تصوف کی ضرورت کیوں؟ باسط حلیم

0
  • 1
    Share
دنیا میں انسان کے دو بنیادی سوال ہیں۔ 
[lightbox]
مقصدِ زندگی کیا ہے اور طریقہ زندگی کیا ہے۔ ان دو سوالوں کے جواب معلوم کرنے کے لیے انسان نے صدیوں کا فکری سفر کیا ہے، انسان طبعاً توضیح چاہتا ہے۔
یعنی اُس کی فطرت اور سرشت چاہتی ہے کہ پردے منکشف ہوتے چلے جائیں۔ انسان کے لیے ہر وہ فلسفہ زندگی ناقابل قبول ہے جو توضیح کے بجائے ابہام پیدا کرے، انسان راستہ چاہتا ہے۔انسان نے معرفت حقیقت کے لیے مختلف ذرائع اختیار کیے۔
 
۱۔ تصوف، جوگی پن، مکاشفہ
متصوفین کے مطابق اس طریقہ تحقیق میں ظاہری آنکھ بند ہوجاتی ہے یعنی حواس خمسہ سے فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا، باطنی آنکھ کھُل جاتی ہے اور انسان کو روحانی واردات کے ذریعے حقائق معلوم ہوتے ہیں۔
 
۲۔ سائنس
کائنات سے متعلق حقائق مشاہدہ اور تجربہ سے معلوم ہوتے ہیں، ریسرچ ٹولز کا کام حواسِ خمسہ اور عقل کرتی ہے۔
 
۳۔ فلسفہ
فلسفہ طبعیاتی حقائق
کی مابعد از طبعیاتی توجیہ کا نام ہے، اِس طریقہ تحقیق میں مشاہدہ ، تجربہ اور عقل و استدلال بطور سرچ ٹول  کام کرتے ہیں۔
۴۔ وحی
چوتھا ذریعۂ علم وحی ہے، وحی عقل اور حسیات دونوں کو اپیل کرتی ہے نیز دعوتِ مشاہدہ و تدبر دیتی ہے، وحی مابعدازطبعیاتی دنیا سے متعلق سب سے زیادہ معلومات دیتی ہے لیکن وحی کے نزول کے تمام ذرائع حِسّی ہیں۔
 
قارئین کے نزدیک اگر درج بالا تمہید درست ہے تو پھر  تصوف اور متصوفین پر اعتراض عائد ہوتا ہے کہ تصوف نے زندگی کے تصور کو 
کو مزید مبہم کیا ہے،  صوفیانہ واردات سے معلوم ہونے والی حقیقت اُلجھن بڑھاتی ہے، صوفیانہ واردات چھوڑیے، صوفیانہ واردات سے حقیقت تک پہچنا خود تشریح طلب ہے، صوفی مشاہدہ کی آنکھ بندکرکے باطنی آنکھ سے حقیقت تک پہچنے کا دعویٰ کرتا ہے اور اُس نے ہمیشہ موقف اپنایا 
کہ تصوف مابعدازطبعیاتی حقیقتوں سے پردے اُٹھاتا ہے۔ 
 
وحی، فلسفہ اور سائنس تینوں طریقے انسان کو حقیقت تک لے جاسکتے ہیں۔اللّٰہ تعالی نے قرآن کے نزول کا مقصد تبیان بتایا ہے یعنی انسان کو حقیقت تک لے جانا، نبی علیہ السلام کی بعثت کا مقصد بھی توضیح و توجیہ بتلایا۔
 
بالکل اسی طرح فلسفی بھی حقیتِ کُبرٰی تک پہنچ سکتا ہے، اُس کا طریقہ تحقیق بھی توضیحی اور تشریحی ہی۔ مابعد از طبعی حقیقتوں کو پا لیتا ہے، کیونکہ جدید فلسفہ طبعی دنیا کی حقیقت پر کھڑی مابعد از طبعی توجیہ کا نام ہے، ایسی صورت میں فلسفی صوفی کی طرح کسی باطنی قوت کا سہارا نہیں لیتا بلکہ سائنسی مسلمہ کی مابعدازطبعی توجیہ لاتا ہے جو زندگی کے تصور کو واضح کرتی ہے۔
سائنس مشاہدے اور تجربے کا نام ہے، انسان ان کے ذریعے حقیقت تک پہچنتا ہے۔لہذا انسان کہہ سکتا ہے کہ سائنس ، فلسفہ اور وحی زندگی کے تصور کو واضح کرتے ہیں جبکہ تصوف زندگی کے موجود تصور کو مزید مبہم کرتا ہے، 
 
دانش کے توسل سے اہل علم کے سامنے سوال رکھنا فائدہ مند ہوگا، جب روحانی واردات انسان کے سوالات کا واضح جواب دینے کی بجائے ابہام پیدا کرتی آرہی ہے پھر تصوف کی ضرورت اور اہمیت باقی نہیں رہتی ۔اہلِ علم رہنمائی فرمائیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: