گھنٹہ گزر گیا تو ڈرائیور پھر اوپر گیا۔معلوم ہوا کہ عابد صاحب تو اُسی وقت نیچے اُتر گئے تھے۔ وہ گھبرا کر بھاگا۔ مگر عابد صاحب گاڑی میں بیٹھے ہوئے نہ تھے۔اُس نے تمام اطراف میں اُنھیں تلاش کیا، کہیں نظر نہ آئے۔باہر نکل کر دیکھا تو بہت دور سڑک پر عابد صاحب جیسا کوئی شخص پیدل چلا جا رہا تھا۔ ظفر نے گاڑی دوڑائی۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ واقعی عابد صاحب پیدل ہی چلے جارہے ہیں اور سہراب گوٹھ سے آئی آئی چندریگرروڈ کی جانب منہ کرکے آدھے گھنٹے کا فاصلہ طے کر چکے ہیں۔

ظفر کا سنایا ہوا دوسرا قصہ یہ ہے کہ ایک روز گھر سے دفتر جاتے ہوئے عابد صاحب نے کہا:
’’آج رات کو پاپوش نگر میں میرے ایک دوست کے گھر میری دعوت ہے۔ اُس نے بڑی تاکید کی ہے کہ بھولنا مت۔ تم ایسا کرنا کہ واپسی میں مجھے یاد دلا دینا کہ اُن کے گھر دعوت ہے‘‘۔
واپسی میں ظفر گاڑی سیدھے پاپوش نگر لے گیا۔ وہاں پہنچ کر پوچھا کہ:
’’آپ کے دوست کا گھر کس گلی میں ہے، جن کے یہاں دعوت ہے‘‘۔
عابد صاحب اُس کی یاد داشت پر بہت خوش ہوئے۔ شاباش دی۔ دوست کی گلی تو صحیح بتادی مگراُن کے گھر کے تعین میں شبہ ہوگیا۔ ظفر نے گاڑی ایک طرف کھڑی کردی۔ عابد صاحب سے کہا:
’’آپ گاڑی ہی میں بیٹھے رہیے میں معلوم کرکے آتاہوں‘‘۔
اُس نے پہلے ایک گھر کی گھنٹی بجائی۔ ایک چھوٹی سی بچی نکلی۔ اُس سے پوچھا کہ کیا فلاں صاحب کا گھر یہی ہے؟ بچی نے تصدیق کی۔ ظفر نے یوں ہی شغل کے طورپر پوچھ لیا:
’’کیا آج آپ کے گھر میں کسی کی دعوت ہے؟‘‘
بچی نے جواب دیا:
’’نہیں تو … دعوت تو کسی کی نہیں ہے‘‘۔
یہ کہہ کر بچی گھر کے اندر چلی گئی۔ اب ظفر اگلے گھر کی طرف چلا۔ابھی وہاں پہنچا بھی نہیں تھا کہ بچی دوڑتی ہوئی پھر باہر نکل آئی:
’’انکل … انکل … سنیں … سنیں … امی کہہ رہی ہیں … آج تو ہمارے گھر کسی کی دعوت نہیں ہے، کل رات کو ہمارے گھر عبدالکریم عابد صاحب کی دعوت ہے‘‘۔

ابھی بہت سی باتیں رہی جاتی ہیں۔ہنسی مذاق کے قصے اور عبدالکریم عابد صاحب کے بھلکڑ پن کے مزید دلچسپ لطائف۔ مگر آپ کے ساتھ یہ نشست بہت طویل ہوگئی۔آپ بھی ہماری باتوںسے اُکتانے لگے ہوں گے۔ ہمارا جی تو عابدؔ صاحب کی باتیںکرنے سے اُکتاتا ہی نہیں۔ اﷲ اُن کو اپنے جوارِ رحمت میں رکھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20