برِصغیر کے آخری کلاسیکی متکلم: حافظ ایوب دہلویؒ (2) — محمد رشید ارشد

0
  • 13
    Shares

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

مولانا ایوب دہلویؒ کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی روایت میں غالباً پہلی مرتبہ عقل کے ایسے حدود دکھا دیے جن پر نظر کرنے سے عقل اور زمانے کا جبری اور لزومی تعلق سامنے آجاتا ہے۔ زمانیت (temporality) عقل کا خمیر ہے اور یہ وجود فی الزمان (Being in Time) کے سوا کسی امر کو اپنا موضوع نہیں بنا سکتی۔ یہ بات مولاناؒ سے پہلے بلکہ ان کے بعد بھی کلام کی روایت میں اپنا اتنا مرکزی کردار نہیں رکھتی۔ مولاناؒ جب یہ کہتے ہیں کہ عقل کا میدان ممکنات کے باہر نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عقل یعنی شعورِ زمانی، وجود زمانی سے خود کو بلند یا لاتعلق نہیں کرسکتا۔ عقل کے ایسے مسلمات بھی جو اپنی ماہیت میں مابعد الطبیعی یا غیر زمانی ہیں، وہ عقل کی مجبوری یا انفعال سے اس کی دسترس میں آئے ہیں، ان کے حصول یا تشکیل میں عقل کا کوئی فعال کردار نہیں ہے۔ یہاں سے ایک نیا نکتہ یہ نکلتا ہے کہ عقلِ منفعل، عقلِ محض کی تعریف سے خارج ہے۔ یعنی اس کے انفعالی تصورات قابلِ شناخت اور لائقِ استدلال ہونے کے باوجود عقلی نہیں کہلا سکتے۔ یہ وہ باریکی ہے جس تک عقل کے دینی کردار اور ایمانی رول پر اصرار کرنے والوں کی نگاہ نہیں پہنچی۔ دوسرے لفظوں میں مولاناؒ یہ نہیں کہ رہے کہ عقل واجب الوجود یعنی وجودِ لازمانی کا اقرار نہیں کرسکتی کیوں کہ واجب الوجود کا اقرار کرنے کی اہلیت نہ ہو تو ممکن الوجود کا ادراک بھی محال ہو جائے گا۔ اس کی کچھ ضروری تفصیل یہ ہے کہ ممکن الوجودکی اصل حالت اس کا عارضی اور مخلوق ہونا ہے۔ اس حالت کو دریافت نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ معرفت حاصل نہ ہو کہ یہ وجودی عارضی پن اور مخلوقیت ایک مطلق امر ہے جو ممکنات میں کہیں باہر سے وارد کیا گیا ہے۔ یہ باہر ہی دائرہ وجوب ہے جو امکان کے دائرے سے ماورائی کی حالت میں کامل اختیار کے ساتھ متعلق ہے اور اس پر من کل الوجوہ متصرف ہے۔ مولاناؒ کا مطلب یہ ہے کہ عقل واجب الوجود بلکہ غیر زمانیت کے کسی درجے پر بھی غور کرنے کی اہل نہیں ہے۔ یہ غور کرنا ہی دراصل پوری عقل ہے۔ یہ غور ہی ہے جو عقل کو شے پر غالب آنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اپنے موضوع پر غلبے کی یہ عادت ظاہر ہے کہ واجب الوجود اور متعلقہ حقائق پر کارآمد نہیں ہوسکتی۔

مولاناؒ کے تصورِ عقل کا ایک پہلو یہ ہے کہ عقل چونکہ فعل کے اصول پر چلتی ہے لہذا یہ ارادی بھی ہے۔ اس کا فعال ہونا اس کے ارادی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ گو کہ وہ ارادہ جو عقل کے لئے محرکِ فعل ہے، عقل سے ایسی مغائرت نہیں رکھتا کہ اس کے وجود کو عقل کے خارج میں ماننا ضروری ہوجائے، لیکن اس ارادے اور عقل میں ایسی عینیت بھی نہیں پائی جاتی جو انہیں ایک کہنے کی وجہ بن سکے۔ عقل کو تحریک فراہم کرنے والا ارادہ غیر عقلی بھی ہوسکتا ہے۔ یہاں ارادہ و عقل کی باہمی نسبتوں کی تفصیل کا موقع نہیں ہے، ہم تو بس اتنا دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مولاناؒ نے عقل کے تابعِ ارادہ ہونے کی حالت کو کس طرح اس کی تحدید و تعیین اور تعریف کا حصہ بنایا۔ مولاناؒ کی بہت سی باتیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عقل کو ارادی کہہ کر وہ دراصل عقل کا کوئی اندرونی تجزیہ کرنے سے زیادہ یہ ثابت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ شعور ِارادی واجب الوجود اور اس کے حقائق کے ساتھ مناسبت کی بے شمار اقسام میں سے کوئی ایک قسم بھی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ شعور ِارادی اور واجب الوجود کی تحقیق کے درمیان مطلق غیریت ہے۔ یعنی غور کرنے والی عقل اپنی ماہیت ہی میں ان حقائق سے کوئی نسبت پیدا نہیں کرسکتی جو زمانیت کی شرط سے پاک ہیں۔ عقل اور ان حقائق کے درمیان فہم وقبول کی نسبت ضرور ہے، لیکن غور و فکر کی نہیں۔ یہ بہت قیمتی بات ہے اور اسے مذہبی اور مابعد الطبیعی سیاق وسباق سے نکال کر بھی دیکھا جائے تو اس میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ غیر مذہبی تناظر میں بھی عقل، مسلمات کو قبول کرتی ہے، وضع نہیں کرتی۔

علم الکلام کی مجموعی روایت میں عقل کو حقائق پر درست استدلال کرنے کی قوت مانا جاتا ہے۔ تاہم مولاناؒ اس کا بالکل انکار کیے بغیر اسے جوں کا توں تسلیم بھی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق عقل یقیناًٍ‌ اپنے مسلمات پر استدلال کرتی ہے لیکن اس استدلال کی صحت کے لئے خود معیار نہیں ہے، بلکہ اپنے غیر کی محتاج ہے۔ یہ غیر مابعد الطبیعی امور میں وحی ہے، اور طبیعی معاملات میں حس۔ وحی سند نہ فراہم کرے تو حقائق پر استدلال گویا خلا میں چلا جاتا ہے۔ اور حس کی تائید کے بغیر صورتوں کے علم کی تشکیل نہیں ہوسکتی۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ عقل تصور سازی کی غیر محدود صلاحیت رکھنے کے باوجود اپنے تمام تصورات کی تصدیق میں سرے سے خود کفیل نہیں ہے۔ تصدیق کا سارا نظام عقل کے باہر چل رہا ہے، اور عقل کو اس کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اس نظام ِتصدیق کے دو اصولی دائرے ہیں: عقائد اور محسوسات۔ نہ عقائد عقل پر منحصر ہیں، نہ ہی محسوسات۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ مولانا عقل کو وحی اور محسوسات کے درمیان ایک فعال برزخ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، جو ان دو کناروں کو ایک دوسرے میں ضم نہ ہونے دے تو اصولاً درست موقف پر رہتی ہے لیکن ان دونوں کے امتیاز کی حفاظت اور رعایت نہ کرسکے تو ہر قدم پر غلطی کرتی ہے۔ یہ غلطی عقائد میں بھی ہوتی ہے اور محسوسات میں بھی۔

عقل کی طرح علم میں بھی مولاناؒ کا زاویہ تفکر وجودی ہے، ذہنی نہیں۔ عقل کے بارے میں فرمایا تھا کہ’ ہونے‘ اور ’نہ ہونے’ کے ٹکراو اور تضاد کے ماحول میں حرکت کرنے والی قوت ہے، اسی طرح علم کے متعلق مولاناؒ کی رائے یہ ہے کہ اہل ِفلسفہ و کلام نے اس کی تعریف متعین کرنے کی جو مختلف کاوشیں کی ہیں، ان میں ان حضرات کا رخ غلط ہوگیا ہے۔ یہ لوگ علم کو اتنا موضوعی (subjective) بنا دیتے ہیں کہ وہ معروضی پن (objectivity) غائب ہوجاتا ہے جس سے انقطاع کی حالت میں علم کی بنیاد ہی نہیں پڑسکتی۔ علم محض جاننے کا حال نہیں ہے بلکہ معلوم کا ایساحضور ہے جو صرف ذہنی نہیں ہے بلکہ ذہنی بھی ہے۔ مولاناؒ علم کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ ”علم وہ شے ہے جس کے ذریعہ وجود کو عدم سے تمیز ہوجائے کہ یہ شے ہے اور نہیں ہے۔ ۔ ۔ تمام محسوسات ہوں۔ معقولات ہوں۔ نسبت ہو۔ کوئی شے ہو۔ اس کے نہ ہونے کی ہونے سے تمیز جس شے سے ہو جائے، اسی کا نام علم ہے۔ خواہ وہ روحانی طریقے سے ہو۔ خواہ عقلی طریقے سے۔ خواہ وہ حسی طریقے سے ہو۔ ۔ ۔ بہرحال جس ذریعے سے شے کے ہونے کو نہ ہونے سے تمیز ہوجائے، اس کے ذریعہ کا نام علم ہے’’ (۱۴)۔

یہ تصورِ علم اپنے اکثر اجزا میں کلامی روایت کے اندر ایک بالکل نئی بات ہے۔ علم کی اس تعریف میں ایک تو وہی بات حاصل ہو جاتی ہے جس کا ابھی ذکر ہوا، کہ علم ذہنی سے زیادہ وجودی امر بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام غیر عقلی قویٰ ایک حالتِ ادراک میں رہتے ہیں جو ان کی اپنی اپنی سرگرمیوں کا مبدا ہے۔ ادراک کی یہ حالتیں وحدانی صورت اختیار کر جائیں تو یہ علم کی حرکت ہے ذہن سے وجود کی طرف۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ علم صرف ذہنی نہیں ہوتا بلکہ وجود کا ایسا حال بن جاتا ہے جس کی بنیاد پر ’میں ہوں‘ اور ’وہ ہے‘ کا دعویٰ دلیل اور تفکر کا ضرورت مند نہیں رہتا۔ دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے داخلی نتائج کے اعتبار سے علم ذہنی کم اور وجودی زیادہ ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شعور و وجود کے قدیم ترین اور جدید ترین مبحث میں مولاناؒ کی یہ بات بہت سے اشکالات و مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر جہل کا علم بھی علم ہے، یعنی اس سے ’ہونے‘ اور ’نہ ہونے ‘کے قطبین کا توازن ادراک میں بھی آجاتا ہے اور ’نہ ہونا‘، وجود کے تناظر میں جس معنویت کا یقینی حامل ہے، اس تک بھی رسائی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ مولاناؒ کایہ تصور اگر ہائیڈیگر ایسے لوگوں کے سامنے بھی رکھا جائے تو ان کی طرف سے کسی بنیادی اختلاف کی توقع نہیں ہے، کہ وجود کے شعور کی تعمیر میں عدم کی معنویت شریکِ حال رہتی ہے، اور پھر کمال کی بات یہ ہے کہ مولاناؒ ’ہونا‘ تو ایک طرف ’ نہ ہونے‘ کو بھی اسی شے سے منسوب کرتے ہیں جس کا وجود اساسِ علم ہے۔ یہ paradoxical pattern of knowledge شعور اور وجود کی متوازیت اور انہیں ہم اصل رکھنے والی حقیقی نسبت کا ایسا انکشاف کرتی ہے جس سے علم اور معلوم دونوں کی یک جان معرفت ممکن ہوجاتی ہے۔ علم کا منتہا اس کے سوا کیا ہے کہ ہم یہ کہنے کے قابل ہو جائیں کہ علم، ادراک اور مدرک کے اتصال یا عینیت کا تجربہ ہے، یا شعور اور وجود کی دوئی میں رہتے ہوئے ان کی اصولی وحدت کی دریافت کا حال ہے۔

مسئلہ زمان معقولات کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ کلاسیکی روایتیں، مذہبی ہوں یا عقلی، زمانے کو مکان سے ممتاز سمجھ کر اس کا تجزیہ و تحقیق کیا کرتی تھیں اور زمان و مکان کی دوئی میں تضاد کی نسبت دیکھے بغیر ان کا ایک دوسرے سے بے نیاز حالت میں مطالعہ کیا کرتی تھیں۔ یونانی فلسفے میں البتہ کچھ ایسے اشارے ملتے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مابعدِ سقراط یونانی ذہن، مادے اور وقت میں التزام کی نسبت کو محسوس تو کرتا تھا مگر ان دونوں میں عینیت کا عقلی یا حسی جوہر تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوا تھا۔ مادے کی قدامت کا مسئلہ اس دعوے کو لائقِ تسلیم نہ سہی، قابلِ فہم ضرور بناتا ہے کہ اس مبحث میں یونانی فکر میں زمان و مکان کی ایک ایسی اکائی کا تصور پیدا ہونے کے مراحل میں تھا جو خود زمانی مکانی نہیں ہے۔ مادے کو مکانیت اور ازلیت کو زمانیت کی اصل پر رکھ کر فلسفہ یونان کے بڑے حصے میں، جس میں سقراط سے پہلے کے فلاسفہ بھی شامل ہیں، یہ تصور مضبوط بنیادوں پر تشکیل پاتا ہوا نظر آتا ہے کہ یہ دونوں یعنی زمان و مکان کسی مشترک امر کے مظاہر نہیں۔ تاہم اس غیر مدرک انکشاف کو استدلال کا پیرایہ دینے میں یونانی کامیاب نہ ہوسکے۔ مسلم فکر میں بھی فلسفیانہ تناظر میں یہی صورتِ حال غالب رہی، لیکن علم ِکلام میں زمان و مکان کی دوئی پر اصرار کرتے ہوئے انہیں تعقل کے الگ الگ دائروں میں رکھا گیا۔ متکلمین کا عمومی میلان اس طرف تھا کہ زمان و مکان کو مخلوق اور حادث قرار دیا جائے اور چونکہ خلق و حدوث کے دائرے میں چیزیں کثرت اور امتیاز کی اساس پر دیکھی جاتی ہیں، اس لئے ہماری کلامی روایت میں زمان و مکان کی امکانی اور خالص عقلی وحدت تک پہنچنے کو کوئی مربوط اور سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

مکان کو محسوس اور زمان کو معقول مان لینے کے اکثریتی رویے کا یہ نتیجہ نکلا کہ مسئلہ زمان پر تو خوب غور کیا گیا لیکن مکان کو ایک طے شدہ اثبات کا موضوع بنا کر اس پر کوئی بڑی تحقیق نہیں ہوئی۔ وقت کا وجودی امتیاز حرکت، اور مکان کا اصول سکون تھا، اور ظاہر ہے کہ ان دونوں میں بنیادی نسبت تضاد کی نہ سہی مگر زیادہ تر قبل و بعد کے تناظر میں تھا اور حرکت کو ماہیت ِزمان کہنے کا زیادہ تر منشا یہی تھا کہ زمانے کی متعین قبلیت، یعنی اس کا مخلوق ہونا ثابت ہوجائے۔ البتہ باقلّانی ایسے بعض متکلمین نے مقولہ حرکت کی بنیاد پر زمان و مکان میں ایک وحدت ِجزوی کاخفیف سا امکان ضرور پیدا کیا۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی یہ بات وضاحت اور صفائی کے ساتھ نہیں نظر آتی کہ زمان و مکان کا ایک ہونا یا واحد الحقیقت ہونا عقلی اور حسی دلیل سے ممکن ہے۔ باقلّانی وغیرہ نے مکان میں بھی حرکت کا اثبات تو کیا لیکن یہ حرکت داخلی اتنی زیادہ تھی کہ واقعے سے زیادہ تخیل کا نتیجہ لگتی تھی۔

مولاناؒ نے زمان کی عقلی تحلیل اور حِسّی تقسیم کی روایتوں کو خاصی تنقیدی نگاہ سے دیکھا، ان کے نقائص دریافت کیے اور پھر وقت کی ایسی تعریف وضع کی جو باعتبارِ کلیت (Universally) تو روایتی ہی تھی لیکن بلحاظ ِجزئیت (Particularly) ایک نئی چیز تھی۔ مولاناؒ نے زمان کے روایتی تناظر کو نہیں چھیڑا اور اس میں رہتے ہوئے زمان کی تعریف ِ قریب کو بدل دیا۔ یہ خاصی حیرت انگیز بات ہے کہ جدید فلسفیانہ اور سائنسی نظریات سے بالکل لاتعلقی کی حالت میں بھی مولاناؒ زمان و مکان کے اس جوہرِ اضافیت تک پہنچ گئے جس کی رو سے کم از کم وقت کا کوئی ایک نظام نہیں ہے۔ زمانے کا سیاق و سباق جو مکانی ہوتا ہے، بدلتا رہتا ہے، اور یہ تبدیلی زمان کی ثانوی تعریفات کو بھی ہمہ گیر نہیں رہنے دیتیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں کہ ”یہ بات نامناسب اور بے عقلی کی ہے کہ ایک عالم یا ایک میل کی چیز کو دوسرے عالم یا دوسرے میل کی چیز کے ساتھ گڈمڈ کیا جائے۔ ۔ ۔ جتنی بھی علمی، فلسفی اور مذہبی دشواریاں اور الجھنیں پیدا ہوئی ہیں، وہ صرف اسی التباس سے ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ لاینحل ہو کر رہ گئی ہیں’’ (۱۵)۔

مولاناؒ اپنی تنقید کا آغاز ارسطو سے کرتے ہیں جسے مسلم فلسفے کی روایت میں معلم ِاول کا لقب دیا گیا ہے۔ ارسطو مادے اور وقت کے قِدم (eternity) کا قائل تھا، اور اسی کے زیرِ اثر مسلم فلاسفہ کی اکثریت کا بھی یہی نظریہ تھا۔ ارسطو کے دعوے پر جرح کرتے ہوئے مولاناؒ کہتے ہیں کہ ”ارسطو کو یہ الجھن پیدا ہوئی کہ زمانہ قدیم ہے، اس لئے کہ اگر حادث ہوگا یعنی موجود بعد العدم ہوگا یعنی پہلے نہ تھا اور پھر ہوا تو اب اس کا نہ ہونا اس کے ہونے پر مقدم ہوگا۔ ۔ ۔ یہ تقدیم و تاخیر ایسی ہے جو جمع نہیں ہوسکتی یعنی مقدم اور موخر جمع نہیں ہوسکتے۔ اور جو تقدیم و تاخیر ایسی ہو کہ جمع نہ ہوسکے تو وہ تقدیم و تاخیر زمانی ہے۔ تو گویا حادث ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ عدم ِ زمانہ کا زمانہ وجودِ زمانہ کے زمانہ سے مقدم ہے۔ اور وجودِ زمانہ کا زمانہ عدمِ زمانہ کے زمانہ سے موخر ہے اور فرض یہ کیا تھا کہ زمانہ نہیں تھا۔ پھر ہوا۔ ۔ ۔ تو اب زمانے کے نہ ہونے میں زمانہ ہوگیا، اور نہ ہونے میں ہونا محال ہے، لہٰذا یہ محال زمانے کا عدم فرض کرنے سے لازم آیا ہے، لہٰذا جس چیز سے محال لازم آئے، وہ بھی محال ہے۔ لہذاعدم ِزمان محال ہے’’ (۱۶)۔ ارسطو کا ایک مشہور فقرہ ہے کہ جو شخص زمانے کے حدوث کا قائل ہے، وہ فی الحقیقت زمانے کی قدامت کو مانتا ہے لیکن اسے اس کا شعور نہیں۔ ارسطو کے نزدیک حدوث کو قِدم لازم ہے۔

اس کے جواب میں مولاناؒ فرماتے ہیں کہ ”یہاں غلطی یہ ہوئی ہے کہ حوادثِ زمانیہ میں یعنی زمانیات کے عالم میں زمانے کو داخل کردیا ہے حالانکہ زمانہ کا عالم علیحدہ ہے اور زمانیات کا علیحدہ ہے۔ حوادثِ زمانہ اور زمانیات کے لیے زمانہ ہے، یعنی زمانیات کا ظرف زمانہ، اور زمانہ کے لیے کوئی ظرف نہیں ہے، کوئی زمانہ نہیں ہے’’ (۱۷)۔ اس بات کو ذرا وٹگنسٹائن کے اس قول سے ملا کر دیکھیے کہ دنیا چیزوں کا نہیں، واقعات کا مجموعہ ہے۔ وٹگنسٹائن نے یہ بات اس ماحول میں کہی ہے جہاں زمان و مکان میں عطف حقیقی نہیں مگر اضافی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی قابل ِغور ہے کہ زمان ظرف ہے، مظروف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت خود موجود نہیں ہے بلکہ وجود کی وہ شرط ہے جو تمام موجودات کو محیط ہوتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ جو غیر قدیم امر کسی اور امر کا مظروف نہ ہو، وہ اعتباری ہوتا ہے، واقعی نہیں۔ یعنی موجودات بمعنی حوادث کا ظرف ہے مگر خود موجود نہیں ہے۔ اور اس کے موجود نہ ہونے کا حال چونکہ نظام الوجود پر موثر ہے، لہذا اسے معدوم بھی نہیں کہا جاسکتا، اس ضروری اور اصولی خیال کی طرح جس پر ہونے نہ ہونے کے مقولات (categories) وارد نہیں ہوتے۔

ہمارے فلاسفہ و متکلمین دونوں حدوث کی دو قسمیں کرتے ہیں: حدوث ِزمانی اور حدوث ِذاتی۔ یہی دو قسمیں وجود ِحادث کی بھی ہیں: حادث بالزماں اور حادث بالذات۔ فلاسفہ کے ایک بڑے گروہ کی رائے یہ ہے کہ زمانہ حادث بالذات ہے، حادث بالزماں نہیں۔ بادی النظر میں یہ لفظی ہیرپھیر معلوم ہوتا ہے۔ یہاں مولاناؒ فرماتے ہیں کہ”قدماء فلاسفہ کے نزدیک حادث بالذات ہی قدیم بالزمان ہے اور ان کے نزدیک عالم کے قدیم ہونے کے اور زمانے کے قدیم ہونے کے یہی معنی ہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک حادث کے معنی موجود بعد العدم کے نہیں ہیں جیسا کہ قوم (یعنی متکلمین) کہہ رہی ہے، اور نہ مسبوق بالعلۃ کے ہیں جیسا کہ فلسفی کا خیال ہے، یعنی مرتبہ ذات میں معلول ہے۔ یہ معنی حدوث ِذاتی کے ہیں۔ ۔ ۔ اور علت قدیم ہے تو معلول بھی قدیم ہوگیا۔ یعنی عالم قدیم بالزمان اور حادث بالذات ہے۔ ۔ ۔ یعنی زمانے کے لئے ابتدا تو مان لی گئی لیکن اس کا مسبوق بالعدم نہ ہونا اور پھر اس کے وجود کی ابتدا ہونا یہ بعید از تصور ہے’’ (۱۸)۔ یہاں بعید از تصور سے مولاناؒ کی مراد ہے کہ مہمل ہے۔

مولاناؒ مزید فرماتے ہیں، ”عالم کے حادث ہونے سے پہلے نہ وقت ہے نہ پہل ہے۔ یعنی کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو ’ پہلے‘ کہا جاسکے۔ بلکہ پہلی پہل یہ عالم ہی ہے، کسی اور پہل کا سوال ہی نہیں ہوسکتا۔ ۔ ۔ جس وقت عالم کو پیدا کیا، وہ اول وقت تھا، اس سے پہلے نہ وقت تھا نہ اور کوئی چیز تھی۔ ۔ ۔ حوادث کا سلسلہ قدم تک نہیں جا رہا۔ یہ اول معدود پر رک جاتا ہے، اس سے آگے لائن خالی یا بھری ہوئی نہیں ہے۔ خالی لائن متکلمین کے نزدیک ہے اور بھری ہوئی لائن حکماء کے نزدیک ہے۔ یہ دونوں خیال غلط ہیں۔ یہ لائن اول معدود پر کٹ جاتی ہے۔ اس لائن پر ہرگز ہرگز قدم نہیں ملے گا۔ ۔ ۔ کیونکہ قدم اس لائن کے شروع اور اول میں واقع ہی نہیں ہے’’ (۱۹)۔

یہ ہے زمانے کی وہ حقیقت جس کے بارے میں اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری روایت میں اس کا انکشاف مولاناؒ پر ہوا۔ زمانے کو حدوث کے دائرے سے نکالنا گویا اس کے زمانہ ہونے سے انکار کرنا ہے۔ جبکہ قِدم کا دائرہ ایک تنزیہ ِمطلق رکھتا ہے جس میں زمانہ اور زمانی پن وہم کے راستے سے بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ یہ ساری بحث ہی لغو ہے کہ زمانے کا حدوث ذاتی ہے یا نہیں؟ یہ خلطِ حقائق ہے، جو ہر محال سے بڑھ کر محال ہے۔ وجود و عدم یکجا ہوسکتے ہیں لیکن حدوث و قدم نہیں۔

روایتی یا روایتی مزاج کے متکلمین میں مولاناؒ کی انفرادیت اور اہمیت یہ ہے کہ آج کی دنیا اور ذہن کے لیے بھی ان کے استدلال میں ایک ایسی تاثیر اور کشش ہے جو ان کے اکثر نظریات کو پرانا ہونے سے بچائے ہوئے ہے۔ مولاناؒ نے علم اور وجود کے مستقل مباحث پر جو تفصیلی موقف اختیار کیا ہے، وہ جدید ترین نظریہ علم اور تصورِ دنیا سے متصادم حالت میں بھی اجنبیت نہیں رکھتا۔ مولاناؒ نے علم کے مبادی میں جس طرح ارادہ و اختیار کو شامل دکھایا ہے، وہ طریقِ استدلال آج کے متعلقہ اور معروف ترین نظریات میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مولاناؒ کی مجموعی فکر معنی میں روایتی ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر استدلال کی تازگی رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر حقائق (Realities) پر جس طرح وہ شعور کی موجودہ ساخت سے استدلال کرتے ہیں، وہ کلام کی روایت میں ناپید ہے اور جدید ترین تناظرِ علم کے ساتھ اصطلاحات میں مشترک ہے۔ کسی علمی discourse کے لیے یہ ایک نادر وصف ہے کہ وہ اپنے زمانے کےdiscourse سے معنی میں مختلف ہونے کے باوجود اپنے طریقِ اظہار کی بدولت ایک تاثیر کا حامل ہو۔ مولاناؒ کے معانی قدیم ہیں، لیکن ان کا استدلال اور اظہاری دروبست ایسا ہے کہ معنی کی قدامت، بات کو فرسودہ نہیں بننے دیتی بلکہ نت نئی تازگی کی موجب بن جاتی ہے۔

موجودہ دور اپنے غالب رجحان کے ساتھ خدا کے انکار یا اس سے لاتعلقی کا دور ہے۔ یہ اتنا قوی رجحان ہے کہ اس کے اثرات اور نتائج مسلم دنیا میں بھی مرتب ہورہے ہیں بلکہ مذہبی بیانیوں (narratives) میں بھی در آئے ہیں۔ خدا کا انکار تو ایک قدیم رویہ ہے اور اس کا مایہ استدلال بھی تقریباً ایک چلا آہا ہے، لیکن آج کی دنیا میں خدا سے لاتعلقی کا جو مزاج راسخ ہوچکا ہے، وہ انکار سے زیادہ شدید اور نتیجہ خیز ہے۔ مذہبی ذہن نے خدا کے انکار کے ممکنہ دلائل کا بھی توڑ بہت پہلے کرلیا تھا، لیکن اس سے لاتعلقی کے مظاہر بالکل نئی چیز ہیں جن کا مذہبی ذہن کو پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس لاتعلقی سے مکمل ناواقفیت کی وجہ سے مسلم ذہن میں خدا کو ماننے کاانداز مطلقیت سے عاری اور اضافیت کے تابع ہوتا جارہا ہے۔ خدا بھی میرا تیرا ہوگیا ہے، سب کا نہیں رہا۔ خود ان لوگوں کی بھی اچھی خاصی تعداد اس مزاجِ لاتعلقی سے پوری طرح محفوظ نہ رہ سکی جنہیں علمائے دین سمجھا جاتا ہے۔ ان کے یہاں بھی خدا کو ماننا خدا سے تعلق پر شاہد نہیں رہ گیا۔ مذہبی ذہن اور تہذیب کو پیش آنے والے تمام خطرات میں یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مولاناؒ کا کلام دیکھ کر بعض مقامات پر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کے وجود و صفات وغیرہ پر ان کے دلائل محض مفیدِ اثبات نہیں ہیں بلکہ موجبِ تعلق بھی ہیں۔ وہ خدا کو اس کی مسلمہ شان کے ساتھ اس زور سے ثابت کرتے ہیں کہ ذہن کو تعلق باللہ کے احوال کا تجربہ ہونے لگتا ہے۔ اگر ذرا باریکی سے تجزیہ کیا جائے تومولاناؒ کے الہیاتی استدلال کی عمومی ساخت میں کارفرما یہ مستقل عنصرِ تعلق پوری وضاحت کے ساتھ نظر آسکتا ہے۔ صرف اس بنیاد پر مولاناؒ کو مجدّدِ کلام کہا جاسکتا ہے۔

غرض ذہنِ جدید کا ایک بڑا خلا جسے وہ خود محسوس کر رہا ہے، یہ ہے کہ عقل مابعد الطبیعی اور مافوق تجربی امور سے اپنی مناسبت کو ترک کر چکی ہے۔ یہ احساس جدید شعور میں پوری طرح سرایت کیے ہوئے ہے کہ عقل میں مابعد الطبیعی عنصر کے غائب ہوجانے کی وجہ سے تجرید کا ایک بے ہدف، بے اصل اور نامختتم عمل شروع ہوچکا ہے جس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ عقل اپنی بہترین صلاحیتوں کو حصول کی بجائے فقدان کے ماحول میں صرف کرے۔ آخر کوئی تو سبب ہے کہ ذہنِ جدید اپنے اندر بھڑکتی ہوئی پیاس کو بجھانے کے لیے حسی objects کو over-subectivize کرنے کا عادی بنتا جارہا ہے۔ مولاناؒ عقل کو اس طرح define کرتے ہیں اور علم کے حدود میں اس گمشدہ وسعت کو پھر سے واپس لاتے ہیں کہ ذہنِ جدید کا خود ساختہ جبر اور موہوم اختیار اپنی جگہ چھوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ اس طرح کئی پہلو ہیں جو ہمارے زمانے میں مولاناؒ کی effective relevance کو ثابت کرتے ہیں۔

حواشی

۱۴۔ حوالہ بالا، ص ۲۲۷، ۲۲۸۔
۱۵۔ مقالاتِ ایوبی حصہ دوم، ص ۶۸، ۶۹۔
۱۶۔ حوالہ بالا، ص ۶۹۔
۱۷۔ حوالہ بالا، ص ۷۰۔
۱۸۔ حوالہ بالا، ص ۷۰، ۷۱۔
۱۹۔ حوالہ بالا، ص ۷۲.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: