برِصغیر کے آخری کلاسیکی متکلم: حافظ ایوب دہلویؒ (1) — محمد رشید ارشد

0
  • 38
    Shares

علم الکلام کے مرکزی مباحث پر مولانا ایوب دہلوی ؒنے تفصیل سے گفتگو فرما رکھی ہے، اور شاید ہی کوئی ایسا بنیادی موضوع ہوگا جس میں مولاناؒ نے پوری روایتِ کلام میں کوئی ترمیم یا اضافہ نہ کیا ہو۔ خاص طور پر وجودِ باری تعالیٰ پر عقلی استدلال کرنے کی کلامی روایت اپنے بڑے حصے میں ایک سپاٹ یکسانی کا شکار ہوچکی تھی اور اس روایت کا ایک چھوٹا حصہ جو زیادہ فعال رہا، اس میں یہ دینی /کلامی سے زیادہ عقلی/ فلسفیانہ یا متجددانہ/ اخلاقی بن چکے تھے۔ کلامی روایت کی اس شاخ نے سکہ بند مباحث کے تسلسل کو جاری رکھا، لیکن اس بنیاد کو عملاً ترک کردیا جس سے علم الکلام کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ یعنی وحی کے معیاری فہم کو عقل کے لیے واجب التسلیم بنانا، ایک تقریباً مشترکہ استدلالی، منطقی اور اصطلاحی اساس پر۔ مولاناؒ تک آتے آتے ایک طرح کا تفلسف اور جدید اخلاقی نظریات اس پر حاوی آچکے تھے۔ متقدمین نے عقلی، منطقی اصطلاحات کو فلسفے کے چنگل سے نکالنے میں جو کامیابی حاصل کی تھی، اسے متاخرین نے تقریباً ضائع کردیا تھا۔ مولاناؒ جس زمانے میں تھے، وہاں تک پہنچتے پہنچتے علم الکلام، وحی کی مستند تعبیر اور روایتی تفہیم سے ایک بڑا فصل پیدا کرچکا تھا اور مقبول اور متداول نظریات کے ساتھ ایک جبری مطابقت اور مصنوعی قرب پیدا کرنے کے درپے ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کی معقولی روایت میں عقل کے ایمانی اور فلسفیانہ کردار میں جو کشاکش اور امتیاز پوری مضبوطی کے ساتھ چلا آرہا تھا، وہ دونوں جہتوں میں قریب قریب فنا ہوگیا تھا۔ کلام اپنی روایت کو سنبھالنے کے قابل نہ رہا اور مسلم فلسفہ اپنے منہج کو تھامے رکھنے کے قابل نہ رہ سکا۔ ایک خلا سا پیدا ہوگیا تھا جہاں دینی شعور کو پنپنے کا موقع ہی نہ رہا تھا۔ خصوصاً دینی مدافعت کے مواقع پر ایک شکست خوردہ تطبیق یا ہٹ دھرم تردید کے سوا اس وقت کی علمی روایت میں اگر کچھ رہ بھی گیا تھا تو اس کی سطح بہت کم تر تھی۔ اور ایسی دفاعی سرگرمیوں سے الٹے نتائج نکلنے شروع ہوگئے تھے۔

ہمارے یہاں سرسید سے لے کر مولانا مودودی تک شدید باہمی اختلافات کے باوجود کچھ بنیادی کمزوریاں مشترک نظر آتی ہیں۔ ان کمزوریوں کے دو عنوان اوپر عرض کردیے ہیں۔ وجودِ باری تعالی کے اثبات میں پرانے متکلمین نے عظیم الشان استدلالی structure بنائے، لیکن بہرحال ان کی ایک عمر تھی جو گزر چکی تھی۔ استدلال خواہ کتنا بھی محکم ہو، اس کا ایک سیاق وسباق ہوتا ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ جدید برِصغیر یعنی انگریزوں کی آمد کے بعد کا برِصغیر ایک بالکل نیا context لے کر وجود میں آیا، اس میں وہ نظامِ استدلال اجنبی اور غیر موثر ہوکر رہ گیا جو کبھی ایک دوسرے سیاق وسباق میں عقل کے لیے تشفی بخش ہوا کرتا تھا۔ چونکہ ہمارا مذہبی شعور فقہ سے بنا ہے اور تقلید کا عادی ہے، لہذا کلامی امور میں بھی ایسی تقلید کو کافی سمجھ لیا گیا۔ مدلولات کو بدلے بغیر استدلال میں جس تغیر اور تازگی کو جگہ ملنی چاہیے تھی، وہ نہ مل پائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اہلِ دین کی اجتماعی عقل خود ہی عقائد سے حالتِ سیرابی میں نہیں تھی اور تسلیم کے عقلی تجربے سے نہیں گزر ی تھی تو وہ عقائد کے لیے دلائل کہاں سے لاتی۔

مولاناؒ نے کلامی روایت کے اصول پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسے لاحق ہوجانے والے جمود اور خلا کو جس طرح توڑا، اس کی کوئی مثال ان کی ہم عصر اسلامی دنیا میں نظر نہیں آتی۔ مولاناؒ نے اصولِ کلام کی تجدید ہی نہیں کی بلکہ اس کے مباحث کی تدوین ِنو بھی کی۔ اگر وہ لکھنے پر متوجہ ہوتے تو کچھ بعید نہ تھا کہ پورے کلامی discourse کا احیا اور تاسیس ہوجاتی۔ مثلاً انہوں نے آکر بتایا کہ کلام کے اصل موضوعات دلائلِ توحید، دلائلِ نبوت اور دلائلِ معاد ہیں۔ گویا یہ علم الکلام کا وجودی دروبست ہے۔ اس کے بعد متکلم کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ علم کیا ہے؟ عقل کیا ہے؟ اختیار کیا ہے؟ اس سے تصور ِ انسان سامنے آتا ہے اور دوسری طرف اس پر غورکرنا ضروری ہے کہ زمان ومکان کیا ہیں؟ ایمانی ذہن میں بننے والا کونیاتی کل کیسا ہوتا ہے؟ اس سے کائنات کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ گویا مولاناؒ اپنے زمانے کی واحد آواز تھے جنہوں نے پورے شکوہ اور وضاحت کے ساتھ یہ بتایا کہ علم الکلام نام ہے خدا، انسان اور کائنات کے مبنی بر ایمان علم کا، جو عقل پر حاکم ہو۔ اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ تین بنیادی سوالات ہیں جن سے کسی بھی فرد کا ورلڈ ویو سامنے آتا ہے:

عالم از رنگست و بی رنگی است حق
چیست عالم چیست آدم چیست حق (۱)

مولاناؒ کے تمام کلامی مسائل پرانے ہیں مگر نئی ترتیب اور تازہ استدلال کے ساتھ۔ اس کی تفصیل ہم موضوع بہ موضوع دیکھیں گے۔

سب سے پہلے ہم علم الکلام کی تعریف اور موضوع کے حوالے سے مولاناؒ کا موقف بیان کریں گے اور پھر ان تین بڑے سوالات کے حوالے سے بطور مثال ایک ایک موضوع کو لے کر اس پر مولاناؒ کی رائے نقل کریں گے، حق یا ذاتِ حق کے مبحث میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر مولانا کی رائے بیان کی جائے گی، آدم کیا ہے؟ کے سوال پر انسانی عقل اور علم کو جس طرح مولاناؒ دیکھتے ہیں، اس کا تعارف کرایا جائے گا، اور چیست عالم، یعنی کونیاتی دائرے میں مسئلہ زمان پر مولاناؒ کی گفتگو مثال کے طور پر پیش کی جائے گی۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہم یہ دیکھ لیں کہ مولاناؒ علم الکلام کی کیا تعریف کرتے ہیں، کیونکہ ہر علم پہلے قدم پر خود کو define کرتا ہے اور اسی تعریفی دائرے میں اس کی بنیادی یا ثانوی مباحث اور مناہجِ استدلال پیدا ہوتے ہیں۔ متوسطین میں علم الکلام کی طرح طرح سے تعریف وضع کی گئی ہے۔ مولاناؒ نے ان تمام تعریفات کا ایک فقرے میں خلاصہ کردیا ’’علم ِکلام کی تعریف متکلمین نے یہ کی ہے کہ علم ِکلام وہ علم ہے کہ جس سے دلائل کے ذریعہ عقائدِ دینیہ کے اثبات پر اور ان (عقائد) پر جو شبہات ہوں، ان شبہات کے ابطال پر قدرت حاصل ہوجائے’’ (۲)۔ اسی طرح علم ِکلام کا موضوع کیا ہے؟ اس پر بھی متکلمین کی آراءکا ایک انبار ہے، مثلاً علم ِکلام کا اصل موضوع: ذات وصفاتِ الہیہ ہیں+وجود ہے +ذہن ہے +عقل ہے +حقیقت وصورت کا ربط ہے وغیرہ۔ مولاناؒ اس منتشر ڈھیر کو مربوط کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اگر کلام سے متاخرین کا کلام مراد ہے جس میں امورِ عامہ، طبیعات اور مابعد الطبیعیات یعنی علمِ الہی کلی بالمعنی الاعم اور بالمعنی الاخص اور منطق وغیرہ سب شامل ہیں، تب علم ِکلام کی تعریف یہ ہونی چاہیے کہ علم ِکلام وہ علم ہے جس میں عقیدہ کے احوال پر اس کے حق وباطل ہونے کی حیثیت سے بحث کی جاتی ہے اور اگر متقدمین کا علم ِکلام مراد ہے تو پھرعلم ِکلام وہ علم ہے جس میں عقائدِ اسلام سے عقل کے مطابق بحث کی جاتی ہے۔ اور موضوع ِکلام پہلی صورت میں عقیدہ ہے حق و باطل ہونے کی حیثیت سے، اور دوسری صورت میں عقائدِ اسلامی ہے’’ (۳)۔

کسی علم کی تعریف اور موضوع متعین ہوجائے تو پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی غایت کیا ہے؟ اس بارے میں بھی ظاہر ہے تقریباً ہر متکلم نے کلام کیا ہوگا۔ مولاناؒ نے علم ِکلام کی بنیادی غرض اور مقصود جو بتایا ہے، وہ تاریخ ِکلام میں کہیں اور بیان نہیں ہوا۔ وہ فرماتے ہیں کہ علم الکلام کی غایت یہ ہے کہ عقل کو کلام اللہ سے مانوس اور اس کے تابع کردیا جائے، اس کے بدلتے ہوئے احوال کے ساتھ۔ یعنی الکلام دراصل کلام ِالہی ہے۔ مولاناؒ سے پہلے غالباً کسی متکلم نے علم ِکلام کی حقیقت اور غایت کو بیان کرتے ہوئے اس نکتے تک رسائی حاصل نہیں کی کہ ایک تو عقل اپنے عملی تناظرات میں متغیر ہے اور دوسرے یہ کہ اس کی ایک حالتِ تسلیم وانفعال ہوتی ہے جسے سلبی طریقے سے برسرِ کار لایا جاسکتا ہے۔ یعنی عقل کی فعلیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے استدلال کو اگر بودا ثابت کردیا جائے تو اس کا جوہرِ انفعال ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا مبحث الہٰیات کا بنیادی موضوع ہے۔ ہماری روایت میں اس سلسلے میں مختلف آراء بلکہ عقائد پائے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر کلام اور تصوف کے کچھ مکاتب ِفکر پیدا ہوئے۔ صوفیاء کے ہاں ذاتِ باری تعالیٰ اور وجودِ باری تعالیٰ میں فرق ہے، جبکہ متکلمین اس فرق کو روا نہیں رکھتے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ کلام چونکہ عقل کو الہٰی حقائق سے مانوس کرنے کا نام ہے اور عقل کی ساری ساخت ایسی ہے کہ وہ وجود و موجود یا وجود و ذات میں فرق کو اپنی تمام تجریدی صلاحیتوں کے باوجود محسوس نہیں کرسکتی، اسی لئے اہلِ کلام ذات اور وجود میں کوئی ایسی تفریق نہیں کرتے جسے معقول نہ بنایا جاسکے۔ روایتِ کلام میں ایک پہلو سے تو یہ بحث کی گئی ہے کہ ذات وصفات کا باہمی تعلق کیا ہے، تاہم متکلمین کا تفصیلی موضوع صفاتِ الہٰیہ ہیں۔ اپنی روایت کے مزاج کے مطابق مولانا ایوب دہلویؒ نے ذات وصفات کی باہمی نسبت پر گفتگو تو فرمائی ہے مگر سرسری۔ متقدمینِ کلام کی طرح ان کا مورد ِ توجہ بھی تحقیقِ صفات ہے۔ ہمارے علم کی حد تک صفاتِ الہیہ پر ایسا کلام جو عقل کے لئے واجب التسلیم اور شریعت کے لئے قابلِ قبول ہو، کلامی روایت کے بہترین حصے میں بھی کم ہی نظر آتا ہے۔ مولاناؒ کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے نمونے کے طور پر تین چار صفاتِ الہٰیہ کا تحقیقی تجزیہ کیا ہے جس سے برآمد ہونے والے نتائج ٹھیٹھ شرعی ذہن کے لیے بھی رہنمائی کا کام کرتے ہیں اور خالص عقل پر تکیہ کرنے والوں کے لئے بھی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ شرع وعقل میں حفظِ مراتب کے ساتھ ایسا توازن اور ایسی جامعیت جدید علمِ کلام میں سرے سے غائب ہے اور پرانے میں بھی کمیاب ہے۔ دینی استناد اور عقلی استدلال، دونوں کو ان کی بہترین اور محکم ترین حالتوں کے ساتھ یک جان رکھنے یا کردینے کا جیسا ملکہ مولاناؒ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے وہ واقعتا ایک نادر و نایاب وصف ہے اور کم از کم پچھلے سو دو سو برس کی دینی، علمی روایت میں اس کی نظیربہت ہی کم ملتی ہے۔

مولانا ایوب ؒذات و صفات کی عینیت وغیریت کے مباحث کو لگتا ہے کہ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کا دائرہ تفکر صفات کے گرد بنتا ہے۔ صفات کیا ہیں؟ ذات کے لوازم، جو ذات کے ساتھ اعتباری امتیاز اور وجودی عینیت رکھتے ہیں۔ صفات کی معرفت کا بنیادی اصول کیا ہے؟ اس ذات کی معرفت جس سے یہ صفات منسوب ہیں۔ یہ مولاناؒ کا اصل موضوع ہے۔ مولاناؒ چونکہ صفات کو ذات کے ملزومات مانتے ہیں، اس لئے صفاتِ باری تعالی پر گفتگو کرتے ہوئے وہ تحقیق وتحقق کی اساس ذاتِ باری تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔ یعنی صفات کا مادہ معنی، وجودِ حق یا ذاتِ حق کو بناتے ہیں۔ کسی بھی صفت پر کلام کرتے ہوئے مولاناؒ کی مستقل ترتیب یہ ہے کہ پہلے وجودِ باری تعالی کا حقیقی امتیاز اور یکتائی پر بات کرتے ہیں اور پھر اسے اپنی واحد سند بنا کر صفاتِ باری تعالی کے حقائق و مراتب کی تحقیق کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وجود بمعنی امرِ عام کو لے کر اس کی تشقیق کرتے ہیں اور پھر اس کے معروف اقسام کو بیان کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد جا کر صفات کے حقائق کھولتے ہیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں، ” کائنات میں جتنے وجود ہیں، سب اعتباری ہیں۔ یعنی کسی نہ کسی اعتبار پر موقوف ہیں۔ اگر ان اعتبارات سے قطعِ نظر کر لی جائے تو یہ لاشے محض ہو جائیں گے۔ ۔ ۔ تو ایسی شے جو کسی نہ کسی اعتبار پر موقوف ہو، اس کو ممکن کہتے ہیں اور کسی اعتبار پر موقوف نہ ہو تو اس کو واجب الوجود کہتے ہیں۔ ۔ ۔ وہی خدا ہے’’ (۴)۔

واجب الوجود پر وہ شرائطِ ہستی وارد نہیں کیے جا سکتے جن کے بغیر ممکنات کا وجود ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح واجب الوجود اور اس کے صفات واوصاف کے درمیان پائی جانے والی لازمی نسبت بھی ویسی نہیں ہوسکتی جیسی کہ ممکن الوجود اور اس کے اوصاف وصفات میں کارفرما ہے۔ واجب الوجود کے لئے کوئی عدمی اور تعطیلی (suspended) حالت تجویز کرنا ذات کی سطح پر بھی محال ہے اور صفات کے درجے میں بھی باطل۔ موجودہ اصطلاحات میں دیکھا جائے تو واجب الوجود وہ بااختیار اور صاحبِ قدرت ذات ہے جو کسی علت کا معلول ہے نہ کسی معلول کی علت۔ لیکن اس کا اعتبار قائم ہوئے بغیر علت بھی معدوم ِمحض ہے اور ظاہر ہے کہ معلول بھی۔ یعنی زمانیت اور مکانیت سے ماورائی کی شان کا تقاضا ہے کہ ذاتِ حق کی صفات کو بھی ممکنات کی ان لازمی شرطوں سے مافوق اور غیر متاثر مانا جائے۔ مولاناؒ کے کلامی تناظر میں صفات کا مادہ معنی چونکہ ذات ہے، لہذ ا ان میں وہ اصول ِوحدت ظاہری تنوع اور باہمی امتیاز ات میں بھی پوری طرح برقرار رہتا ہے جو شے کو تضاد کے اس قاعدے سے بلند رکھتا ہے جو ممکنات میں زمانی، مکانی ہونے کی وجہ سے جاری ہے۔ مثلاً آدمی بیک آن عالم، جاہل، قادر، مجبور، اور نیک و بد ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ ممکنات کی ماہیت اور خاصّہ ہے کہ ان میں پایا جانے والا ہر وصف ایک متوازی ضد (opposite) ضرور رکھتا ہوگا۔ مولاناؒ نے کہا بھی ہے کہ آدمی کا قادر ہونا ہی اس کے عاجز ہونے کی دلیل ہے۔ ممکنات کے اس وجودی اور شعوری دروبست کو اگر واجب الوجود پر منطبق کیا جائے گا تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالات اور جوابات دونوں بے اصل ہوں گے۔ مولاناؒ کا یہی اصرار ہے کہ واجب الوجود کی صحیح تعریف کو پیش ِنظر نہ رکھا جائے تو صفات ِ باری تعالی کے بارے میں کوئی درست بات ممکن ہی نہیں ہے۔

کسی زمانے میں یہ سوالات بڑی شہرت رکھتے تھے کہ کیا اللہ تعالی اپنا مثل بنا سکتا ہے؟ کیا وہ کوئی ایسا پتھر تخلیق کرسکتا ہے جسے وہ خود نہ اٹھا سکے ؟ کیا خدا کذب پر قادر ہے؟ اور کیا وہ محال پر تصرف کرسکتا ہے؟ وغیرہ۔ تاریخِ کلام سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ان سوالات پر بہت سنجیدگی سے بحثیں کی گئی ہیں اور عجیب وغریب جوابات تیار کیے گئے ہیں۔ مولاناؒ نے گویا ایسی چیزوں کو دیکھنے کا تناظر ہی بدل دیا اور بہت وضاحت اور قطعیت کے ساتھ دکھا دیا کہ ایسے تمام مباحث مہمل ہیں اور اس طرح کے لایعنی سوالات کو قابلِ جواب سمجھ کر کی جانے والی گفتگو بے سرو پا ہے۔ غلط سوال کا صرف ایک جواب ہے کہ اپنے سوال کو صحیح کرو۔ ایسے ہی ایک نمونے کے طور پر مولاناؒ کی ایک بات بیان کرنی مناسب معلوم ہوتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ممکن الوجود کا خاصہ ہے کہ وہ قادر و مقدور ساتھ ساتھ ہے۔ واجب الوجود قدرتِ امکانی نہیں قدرتِ مطلق کے ساتھ قادر ہے، اور مطلق وہی ہے جو اپنے غیر سے متاثر نہ ہو۔ یعنی قادرِ مطلق، مقدور ہو ہی نہیں سکتا، یہ محال ہے، شرعاً بھی اور عقلاً بھی۔ اس طرح کے سوالات اگر شرارت سے نہ اٹھائے جائیں تو بھی ان کی بنیاد جہلِ مرکب (compound ignorance) پر ہے۔ مولاناؒ کے بتائے ہوئے اس نکتے سے ہی ذات و صفاتِ الہیہ کے حقائق سے عقل کو مانوس کرنے کے تمام راستے کھل جاتے ہیں اور کمال ِمعرفت اگر حاصل نہ ہوسکے تو بھی ذہن غلطی سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

مولانا ایوب صاحبؒ کی نظر میں اللہ تعالیٰ کے وجود وصفات کے تمام مباحث تین صفات کے اثبات پر موقوف ہیں: قدرت، علم اور خلاقی۔ تمام معلوم صفات انہی ستونوں پر بنی ہوئی عمارتوں کی طرح ہیں۔ اگر ان تینوں کی درست معرفت عقل کو میسر آجائے تو خدا کو ماننے میں کوئی مانع نہیں رہ جائے گا۔ قدرت، یعنی قدرتِ مطلقہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ سبب، باعث اور علت سے پاک ہو۔ مولاناؒ کے لفظوں میں ” اللہ تبارک وتعالی کی قدرت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کوئی بیرونی وجہ ہو تو فعل کرے یا کوئی بیرونی وجہ ہو تو ترکِ فعل کرے۔ تو قادرِ مطلق کے یہ معنی ہیں کہ بلا سبب، بلا باعث، بلا علت اس کا فعل سرزد ہو’’ (۵)۔ اس کے ساتھ ہی مولاناؒ ایک اور نکتہ بھی تعلیم کرتے ہیں کہ، ”اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ سوال کرنا غلط ہے کہ عالم ہے یا جاہل، قادر ہے یا عاجز۔ ۔ ۔ یہ تقسیم غلط ہے۔ یہ تقسیم ممکن کی ہے (یعنی واجب کی نہیں)’’ (۶) .ا سی کی مزید توضیح کرتے ہوئے مولاناؒ فرماتے ہیں، ”اللہ کی ہر فعل کے اندر فعل اور ترکِ فعل دونوں موجود ہیں تو اللہ تعالی تارک اور فاعل ہے۔ اور جو فاعل اور تارک ہے، وہی قادر ہے تو اللہ تعالی قادر ہے۔ اس سے زیادہ واضح دلیل نہیں ہو سکتی کہ اللہ فعل بھی کر رہا ہے اور ترک ِفعل بھی کررہا ہے۔ حیات کے وقت ممات نہیں ہوگی اور ممات کے وقت حیات نہیں ہوگی۔ اللہ پاک دونوں متضاد چیزوں کا خالق ہے اور قادر ہی ہوگا۔ غیر قادر نہیں ہوسکتا’’ (۷)۔

اس میں آخری نکتہ بہت قابلِ توجہ ہے کہ قادرِ مطلق وہی ہے جو خالقِ تضادات بھی ہو۔ اس کی ضروری شرح یہ ہے کہ وجود وعدم کے قطبین میں واقع عالمِ امکان اپنے تمام اجزا میں تضادات کا حامل ہے۔ کائنات میں کوئی شے بھی اپنے ضد (opposite) سے مستغنی نہیں ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تضاد ہی ممکنات کے لیے بِنائے وجود ہے۔ اب جس نے تضادات سے بنی ہوئی یہ کائنات خلق کی ہے، وہ یقیناٍ واجب الوجود ہے، خود ماورائے تضادات ہے، تضادات کی جدلیت پرمتصرف ہے اور قادرِ مطلق ہے، جس کی قدرتِ مطلقہ، خود اپنا ضد (opposite) نہیں رکھتی۔ دوسرے پہلو سے اطلاق کا متضاد تقیید ہے۔ جس طرح اطلاق میں وحدت اور کلیت ضروری ہے، اسی طرح تقیید کے لیے بھی کثرت اور تضاد لازمی ہے۔ اطلاق، تقیید کا سبب نہیں ہوتا یا اس کا متوازی حوالہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خالق اور اس پر قادر ہوتا ہے جس کے معنی کو بطریقِ سلب ہی شعور میں لایا جاسکتا ہے۔ طریقِ سلب سے مراد ہے ممکنات کے تمام وجودی حدود و خواص کی نفی کرتے ہوئے۔ عالمِ کثرت میں ہر شے اضافی اور اعتباری ہے، زندگی بھی، موت بھی، قدرت بھی، بے اختیاری بھی وغیرہ۔ یہاں پر ایجابی صفت کا قوام ِمعنی سلبی ہے یعنی علم کے معنی میں جہل لازماً داخل ہے، بصارت کے معنی میں نابینائی حتماً شامل ہے وغیرہ۔ یہاں قدرت کا اپنے سادہ معنی اور ایجابی مفہوم میں پایا جانا محال ہے۔ اس پر وہی قادر ہوسکتا ہے جو اس کا خالق بھی ہو اور اس کا ایسا علم بھی رکھتا ہو جو ہمہ گیر اور مطلق (Binding) بھی ہو۔ گویا قدرتِ مطلقہ، ذات ِ واجب الوجوب کی ایسی صفت ہے جس میں خلق اور علم دونوں شاملِ حال ہیں۔ یہ اصول ِسہ گانہ گو کہ ہماری کلامی روایت میں جابجا بیان ہوا ہے لیکن اس میں کائنات کی مبنی بر تضاد جدلیت کو استدلال کی کافی بنیاد بنانے کا راستہ مولاناؒ نے نکالا۔

علم ِکلام کو اپنے جواز اور قیام کے لئے غالباً فلسفے سے بھی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ عقل کی تعریف کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علم کا انحصار ہی عقل کے تصور پر ہے جس میں ایک طرف تو عقل اپنی کلیت کے ساتھ پہچان لی جائے اور دوسری جانب وحی کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت اور ضرورت واضح ہوجائے۔ مولاناؒ نے روایتی متکلمین کی طرح عقل کی حقیقت، ماہیت اور غایت پر بہت کلام کیا ہے۔ اور اکثر مقامات پر عقل کی روایتی تعریف کو اس طرح بدلا ہے کہ عقل سے متعلق جدید فلسفیانہ اور نفسیاتی تصورات بھی عقل کی کلامی تعریف سے باہر نہیں رہ جاتے۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ متاخرینِ کلام میں کسی نے عقل کی واقعی ماہیت اور دینی حیثیت پر ایسی گفتگو نہیں کی جو مولاناؒ کے ہاں نظر آتی ہے۔ عقل کے سلسلے میں انہوں نے ایسے مباحث اٹھائے اور ان سے ایسے نتائج نکالے جو ہماری کلامی روایت میں ایک بامعنی اضافے کا باعث بنے۔ مولانا ؒ مغربی فلسفے سے بالکل واقف نہ تھے، انہیں مغربی نظریاتِ علم و عقل سے کوئی واقفیت نہ تھی، لیکن اس کے باوجود وہ علم، عقل وغیرہ ایسے بنیادی مباحث میں ایسی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں جس کے آثار جدید نظریہ علم اور تصورِ عقل میں جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مولاناؒ عقل کو کل شعور نہیں مانتے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو شعور ِانسانی میں تحقیق کرنے والی بڑی روایتوں میں مسلمّے کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اسی طرح مولاناؒ انسانی وجود کے تمام مفادات کو عقل پر منحصر نہیں سمجھتے بلکہ عقل کو ایک اچھی زندگی گزارنے کے لئے اتنا ناگزیر نہیں جانتے جتنا کہ اسے سمجھ لیا گیا ہے۔ تاہم شعور اور ارادے کے جن دائروں میں عقل کو خلقتاً مرکزیت حاصل ہے، مولاناؒ اس کا ثبات کرتے ہیں۔ اور انہی دائروں میں وحی اور عقل کے درمیان مطلوب نستبوں کو دریافت کرنے اور انہیں فعال بنانے کی کاوشیں کرتے ہیں۔

عقل کی روایتی تعریف جس پر فلاسفہ اور متکلمین کی اکثریت متفق ہے، وہ یہ ہے کہ: عقل وہ قوت ہے جو حسن و قبح میں تمیز کرے۔ یہ حسن و قبح، حق وباطل بھی ہے، خیر و شر بھی ہے اور خوبصورت اور بدصورت بھی۔ لیکن مولاناؒ اس تعریف کو ناقص کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں عقل کو اس طرح define کرتے ہیں ”دراصل عقل وہ شے ہے جو مخاطب ِرب العالمین ہے’’ (۸)۔ مولاناؒ کے نزدیک خطابِ الہی کا مخاطب بننے کی صلاحیت، عقل کے سوا کسی اور میں نہیں۔ یہاں مولاناؒ عقل کی اساس کو، یعنی وہ چیز جس پر عقل کے تمام افعال کا دارومدار ہے، اسے دریافت کرتے ہوئے ایک ایسا اصول بتاتے ہیں جس کا بیان پہلے نہیں ملتا۔ مولاناؒ فرماتے ہیں کہ عقل کا پہلا اصول یا مبدا فعل، نفی اور اثبات ہے۔ یعنی’ ہونا‘ اور’ نہ ہونا‘۔ عقل ہستی اور نیستی کے ان قطبین کے اندر رہتے ہوئے اپنے سارے کام انجام دیتی ہے۔ عقل سے پیدا ہونے والے تمام علوم، اور ادراک کی ساری حالتیں، اسی جدلیاتی صورتِ حال کے اندر اندر ہوتی ہیں۔ عقل کے تمام حقائق و احکام’ ہونے‘ اور ’نہ ہونے‘ کے تعین پر مبنی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے عقل کا پہلا مسلمّہ ہے کہ نقیضین کا اجتماع بھی محال ہے اور ارتفاع بھی۔ یعنی ”نہ تو یہ ممکن ہے کہ ایک شے ہو بھی اور نہ ہو بھی اور نہ یہ ممکن ہے کہ نہ تو وہ ہو اور نہ وہ نہ ہو“ (۹)۔ عقل کا ملکہ نفی و اثبات جو اس کے ہر موقف کی بنیاد اور منتہا ہے، وہ’ ہونے‘ اور’ نہ ہونے‘ کی اسی تقسیم پر قائم ہے۔ اسی طرح ہونے اور نہ ہونے کے لوازم بھی ایک شے میں ایک لمحے میں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے کو اب جہاں تک بڑھاتے چلے جائیں، نتیجہ یہی نکلے گا کہ عقل کا پورا کارخانہ نفی اور اثبات کے قانون پر چل رہا ہے۔

یہاں سے مولاناؒ ایک بہت دقیق نکتہ برآمد کرتے ہیں جسے پیشِ نظر رکھا جائے تو بہت سارے مسائل خودبخود حل ہوجاتے ہیں۔ عقل میں نقیضین کی جدلیت کا نظام صرف مخلوقات اورممکنات کے دائرے میں کارفرما ہے یا ہوسکتا ہے۔ اگر یہی جوہرِ تعقل الہیات میں بھی استعمال ہونے لگے تو علم کی تشکیل کے امکانات فنا ہوجائیں گے۔ جیسا کہ مولاناؒ فرماتے ہیں کہ ” عقل سے یہ غلطی ہوئی کہ غیر ممکن کو بھی ممکن میں شامل کرلیا اور شامل کرکے خدا کے احکام میں تشقیق (اقسام بندی) کو جاری کردیا۔ خدا قادر ہے یا نہیں ہے۔ عالم ہے یا نہیں ہے۔ حسین ہے یا نہیں ہے’’ (۱۰)۔ یہ وہ غلطی ہے جس نے عقل کو واجب الوجود کے حقائق اور معارف سے نامانوس کردیا۔ جو صلاحیت نظام ِ امکان کو سمجھنے کے لئے مختص تھی، اسے نظام ِوجوب کی معرفت میں رہنما بنا کر جو نتائج نکلے، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ممکن کے علم کی بھی تشکیل غلط بنیادوں اور اور غلط رخ پر ہوگئی، یعنی حقائق ِممکنات اوجھل رہ گئے۔ اور اسی طرح واجب کی معرفت بھی ممکن کے نمونے پر تصور کرلی گئی اور یوں حقائق ِ الہیہ اور عقل کے درمیان ایک ایسا فصل پیدا ہوگیا جس کا ازالہ کرنا عقل کی تردید اور تحدید کے بغیر ممکن نہ رہا۔ یہاں مولاناؒ کہتے ہیں ” عقل کی حد صرف ممکنات میں ہے اور واجبات میں عقل جاری نہیں ہوسکتی کیونکہ یہاں قانونِ عقل یعنی حصر کا قانون لازم نہیں ہے۔ جیسے اللہ تعالی محال پر قادر ہے یا نہیں ہے، اس کا کچھ جواب نہیں، علما اور حکما نہیں دے سکتے“ (۱۱)۔

اپنے اس استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے مولاناؒ نے ایک ایسی عقلی اور علمی مشکل کو حل کیا ہے جو تقریباً لاینحل چلی آرہی تھی۔ اللہ محال پر قادرہے یا نہیں؟ یہ سوال ہی غلط ہے۔ اس کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے سوال کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ مولاناؒ کہتے ہیں کہ ”اگر کہا جائے کہ اللہ تعالی محال پر قادر ہے تو محال مقدور ہوگیا۔ یعنی محال کے ساتھ قدرت متعلق ہوئی۔ اور یہ تعریف ممکن کی ہے۔ جس شے کے ساتھ قدرت متعلق ہوتو اسی شے کو ممکن کہتے ہیں۔ تو اگر اللہ تعالی محال پر قادر ہے تو محال ممکن ہوگیا’’ (۱۲)۔ اصل میں یہ جدلیاتی تقسیم ہی غلط ہے۔ یہ ممکنات کے دائرے میں تو کارگر بلکہ ناگزیر ہے لیکن الہیات میں اسے داخل کرنا بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ واجب کا تو صرف ’ہونا ‘ہی ضروری ہے، وہاں’ نہ ہونے ‘ کی جہت تصور نہیں کی جاسکتی، اور عقل کی یہ مجبوری ہے کہ وہ ہاں اور نہیں کے تقابل سے بننے والے ماحول کے باہر حرکت کر ہی نہیں سکتی۔ اسی لئے مولاناؒ کا اصرار ہے کہ ”عقل کا استعمال صرف ممکنات میں ہوگا۔ واجبات میں نہیں ہوگا’’ (۱۳) . عقل جب بھی واجب الوجود کی اقلیم میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی، غلطی اور حیرانی کے سوا کچھ نہ پائے گی۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


حواشی

۱۔ جاوید نامہ، کلیاتِ اقبال فارسی، علامہ محمد اقبال، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ص ۳۸/۵۱۰۔

۲۔ مقالاتِ ایوبی، حصہ اول، علامہ محمد ایوب دہلوی، مکتبہ رازی، کراچی، ص ۶۔

۳۔ حوالہ بالا، ص ۷، ۸۔

۴۔ حوالہ بالا، ص ۱۰۶۔

۵۔ حوالہ بالا، ص ۱۳۴، ۱۳۵۔

۶۔ حوالہ بالا، ص ۱۴۲۔

۷۔ مقالاتِ ایوبی حصہ سوئم، ص۳۲۔

۸۔ مقالاتِ ایوبی حصہ اول، ص ۱۶۷۔

۹۔ حوالہ بالا، ص ۱۶۸۔

۱۰۔ حوالہ بالا، ص ۱۶۹۔

۱۱۔ حوالہ بالا۔

۱۲۔ حوالہ بالا۔

۱۳۔ حوالہ بالا۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: