ترکی کا 95واں یوم جمہوریہ —– حبیبہ طلعت

0
  • 21
    Shares

مسلم دنیا کا اہم قائد ملک اور پاکستان کا دیرینہ رفیق ترکی آج 29 اکتوبر کو اپنا 95واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان نے جدید ترکی کے معمار کمال اتاترک کے مزار پر حاضری دی۔ یہ یوم جمہوریہ کے حوالے سے پہلی سرکاری تقریب تھی۔ اس موقع پر ترکی کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنماوں نے ترکی کی ایک ساتھ شرکت کی اور یہی ترکی کی مضبوط جمہوریہ کے استحکام کی علامت ہے۔ اس موقع پر مزار پر رکھی گئی وزیٹنگ بک پر اپنے تاثرات رقم کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ “ہمارا ہدف سن 2023 میں ترکی کو دنیا کے دس ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دنیا میں اور ترکی میں امن اور رفاہ کو پائدار بنانے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان نازک حالات میں ترکی کی مسلح افواج کو دنیا کی مضبوط ترین فوج بنانے کی کوششوں کو پورے عزم کے ساگھ جاری رکھیں گے۔” امسال 15 جولائی کے واقعات کی مثال پیش کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ بہادر ترک عوام نے اس دن اپنی جسارت اور حوصلے سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ترکی کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غازی مصطفیٰ کمال پاشا کی ہمیں دی گئی اس نشانی کو مستحکم بنانے کے لیے شب و روز ایک کرنا حکومت کا شعار ہے۔”

نو منتخب پاکستانی صدر عارف علوی ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان کی دعوت پر کل 28 اکتوبر بروز اتوار تین روزہ دورے پر ترکی پہنچے۔ جہاں ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ پاکستانی صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے یوم جمہوریہ کے تناظر میں اپنے تہنیتی پیغامات میں ترکی کی حکومت اور عوام کو خصوصی مبارکباد دی۔ ساتھ ہی ترکی کے ساتھ دیرینہ رفاقت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تعلقات مسلسل مضبوط سے مضبوط تر ہوں گے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی اس دوران استبول میں تعمیر کیے گیے جدید ایرپورٹ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت اور خطاب کریں گے۔

1923 میں جب ترکی بادشاہی نظام سے جمہوریت کی طرف گامزن ہوا تب سے لے کر اب تک ترکی نے عالمی افق پر ممتاز ترین مقام حاصل کیا ہے۔ عالمی جنگوں کے بعد اب ترکی نے اپنے اندرونی اور معاشی استحکام کا جو ایجنڈا تشکیل دیا تھا اسکے متعدد اہداف کامیابی سے عبور کر چکا ہے۔ اب پاکستان میں ترکی ایک رول ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔ سابق صدور، وزرائے اعظم حتی کہ پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف بھی ترکی عمائدین کے ساتھ ذاتی حیثیت میں دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔

سرکاری سطح پر گرم جوش تعلقات کے علاوہ بھی پاکستان اور ترکی کے عوام برادرانہ رشتوں میں منسلک ہیں۔ یقینا اس کی وجہ امت مسلمہ کے درخشاں تصور سے ہم آھنگی رہی ہے۔ خلافت عثمانیہ کو جب خطرہ درپیش ہوا یا بلقانی ریاستوں کا معاملہ سامنے آیا۔ تاریخ کے صفحات پر برصغیر کے خطے کی جذباتی وابستگی کی بنیاد پر خدمات اور قربانیاں پیش کی گئی تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان اور ترکی بے شمار تجارتی، ثقافتی اور دفاعی معاہدات کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان میں مشہور زمانہ سینٹو اور RCD معاہدہ شامل ہیں۔

مسئلہ کشمیر پر برادر ملک ترکی نے ہمیشہ پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کی ہے۔ پاک بھارت جنگوں کے دوران بھی ترکی کا تعاون مثالی رہا اای طرح پاکستان کی جانب سے قبرص کے مسئلے پر ترکی کا ساتھ دیا ہے۔
پاکستان کی گیارہ لاکھ سے زائد ھنر مند فوج اور ترکی کی 8 لاکھ سے زائد نفری پہ مشتمل فوج ایک دوسرے کے ساتھ سینہ سپر رہے ہیں۔ گذشتہ برس سے اب تک اسرائیل کی جانب سے فلسطین مسئلے پر ناجائز پیش رفت پر دنیا نے ترکی اور پاکستان کو ایک ساتھ بہترین قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے دیکھا۔ عالمی امن کے لیے یو این او کی سلامتی کونسل میں ترکی نے اسرائیلی اقدام کو چیلنج کیا، جس کے لیے پاکستان نے بھرپور سفارتی معاونت فراہم کی۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر دونوں ممالک نے اہنے موقف کا بھرپور اظہار کیا تھا۔ درحقیقت یہ تعاون ہی جراتمند قیادت کے مابین باہمی اعتماد پر مبنی دوستانہ روابط، گہرے تجارتی اور دفاعی تعلقات کا مظہر تھا۔ مزید دوست ممالک یہ تصور بھی رکھتے ہیں کہ ان بے مثال تعلقات کو ہر طرح سے مضبوط اسٹرٹیجک شراکت میں تبدیل کیا جائے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: