پاکستان، اسرائیل اور مسلم دنیا —– سردار جمیل خان

0
  • 139
    Shares

مجموعی طور پر اسرائیل کا مسلم دنیا سے کوئی خاص تنازعہ نہیں ہے وگرنہ تو صرف ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی، مصر اور دیگر مسلم ممالک کی آبادی کروڑوں میں ہے مگر اسرائیل سے کسی نے کسی سطح پر مسلم دنیا کے ساتھ سفارتی، ثقافتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں۔

مصر اور اسرائیل کے مابین جنگیں تک ہو چکی ہیں، اسرائیل مصر کو دشمن نمبر ون سمجھتا ہے اسکے باوجود دونوں ملکوں کے مابین راہ و رسم موجود ہے۔۔

یہ دراصل “عرب اسرائیل” تنازعہ ہے جو مذہبی سے زیادہ زمینی ہے لیکن عرب ممالک کا حال بھی سب پر عیاں ہے بلکہ اب تو یہ ایران/شام/ اسرائیل تنازعہ بن گیا ہے۔۔
قطر جو خطے میں حماس و اخوان کا سب سے بڑا سر پرست ہے کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مراسم ہیں، ترکی، امارات، عمان اور اردن کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، سعودی عرب بھی بہتر تعلقات کا متمنی ہے، حزب اللہ اور لبنانی حکومت اپنے اپنے مفادات کے لیے درپردہ روابط قائم رکھے ہوئے ہیں، اگر اسرائیل گولان کی پہاڑیوں پہ قابض نہ ہوتا تو شام بھی اسرائیل کے گیت گا رہا ہوتا۔

غزہ کی پٹی اور خان یونس میں بسنے والے حماس کے لوگ مزاحمت میں پیش پیش ہیں اور ماریں کھا رہے ہیں جبکہ یاسر عرفات سے محمود عباس تک پی ایل او کی قیادت اسرائیل سے ہمیشہ گفت و شنید میں مصروف رہی ہے۔
ایسے میں کوئی پوچھے کہ ہزاروں کلو میٹر دور ایک غریب ملک پاکستان اسرائیل کے ساتھ کیوں سینگ اڑا کر بیٹھا ہوا ہے؟ تو شاید کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔

٭بیت المقدس
بلاشبہ قبلہ اول اہل پاکستان اور ساری مسلم امہ کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی صلعم کے بعد تیسرا مقدس مقام ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح مکہ مسلمانوں کے لیے مکرم ہے ایسے ہی یہودیوں کے لئے یروشلم، جس طرح مسلمانوں کے لیے بیت اللہ مرکز، محور، منبع و مرجع ہے اسی طرح یہودیوں کے لیے مسجد اقصٰی اور اس سے ملحق ہیکل سلیمانی نیز یہ تقدیس قبل مسیح سے ہے بلکہ عیسائی بھی مسجد اقصٰی کے دعویدار ہیں تو کیا پاکستان اسرائیل جیسی سپر طاقت جسے طاقتور عیسائی ممالک کی حمایت حاصل ہو کو مسجد اقصٰی سے دستبردار کروا دے گا؟ ہرگز نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں؟ کہ
جب پاکستان کے ہندوؤں، عیسائیوں اور بدھسٹوں کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں تو اہل کتاب اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی بحال کرے؟

اپنی معیشت کو سنبھالا دے، ہندوستان اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ توڑے، اپنی اہمیت اور حیثیت کے بل بوتے پر غزہ اور خان یونس کے محصورین کے لیے ریلیف اور Access حاصل کرے، مسلمانوں کے لیے بلا خوف و خطر مسجد اقصٰی میں عبادات کی ادائیگی کے لیے ساز گار ماحول بنائے اور ایک آزاد فلسطین ریاست کے لیے اسرائیل اور دیگر ممالک سے ڈائیلاگ کرے۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان صرف فلسطینی ہیں پاکستانی اور کشمیری نہیں؟ اور کیا فلسطینیوں نے اپنی زمینیں خود فروخت نہیں کیں؟ اسرائیل کا تنازعہ شام مصر اردن فلسطین اور عراق سے رہا پاکستان نے ہمیشہ انکا ساتھ دیا مگر یاسر عرفات، شاہ حسین، صدام حسین، حسنی مبارک حافظ الاسد اور بشار الاسد نے ہمیشہ انڈیا کا ساتھ دیا..
افغانستان کی خاطر پاکستان رل گیا مگر یہ نمک حرام کل بھی انڈیا کے ساتھ تھے اور آج بھی ہیں…

ثابت ہوا مسئلہ اسلام کا نہیں اپنے اپنے مفادات کا ہے، جذباتی مسلمان سفارتی تعلقات اور دوستی میں فرق نہیں کر رہے۔

سفارتی تعلقات دشمنی اور ناراضگی کے باوجود دو ملکوں کے درمیان منجمد برف پگھلانے، ڈائیلاگ کے تھرو کسی حل تک پہنچنے، ایک دوسرے کو ریلیف دینے، دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے، ایک دوسرے کو سمجھنے، برداشت کرنے کے لیے بروئے کار آتے ہیں۔

یہ تعلقات صرف و صرف اپے اپنے مفادات اور ضروریات کا احاطہ کرتے ہیں جیسے انڈیا، روس، امریکہ اور افغانستان سے پاکستان کے سفارتی تعلقات ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دو تین تو کٹر دشمن ہیں۔
اللہ پاک نے یہودیوں کو مسلمانوں کا دشمن قرار دیا ہے تو ساتھ عیسائیوں کو بھی قرار دیا ہے۔

“انما المشرکین نجس” کے تحت جنھیں مسجد الحرام کے نزدیک جانے کی اجازت تک نہیں کیا اللہ پاک نے ان مشرکوں، ہندوؤں، بدھسٹوں اور سکھوں سے سفارتی تعلقات قائم کرنے اور دوستی کا حکم دیا ہے؟؟

یہودی تو پھر اہل کتاب ہیں جن کی عورتوں سے نکاح جائز، جن کا ذبیحہ حلال ہے اور جو مسلمانوں کی عبادت گاہوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کو سفارتی تناظر میں دیکھا جائے دوستی کے تناظر میں نہیں کیونکہ یہودی و مسلمان دوست نہیں ہو سکتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: