انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی 2018 کے لیےمختلف نہیں — قمر الہدیٰ

0
  • 43
    Shares

ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے افغانستان میں حملوں کے آغاز کے سترہ برس بعد نہ صرف جنگ جیتنے کی کوشش کی بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے لیے اپنے اہداف اور نتائج کو بھی بیان کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی سیاسی یا فوجی حل کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ہے، جب تک دہشت گردی کی تعریف، بنیاد و وجوہات اور ممکنہ دشواریوں کا تعین نہ کیا جائے۔ ایک ناسور سے متعلق کمزور حکمت عملی کے باعث تنازعات کے حل کے لیے نئے نقطہء نظر کا راستہ روک دیا ہے۔

4 اکتوبر کو ٹرمپ انتظامیہ کہ نیشنل سیکوریٹی کونسل نے قومی حکمت عملی برائے انسداد دہشت گردی کا اعلامیہ 2018 جاری کیا۔ جس میں نیا نقطہء نظر پیش کرنے کا دعوی کیا گیا ہے جبکہ 25 صفحات پر دستاویز میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔
درحقیقت این ایس سی ٹی بش اور اوباما کی انسداد دہشت گردی کی جدوجہد کا ہی ایک واضح یقین دہانی کے ساتھ تسلسل ہے کہ “ہم امریکن حالت جنگ میں ہیں جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی جیتےگی۔”

این ایس سی ٹی، امریکہ کی پہلی خارجہ پالیسی کی پیداوار ہے جس کا اعلان ریکس ٹیلرسن نے 2017 کے اوائل میں کیا تھا۔ جسے آج ان کے جانشین مائیک پومپیو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ قومی سلامتی، اقتصادی اور جغرافیائی مفادات پر زور دیتی ہے۔ جو کثیر الفریق ممالک سے کیے گئے وعدوں کے برعکس ہے۔

اس نقطہء نظر کے حمایتی روایتی طور پر GOP نیو کنزرویٹو دھڑے نے، جن کے سب سے بڑے نقاد جین کرک پیٹرک نے اکثر کہتے ہیں کہ” مناسب خارجہ پالیسی کے بغیر ایک مناسب دفاعی پالیسی تشکیل نہیں دی جا سکتی”۔

نیو کنزرویٹو دانشور اور مفکر جو کہ کمیونسٹ، سوشلسٹ اور اوپن مارکیٹ تجارت کے نظریات کے مخالفین ہیں۔ ان تمام مفکرین نے افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی حمایت اور صرف القاعدہ اور طالبان کی حکومت کو گرانے امریکی جیو پولیٹیکل اور معاشی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایسا کیا لیکن اسکے برعکس ہوا۔

افغانستان اور عراق میں پالیسی بری طرح ناکام ہوئی، ایران کا لبنان اور افغانستان میں بڑھتا ہوا اثر، داعش کی شاخوں کا سولہ سے زائد ملکوں میں پھیل جانا۔ اور شام کو روس اور چین کے ہاتھوں گنوا دینے کے بعد NSCT ایک مضبوط ایجنڈے کو پھیلانے کے لیے کمزور کوشش ہے۔

جان بولٹن آج کل نیشنل سیکوریٹی ایڈوائزر ہیں اور ماضی میں جارج بش کی جانب سے اقوام متحدہ میں سفیر رہ چکے ہیں۔ یہی صاحب NSCT کے خالق ہیں۔ اس دستاویز میں وطن کی سلامتی کو لاحق خطرات جس میں بین الاقوامی دہشت گردی اور ایران (جودہشت گردی کے سب سے نمایاں حمایتی ہیں) نے دنیا بھر میں بچھائے گئے کارندوں کے جال اور دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل حمایت کے ذریعے کے خلاف ایک حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے۔

نیو کنزرویٹو مثالیت پسند تصور جو امریکہ کی سرحدوں، اتحادیوں اور بیرونی مفادات کی انتہائی قومیت ہرستی کے دعووں کے ساتھ حفاظت اور بہتر مستقبل کی خواہشات پر انحصار پر زور دیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے نمایاں پالیسی میکر کی حیثیت سے بولٹن نے NSCT کو” دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی جوکہ امریکی طاقت کےبھرپور استعمال، دہشت گردی کے خلاف دستیاب ہر طریقہء کار چاہے وہ ملک میں ہو، بیرون ملک ہو یا سائبر اسپیس ہو، کیا جائے۔ ” کو مربوط کیا ہے۔

مستقبل میں واپسی:
آیئے اب جارج ڈبلیو بش کی ٹیم کی جانب نظر کیجیے۔ جان نیگرو پونٹے، ڈونلڈ رمز فیلڈ اور جنرل ٹامی فرینک افغانستان میں ان سب کا آزادی آپریشن اور باقی تمام جنگی منصوبے دہشت گردوں کو ایک ایسے تباہ کن گروہ کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔جوکہ ایک آمرانہ نظریہ پر اندھا دھند عمل کرتے ہیں اور جارحانہ اسلامی تحریک کی بنیاد پرست عقائد کو بڑھاوا دیتا ہے۔ کسی قسم کی کوئی معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور جغرافیائی شکایات نہیں ہیں، صرف ایک نظریہ ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

این ایس سی ٹی، بھی ایسے ہی نظریاتی حوالوں میں ڈوبا نظر آتا ہے۔ جو انتہا پسند اسلام کو تباہی پر تلا ہوا ثابت کرتا ہے۔ یہ ہمیں پھر سے یاد دلاتا ہے کہ ” دنیا اچھی اور بری قوتوں سے بھری ہوئی ہے۔ امریکہ ہمیشہ سے آزادی اور جمہوریت کا سپاہی۔۔۔۔ دہشت گردی پر غلبہ پائے گا۔ امریکی طاقت ہمیشہ اچھائی کے لیے دنیا میں کھڑی رہے گی۔” یقینا امریکہ کی صوفیانہ نوعیت کو ثابت کرنے کے لیے قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کی دستاویز سے بہتر اور کیا جگہ ہوگی؟

مورخہ 31 جنوری 2018 ایک مطبوعہ AEI آرٹیکل میں بولٹن نے، “حربوں کی حکمت عملی سے” ایک نئی اختراعی حکمت عملی کی طرف جانے پر زور دیا ہے۔ این ایس سی ٹی بولٹن کے امریکن طاقت کے بے خوف و خطر بھرپور استعمال کے حق میں دلائل پر روشنی ڈالتا ہے۔ تاہم، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے میدان میں بے تحاشا تحقیقات، تنازعات پر تحقیقات اور انتہاء و تشدد پرستی کے خلاف ریسرچ کی دستیابی کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ NSCT کو واپس 2001- 2005 کی حکمت عملی کی طرف کیوں لے جا رہی ہے؟ جو کہ بہت بری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔

ابھی اور یہیں؛
این ایس سی ٹی کے حمایتی اس نظریئے کی تشہیر کرتے ہیں کہ تمام طاقت کے طریقے تیار اور مربوط رکھیے۔لیکن درحقیقت اس نے دہشت گردی کے خلاف کوئی نئی حکنت عملی تشکیل نہیں دی یہ DIME (جمہوریت، انفارمیشن، ملٹری اور اکنامک) کوششوں کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے خلاف مقابلہ کرتی ہے۔

جارج ٹاون سیکوریٹی اسٹڈی کے مطابق، دہشت گردوں کو ختم کرنے کی یہ متحرک پالیسی، جس پر NSCT میں ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اپنے نفسیاتی اثرات جنگ کے میدان سے بھی پرے رکھتی ہے مزید برآں این ایس سی ٹی کی اسٹریٹجی ادارے کی طاقت، انقلابی اور انتہا پسند تحریکوں کی خوش کن موجودگی اور وہ چھوٹے معاشروں سے نبٹنے کی نہ کی جائے جو اپنے جنگجووں کے سلسلے بناتے ہیں۔

“انتہا پسندی کا مقابلہ” کی اصطلاح خاص طور سے سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز کی طاقت پر زور دینے کے لیے بنائی گئی تھی، برعکس دہشت گردی کے خلاف مقابلہ کی اصطلاح غور طلب ہے۔ جو پچھلی تمام پالیسی ترجیحات کی واضح تردید ہے۔ سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرذ جو جنگی زون اور آمرانہ حکومتوں کے سائے تلے رہتے ہیں جہاں کرپشن روز بروز بڑھ رہی ہے ان کی کچھ حدود ہیں۔ خطرناک حالات اور خود مختاری کی کمی اور بے انتہا بلند و بالا مقاصد ییں۔ لیکن امریکہ انتہاء پسندی کے مقابلے کی حکنت عملی کے ضمن میں کامیابیوں کو نظر انداز کرکے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کو صرف پیچیدہ بنا رہا ہے۔

انسداد دہشت گردی قومی حکمت عملی، ان پالیسی بنانے والوں کا ایک آلہ ہے جو سائبر تحفظ، دہشت گردوں کے عالمی مربوط جال، اور انکی مالی پشت پناہی اور بھرتی، اور رقمی (ڈیجیٹل) اور اطلاعاتی جنگ کاری کے بارے میں سوچ بچار کرتے ہیں۔
بہر حال، ان عمومی موضوعات کو کنارے رکھتے ہوئے، حکمت عملی اور طریقہِ کار وضع کرنے والوں کے لیے GWOT اور ان بنیادی وجوہ کا دوبارہ جائزہ لینا یکساں طور پر ضروری ہے کہ واشنگٹن کیوں اس جنگ میں اپنے وسائل جھونک رہا ہے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: