جنرل ہوش محمد شیدی شہیدؒ —– لالہ صحرائی

0
  • 231
    Shares

دنیا کی ہر صبح ایک جیسی طمانیت کیساتھ طلوع ہوتی ہے، جہاں طمانیت نہ ہو وہاں کم از کم ایک اچھی امید ضرور ہوتی ہے مگر ہر شام کسی نہ کسی کیلئے ایک کرب کیساتھ غروب ہوتی ہے، دن بھر میں لاکھوں انسانوں کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں، ہزاروں دل ٹوٹتے ہیں اور سینکڑوں امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، مگر حوصلہ مند لوگ پھر سے ایک نئی صبح کی امید میں اپنی اداس شام کو گلے لگا کے سو جاتے ہیں، یہ انفرادی دکھ سکھ عارضی ہوتے ہیں لیکن کسی صبح ایک ریاست کو آزاد دیکھنے والا سورج اگر شام کو اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھ کر غروب ہو جائے تو دوبارہ آزاد دیکھنے کیلئے اسے صدیوں پر محیط انتظار کرنا پڑتا ہے۔

سندھ کی دھرتی پر 24 مارچ 1843 کی صبح بھی ایک امید کیساتھ طلوع ہوئی تھی، شیرِ سندھ کا لقب رکھنے والے میرپور اسٹیٹ کے والی میر شیر محمد تالپور نے اس صبح سندھ کی دھرتی کو انگریزوں کے چنگل سے آزادا کرانے کیلئے اپنی تلوار بے نیام کی تھی اور دوبے کے میدان میں صف آراء جنرل چارلس جیمز نیپئیر کی فوج کو للکار ا تھا، میانی کی جنگ میں حیدرآباد پر انگریزی قبضے کے بعد سندھیوں کی یہ پہلی اور آخری جنگ آزادی تھی جس میں شیرِ سندھ کے سپہ سالار جنرل ہوش محمد شیدی نے اپنی سپاہ کو صرف چند لفظی خطاب کیا تھا:

“مر ویسوں مر ویسوں سندھ نہ ڈیسوں”

جنرل ہوش محمد شیدی کو ہوشو شیدی بھی کہتے ہیں، جنرل ہوشو کے اس مختصر مگر جامع خطاب نے بلوچ فوج میں وہ جذبہ حریت بھر دیا تھا کہ دشمن پر پلٹتے جھپٹتے ان سب کی زبانوں پر بھی یہی ایک جملہ رواں تھا:

“مر ویسوں مر ویسوں سندھ نہ ڈیسوں”۔

مغل حاکم اورنگزیب عالمگیر کے وزیر مرزا بیگ نے سندھ کی دیکھ بھال کلہوڑا خاندان کے سپرد کر رکھی تھی لیکن اورنگزیب کی وفات سے چند سال قبل انہوں نے اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا تھا جو مکمل تو نہیں مگر نیم خودمختار حیثیت میں تسلیم کرلیا گیا، جب کابل سے نادرشاہ اٹھا تو اس نے انہیں کافی نقصان دیا مگر بعد میں اس نے بھی انہیں باجگزاری کی بنیاد پر حاکم تسلیم کرلیا تھا، 1701 سے 1783 تک سندھ پر کلہوڑا حکمرانوں نے بہت اچھی حکومت کی لیکن میاں عبدالنبی کلہوڑو کے دور میں سماجی حالات کافی مخدوش ہو گئے تھے، یہاں تک کہ محلاتی سازشوں میں کئی بیگناہ تالپور سرداروں کی بھی جان چلی گئی تھی۔

شیدی کا زیر تعمیر مقبرہ

تالپور خاندان ایک سندھی بلوچ قبیلہ ہے جس کے آباؤ اجداد سیستان کے حاکم تھے، ان میں سے کچھ نے ہجرت کرکے ڈیرہ غازی خان، موجودہ پنجاب، کو اپنا مسکن بنا لیا تھا، کلہوڑوں نے جب اقتدار حاصل کیا تو انہیں اپنی معاونت کیلئے سندھ آنے کی دعوت دی جس کے تحت میر شہداد خان تالپور سندھ چلے گئے، وہاں انہوں نے وسیع رقبے پر کاشتکاری کرکے اسے آباد کیا اور سندھ کے شہر شہدادپور کی بنیاد رکھی، متوازی طور پر وہ کلہوڑوں کے مشیر اعلیٰ اور بلوچ فوج کے سربراہ بھی مقرر ہوئے، تالپور خاندان انہیں اپنا جد امجد قرار دیتا ہے، ان کی اولادیں بھی اپنے اپنے عہد میں کلہوڑوں کی اتحادی اور مشیر رہی تھیں مگر کلہوڑوں کی باہمی رنجشوں اور اقتدار کی کشمکش میں جب انارکی کا دور دورہ چل نکلا تو عوامی حلقوں کیساتھ ساتھ تالپور سرداروں پر بھی زمین تنگ ہو گئی، عوام اس انارکی سے نکلنے کیلئے میر فتح علیخان تالپور کی طرف ہی دیکھتے تھے، بلآخر عوامی حلقوں کی صلاح پر ہالانی کی جنگ میں انہوں نے کلہوڑوں سے اقتدار چھین لیا۔

میاں عبدالنبی کلہوڑو نے کابل کے حکمران تیمور شاہ کے دربار میں اپیل دائر کی، اس کے جواب میں تالپوروں کے وفد نے وہاں میر فتح علیخان کا پیغام سنایا کہ

“اس شخص نے میرے ان رشتے داروں کو بے دریغ قتل کیا ہے جنہوں نے ہمیشہ وفاداری کیساتھ اس کی خدمت کی تھی، پھر اس نے اپنے خاندان کے ہر چھوٹے بڑے کیساتھ بھی بُرا ہی کیا ہے، باوجود اس کے کہ اپنی حکومت خطرے میں دیکھ کر یہ قرآن کو سامنے رکھ کے وعدے کرتا ہے مگر پرسکون ہوتے ہی اپنے وعدوں سے مکر جاتا ہے، یہ بلآخر آپ کیلئے بھی وفادار ثابت نہیں ہوگا”۔

تیمور شاہ اس خط سے متاثر تو ہوا لیکن ایک افغان سردار میاں صاحب کے حق میں زبردست سفارش کر چکا تھا، خود ان کی اپنی منت زاری کے پیشِ نظر بھی تیمور شاہ کو میاں صاحب سے ہمدردی تھی اسلئے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک پر میاں عبدالنبی کلہوڑو کی حکومت اور دوسرے پر میر فتح علیخان تالپور کی حکومت قائم کر دی جائے، اس طریقے میں تیمور شاہ کو چونکہ دوہرا خراج ملنے کی توقع تھی لہذا اس نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کیلئے اپنے ایک منصف کو لشکر دے کر میاں صاحب کے ہمراہ بھیج دیا جس نے زمین، خزانہ و دیگر فوجی و غیر فوجی اثاثہ جات تقسیم کرکے دینے تھے، میر فتح علیخان کو جب اس فیصلے کا علم ہوا تو انہوں نے سندھ کی تقسیم کو ہر قیمت پر رد کر دیا اور چالیس ہزار افراد پر مشتمل فوجی قوت کیساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے روہڑی کے مقام پر صف آراء ہو گئے، نادرشاہ کے دور میں کابلی فوج نے بلوچ تلواروں کی دھار بڑی اچھی طرح چکھی ہوئی تھی اسلئے منصف نے جب انہیں جنگ پر آمادہ پایا تو خون خرابہ کرنے کی بجائے تالپوروں کا ایک وفد دوبارہ کابل بھیجا، ان کا موقف دوبارہ سن کر تیمور شاہ نے میر فتح علیخان کے حق میں سند لکھ دی اور تحائف کیساتھ وفد کو واپس بھیج دیا، اور خراج کی شرط پر میر فتح علیخان تالپور کو سندھ کا حکمران تسلیم کرلیا۔

میر فتح علیخان نے چونکہ کلہوڑا دور کی انارکی سے تنگ آکے حکومت کا تختہ الٹا تھا لہذا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے ایوان اقتدار میں دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جو سماجی ترقی کی بجائے بدامنی اور ہلاکت خیزی کا پیغام لائے، اسلئے انہوں نے سندھ کو انتظامی طور پر دو سطحوں میں تقسیم کیا، پہلی سطح میں سات اضلاع قائم کئے، پھر ان میں سے تین اضلاع پر مشتمل حیدآباد اسٹیٹ قائم کی جسے شہداد خانی ریاست بھی کہتے ہیں، اس میں اپنے تین بھائیوں کو بھی شامل اقتدار کیا، چار بھائیوں کی اس پارٹنرشپ کو “چو یاری” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یعنی چار دوستوں کی شراکت داری، جس کے سربراہ وہ خود تھے، باقی بھائی مختلف اضلاع کی ذمہ داریوں کیساتھ ان کے معاون تھے۔

دو اضلاع پر مبنی خیر پور اسٹیٹ کی بنیاد رکھی جس کے سربراہ میر سہراب خان تالپور تھے، اسے سہرابنی ریاست بھی کہتے ہیں، اور مزید دو اضلاع پر میرپور اسٹیٹ قائم کی جسے منکانی ریاست کہتے ہیں، اس کے سربراہ میر تھارا خان منکانی تالپور اور ان کی معاونت کیلئے ان کے بھائی لوگ تھے، گویا یہ ایک خاندانی فیڈریشن کی طرز کا انتظام تھا جس میں مختلف بھائیوں کی اولادیں شامل تھیں تاکہ آپس میں حصول اقتدار کا کوئی بکھیڑا پالے بغیر یکسوئی کیساتھ تمام تر توانائیاں ترقی پر مرکوز رکھی جا سکیں، اس مشن میں وہ خاطرخواہ حد تک کامیاب بھی رہے، تفصیلات میں جائے بغیر یوں سمجھ لیجئے کہ تاریخ کے دیسی بدیشی تمام اکاؤنٹ اس بات پر متفق ہیں کہ تالپوروں کے دور میں سماجی ترقی، امن عامہ، بین المذاہب ہم آہنگی اور ہر وہ اچھی چیز موجود تھی جس کی توقع عوام دوست حکمرانوں سے کی جا سکتی ہے بلکہ یہ دور سندھ کی تہذیبی تاریخ میں سب سے بہتر و پُر امن دور کہلاتا ہے۔

میر فتح علیخان اٹھارہ سال بعد فوت ہوئے تو سندھ کی سربراہی ان کے بھائی میر ٖغلام علیخان کے ہاتھ میں آئی، انہوں نے میرپور کے ایک چور کو حیدرآباد کی املاک میں چوری کرنے پر سزا دے دی تو میر تھارا خان نے اس اقدام کو اپنی ریاست میں مداخلت پر محمول کرتے ہوئے اعلان جنگ کر دیا، میر غلام علی اس معمولی بات پرجنگ نہیں چاہتے تھے تاکہ فیڈریشن کو نقصان نہ پہنچے لیکن میر تھارا خان اپنے حواریوں کیساتھ مکمل تیاری کر چکے تھے، ان حالات میں میر غلام علی نے یہ معاملہ اپنے ایک انکل میر محمود خان کے سپرد کر دیا جو ایک منجھے ہوئے فوجی سردار تھے، انہوں نے اپنی سپاہ کو اس طرح تعینات کیا کہ جب آمنا سامنا ہو تو دو حصوں میں بٹ کر میرپوری فوج کو گھیر کے سرعت کیساتھ میر تھارا خان کو گرفتار کر لیا جائے، پھر بھی تماتر احتیاط کے باوجود طرفین کے سات سو سے زائد سپاہی مارے گئے، خود تھارا خان بھی زخمی ہوئے لیکن ان کی گرفتاری بہرحال عمل میں آگئی۔

میر تھارا خان کو صحتیابی تک حیدرآباد قلعے میں رکھا گیا، اس دوران انہیں سمجھانے بجھانے کا کام بھی ہوتا رہا کیونکہ وہ میر غلام علی کی بیوی کے بھائی بھی تھے، جب حالات نارمل ہو گئے تو انہیں حسب سابق بطور حکمران واپس میرپور بھیج دیا گیا، یہ معاملہ تو بلآخر حسب منشاء حل ہو گیا مگر یہ اٹ کھڑکا جاتے جاتے انگریزوں کیلئے سندھ کا دروازہ بھی کھول گیا۔

تالپوروں کا ایک طرف اس پنجاب سے دوستانہ تھا جس نے کم و بیش سو سال تک انگریزوں کو اپنے پاس پھٹکنے تک نہ دیا تھا، دوسری طرف کابل کیساتھ اچھے مراسم تھے اور تیسری طرف بلوچوں کی کاٹ دار تلوار سے بھی انگریز بخوبی واقف تھے اسلئے سندھ پر ہاتھ ڈالنے کی انہیں ہمت نہیں ہوتی تھی لیکن جیسے ہی اس جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو حسبِ عادت انگریز کا سازشی ذہن بھی سندھ کیساتھ دوستانہ مراسم پیدا کرنے کیلئے میر غلام علی کے دربار میں آپہنچا۔

میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علیخان کے ادوار میں بھی انگریزوں نے فیکٹریاں لگانے کی اجازت مانگی تھی جو دونوں کی طرف سے پہلے دے دی گئی بعد میں منسوخ کر دی گئی، اب میر غلام علیخان تالپور کیساتھ انہوں نے صرف دوستی اور باہمی تعاون کا ایک سادہ سا معاہدہ کیا تھا۔

میر غلام علیخان کا دس سالہ دور بھی اپنے پیش رو کی طرح سندھی عوام کیلئے ایک بہترین دور تھا، یہ دونوں حضرات ہالہ کے قریب خداآباد میں مدفون ہیں، ان کے بعد ریاست کی سربراہی ان کے تیسرے بھائی میر کرم علیخان تالپور کے ہاتھ آئی جو شاعر بھی تھے اور جنگی سامان کے ساتھ ساتھ ثقافتی اشیاء کے بھی دلداہ تھے، اس مقصد کیلئے انہوں نے ایران اور دیگر علاقوں کے ہنر مندوں کو بلوا کر سندھ میں آباد بھی کیا تھا، ان کے خاندانی نوادرات اور قیمتی منقش تلواروں کی کلیکشن جو انگریز اٹھا کے لے گئے تھے اب کراچی کے موہاٹہ پیلس میوزیم میں دیکھی جا سکتی ہیں، میر کرم علی وسیع الظرف انسان تھے، وہ کابل، ایران، روس اور پنجاب کی حکومتوں سے بھی دوستی کو مضبوط رکھنے کیلئے تحفے تحائف بھیجتے رہتے تھے اسلئے انگریزوں کی طرف سے دوستی کو مزید مضبوط کرنے کا پیغام بھی رد نہ کر سکے۔

بمبئی کے گورنر سر جان میلکم کی طرف سے میجر سکینی تحفے تحائف لیکر آیا تو میر کرم علی نے اسے خوش آمدید کہنے کیلئے کَچھ کی سرحد پر اخلاقاً اپنے سفیر بھی بھیجدئے، اس ملاقات میں ایک تین نکاتی دستاویز پر دستخط کئے گئے جس میں پہلی بات یہ تھی کہ انگریز سندھ کے کسی بھی بندے کو اپنے ہاں کسی بھی نوکری پر نہیں رکھ سکتے، دوسرا یہ کہ دریائے سندھ کے سروے کیلئے آنے والے انگریز افسروں کے کام میں مداخلت نہیں کی جائے گی، نہ ہی انہیں روکا جائے گا، تیسرا یہ کہ کَچھ کے راستے تجارتی سامان لانے لیجانے والے افراد جن کے پاس بمبئی کے گورنر کا جاری شدہ اجازت نامہ ہو ان سے سندھ میں کوئی محصول نہیں لیا جائے گا۔

اس سے قبل سندھ کے لوگ جو بمبئی سے بذریعہ بحری جہاز حج پر جاتے تھے یا تجارت کرتے تھے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن اس معاہدے کے بعد سندھیوں کیلئے بہت آسانیاں پیدا ہو گئی تھیں اور بیرونی دنیا کا مال بھی سندھ کی منڈیوں میں ملنے لگا تھا، شاید اسی وجہ سے میر صاحب نے یہ قدم اٹھایا تھا، اس صورتحال میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اطلاع ملی کہ رنجیت سنگھ کی فوجیں سندھ پر حملہ کرنے والی ہیں، اس افتاد سے نمٹنے کیلئے رولنگ کونسل کا اجلاس ہوا جس میں سب کا مشورہ یہی تھا کہ ہمیں مقابلہ کرنا چاہئے لیکن میر مراد نے مشورہ دیا کہ جس بندے نے پشاور سے کشمیر تک اور کرنال سے ملتان تک کا علاقہ فتح کر رکھا ہے اس کیساتھ لڑنا خطرے سے خالی نہیں، اس کی بجائے بمبئی کے گورنر سے مدد لی جائے، اس دوران گورنر میلکم واپس برطانیہ جا چکا تھا اور اس کی جگہ الفنسٹون نے لے لی تھی، میروں کا خط ملنے پر الفنسٹون نے گورنر جنرل کی اجازت سے رنجیت سنگھ کو خط لکھ دیا کہ سندھ ہمارا دوست ہے، اگر آپ نے سندھ پر حملہ کیا تو ہم میروں کا ساتھ دینے پر مجبور ہوں گے، رنجیت سنگھ نے جواب میں لکھا کہ سندھ پر حملہ کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں، میر صاحبان میرے بھی دوست ہیں لہذا تشویش کی کوئی بات نہیں، میری افواج کی ہل جل اس چکر میں ہے کہ میرا پوتا نہال سنگھ ان دنوں ملتان، مٹھن کوٹ اور ڈیرہ کی طرف دسہرہ کا تہوار منانے کی غرض سے گیا ہوا ہے، اسی طرح کا ایک خط اس نے ملتان کے گورنر سانول مل کے ذریعے میروں کو بھی بھجوا دیا جس کے بعد حیدرآباد اور خیرپور ریاستوں کی تیس ہزار سے زائد سپاہ بمعہ توپوں کے جو شکارپور کے اطراف سرحدوں پر لگا دی گئی تھی وہ واپس بلوا لی گئی۔

تیسرا موڑ اس وقت آیا جب میر مراد علی شدید بیمار ہو گئے تو میر کرم علی نے اپنے چھوٹے بھائی کے علاج کیلئے بمبئی کے گورنر الفنسٹون سے ایک اچھا ڈاکٹر بھجوانے کی درخواست کی، علاج کیلئے آنے والے ڈاکٹر جیمز برن نے بڑی مہارت دکھائی اور کئی مہینوں سے صاحب فراش میر صاحب صرف بیس دنوں میں بہتر ہوگئے، ایک ماہ میں چلنے پھرنے لگے اور ڈیڑھ ماہ میں بیماری کا نام و نشان بھی جاتا رہا، ڈاکٹر جیمز برن اپنی کتاب، اے وزٹ ٹو کورٹ آف سندھ، میں اس علاج کی تفصیلات، میروں کی مہمان نوازی، سندھ کے سماجی حالات اور دیگر معاملات کے علاوہ یہ بھی لکھتا ہے کہ میر کرم علی بہت اعلیٰ پائے کے شاعر تھے، ان کا فارسی مجموعہ کلام، دیوانِ کرم، ایرانی ادب شناسوں میں بھی مقبول ہے، ان کے بعد چوتھے اور سب سے چھوٹے بھائی میر مراد علیخان تالپور کی باری آئی جو 1833 میں فوت ہوئے، ان کے ساتھ ہی پہلی چویاری حکومت اپنے اختتام کو پہنچی۔

تالپور ریاست کے بانی میر فتح علیخان جس دن فوت ہوئے تھے اسی دن ان کے ہاں ایک بیٹا بھی پیدا ہوا تھا جس کا نام میر صوبدار خان رکھا گیا، میر غلام علی کو ان سے واسطہ نہیں پڑا کیونکہ ان کے دور میں یہ بہت چھوٹے تھے لیکن آخری میروں کے دور میں یہ پچیس سال کے ہو گئے تھے، جوان ہو کر انہوں نے اپنے باپ کی جاگیر اور خزانے سے حصہ مانگنا شروع کر دیا تاکہ اپنے اخراجات آزادانہ پورے کر سکیں، میر کرم علی راضی تھے مگر میر مراد اس بٹوارے پر راضی نہ تھے اسلئے میر صوبدار لوئیر سندھ کی طرف چلا گیا جہاں اسے رنگ برنگے ساتھی دستیاب ہوگئے، اس نے اپنے کچھ جواہرات بیچ کر 8000 لوگوں کی فوج بنائی اور حیدرآباد سرکار کا تختہ الٹنے کی تیاری کرنے لگا، جب یہ خبر حیدرآباد پہنچی تو میر مراد نے اسے سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا اور اپنی فوج لیکر اس بغاوت کو کچلنے کیلئے چل نکلے، یہ خبر سن کے میر صوبدار کے بندے بھی کھسکنا شروع ہوگئے بلکہ بیشتر میر مراد نے خرید لئے تھے اور صوبدار کے پاس صرف 1200 بندے باقی رہ گئے تھے، ان حالات میں اس نے اپنے بڑے چچا میر کرم علی سے صلح نامے کی درخواست کی جو مان لی گئی، بعد ازاں اسے اس کا حصہ بھی دے دیا گیا، اس واقعے کے کچھ دنوں بعد میر کرم علی فوت ہو گئے تھے، ان کے بعد میر مراد علی نے بھی اپنا دور حکومت امن و آشتی کیساتھ نبھایا تھا۔

اس پچاس سالہ دور کے بعد دوسری “چویاری” حکومت ان کی اولادوں کے درمیان واقع ہوئی جو میر مراد کے بیٹے میر نور محمد نے ترتیب دی تھی، اسی طرح خیر پور اور میرپور کی ریاستیں بھی پہلے حاکموں کی اولادوں میں تقسیم ہو چکی تھیں، ان میں میر نصیر تالپور حیدرآباد، میر رستم تالپور خیرپور اور شیر سندھ میر شیر محمد تالپور میرپور سے نمایاں تھے، ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اضلاع اور جاگیروں میں تقسیم کئی علاقائی سردار سندھ کی عملداری میں ان کیساتھ شامل تھے، یہ چویاری اگلے دس سال تک چلی جس میں سے آٹھ سال حسب سابق پرامن اور تینوں ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی تھے البتہ ہر حاکم کو محلاتی و خاندانی سطح پر شکوے شکایات کا سامنا ضرور تھا مگر حالات ایسے نہ تھے کہ کوئی بھی ایکدوسرے کیخلاف تلوار کھینچتا۔

اسی دوران کابل کے دربدر بادشاہ شجاع الملک جو ان دنوں لدھیانہ میں پناہ گزین تھے، اسے کابل میں بحال کرنے کیلئے انگریز اس کیساتھ اپنی فوج بھیجنا چاہتے تھے جس کیلئے سندھ سے فوجیں گزارنے کی راہداری درکار تھی، میجر پوٹنگر جو اپنا سفارتی ہیڈ کوارٹر کَچھ میں بنائے بیٹھے تھے وہ جب درخواست لیکر حیدرآباد آئے تو میر نور محمد نے یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ انگریزوں کو روک تو سکتے نہیں لہذا اجازت نامہ دے دیا لیکن دیگر میروں نے اس بات کی سخت مخالفت کی، بلکہ کرنل پوٹنگر جب واپس ہوا تو مخالفت کرنیوالے میروں کی ایما پر لوگوں نے اسے حیدرآباد کی گلیوں میں پتھر مارنے شروع کر دئے تھے۔

اس معاہدے کی شرائط یہ تھیں کہ انگریزی فوج جب کراچی اترے تو مقامی لوگ انہیں ہر قسم کی سہولیات، سازوسامان، راشن، بیل گاڑیاں، گھوڑے یا دیگر مطلوبہ اشیاء بعوض رائج الوقت قیمت ضرور مہیا کریں، یہ خبر جب عام ہوئی تو تاجروں نے مطلوبہ اشیاء خرید کر ذخیرہ کر لی تھیں تاکہ انگریزوں کو بیچ سکیں لیکن اس اجازت نامے کے مخالف سرداروں کی سپاہ نے، جس میں 1200 افراد ریاست میرپور کی طرف سے بھی شامل ہوئے، ان تاجروں پر حملے کرکے سب ساز و سامان لوٹ لیا اور کراچی کی بندرگاہ پر پہرہ لگا کے بیٹھ گئے، پھر جیسے ہی برطانوی افواج کا بحری جہاز کراچی پہنچا تو ان پر فائرنگ کر دی، اس کے جواب میں جہاز سے پون گھنٹے تک جوابی فائر ہوتا رہا جس کی آڑ میں جنرل جان کئین اپنی فوج جہاز سے اتارنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس بدمزگی کی خبر جب میر نور محمد کو ملی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد بھیجا جس نے میجر پوٹنگر کے ذریعے سے جنرل کیساتھ ملاقات کرکے اس واقعے پر معذرت کی اور معاملہ رفع دفع کرنے کی درخواست کی، اس کے جواب میں سندھ حکومت کو ایک نئے معاہدے پر دستخط کرنے پڑگئے جس کی شرائط درج ذیل تھیں:-

ریاست خیرپور کا پایہ تخت فیض محل

1 . ضرورت کی تمام اشیاء مناسب قیمت پر فوج کو مہیا کرنی ہوں گی۔
2. سندھی روپے میں تین ماشہ سکہ شامل ہے جو تاجروں کیلئے نقصان کا باعث بنتا ہے، آئیندہ سندھی روپیہ 8 ماشہ کا ہوگا جس میں سکہ نہیں ڈالا جائے گا۔
3. میر صاحبان انگریزی حکومت کو 23 لاکھ کا ہرجانہ ادا کریں گے۔
4. میر صاحبان سالانہ 3 لاکھ روپے انگریزی حکومت کو خراج ادا کیا کریں گے۔
5. مستقبل میں 3000 برٹش فوج اپنے مفاد کی حفاظت کیلئے کراچی میں مقیم ہوگی۔
6. ایک ریذیڈینٹ افسر اب حیدرآباد میں بھی رہے گا تاکہ سیاسی معاملات پر نظر رکھ سکے۔
7. آئیندہ کیلئے میر صاحبان انگریزی حکومت کی ہر اس درخواست کو ضرور مانیں گے جو بھی ریذیڈینٹ کے ذریعے بھیجی جائے تاہم انگریز حکومت میر صاحبان کے ذاتی معاملات میں کوئی دخل اندازی نہیں کرے گی۔

یہ معاہدہ سائن کرنے کے بعد جنرل جان کئین اپنی فوج کیساتھ کابل روانہ ہو گیا، 1840 میں میر نورمحمد کا انتقال ہو گیا تو ان کے بعد میر نصیر خان تخت نشین ہوئے جو اپنے پیش رووں کی طرح بہت سنجیدہ فہم اور متین مزاج انسان تھے، کچھ عرصے بعد ان کے دو بھائیوں میر حسین علی اور میر شہداد خان کے درمیان باپ کی وراثت پر جھگڑا کھڑا ہو گیا جس میں میر صوبدار نے میر حسین علی کی طرفداری شروع کر دی تو میر نصیر خان نے میر شہداد خان کی حمایت کر دی، جھگڑے نے جب طول پکڑا تو نوبت تلواریں کھینچنے تک آگئی، ان حالات میں میر نصیر خان نے ثالثی کیلئے انگریزوں کے ریزیڈینٹ افسر میجر آؤٹرم کو مدعو کیا اور یوں معاملہ طے ہو گیا۔

یہاں تک کی ساری تفصیلات دینے کا مقصد یہ تھا کہ آپ یہ بات جان سکیں کہ انگریز سرکار نے کس طرح سندھ میں قدم جمائے اور کس طرح سادہ لوح سندھی حکمران ان کے نرغے میں گھرتے چلے گئے، کَچھ میں سفارتی ریزیڈینسی کا قیام کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ یہی وہ آماجگاہ تھی جس نے سندھ کے حالات کو اپنی مرضی سے بنایا، بگاڑا اور اپنا مقصد حاصل کرنے کی راہیں ہموار کیں، میجر آؤٹرم کوئی چھوٹا موٹا کھلاڑی نہیں تھا بلکہ اپنے مقاصد کے تحت بیشتر میروں اور نچلی سطح کے سرداروں کیساتھ اس کے قریبی تعلقات قائم ہو چکے تھے، اس نے باقائدہ ایک پلاننگ کے تحت غلط فہمیاں پھیلانے، انگریزوں کا خوف پیدا کرنے اور میروں کو بلیک میل کرنے کیلئے اپنے مہروں کو تحفے تحائف دے کر اور بعض کو درپردہ تنخواہوں پر بھی رکھا ہوا تھا، باقی عوام کو چیریٹی کے نام پر نوازتے رہتے تھے تاکہ قبضے کے وقت عوام لاتعلق رہے، عوام میں یہ تاثر قائم کر دیا گیا تھا کہ انگریز غریب سندھیوں کی زندگی میں بہتری لانے کیلئے کوشاں ہیں، اس کے علاوہ خیرپور میں میر علی مراد اور حیدرآباد میں میر صوبدار جیسے لوگوں کو بعد از فتح سندھ میں حاکم بنانے اور چھوٹے سرداروں کو جاگیریں دینے کا وعدہ بھی کر رکھا تھا، میر صاحبان کو یقیناً انگریزوں کی ان سرگرمیوں کا علم ہو گا مگر جس رفتار سے حالات ہاتھوں سے نکل رہے تھے اور جس طرح وہ اپنے چھ سات معاہدوں میں بندھے ہوئے تھے ان کے پیش نظر وہ ایسی سازشوں کا قلع قمع کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے تھے۔

اس کے بعد 1841 میں میجر آؤٹرم کو واپس بلا لیا گیا اور اس کی جگہ جنرل چارلس نیپئر کو سندھ کا ریزیڈینٹ افسر مقرر کر دیا، بغیر کسی گہری پلاننگ کے یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک کمشنر کی سطح کا میجر، ایک ایسے جنرل سے ریپلیس کر دیا جائے جسے کم و بیش گورنر لگنا چاہئے، میجر آؤٹرم بھی اس پلاننگ سے شائد واقف نہیں تھا، گو میانی کی جنگ اور حیدرآباد پر قبضے میں اس کا کردار مرکزی رہا ہے جو شائد نوکری کی مجبوری تھی لیکن واپس جانے کے بعد خود اسی نے سندھ پر قبضے کو برطانوی عدالت میں چیلنچ کیا تھا۔

جنرل چارلس پُونا سے کراچی اور کراچی سے اسٹیمر کے ذریعے حیدرآباد پہنچا، پہلے دن میر نصیر خان اور دوسرے دن میر صوبدار خان ان سے ملاقات کیلئے گئے، چارلس نے ان دونوں کو اپنی طرف سے قیمتی تحفے تحائف بھی پیش کئے، کچھ ماہ بعد جنرل چارلس کے اسسٹنٹ کیپٹن سٹینلے نے میر نصیر خان سے ملاقات کی اور ایک نیا معاہدہ سائن کرنے کیلئے پیش کیا جس کی شرائط درج ذیل تھیں:-

1 . سندھ کے سکے پر ایک طرف کنگ آف انگلینڈ کی تصویر کندہ کی جائے۔
2 . کراچی، شکارپور، سبزل کوٹ، عمرکوٹ بشمول ان ٹاؤنز کی تمام ملکیتی حدود سے انگریز سرکار کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔
3. دریائے سندھ کے دونوں طرف سو سو گز کی پٹی انگریز سرکار کی ملکیت میں دے دی جائے۔

میر صاحب نے اس معاہدے پر دستخظ کرنے سے انکار کر دیا اور سٹینلے اسٹیمر کے ذریعے واپس چلا گیا، اس انکار کے بعد چارلس نے دسمبر 1842 میں امام گڑھ کے قلعے پر قبضہ کرلیا اور اس کی حمایت سے وہ تمام مہرے یکے بعد دیگرے سامنے آنے لگے جنہیں میجر آؤٹرم تیار کرکے گیا تھا، ان میں سب سے پہلے خیرپور اسٹیٹ کے میر علی مرا دخان نے اپنے بھائی میر رستم کیخلاف بغاوت کا علم بلند کیا اور خیرپور اسٹیٹ پر قبضہ کرلیا۔

اس کے ایک ماہ بعد میجر آؤٹرم کو کرنل کے عہدے پر ترقی دے کر واپس حیدرآباد ریزیڈینسی بھیج دیا گیا، میروں نے خوش آمدید کے طور پر اسے تحفے بھجوائے لیکن اس نے میر صوبدار کے تحائف قبول کرلئے اور میر نصیر خان کے تحائف واپس کر دئے کیونکہ حسب منصوبہ میر صوبدار بھی وہی کرنے والا تھا جو خیرپور میں میر علی مراد نے کیا تھا، لیکن اسے موقع نہیں ملا کیونکہ دارالخلافے پر قبضے کا مطلب تھا کہ تین ریاستوں کیساتھ دشمنی مول لی جائے جس کی سکت میر صوبدار کے پاس بہرحال نہیں تھی، ریاست خیرپور شائد اس حرکت پر خاموش رہتی مگر میرپور والے خاموش رہنے والے نہیں تھے۔

خیرپور سے بیدخل ہونے والے میر رستم اور ان کے دیگر اعزاء بھی حیدرآباد آگئے تھے، تما م میروں کے مشورے سے یہ طے پایا کہ ہم ان کا معاہدہ دستخط کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ پہلے وہ میر رستم کو خیرپور کا قبضہ دلوانے میں مدد کریں، مرزا خسرو بیگ جو یہ پیغام لیکر جنرل چارلس کے پاس گئے تھے اس نے جنرل کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا کہ تمام میر، میر رستم کی بیدخلی پر سیخ پا ہیں اگر ایسا کوئی اقدام حیدآباد میں کیا گیا تو وہ انگریزوں پر تلواریں کھینچنے سے قطعاً گریز نہیں کریں گے، اور بلوچوں کی لڑائی کوئی معمولی چیز نہیں ہوتی، آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ سندھ کی دھرتی کوئی ٹھنڈی کھیر نہیں جسے آپ جب چاہیں آسانی سے ہڑپ کر جائیں گے۔

سفیر کے ان کلمات نے چارلس نیپئر کو سیخ پا کر دیا، اس نے جواب میں یہ کہہ کر مزید بات چیت سے انکار کر دیا کہ “میں بھی یہاں لڑنے ہی آیا ہوں، دیکھتا ہوں بلوچ تلواریں میری بندوقوں اور توپوں کی بوچھاڑ کب تک روک پائیں گی”، پھر اس نے کہا، کرنل آؤٹرم بذریعہ اسٹیمر حیدرآباد جائیں گے تاکہ وہ میروں کی زبانی خود سن سکیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

جنوری 1843 کے قریب کرنل آؤٹرم اپنے اسسٹنٹ اور 150 سپاہیوں کیساتھ چارلس کے سیہون کیمپ سے حیدرآباد پہنچا مگر میر نصیر خان نے کہا کہ اس وقت سرکاری مُہر موجود نہیں لہذا کل دستخط کریں گے، اس رات کو ہونے والی ایک میٹنگ میں میر نصیر دستخط سے انکار اور جنگ پر آمادہ نظر آرہے تھے جبکہ میر صوبدار بظاہر خاموش تھے مگر درپردہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ کسی طرح جنگ ہو جائے چنانچہ اگلے دن آؤٹرم کا نمائندہ جب دستاویز لایا تو میر نصیر کا جھکاؤ انکار کی طرف دیکھ کے میر غلام محمد لغاری نے وہ دستاویز پھاڑ کے پھینک دی، اگلے دن میر نصیر نے نوآباد ریزیڈینسی پر حملہ کر دیا لیکن کرنل آؤٹرم اپنے ساتھیوں سمیت دو اسٹیمرز میں سیہون کیمپ کی طرف بھاگ نکلا۔

انگریز سے جان چھڑانے کا اب جنگ کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا اسلئے میر نصیر خان تالپور نے اپنی افواج حیدرآباد سے باہر جمع کر لیں اور انگریز کے انتظار میں بیٹھ گئے، اگلے دن دوپہر سے زرا پہلے یہ پتا چلا کہ انگریزی فوج بھی ہالہ کے قریب جنگل میں ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہے، میر نصیر خان نے کچھ فوجی دستے جائزہ لینے کیلئے آگے بھیجنے کو کہا تو سب پس و پیش کرنے لگے، اسلئے کہ انگریز کے حواری میر شہداد خان اور میر صوبدار خان کی ایماء پر بیشتر بلوچ کمانڈر بھی بکے ہوئے تھے، اس موقع پر جب میر نصیر خان کو اندرونی حالات کی سُدھ بُدھ پڑی تو اس نے کہا “ان بلوچوں نے میرے ساتھ بھی وہی کیا ہے جو کوفیوں نے حضرت امام حسینؑ کیساتھ کیا تھا” اس کے باوجود میر نصیر خان میدان چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے، اگلی رات سوچ بچار اور باہمی مشاورت میں گزری کہ آنے والی فوج کو اب اپنی فوج کے مشکوک حالات میں کیسے ہینڈل کیا جائے۔

اگلی صبح 17 فروری 1843 کو میر نصیر خان نے اپنی سپاہ کو پیش قدمی کا حکم دیا اور پھلیلی کے قریب میانی کے علاقے میں پوزیشنیں سنبھال لیں، جنگی تجزیہ کار میجر جنرل ولیم فرانسس نیپئر نے اپنی کتاب، کونکؤیسٹ آف سندھ جلد اول و دوم، میں سیاسی احوال کے علاوہ فوجی نقطہء نگاہ سے بھی اس جنگ کا مکمل احاطہ کیا ہے جس میں چارلس نیپئر اور میر نصیر خان کے دستوں کی ڈپلائمنٹ، وار-سٹریٹجی، اور میچ لاک کی ون ٹو ون تفصیلات نہایت جزئیات کیساتھ بیان کی ہیں، جنرل ولیم نے حکمت عملی اور مہارت کے حساب سے تالپور دستوں کی پلیسمنٹ کو بہترین قرار دیا ہے لیکن وہ 22 اور 25 کوئینز رجمنٹ، مدراس سیپرز، تھرڈ بمبئی لائٹ کیولری اور بنگال کیولری کے محض 2000 افراد سے جنگ جیت نہ پائے، متفرق ہسٹری اکاؤنٹس کے مطابق میر ناصر خان کیساتھ 17000 بلوچ اور 11 توپیں تھیں، اور چارلس کیساتھ 5000 افراد جن میں 1100 گھڑ سوار اور 500 آئرش فوج کے نہایت تجربہ کار افسر اور جوان تھے، جنرل ولیم کے مطابق میر ناصر کیساتھ 30000 بلوچ اور 16 توپیں تھیں مگر تین چار گھنٹوں کی لڑائی میں 6000 افراد کے نقصان کے بعد بلوچ سرداروں نے پسپائی اختیار کرلی، کچھ تزکرہ نگاروں نے بلوچوں کی تعداد 50000 تک لکھی ہے مگر وہ صحیح نہیں لگتی۔

مرزا قلیچ بیگ کیمطابق یہ جنگ بروز جمعہ تقریبا دوپہر کے وقت شروع ہوئی تھی مگر ڈیڑھ دو گھنٹے بھی نہ چل سکی، سب سے پہلے میر حسین علی نے میدان چھوڑا، پھر میر نصیر، میر شہداد، میر صوبدار اور خیرپور کے میر سب ایکساتھ ہی نکل گئے اور حیدرآباد پہنچ کے ہی دم لیا، جی آلانہ صاحب اپنی کتاب ایمیننٹ مسلم فائٹرز میں لکھتے ہیں کہ میر صوبدار نے کسی بہانے سے اس جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، وہ قلعے مین ہی چھپا رہا تھا۔

مرزا قلیچ بیگ نے جہاں پوری ہسٹری تفصیل کیساتھ بیان کی ہے وہاں یہ بتانا گوارا نہیں کیا کہ جنگ ہارنے کے اسباب کیا تھے بلکہ سادہ الفاظ میں میروں کے میدان چھوڑنے کا ذکر کرکے ان کی بہادی پر شکوک وشبہات چھوڑ دئے ہیں، یا تو وہ کونکؤیسٹ آف سندھ کے مصنف سے متاثر تھے یا پھر انگریز کے نوکر ہونے کی وجہ سے میروں کو بہادر کہہ کے اپنی نوکری خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔

ایک تزکرے کے مطابق میروں کے ذخیرہ بارود میں صوبدار کے آدمیوں نے آگ لگا دی تھی جس کے بعد انگریزی توپوں کے مقابلے میں جنگ جیتنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی لہذا میدان میں کھڑے رہنا اپنے بندے ضائع کرانے کے مترادف تھا اسلئے میر صاحبان نے میدان چھوڑ دیا تھا۔

جنرل نیپئر نے مال غنیمت اکٹھا کراکے اس خوف سے قریبی شکار گاہ کی چھان پھٹک کرائی کہ بلوچ کہیں چھپے ہوئے نہ ہوں جو پلٹ کے رات میں حملہ کر دیں کیونکہ شکارگاہ جنگلی جھاڑیوں، ندی نالوں اور کھائیوں پر مشتمل جنگل تھا لیکن اسے کچھ نہ ملا، پھر بھی اس نے شکارگاہ کو آگ لگوا دی تھی۔

رات کے وقت میر صوبدار نے جنرل چارلس کو مبارکباد، مٹھائی اور دیگر تحائف بھجوائے، اسے قوی امید تھی کہ خیرپور کے میر علی مراد کی طرح کل صبح اسے بھی حیدرآباد کا حاکم ڈیکلئیر کر دیا جائے گا مگر جب اس کا بندہ کوئی واضح جوابی پیغام نہ لایا تو اسے کافی مایوسی ہوئی، اس رات یہ افواہ گرم تھی کہ انگریز کل صبح حیدآباد پر بھی حملہ کریں گے اسلئے عوام جوق در جوق اپنا قیمتی سامان اٹھا کر شہر خالی کرتے جا رہے تھے، اگلی صبح میر صوبدار نے ملاقات کا وقت لینے کیلئے اپنے دو بندے چارلس کے پاس بھیجے مگر چارلس نے جواب دیا کہ میر صوبدار پہلے میر نصیر خان، شہداد خان اور حسین علی خان کو غیر مشروط طور پر سرینڈر کرنے کیلئے مجبور کریں تب کوئی بات ہوگی بصورت دیگر میں قلعے کا محاصرہ کروں گا اور اسے توپوں سے اڑا دوں گا، اس صورت میں جو بھی نقصان ہوگا میں اس کا ذمہ دار نہ ہوں گا۔

شام کو تینوں میر چارلس کے کیمپ پہنچے جہاں کرنل آؤٹرم نے ان کا استقبال کیا اور خیمے میں لے گیا، میروں نے اپنی تلواروں کے پٹے کھول کر چارلس کے حوالے کر دئے لیکن چارلس نے واپس اپنے ہاتھوں سے تلواریں دوبارہ انہیں پہنا دیں اور کہا کہ میں گورنر جنرل لارڈ ایلنبرگ کو کلکتہ میں اپنی رپورٹ بھیج رہا ہوں، آگے وہ جیسے کہیں گے ویسا سلوک کروں گا، انہیں برینڈزبری رجمنٹ کی تحویل میں دیکر اگلی صبح وہ نوآباد کی طرف کوچ کر گیا اور میروں کو اس باغ میں رکھا گیا جسے میر محمد خان کا باغ کہا جاتا ہے، اس کے چار دن بعد 21 فروری 1843 کو حیدرآباد قلعے پر انگریزی پرچم لہرا دیا گیا اور میروں کا خاندانی خزانہ انگریزی فوج نے لوٹ لیا، یہاں تک کہ پردہ دار خواتین کو بلوا کر ان کا زیور بھی اتروا لیا گیا اور انہیں دوران قید بھوکے پیاسے بھی رکھا گیا، اس کے برعکس جنرل ولیم نیپئر لکھتا ہے کہ انگریزی فوجیں قلعے کی خواتین کیساتھ نہایت عزت و احترام سے پیش آئی تھیں اور ان سے زیور وغیرہ نہیں اتروائے گئے۔

بعد ازاں میروں کو بمبئی اور وہاں سے کلکتہ بھیج دیا گیا لیکن میر رستم ضعیف العمری میں لمبا سفر نہیں کرسکتے تھے اسلئے انہیں پُونا میں ٹھہرا دیا گیا، میر صوبدار کو قوی امید تھی کہ اسے اپنی خدمات کے عوض سندھ کا نیا حکمران تسلیم کر لیا جائے گا مگر جب قلعے پر قبضہ ہوا تو اسے بھی گرفتار کر لیا گیا، وہ بھی دیس نکالا دیئے جانے والوں میں شامل تھا، یہ سب لوگ اس جلاوطنی میں ہی فوت ہوئے۔

یہاں یہ بتانا نہایت ضروری ہے کہ انگریزوں کے پہلے معاہدے سے لیکر آخری معاہدے تک ہر ایک میں یہ شرط شامل رہی تھی کہ طرفین ایکدوسرے کی زمین جائیداد حکومت اور نجی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے نہ ہی ان پر للچائی ہوئی نظر رکھیں گے، اور دونوں ریاستوں کے درمیان کبھی دشمنی نہیں ہوگی، لیکن اس کے باوجود انگریزوں نے حسب عادت سندھ کے ساتھ عیاری بھی کی اور دست درازی بھی نیز اپنے وعدوں اور دعووں کے برعکس کردار کا مظاہرہ بھی کیا۔

یہ میرا نکتہ نظر نہیں بلکہ وطن واپس جانے کے بعد کرنل آؤٹرم نے ہی برطانوی عدالت میں میروں کے حق میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں چارلس پر اختیارات سے تجاوز، سندھ کیساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کے سنگین الزامات عائد کرکے اس نے درخواست کی تھی کہ سندھ کا اختیار میروں کو واپس کیا جائے، اس کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر تنقید کا بازار گرم ہوا یہاں تک کہ ملکہ برطانیہ نے بھی اس پر ناراضگی کا اظہار کیا، برطانوی حکومت نے گورنر جنرل لارڈ ایلنبورگ اور جنرل چارلس کو ملامت بھرا خط بھی لکھا لیکن اس معاملے کو قوم کے وسیع تر مفاد میں دبا دیا گیا تاکہ اقوام عالم میں برطانیہ کی سبکی نہ ہو بلکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی غلطی تو تسلیم کی لیکن مواخذے کی بجائے چارلس کو نہ صرف سندھ کا گورنر نامزد کر دیا بلکہ اسے 60000 پونڈ انعام بھی دیا۔

جنرل ولیم نیپئر نے بھی اس بات کو موضوع بنایا ہے کہ یہ چارلس کی طرف سے ٹریچری تھی، دیگر تاریخدان بھی اس بات پر متفق ہیں اور چارلس بذات خود بھی اس بات سے انکاری نہیں کہ اس نے بدعہدی اور موقع پرستی کا مظاہرہ کیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ میں نے غلط کیا ہے مگر یہ میری قوم کے مفاد میں تھا۔

“***PACAVI***”
سندھ فتح کرنے کے بعد جنرل چارلس نیپئر نے گورنر جنرل ایلنبورگ کو صرف ایک لفظی ٹیلیگرام بھیجا تھا، جس میں “پکاوی” لکھا ہوا تھا، اس لاطینی لفظ کا مطلب ہے:
I have sined.
جس کا لفظی ترجمہ یہ بنتا ہے کہ “میں نے گناہ کیا ہے” لیکن صوتی اعتبار سے اس جملے سے “آئی ہیوو سندھ” کی آواز آتی ہے مطلب یہ کہ “میں نے سندھ لے لیا ہے”۔

ہند کی طرح سندھ پر بھی انگریز کے قبضے کو جسٹیفائی نہیں کیا جا سکا، حقیقت میں برٹش کو سندھ چاہئے تھا وہ کسی نہ کسی طرح انہوں نے لے لیا، چارلس کی بائیوگرافی میں لکھا ہوا ہے کہ، مائی مائینڈ اِز میڈ اپ، اِف دے فائر اے شاٹ، سندھ وِل بی انیکسڈ ٹو بمبئی، وجہ یہ کہ اس وقت صرف کراچی کا ریوینیو ساڑھے اکیس لاکھ روپے سالانہ تھا باقی سندھ کی دولت اس کے علاوہ تھی، مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جب دنیا کی مہذب ترین قوم کا جرنیل بلاجھجھک یہ کہتا ہے کہ سندھ پر قبضہ کرنا غلط تھا مگر میری قوم کے مفاد میں تھا اسلئے میں نے کرلیا تو ہمیں دو قومی نظریئے سے آخر ضد کیوں ہے، کیا ہمیں اپنا مفاد عزیز نہیں؟۔

تاریخدان بھی بے رحم ہوتے ہیں، جنرل ولیم نے کونکؤیسٹ آف سندھ کے صفحہ 76 کے دوسرے پیرے میں لکھا ہے کہ میر بزدل تھے لیکن بلوچ سردار اور فوج حیرت انگیز طور پر بہادر تھی اسلئے فاتح جرنیل نے ان کی خوب تعریف کی ہے، اس بات کے پیش نظر میں درج ذیل وضاحت لکھنے پر مجبور ہوں:-

اس ساری داستان میں یہ بات بہت واضح نظر آتی ہے کہ میر صاحبان انسان دوست، صلح جو اور نفیس لوگ تھے، اپنی تمامتر بہادری کے باوجود وہ لڑنے بھڑنے سے حتی الوسع گریز ہی کرتے تھے، میری ذاتی رائے ہےکہ انہیں لڑائی کا فن ضرور حاصل تھا البتہ انٹرنیشنل وار پلئیرز کیساتھ لڑنے کا تجربہ ان کے پاس نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ کلہوڑا دور میں نادر شاہ کے ایک حملے کے بعد ایسی بین القوامی لڑائی کی کبھی نوبت ہی نہ آئی تھی، میر فتح علیخان کے دور میں تیمور شاہ نے غلط فہمی میں آکے چڑھائی کر دی تھی مگر اسے سمجھا بجھا کے واپس کر دیا کہ جب تمہیں خراج متواتر مل رہا ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے، یہ بات اس کی سمجھ میں تو آگئی مگر جاتے جاتے وہ خراج کی رقم دو سے پانچ لاکھ کر گیا، اس کے بعد شجاع الملک کو معزول کرنے والے بادشاہ کو جب پتا چلا کہ معزول شجاع نے سندھ میں پناہ لے رکھی ہے تو اس نے بھی چڑھائی کر دی تھی، اس دوران شجاع کو لدھیانہ روانہ کر دیا گیا اور اسے سمجھا بجھا کے واپس کردیا مگر جاتے جاتے وہ بھی خراج کی رقم پانچ لاکھ سے بڑھا کے بارہ لاکھ کر گیا، اس کے بعد جب کابل حکمران خانہ جنگی کا شکار ہوگئے تو سندھ ان کی باجگزاری سے آزاد ہو گیا لیکن ساتھ ہی انگریزوں نے سفارش کردی کہ اب شجاع الملک کو بطور مہمان گزربسر کیلئے شکارپور کا علاقہ معہ محصولات کے دے دیا جائے، لیکن اس نے بھی قبضہ جما لیا جسے چھڑانے کیلئے کچھ معمولی جھڑپوں کے بعد ایک معاہدے کے تحت تیس لاکھ کا خراج دے کے اسے دوبارہ لدھیانہ کی طرف روانہ کردیا گیا، انگریز اس کے بعد کابل گئے تھے، حالات یہ بتاتے ہیں کہ میر صاحبان لڑنے سے ڈرتے تھے نہ توپوں سے کیونکہ فوج، بندوقیں اور بارودی-انجن ان کے پاس بھی موجود تھے البتہ اپنی نفاست اور شرافت کے پیش نظر وہ لڑائی کی بجائے سیاسی حل کو زیادہ ترجیح دیتے تھے، اسی وجہ سے انگریزی فوج کے ہم پلہ تجربہ ان کے پاس موجود نہیں تھا لیکن اس کمی کو جذبہء حب الوطنی کیساتھ پر کرنے کی کوشش بہرحال بھرپور انداز میں کی گئی تھی، میروں کے اس رویئے کو اگر بزدلی پر محمول کیا جائے تو میرے خیال میں یہ سراسر زیادتی ہوگی، سندھی قوم آج بھی لڑائی میں شیر ہے اور ان کے سردار آج بھی نفاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

دارالخلافہ پر انگریز کے قبضے کی اطلاع جب میرپور پہنچی تو میر شیر محمد تالپور نے چارلس کو پیغام بھیجا کہ قلعے کا قبضہ فی الفور چھوڑ دے اور میروں کو آزاد کردے تو تمہیں امان دی جائے گی بصورت دیگر میں تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑوں گا، چارلس نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ تمہیں اس کیلئے کم از کم 80000 کی فوج درکار ہے جو تم سے اکٹھی نہیں ہو سکے گی لیکن میں جب چاہوں ایک ایک دن میں میرپور، عمرکوٹ اور ریاست میرپور کے ہر شہر پر قبضہ کرلوں گا۔

دستیاب تاریخ کے کسی بھی اکاؤنٹ میں اس بات کا کوئی تزکرہ نہیں مل سکا کہ شیر سندھ کہلانے والے میر شیر محمد خیرپور کی بغاوت، حیدرآباد کے حالات اور میانی کی جنگ سے لاتعلق کیوں رہے البتہ اس بات کا ذکر ضرور موجود ہے کہ وہ انگریزوں کیساتھ معاہدوں کی وجہ سے ریاست حیدرآباد سے سخت ناراض تھے، بہرحال وہ دارالخلافہ اور اپنے خاندان کے وفادار تھے اسلئے چارلس کیساتھ ان کی جنگ ہونا ناگزیر تھی، 23 مارچ 1843 کو میر شیر محمد اپنی افواج لیکر حیدرآباد کی طرف چل نکلے تو نیپئر کیساتھ ان کا آمنا سامنا حیدر آباد سے چار کلومیٹر پرے دوبے کے مقام پر ہوا، جہاں دونوں فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا، بیشتر تاریخدان لکھتے ہیں کہ تاریخ سندھ کے اس موڑ کا تذکرہ ہوشو شیدی کے بغیر نامکمل رہ جاتا ہے جس نے دوبے کی جنگ میں جنرل چارلس کو حقیقت میں چنے چبوا کے رکھ دئے تھے۔

جنرل ہوش محمد شیدی قمبرانی کا تعلق نسلی طور پر افریقہ کے شیدی قبیلے سے ہے، اور خاندانی طور پر یہ قبیلہ حضرت علیؑ کے آزاد کردہ غلام، جناب قمبر ،کی اولاد سے ہے، اس لحاظ سے یہ قمبرانی بھی کہلاتے ہیں جو سندھ میں مسلمانوں کی آمد کے وقت سے آباد ہیں، بیشتر لوگ مسقط و عمان کی منڈیوں سے بطور غلام بھی لائے گئے تھے، اسی مغالطے میں بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ میروں نے اسے عمان سے خریدا تھا، بعض نے جنرل ولیم نیپئر کے حوالے سے لکھا ہے کہ جنرل شیدی نے توپخانے کا ہنر فرانسیسی فوجیوں سے سیکھا تھا، بعد میں وہ مسقط آگئے، جب سندھ کے میروں نے مسقط کے حکمرانوں سے چند توپیں اور ہتھیار منگوائے تو ہوش محمد شیدی بھی ان کے ساتھ بھیج دئے گئے تھے مگر یہ بات مجھے ولیم کی، کونکؤیسٹ آف سندھ، سمیت کسی کتاب میں بھی نہیں ملی۔

مستند بات یہ ہے کہ جنرل ہوش محمد کے والد سبھاگو میر فتح علیخان تالپور کے خاندانی ملازم تھے، ان کی والدہ، بی بی دائی، تالپور محل کی کرتا دھرتا تھیں، محل کی چابیاں بھی انہی کے پاس ہوتی تھیں، ہوش محمد 1801 میں پیدا ہوئے اور بانی ریاست میر فتح علیخان تالپور کے محل میں ہی پلے بڑھے تھے، میر صوبدار کے ہم عمر اور بچپن کے دوست تھے، پھر ان کی فوج میں نوکری کرلی اور ترقی کرتے کرتے جرنیلی تک پہنچ گئے، ہوشو شیدی زمانہ امن تک میرصوبدار کے قریبی دوست اور دست راست سمجھے جاتے تھے۔

جی آلانہ صاحب غالباً سندھ یونیورسٹی جامشورو کے پروفیسر بھی رہے ہیں ان کی کتاب ایمیننٹ مسلم فائٹرز میں لکھا ہے کہ انگریزوں کیساتھ کئے گئے معاہدوں کو ترقی کیلئے خوش آئند بتایا جاتا تھا لیکن ہوشو شیدی ان معاہدوں سے کبھی بھی خوش نہیں ہوئے بلکہ اسے سنگین خطرے کی علامت قرار دیتے تھے، پھر جب میر صوبدار نے انگریزوں کیساتھ ذاتی تعلقات بنانے شروع کئے تو جنرل ہوش محمد نے قدم قدم پر نہ صرف ان کی مخالفت کی بلکہ منتیں بھی کی تھیں کہ اقتدار کی خاطر ریاست اور سندھ کے مفادات کو داؤ پر مت لگاؤ، آئے دن کی اس تکرار سے تنگ آکے میر صوبیدار نے ہوشو کو پیچھے کرکے ایک ہندو ملازم منشی اوتاری کو اپنے قریب کرلیا تھا، چارلس نیپئرکو فتح کی رات مٹھائی پہنچانے والا بھی یہی اوتاری ہی تھا، میانی کی جنگ کے بعد جب میر صوبدار نے میروں کو سرینڈر کرنے کا پیغام پہنچایا تو کہا جاتا ہے کہ ہوشو شیدی نے اس موقع پر پہلی بار شید غصے میں فلک شگاف نعرہ لگایا تھا:

“مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں”

ہوشو کے اس نعرے کی گونج پورے محل میں سنائی دی تھی، اس پر میر صوبدار نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تو باہر نکل جا، تو میروں کیساتھ بیٹھنے کے قابل نہیں، میں بہت جلد تجھے سزا دوں گا، تاریخ اس بارے میں خاموش ہے کہ ہوشو نے میانی کی جنگ میں حصہ لیا تھا یا نہیں لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کے سردار میر صوبدار نے خود کو اور اپنی سپاہ کو اس جنگ سے پرے رکھا تو ہوشو بھی اس کا ماتحت ہونے کی بنا پر شائد اس جنگ میں شامل نہ تھا لیکن سرینڈر کے وقت میروں کی تذلیل دیکھ کر وہ بالکل باغی ہو گیا تھا، فال آف حیدرآباد کے بعد اس نے سب جاننے بوجھنے والے بلوچ سپاہیوں کا ایک دستہ اکٹھا کیا اور میرپور میں شیرسندھ کیساتھ جا ملا۔

ہوشو کو ایک بڑے جتھے کیساتھ دیکھ کر میر شیر علی کا حوصلہ مزید بڑھ گیا، میر صاحب نے ہوشو کو اپنی سپاہ اور توپخانے کا کمانڈر مقرر کر دیا، 24 مارچ کو دوبے کی جنگ میں سندھی فوج کو واضح برتری حاصل تھی، آئرش فوج کے انگریز افسروں کی چیخیں اس میدان میں جابجا گونج رہی تھیں، جنرل ولیم نے اعتراف کیا ہے کہ بلوچ فوج نے بہترین حکمت عملی سے انگریز کو سخت گھائل کر رکھا تھا، چارلس نیپئر کے پاس 5000 لوگ تھے اور میر شیر محمد کیساتھ 8000 نفری کے علاوہ 4 توپیں بھی تھیں۔

جب فتح کے آثار نمایاں ہونے لگے تو سندھی فوج کے ایمونیشن ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی، ایک تزکرہ نگار نے آگ لگانے کا الزام میر شیر محمد کے بھائی میر مراد کے سر لگایا ہے، ممکن ہے یہ سچ ہو مگر مجھے دستیاب تاریخی کتابوں میں ایسی کوئی بات نہیں ملی، توپچیوں نے جنرل شیدی سے جب بارود کی رسد کا تقاضا کیا تو شیدی نے کہا کہ اب لکڑی اور پتھر جو بھی توپوں کے دہانے میں آسکتا ہے وہ ڈال ڈال کے چلاتے جاؤ، فتح یا شکست اب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے دے مگر ہم لوگ آج اس دھرتی پر مر مٹیں گے، اور کوئی راستہ ہمارے پاس ہے نہیں۔

میدان جنگ کے عقب میں اپنا گولہ بارود جلتے ہوئے دیکھ کے سندھی فوج کا حوصلہ جواب دے رہا تھا کیونکہ دشمن اپنے گولہ بارود کیساتھ ابھی تک موجود تھا، جس کے مقابلے میں طاقت کا توازن بُری طرح متاثر ہو گیا تھا، بلوچ آرمی کی طرف سے جب بارودی حملے میں کمی آگئی تو انگریز انفنٹری کی 22 آئرش رجمنٹ نے قدرے آزادانہ پیش قدمی شروع کی جسے روکنے کیلئے جنرل شیدی نے ایک گھوڑ سوار دستہ ترتیب دیا اور اسے آگے جا کے ملنے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے اپنی صفوں میں پہنچ کر اتشار برپا کرنے سے قبل اسی کی صفوں میں جاکے انتشار ڈالا جائے مگر بارودی حملوں میں یہ بڑا مشکل کام تھا لہذا انگریز نے انہیں پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔

کرتے کرتے جب یہ پھلیلی نہر کے ساتھ جا لگے تو مینووربیلٹی محدود ہونے کی بنا پر جانی نقصان کا خدشہ مزید بڑھ گیا تھا، اس موقع پر جنرل شیدی نے میر شیر محمد سے کہا کہ اب آپ میدان جنگ سے نکل جائیں اور خود کو محفوظ کرکے نئی جنگی قوت جمع کریں تاکہ اس کے بعد انگریز سے مقابلہ کر سکیں، ہم کوشش کریں گے انگریز کو فتح نہ ہو مگر حالات کے تحت متبادل منصوبے کی گنجائش رکھنا نہایت ضروری ہے، میدان جنگ میں جب دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا ہو اور دفاعی نظام بری طرح مفلوج ہو جائے تو اس سنسنی خیز عالم میں اپنے اعصاب پر قابو رکھنا اور نئی حکمت عملی ترتیب دینا بلاشبہ ایک منجھے ہوئے دلیر سپاہی کا ہی خاصہ ہوسکتا ہے، جنرل شیدی نے اس خوفناک ماحول میں اپنی بہادری کیساتھ ساتھ حکمت عملی کا بھی بہت اعلیٰ مظاہر کیا تھا۔

اس مکالمے کے بعد جنرل شیدی نے اپنی سپاہ کے گرد ایک چکر لگایا اور انہیں زوروشور سے کہتا رہا:

“مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں”

شیدی کی اس پکار نے حقیقت میں بلوچ سپاہ کو صحیح معنوں میں جزباتی کر دیا تھا، اس کے بعد بلوچ سپاہی دیوانہ وار انگریز سے ٹکرا گئے، جنرل ولیم کہتا ہے کہ بلوچ فوج کے سپاہی ہیروز کی طرح لڑے اور پیچھے ہٹے بغیر مارے گئے، جی آلانہ صاحب کہتے ہیں، جو سپاہی جہاں تھا وہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹے بغیر وہیں شہید ہوا لیکن جب تک وہ زندہ رہے میدان جنگ اس نعرے سے گونجتا رہا:

“مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں”

اس دور کا شاعر احسان علی شاہ کہتا ہے:
Hoshu his life sacrificed
With love he laid it down
With a hundreds brave companions
He fought like a giant
And like a Hero died
On him no blame
All is from God
Victory in His hands lies
To whomsoever He Grant
Our Hero’s, not an inch they budged
Our Hero’s, them we praise.

جنرل چارلس نیپئیر سندھ گزیٹئیر میں لکھتا ہے کہ اس کالے بہادر سندھی نے ایک ماہر اور پیشہ ور جرنیل کی طرح اپنی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور حیرت انگیز حکمت عملی کیساتھ لڑا، وہ اپنے ساتھیوں کیساتھ ہماری اگلی صفوں پہ بار بار حملے کرتا رہا مگر جب فتحیاب نہ ہو سکا تو ایک قدم پیچھے ہٹے بغیر اس حالت میں مارا گیا کہ بعد از مرگ بھی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔

سلطان فتح علی ٹیپو اور جنرل شیدی میں چند باتیں مشترک ہیں، ان دونوں کے مقولے زمانے میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرگئے، دونوں نے بعد از مرگ بھی تلوار اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑی، انگریزوں نے ان دونوں کی بہادری کو تہہ دل سے سراہا اور ان کی تدفین بھی پورے فوجی اعزاز کیساتھ کرائی۔

جنرل ہوش محمد شیدی قمبرانی شہیدؒ کو جنرل چارلس جیمز نیپئر کے حکم پر فوجی اعزاز اور توپوں کی سلامی دے کر دفنایا گیا تھا، شہیدؒ کے مزار پر قدرے اونچا ایک بُرج تعمیر کیا گیا ہے جس پر اس کا مشہور زمانہ نعرہ درج ہے:

“مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں”

ہمارا سلام ہے ان بہادر سپوتوں پر جنہیں اپنی دھرتی سے جنون کی حد تک عشق تھا۔

یہ آرٹیکل بنیادی طور پر عزیز دوست میاں احمد جہانزیب نورپوری صاحب کی فرمائش پر جنرل ہوش محمد شیدی قمبرانی شہیدؒ کی قربانی کو سلام پیش کرنے کیلئے لکھا گیا ہے جسے پنجاب کے آرائیوں کی طرف سے ایک نذرانہ عقیدت سمجھنا چاہئے البتہ میں نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ اس مضمون کے آئینے میں نئی نسل کو یہ باور ہو سکے کہ ذاتی مفاد کو جب قومی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے تو پھر کسی قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر ڈوبتا ہوا سورج اسے دوبارہ آزاد دیکھنے کیلئے صدیوں کا انتظار کرتا ہے، سندھ کی غلامی کوئی دوچار دن کی بات نہیں تھی بلکہ دوچار لوگوں کی ہوسِ اقتدار نے اسے 104 سال کی غلامی میں جھونک دیا تھا۔

میر شیر محمد تالپور نے ماہ جون کے وسط تک جھڑپیں جاری رکھیں مگر جب ان کی باقی توپیں بھی ایک معرکے میں انگریزوں کے قبضے میں چلی گئیں تو مزاحمت ترک کرکے کابل چلے گئے، جب وہاں سے امداد نہ ملی تو ایک عرصہ تک لاہور میں رنجیت سنگھ کے مہمان رہے، پھر کسی مناسب وقت پر واپس آگئے تھے۔

عرضِ مصنف:
یہ ایک تاریخی ڈاکومنٹ ہے جو اس موضوع پر اس قدر تفصیل سے پہلے کبھی نہیں لکھا گیا، میں نے اسے ڈائریکٹ ریفرینسز سے عمیق مطالعے کے بعد ترتیب دیا ہے پھر بھی اہل علم یا سٹیک ہولڈرز کو اس میں کوئی غلطی نظر آئے تو درستی کیلئے ضرور مطلع کیجئے گا تاکہ حریت کی تاریخ میں یہ ڈاکومنٹ ہمیشہ کیلئے ایک جاندار ریفرینس کے طور پر پہچانا جا سکے۔

ماخذات:
ڈائریکٹ ریفرینسز:
ہسٹری آف سندھ، جلد دوم، بائی مرزا قلیچ بیگ، سابق ڈپٹی کلکٹر کوٹری، سندھ، متفرق صفحات۔
ایمیننٹ مسلم فریڈم فائٹرز بائی پروفیسر جی آلانہ، چیپٹر ہوش محمد شیدی، صفحہ 99-109۔
کونکؤیسٹ آف سندھ بائی جنرل ولیم فرانسس نیپئر، جلد اول، دوم، متفرق صفحات۔
سر چالس نیپئر بائی ٹی-آر-ای ہولمز، صفحہ 25۔
ہسٹری آف سندھ بائی موہن گیہانی، چیپٹر کلہوڑا ڈائناسٹی، چیپٹر تالپور ڈائناسٹی، صفحہ 112-123۔
کمنٹری آن کونکؤیسٹ آف سندھ بائی کرنل آؤٹرم، جلد اول، دوم، متفرق صفحات۔
اے وزٹ ٹو کورٹ آف سندھ بائی ڈاکٹر جیمز برن، متفرق صفحات۔
دی رائل تالپورز آف سندھ، تالپور ڈاٹ او-آر-جی

انڈائریکٹ ریفرینسز:
کلچرل ہسٹری آف سندھ بائی فیض محمد سومرو
سر چارلس نیپئر اینڈ سندھ بائی ایچ-ٹی لیمبرک
دبے جی جنگ
انیکسیشن آف سندھ بائی اے-بی-ایڈوانی
کراچی بائی بہرام رستم جی
دی میرز آف سندھ بائی دیوان چندومل گوپل داس

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: