وفاقی وزیر اعظم سواتی کو ’’سید زادے‘‘ حامد سعید کاظمی کی آہ لگی!!!! ۔۔۔۔۔۔۔ عمران چوہدری

0
  • 20
    Shares

پیپلز پارٹی کے دور حکومت غالباً 2008 ءکی بات ہے جب ملتان سے تعلق رکھنے والے یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان تھے او ر ملتان سے ہی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی سید حامد سعید کاظمی وزیر مذہبی امور تھے ، حامد سعید کاظمی ایک ایسے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی علمی مذہبی خدمات بہت زیادہ ہیں، ان کے آباء و اجداد میں علمی و روحانی شخصیات کو جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں خاص مقام حاصل ہے، لاکھوں کی تعداد میں ان کے والد گرامی احمد سعید کاظمی ؒکے مریدین اور سینکڑوں کی تعداد میں نامی گرامی علماء ان کے والد گرامی کاظمی صاحب ؒ کے شاگردوں میں سے ہیں، احمد سعید کاظمی ؒ کو ان کے علمی و روحانی مقام کی وجہ سے ان کے دور کے جید علماء و مشائخ انہیں غزالی زماں کہتے تھے۔

حامد سعید کاظمی کے ایک بھائی علامہ مظہر سعید کاظمی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی شعبہ انگلش کے ہیڈ، پروفیسر ہیں، ایک بھائی ملتان کے مشہور عالم دین اور جامعہ انوارالعلوم ملتان کے مہتمم علامہ سید ارشد کاظمی ہیں، غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی ؒ کے تمام بیٹے، بیٹیاں علم دین اور جدید علوم سے آراستہ ہیں کئی نسلیں اس خانوادہ رسول ﷺ سےقدیم و جدید علوم سے مستفید ہو رہی ہیں، اس خاندان کی تحریک پاکستان سے لے کر مختلف اہم مواقع پر دینی و ملی خاص خدمات ہیں، ملک بھر میں اس خاندان کے علمی و روحانی فیض یافتہ لاکھوں افراد موجود ہیں ،ایسے خاندان سیاست میں نہ بھی ہوں تو وہ ملکی و قومی خدمت اور خدمت خلق کا فریضہ احسن انداز میں انجام دے رہے ہوتے ہیں۔

تاہم اہلیان ملتان کے اسرار پر سید حامد سعید کاظمی پہلے بھی ایک بار آزاد حیثیت میں بھاری اکثریت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے تھے، 2008 ءکے الیکشن میں وہ دوبارہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے ۔ان کی تربیت کا خاصہ تھا کہ جھوٹ، کرپشن، ناجائز ذرائع سے دولت قطعاً نہیں حاصل کی جاسکتی، نہ ہی انہیں کبھی دولت کی ہوس رہی اور نہ شہرت یا کسی عہدے کی خواہش تھی، حامد سعید کاظمی کی شخصیت علمی وجاہت، پاکیزگی، نفاست، تقویٰ اور صاف گوئی کے حوالے سے اچھی خاصی شہرت رکھتی ہے، کچھ دوستوں کی پیشکش اور مشورے کے بعد انہوں نے آخر کار وزارت مذہبی امور کا قلمدان بھی سنبھال لیا انہیں علم نہیں تھا کہ اس وزارت میں کرپشن، کمیشن ، کی بناء پر وزارت کے افسران، وزراء اور دیگر حکومتی عہدیدار حاجیوں کے کوٹہ سسٹم میں کروڑوں روپے ناجائز ذرائع سے کما تے ہیں اور حامد سعید کاظمی کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ان کے ارد گرد ان کے کچھ رفقاء جو دن رات وزارت مذہبی امور کے معاملات میں ڈائریکٹ ہوئے پڑے ہیں وہ حج کوٹہ خفیہ طور پر سیکرٹری مذہبی امور و دیگر افسران سے مل کر فروخت کرکے دھندہ میں مصروف ہیں وہ ان کی شہرت اور عزت کو کس قدر نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہایت ایماندار شریف النفس علمی و مذہبی شخصیت حامد سعید کاظمی وزارت مذہبی امور کے گرداب میں پھنس گئے۔

مولانا فضل الرحمن اور دوسرے مکاتب فکر نے یہ وزارت حامد سعید کاظمی کو ملنے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا، ادھر حامد سعید کاظمی کرپٹ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ڈائریکٹ وزارت میں دخل اندازی اور اپنوں کو فائدہ پہنچانے کے احکامات سمیت کرپٹ بیورو کریسی کی چیرہ دستیوں سے بھی صحیح طور پر آشنا نہیں تھے، ان کی مخالفت اس قدر بڑھی کہ ان پر پولی کلینک ہسپتال اور وزارت کے دفاتر کے درمیان قاتلانہ حملہ بھی ہوا، جس میں حامد سعید کاظمی شدید زخمی ہو گئے ان کا ڈرائیور گن مین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق بھی ہوئے، سپریم کورٹ میں حج کرپشن سیکنڈل اوپن ہوا، جس میں حامد سعید کاظمی کو پلاننگ کے تحت پھنسا دیا گیا جائنٹ سیکرٹری، ڈی جی حج وغیرہ سمیت حامد سعید کاظمی کو اڈیالہ جیل جانا پڑا، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں بھی ان کو زیر حراست شامل تفتیش رکھا گیا، ان کو بارہا کہا گیا جو شخصیت احکامات صادر کرتی رہی وزیر اعظم بھی اگر تھے تو ان کا نام لیں، لیکن حامد سعید کاظمی نے مروت، ایثار سے کام لیتے ہوئے سب کچھ تفتیشی اداروں کے سامنے رکھ دیا کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی نہ ہی انہوں نے غلط اقدام اٹھایا اگر وزارت میں غلط ہوا ہے تو ان کی لا علمی ہے۔

بہر حال حامد سعید کاظمی پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والوں میں سب سے پیش پیش اس وقت کے جے یو آئی کے سینیٹر موجودہ وفاقی وزیر اعظم سواتی تھے جو انتہائی غلیظ زبان ان کے خلاف استعمال کرتے، اپنے آقاؤں کو خوش کرتا اور میڈیا میں نیک نامی اور شہرت پانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا، ایک موقع پر جاوید چوہدری کے پروگرام میں اعظم سواتی نے ٹی وی مذاکرے کے دوران باپ تک بدتمیزی کے الفاظ استعمال کیے اور جب حامد سعید کاظمی اعظم سواتی کے امریکہ میں فراڈ کے دستاویزات دکھا رہے تھے اور انہیں کہہ رہے تھے میرے خلاف کوئی ثبوت پیش کریں تو بات کو بار بار کاٹتے ہوئے حامد سعید کاظمی کے ہاتھ سے اٹھ کر بدتمیزی سے پیپرز چھین لیے جو انتہائی بدتمیزی اور غیر مہذب انداز تھا، سید زادہ کی دانستاً توہین اور ان کی بدتمیزی کا مظاہرہ دنیا بھر میں عوام نے دیکھا، حا مد سعید کاظمی نے کچھ عرصہ جیل میں ناکردہ جرم پر قید و بند کی سزا بھی بھگتی، بعد ازاں وہ سپریم کورٹ میں ٹرائل کے بعد باعزت بری بھی ہو گئے ،لیکن ان کے دل میں اعظم سواتی کا اور دوسرے دوست نما دشمنوں کا دیا ہوا زخم زندہ رہا ہو گا۔

کربلا والوں سے تعلق رکھنے والے اس سید زادے نے اگر معاف بھی کر دیا تو خدائے وحدہ لاشریک کو کسی بے گناہ کو پھنسانے اور اسے تنگ کرنا قطعاً پسند نہیں، اب جب اعظم سواتی وفاقی وزیر کے عہدے پر براجمان ہوا تو ایک کمزور خاندان پر مقدمہ درج کرانے، طاقت کے نشہ میں بدمست ہو کر خواتین اور غریب مزدور آدمی کو اڈیالہ جیل پہنچانے پر ان کی جماعت پی ٹی آئی کے اندر ہی سوشل میڈیا پر سخت مخالفت کی گئی انہیں انتہائی نازیبا الفاظ میں گالیاں دی جا رہی ہیں۔

ایک دفعہ ٹی وی مذاکرے میں سلیم صافی کے پروگرام میں جواب دیتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا میرے بیوی بچے اب بھی امریکی شہریت رکھتے ہیں میں تکنیکی وجوہات کی بناء پر امریکہ نہیں جا سکتا، جبکہ وہ بھی اس پر یہی الزام دہرا رہا تھا کہ کیا آپ نے بھاری رقم امریکہ میں کوئی فراڈ کیا ہے جس پر اعظم سواتی مطئمن نہ کر سکے۔ ملک بھر میں ان کی انتہائی بے عزتی ہو رہی ہے، وہ وزیر اعظم عمران خان کی شرمساری کا باعث بنا۔

گزشتہ روز جب اس کا میڈیا ٹرائل شروع ہوا تو میرے ذہن میں اس کی کارستانیوں کی داستاں گردش کرنے لگی، قدرتی مکافات عمل بہت سخت ہوتا ہے، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، یقیناً اسے ایک سید زادے کی آہ بھی لگی ہو گی، آج اعظم سواتی کابیٹا عثمان سواتی اور ملزمان کے اہل خانہ عدالت میں پیش ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ سلمان بدرنے کی، ملزمان کی دس، دس ہزار روپے مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور فریقین نے صلح نامہ عدالت میں جمع کرا دیا۔ دوران سماعت عدالت نے میڈیا کو احاطہ عدالت سے باہر جانے کاحکم دیدیا میڈیا نمائندوں کی طرف سےسماعت کے دوران عدالت کے اندر رکنے کی استدعا کی گئی جج سلمان بدر نے کہا دوران سماعت آپ کمرہ عدالت میں نہیں رک سکتے، وکلاء، پولیس کے علاوہ کوئی عدالت میں نہ رہے، جوڈیشل مجسٹریٹ کاحکم ہوا ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی، جج سلمان بدر نے میڈیا نمائندوں کوعدالت میں بلا کر عدالتی حکم سنایا ملزمان میں احسان اللہ ، ضیاءالدین، صلاح الدین اور 2 خواتین شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا باجوڑ سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندان کے بھائیوں نے کہا ہے کہ انصاف کی حکومت میں ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی۔ وفاقی وزیر و سینیٹر اعظم خان سواتی نے ہمارے بھائی نیاز محمد پر جھوٹے مقدمات درج کئے کہا کہ اپنی حکومتی طاقت کے ناجائز استعمال سے اعظم سواتی نے ہمارے بھائی نیاز محمد، بھابھی اور بھتیجی کو جیل کی سلاخوں کے اندر ڈالا۔ اعظم سواتی کے بندوں نے ہمارے بھائی کے گھر پر فائرنگ بھی کی۔ چھوٹے بچوں پر تشدد کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔

ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران نیاز محمد کے بھائیوں سمیت سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید نے کہا کہ اعظم سواتی وفاقی وزیر و سینیٹر کی حیثیت اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ عمران خان فوری طورپر اعظم سواتی کو وزارت کے منصب سے ہٹائے۔ اس معاملے میں آئی جی اسلام آباد کو اس لئے ہٹایا گیا کہ اعظم سواتی نے آئی جی پر دباوڈالتے ہوئے حکم دیا تھا کہ وہ متاثرہ خاندان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کریں۔ جس پر آئی جی پولیس اسلام آبادنے انکار کرتے ہوئے مقدمات درج نہیں کئے۔ اعظم سواتی نے حکومتی طاقت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے آئی جی کو ٹرانسفر کیا۔

متاثرہ خاندان کے بھائیوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا باجوڑ قوم کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور کہا کہ چیف جسٹس نے مقدمے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس اسلام آبادکی ٹرانسفر منسوخ کر دی۔ ایک سوال کے جواب میں نیاز محمد کے بھائیوں نے کہا کہ ہمار ا کسی کے ساتھ صلح نہیں ہوا ہے اور نہ ہو گا کہا کہ اگر عمران خان ہمیں انصاف دلانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو پوری باجوڑ قوم کے ساتھ عمران خان کے گھر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔

یوں اعظم سواتی کی بے عزتی کا سفر شروع ہو چکا ہے، باقی قریبی ساتھی جو حج کوٹہ میں دولت بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے ان میں ایک جوان شوگر کے مرض میں مبتلا ہو کر بے سکونی میں ہے اور یوسف رضا گیلانی اپنے جواں بیٹے کی گمشدگی اور بازیابی کے بعد سیاست میں کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ سے بدنام زمانہ ہو کر مقدمات میں الجھا ہوا ہے۔ حامد سعید کاظمی آج بھی ذکر الہٰی سے تر زباں کے ساتھ معمول کے مطابق تسبیح ہاتھ میں لیے پرسکوں، مطمئن زندگی گزار رہا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: