فلسفہ اور زبان میں تعلق کی تہہ داریاں: ایک پاکستانی تناظر ۔خالد بلغاری

2

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے شعبہ فلسفہ میں پروفیسر ہیوبرٹ ڈرائفس کی کلاس طلبہ و طالبات سے کھچا کھچ بھری ہے. پروفیسر صاحب جو عمرعزیز کی آٹھ دہائیاں دیکھ چکے ہیں ڈائس پر موجود چند کتابوں اور اپنے بکھرے ہوئے نوٹس کے اندر سے منتخب حصے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھتے اور پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں.
انکے ہاتھوں میں خفیف رعشہ، آنکھوں میں چمک اور آواز میں چہک ہے. تدریس انگریزی زبان میں ہورہی ہے. بھاری امریکی لہجے میں انگریزی بولتے ہیں جس پر شمالی امریکہ کے جنوبی علاقوں کی واضح چھاپ ہے.
پروفیسر صاحب مارٹن ھائیڈیگر کی شہرہ آفاق تصنیف "بِیینگ اینڈ ٹائم” پر اسی یونیورسٹی میں ہر سال ایک ششماہی کورس کرواتے ہیں. یہ کورس اور مارٹن ھائیڈیگر کے دیگر کام پر پروفیسر صاحب کی تحقیقی کتابیں اور لیکچر فلسفہ کے حلقوں میں بہت معروف ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں. پروفیسر ڈرائفس اپنی طالب علمی کے دور میں ھائیڈیگر سے ملاقات کا شرف بھی رکھتے ہیں اور انکے لیکچرز میں بھی حاضر ہوتے رہے ہیں.

 مارٹن ھائیڈیگر بیسویں صدی کے دو تین بڑے براعظمی فلاسفہ میں سے ایک ہیں. بینگ اینڈ ٹائم مارٹن ھائڈیگر کی سب سے مشہور تصنیف ہے. جرمن زبان میں لکھی گئی یہ ضخیم کتاب فلسفیوں کے معیار کے مطابق بھی مشکل ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے. جرمن زبان کے ماہرین بھی اس کتاب کو سمجھنے میں شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں. پروفیسر صاحب طلبہ کو خصوصی فہمائش کرتے ہیں کہ ھائیڈیگر کے فلسفہ کے مشکل اور پیچدار ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ زبان کا استعمال بہت انوکھے انداز میں کرتے ہیں. مثلاً عموماً استعمال ہونے والی یا مروج فلسفیانہ اصطلاحات کے استعمال سے سخت گریز اور انکی بجائے اپنی اصطلاحات خود وضع کرنا. پہلے سے موجود الفاظ کے اندر ایسے نئے معنی داخل کرنا جو لفظ کی ساخت سے اگرچہ نسبت رکھتے ہیں لیکن جن کے معانی سراسر ھائیڈیگر کے اپنے زرخیز ذہن کی اختراع ہوتے ہیں. پروفیسر صاحب اس کلاس کے طلبہ و طالبات  کے سامنے "بینگ اینڈ ٹائم” کے انگریزی ترجمہ ہی سے اقتباس سنا رہے ہیں. اس کورس کے شروع ہی میں انہوں نے سبھی طلبہ کو بتا دیا ہے کہ وہ کونسا ترجمہ استعمال کرینگے.  اگرچہ وہ اس بات کی اجازت دیتے بلکہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اصل جرمن کتاب سے براہ راست استفادہ بھی کیا جائے. ہر کلاس میں چند طالب علم ایسے ضرور ہوتے ہیں جو جرمن متن پڑھ رہے ہوں. کلاس کے دوران بہت دفعہ ایسے ہوتا ہے کہ کسی ایک اصطلاح پر ساری کلاس اٹک جاتی ہے اور اصطلاح کے اصل جرمن، اسکے انگریزی ترجمہ اور متبادل تراجم کی صحت کے حوالے سے لمبی لمبی بحثیں چلتی ہیں. پروفیسر صاحب خود اور انکے طلبہ بھی تدریس فلسفہ کے دوران جرمن زبان کی باقاعدہ تحصیل کرچکے ہیں. سامعین میں سے چند جو پی ایچ ڈی وغیرہ کررہے ہیں اور پروفیسر ڈرائفس کے اسسٹنٹ کے طور پر درس میں شریک ہیں، یونانی زبان بھی جانتے ہی‍ں. پروفیسر ڈرائفس اپنے تمام لیکچرز کی صوتی ریکارڈنگ بھی ساتھ ساتھ کرتے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً یہ ریکارڈ شدہ مواد یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر اپنے طلبہ اور استفادہ عام کیلئے چڑھا دیتے ہیں.

مارٹن ھائڈیگر نے بینگ اینڈ ٹائم لکھنے کیلئے تقریباً ایک نئی جرمن زبان ایجاد کرلی تھی. رائج الوقت فلسفیانہ زبان کو وہ اپنے انوکھے اور اچھوتے طبع زاد خیالات کے درست ابلاغ کیلئے موزوں نہ سمجھتے تھے. ان کا خیال تھا کہ مروج اصطلاحات وقت گذرنے کیساتھ اپنے گرد ایسے معانی کا ہالہ سا بن لیتے ہیں جو اُس اصطلاح کے بنیادی مطلب تک رسائی کو ناممکن نہیں تو بہت مشکل اور پیچدار ضرور بنا دیتے ہیں. ایسی اصطلاح کو دیکھتے اور پڑھتے ہی قاری کا ذہن اس کے گرد لپٹے ہوئے فرسودہ اور نا خواہ معانی کے چنگل میں پھنس جاتا ہے اور یوں درست معنی تک رسائی سے محروم رہ جاتا ہے. 
بِیینگ اینڈ ٹائم کی تصنیف کے دوران ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مارٹن ھائیڈیگر پر زبان کی اہمیت اس قدر روشن ہوگئی تھی کہ اس کے بعد انکے تمام فلسفیانہ کام کا رخ زبان، لفظ، معنی، شعر اور آرٹ کی طرف ہوگیا. بیسویں صدی کے نصف آخر کے بڑے نامور فلاسفہ جیسے مِشل فوکو اور یاک دریدا وغیرہ کی لسانیات کیساتھ شدید نسبت کا راز بھی مارٹن ھائیڈیگر کے لفظ کیساتھ اسی اچھوتے تعلق میں تلاش کیا جاتا ہے.
مشل فوکو معروف فرانسیسی ابہام پسند فلسفی، سماجیات اور ادبیات سے وابستہ تھے. مشہور ہے کہ بستر مرگ پر اس متنازعہ فلسفی نے اپنے اچھوتے خیالات کا اصل منبع مارٹن ھائیڈیگر کے افکار ہی کو قرار دیا تھا.
ان فلاسفہ کے زیر اثر مغربی فلسفہ کا مجموعی رخ مادہ اور شعور کی بحثوں سے نکل کر لفظ کی طرف ہوگیا. یہ کہا جا سکتا ہے کہ مابعد جدید مغرب کے فلسفیانہ مزاج کا لفظ اساس ہو جانا انہی فلاسفہ کے مرہون منت ہے.
چنانچہ دنیائے مغرب نے عہدِ جدیدیت سے نکل کر آگے بڑھنے کیلئے لفظ کا سہارا لیا اور اپنی اس پیش قدمی کو ادبیات میں برپا ایک تحریک کی شکل دیدی. نئے وجود میں آنے والے عہد کے خدوخال اگرچہ بہت واضح نہیں لیکن اتنا ضرور طے ہوچکا ہے کہ عہدِ مابعد جدید لفظ، اس کے گرد لپٹے ہوئے معانی اور دونوں کے باہمی تعلق اور نسبتوں کیساتھ ہی مستقبل میں رواں دواں رہیگا. 
ولیم لووِٹ، ھائیڈگر کے ایک مشہور مضمون کے تعارفی حصے میں لکھتے ہیں.
"ھائیڈگر نے کہا کہ زبان وجود کا گھر ہے. وجود اور انسان کا دو طرفہ تعلق زبان ہی کی بدولت قائم ہوتا ہے. لہذا زبان کی ماہیت کی کھوج کے دوران جب ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس زبان میں، جب یہ ابتدا میں نمودار ہوئی تو کیا بولا گیا اور اس کے بعد اس زبان میں اب ہم کیا سنتے ہیں یا سن سکتے ہیں، تو ہم دراصل اسی دو طرفہ تعلق ہی کو تلاش کررہے ہوتے ہیں. یہ عمل گویا خود کو ایک ایسی جگہ پر ایستادہ کر لینے کے مترادف ہے جہاں وجود ظاہر ہوتا ہے اور سنائی دیتا ہے.”

پاکستان میں فلسفہ کی حالت زار کو بیان کرنے کیلئے شاید ھائیڈگر کے پاس بھی کوئی موزوں لفظ نہ ہو. تاہم اس عظیم فلسفی سے اتنا فیض تو ہم حاصل کر ہی سکتے ہیں کہ اپنے زوال کی شدت کو بیان کرنے کیلئے اصطلاحات خود وضع کرنا شروع کردیں اور زبان کو استعمال کرنے کے گُر اِس عہد ساز انوکھے فلسفی سے سیکھ لیں جو لفظ اساس مابعد جدید عہد کی بنیادوں میں رکھا جانے والاغالباً سب سے مضبوط اور بھاری پتھر ہے.
اردو کے قومی زبان ہونے کے بارے میں تو  شاید اب اتفاق رائے ہو چکا ہے. ملک میں تعلیم کے مختلف مدارج میں تدریسی زبان سے متعلق گذشتہ برس تفصیلی مباحث پڑھنے کو ملے. پاکستانی اعلی عدلیہ کی جانب سے اردو کو دفتری زبان قرار دینے کا حکم نامہ جاری ہونے کے بعد زمین پر حالات جوں کے توں چلے آرہے ہیں. سماج میں زبان کی حالت خوفناک حد تک بگڑ چکی ہے. قومی زبان کا کوئی ایک جملہ بھی انگریزی کے پیوند کے بغیر مکمل نہیں ہوپاتا. غلط انگریزی بول کر شرمندہ جبکہ غلط اردو بول کر فخر محسوس کرنے والے عبقری طبقے کی آبادی پڑھے لکھے حلقوں میں روز بروز بڑھتی جاتی ہے. 
مزید طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو یہاں اردو کے ارتقائی ادوار کے حوالے سے محمد حسین آزاد کی آب حیات سے کچھ پیش کیا جاتا. بہر حال اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ محققین اس خوبصورت زبان کو اب سلطنت مغلیہ کی لشکری زبان کہنے سے تو باز آ ہی چکے ہیں. تاہم اس زبان کی ایک خصوصیت تمام ماہرین اردو کے نزدیک متفق علیہ کی حثیت رکھتی ہے، کہ اس زبان میں دیگر بولیوں کے الفاظ جذب کرنے کی صلاحیت بہت ہے. سردست اس بات کی تفصیل میں نہیں جاتے کہ یہ صلاحیت مثبت ہے یا منفی، اور کیا ایسے ‘ہر کلہ راشہ’ مزاج پر فخر کرنا بھی چاہئے. 
عام بول چال سے ہٹ کر کہ جس میں اب انگریزی کی آمیزش بہت عام ہوچلی ہے اور اس آمیزش کی شدت متکلم کی عصری تعلیمی درجہ کی بلندی کیساتھ فزوں تر ہوتی جاتی ہے، تدریسی اور سنجیدہ اردو میں فارسی، ہندی اور عربی کے اثرات زیادہ نظر آتے ہیں. معیاری انشاء پردازی ہو یا فلسفیانہ و شاعرانہ اظہار کیلئے اردو کو ذریعہ بنایا جائے، زبان لا محالہ طبیعت کی اُپچ اور شخصیت کی تربیت کے مطابق یا تو معرّب ہوجائیگی یا مفرّس.

بات کو سمیٹ کر آگے بڑھاتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چند صدیاں قبل ایک نامعلوم تاریخی جبر کے زیر اثر عربی اور فارسی میں کا ھندی کی زمین پر ٹکراؤ کے منطقی انجام کے طور پر اردو زبان مسلم ہندوستان کی اکثریت کا مقدر بن کر وجود میں آگئی. اردو ایک کثیر الجہت زبان ہے. ھندی اسکی زمین ہے جبکہ عربی اور فارسی اس میں بسیرا کرتے ہیں.
اس زبان کو بولنے اور لکھنے والوں کیلئے بھی لہذا ضروری ہے کہ تینوں اجزاء میں سے ایک کو بھی نظر انداز نہ ہونے دیں. جھکاؤ کم یا زیادہ کسی ایک یا دوسری طرف ہوسکتا ہے لیکن کسی بھی طرح کے تعصب یا جہالت کی بنیاد پر ان اجزاء میں سے ایک کے وجود سے بھی انکار،  زبان بولنے والے کے اپنے وجود کی حیثیت کو گھٹا دیگا.
زبان کسی بھی تہذیب کا سب سے مکمل اور قیمتی سرمایہ ہوتا ہے. بشریات اور لسانیات کی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے بھی اس بات کو واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ زبان تہذیب سے کٹ کر نہیں رہ سکتی. زبان ہی تہذیب کے وجود کا واحد اظہار ہے. کوئی تہذیب اتنی ہی شاندار ہے جتنے کہ اس کے لفظ شاندار  ہیں. جس تہذیب کی زبان میں ابلاغ کی جتنی صلاحیت ہوگی وہ تہذیب اتنی ہی بلند اور ترقی یافتہ ہوگی.
ملک میں باقاعدہ تدریسی فلسفہ کی حالت کا تو مصنف کو زیادہ علم نہیں. تاہم غور کیا جائے تو بات کچھ ایسی چھپی ہوئی بھی نہیں ہے اور یہ سوال تو ڈرتے ڈرتے پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ وہ جامعات جہاں پر فلسفہ کی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے کیا اور کیسا پیدا کررہے ہیں. فلسفہ سے دلچسپی رکھنے والے جو چند لوگ اس ملک میں بستے ہیں انکی نظر سے پچھلے بیس سالوں کے دوران ان جامعات کی پیدا کردہ کون سی قابل ذکر کتاب گذری ہے؟ . جواب سب کو معلوم ہے. چند تراجم ، جنکے معیار کو بہت فراخدل ہوکر بھی اعلی نہیں کہا جاسکتا.
تاریخ کے کسی موڑ پر بھی فلسفہ مقبول عام نہیں رہا. خواص ہی اس سے مطلب رکھتے رہے. یہ البتہ نہیں ہوا کہ فلسفہ کے اثرات اور نتائج سے کوئی بھی شخص تاریخ کے کسی بھی موڑ پر محفوظ رہا ہو. افلاطون کا مشہور قول ہے کہ "اگر آپ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سیاست بھی آپ میں دلچسپی نہیں رکھتی”.

بدلتی ہوئی نئی دنیا میں جبکہ فرد اور قوم کے تہذیبی وجود میں لفظ کی اہمیت اس قدر مسلم ہوچکی ہے کہ عہد مابعد جدید کی سب سے مضبوط پہچان ہی اسکا لفظ مرکز ہونا ٹھہر گیا ہے. ایسے پس منظر میں اس سوال کا کیا جواب ہوگا کہ پاکستان کے جدید فلسفی کا ذریعہ اظہار کون سی زبان کو ہونا چاہئے.
اسی پس منظر میں ہماری رائے اُس ذہنیت کے بارے میں بھی درست ہوجانی چاہئے جو اپنے لئے فلسفہ کا واحد معیار مغربی فلسفہ کو قرار دیتا ہے اور مغرب کی معروف زبان ہی میں اسے پڑھنا اور برتنا چاہتا ہے. زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ مغربی فلسفیانہ افکار کا ترجمہ قومی زبان میں کرلیں اور فرض سے سبکدوش ہوجائیں.
تراجم کے بارے میں مارٹن ھائڈیگر ایک جگہ لکھتے ہیں
"یونانی زبان کے الفاظ کا لاطینی زبان میں ترجمہ بغیر نتائج کے نہیں ہوا، بلکہ یہ بات آج بھی ویسے ہی درست ہے. بظاہر نیک نیتی پر مبنی لفظی ترجمے میں جو بات سامنے نہیں آتی وہ یہ ہے کہ اس دوران یونانی تجربہ رومن طرز فکر کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے. رومن اندازِ فکر یونانی لفظ کو اس کے ساتھ منسلک بنیادی تجربے سے کاٹ کر اس طرح یرغمال بنا لیتا ہے کہ یونانی لفظ فنا ہوجاتا ہے. فکرِ مغرب کے جڑ کٹا ہونے کی ابتدا انہی تراجم سے ہوئی ہے.” ۱.

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ فلسفہ مغرب کے اردو تراجم غیر اہم ہیں. ڈاکٹر سید عابد حسین کا عمانویل کانٹ کی کتاب کا معیاری ترجمہ یا عبدالماجد دریابادی کے ڈیوڈ ھیوم کی کتب کا ترجمہ یا دیگر تراجم کی بھی اپنی اہمیت ہے. انگریزی زبان سے ضروری واقفیت کے بغیر یوں بھی جدید دنیا میں اب سانس لینا محال ہے. نکتہ صرف یہ ہے کہ تراجم کافی نہیں ہیں. یہ بس ہمارے فلسفی کو مغربی فلسفہ کی تفہیم (عموماً غلط) میں معاونت ہی دے سکتے ہیں اور انکا یہی کام ہے.
فلسفی کا اصل کام اس سے آگے شروع ہوتا ہے.
فلسفہ جس نوعیت کے بنیادی سوالات سے متعلق ہے اس کی تفصیل کسی اور وقت میں کرینگے، یہاں اتنی بات البتہ کہنی چاہئے کہ ایسے سوالات اور انکے جوابات کہیں سے ادھار نہیں لئے جا سکتے. کسی دوسری تہذیب سے، جس کی جڑ اور شاخیں ہماری تہذیب سے یکسر مختلف ہیں، فلسفہ کے بنیادی سوالات مستعار لینے کے نتیجے میں جس طرح کا تصادم ہماری بنیادوں میں برپا ہوا ہے اسکا بد نما اظہار جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے.
فلسفہ کے سبھی سوالات متعلق تہذیب کی تاریخ اور زمین سے جنم لیتے ہیں. ان سوالات کا سامنا کرنے کےلئے جو لوازمات درکار ہوتے ہیں انکو بھی اسی تہذیب کی تاریخ اور زمین میں ہی تلاش کرنا چاہئے. تہذیب، جو صرف اپنی زبان اور لفظ کے اندر سانس لیتی ہے، مانگ کر لائی ہوئی زبان اور پیوند شدہ لفظ یا تراجم کے سہارے زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی.
پاکستانی فلسفی کے سامنے آج اپنی تہذیبی شناخت کا سوال اہم ترین صورت اختیار کئے ہوئے ہے.  ہمارا فلسفی تہذیب اور اُس کے زبان کے ساتھ تعلق کی تہہ دار نسبتوں کو جتنی جلدی سمجھ لے گا اتنا اس کے حق میں بہتر ہوگا. مستعار زبان اور افکار کی چمک ہمارے فلسفی کی آنکھ کو اگر ایسے ہی خیرہ کئے رہی تو قوم  یونہی اندھیروں میں بھٹکتی، ٹامک ٹوئیاں مارتی رہیگی.

  1. Origin of the work of Art. Martin Hiedegger. Cambridge university press.
    2. The question concerning technology. Martin Hiedegger. Translation/Introduction William Lovitt. Garland publishing Inc.

———————————————————

خالد ولی اللہ بلغاری .
بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق ہے.
پیشہ ورانہ میدان طب ہے.
فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. فلسفہ گو دلپسند مضمون نہیں ہے، مگر زبان کا حسن اور بیان کا کمال پڑھتے جانے پر مجبور کرتا گیا۔
    فکر کو جہت بخشنے والی تحریر کے لئے بےحد شکریہ۔

  2. بہت عمدہ تحریر۔ غالبا آپ اتفاق کریں گے کہ ھائیڈیگر جہاں نئی زبان، الفاظ و تعبیرات ایجاد کرتا ہے وہیں اپنے متعدد فلسفیانہ دعووں کی بنیاد یونانی یا دیگر زبانوں کے الفاظ کی لغوی اصل کی تحقیق پر رکھتا ہے۔ (تقریباایسی ہی صورتحال ابنِ عربی کے ہاں بھِی نظر آتی ہے، )

Leave A Reply

%d bloggers like this: