فیض اور ہماری قومی تعمیرِ نو۔ فتح محمد ملک

0

فیض احمد فیض نے جب سے قیام پاکستان کو اپنے ایمان کا جزو بنا کر برطانوی ہند کی فوج کو خیرباد کہا اور’’ پاکستان ٹائمز‘‘ کی ادارت اختیار کی تب سے لے کر سن اکاون میںراولپنڈی سازش کیس میں اسیری تک وہ پاکستان کے تصور ، پاکستان کی تحریک اور پاکستان کے قیام کے بعد ہماری قومی تعمیرِ نو کے خواب و خیال کو اپنے قارئین کے دل و دماغ میں جاگزیں کرنے میں ہمہ تن منہمک رہے تھے-ہرچند اِس زمانے میں وہ کسانوں اور مزدوروں کی آزادی، خوشحالی اور سربلندی کی سیاسی تحریکوں میں بھی قائدانہ کردار اداکرتے رہے تاہم اِس مختصر تحریر کا بنیادی موضوع اُن کا صحافتی اور ثقافتی کردار ہے-

’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے مدیر کی حیثیت میںفیض نے وقتاً فوقتاً جتنے اداریے بھی قلمبندکیے ہیں اُ ن میں دو موضوعات کو مرکزی اہمیت حا صل ہے- اوّل : تصورِ پاکستان کی روشنی میں پاکستانی سیاست اور معاشرت کی نئی تشکیل و تعمیر – دوم: قومی تعمیرِ نو کے اِس مشن کی تکمیل میں حائل قوتوں سے پنجہ آزمائی- ہر دو محاذوں پر انھوں نے ممدوٹ اوردولتانہ حکومتوں کی زبردست مزاحمت کی- برطانوی سامراج کی زائیدہ اور پروردہ یونینسٹ پارٹی اِس معرکہء حق و باطل میں عوام دشمنی اور سامراج پرستی میں پیش پیش رہی تھی- خضر حیات ٹوانہ کے سے مسلم لیگ مخالف یونینسٹ ہوں یا مسلم لیگ میں پناہ گزیں یونینسٹ، ہر دو گروہ تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کے حقیقت بن کر رہ جانے کے امکانات سے خوف و خطر میں مبتلا تھے- فیض اُن دانشوروں میں نمایاں ترین شخصیت تھے جو بانیانِ پاکستان کے اُن خوابوں کو حقیقت بنانے میں کوشاں تھے جو تحریکِ پاکستان کے دوران عوامی انقلابی خواب بن چکے تھے-
اِس صورتِ حال کا المناک ترین پہلو یہ تھا کہ یہ یونینسٹ مسلم لیگی ذاتی اور گروہی بنیاد پرباہمی اختلافات کے باوجود برطانوی سامراج سے ورثے میں ملے ہوئے نظامِ استبداد کی حفاظت میں متحد اور منظم تھے- یہاں مجھے قائداعظم کے نام علامہ اقبال کا نومبر ۱۹۳۷ء کا وہ خط یاد آیا ہے جس میں اقبال نے قائداعظم کو اِس حقیقت سے باخبر رکھنا ضروری سمجھا تھا کہ جب سے سرسکندر حیات مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر کے لکھنؤ سے واپس آئے ہیں تب سے وہ پنجاب میں مسلم لیگ کے نام پر اپنی ایک الگ’’ زمیندارہ لیگ‘‘ بنانے میں مصروف ہیں- 1 فیض صاحب اقبال اورقائداعظم کے فکر و عمل سے عبارت مسلم لیگ سے وفاداری بشرطِ استواری کا حق ادا کرنے میں منہمک تھے- چنانچہ وہ زمیندارہ لیگی ممدوٹوں اور دولتانوں کی استبدادی سیاسی اور معاشی حکمتِ عملی کے خلاف شمشیرِ برہنہ ہو کر رہ گئے تھے- ہر صبح کے پاکستان ٹائمز کا اداریہ اِن زمیندارہ لیگیوں کے لیے ایک چیلنج بن کر طلوع ہوتا تھا-
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی پنجاب کی جاگیردار قیادت نے کسی بھی سیاسی جلسے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سن چھیالیس کا منشور پڑھنا جرم قرار دے رکھا تھا- ایسے میں فیض صاحب ہر صبح اِس منشور کی یاد تازہ کرتے چلے آ رہے تھے- ۲۱ -اپریل۱۹۴۸ء کے اداریہ کا عنوان تھا:’اقبال‘- یہ اداریہ اِس حقیقت کا شاہدِ عادل ہے کہ فیض، اقبال کے تصورات کو پاکستانی زندگی کے حقائق میں ڈھلتا دیکھنے کے آرزو مند تھے- اقبال کے فکر و فن کی سچی تفہیم و تعبیر کی اہمیت اُجاگرکرتے وقت وہ اُن اصول واقدار کو قومی زندگی میں زندہ اور سرگرمِ کار دیکھنے کی تمنا میں ریاست اور قوم ہر دو کی غفلت پر نالاں ہیں-ایک عہد آفریں شاعر ، فلسفی اور سیاسی مدبر کی حیثیت میں اقبال کے کارہائے نمایاں کو اُجاگر کرتے ہوئے وہ اِس امر پر مضطرب ہیں کہ نہ تو ریاستی سطح پر اور نہ ہی قومی سطح پر اقبال کے انقلابی تصورات کو حقائق کا رُوپ بخشنے کی مساعی عمل میں لائی جارہی ہیں- 2
یہ تو ہوئی پاکستانی معاشرے میں مفکرِ اسلام اورمصورِ پاکستان علامہ اقبال کے انقلابی تصورات کو زندگی، حرکت اور حرارت بخشنے کی آرزومندی – اب آئیے بانیء پاکستان ، قائداعظم محمد علی جناح کے افکار و نظریات اور کردارو عمل کو پاکستان کی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی زندگی کے رہنما اصول بنانے کی اہمیت کی جانب-فیض نے ۱۳ستمبر۱۹۴۸ء کوبابائے قوم کی وفات پرTo God We Returnکے عنوان سے پاکستان ٹائمز میں ایک دلگداز اداریہ لکھا تھا- ۳پیشتر ازیں مہاتماگاندھی کے سفّاکانہ قتل کی مذمت میں اُنھوں نے یکے بعد دیگرے تین اداریے لکھے تھے- پاکستان ٹائمز میں اِس دلخراش سانحہ کی مذمت میں یہ اداریے ۲،۳ اور ۶فروری کوشائع ہوئے تھے- بعد ازاں اُنھوں نے قائداعظم کی وفات حسرتِ آیات پر اپنے قلم کو خونِ دل میں ڈبو کرجو اداریہ لکھا تھا اُس میں بھی راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ (RSSS) کے ایک غنڈے کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کی زندگی کا چراغ گُل ہو جانے کا نوحہ شامل ہے- 4اپنے اِس اداریہ کی اختتامی سطور میں وہ انتہائی حوصلہ مندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستانی قوم کو قائداعظم کے مشن کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ایک خودمختار،ترقی پسند اورمستحکم پاکستان کی تعمیر کا حق ادا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں- ۲۳مارچ ۱۹۴۹ء کے اداریہ بعنوان Progress of a Dream میں گہرے دُکھ کے ساتھ اپنے قارئین کی توجہ اس حقیقت کی جانب منعطف کرتے ہیںکہ قراردادِ پاکستان کے آئیڈیلز کو حقائق میںبدلنا ہمارا اوّلیں فرض ہے- چنانچہ اِس قومی فرض سے روگردانی کے جرم کا ارتکاب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا چاہیے-5
پنجاب یونیورسٹی کے جلسہء تقسیمِ اسناد کی تقریب میں وزیراعظم لیاقت علی خاں کے خطاب کے بنیادی نکات کی تائید میں The New Challenge کے عنوان سے اپنے اداریہ میں تصورِ پاکستان کی معنویت اور تحریکِ پاکستان کے بنیادی عقیدہ و عمل کو پاکستانی زندگی کی روحِ رواں بنانے میں کوتاہی پر شدید گرفت کرتے ہیں- وہ پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جب تک تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال اور پاکستان کے حقائق میں روح فرسا تضاد ختم نہیں ہوجاتا تب تک پاکستان کی جدوجہد تشنہء تکمیل ہی رہے گی- 6
قائداعظم انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ میں ہمیشہ سربکف رہے تھے- پاکستانی پنجاب میں سیفٹی ایکٹ کے ناروا استعمال کے خلاف پاکستان ٹائمز میں بہ اعادہ و تکرار احتجاج کی صدائیں بلند کی جاتی رہیں، گورنر جنرل اور خضرحیات ٹوانہ کی ملاقات کے خلاف غیض و غضب سے سلگتی ہوئی تحریر کے ساتھ ساتھ ممدوٹ اور دولتانہ کے اتحادِ فکر و عمل کو چوروں میں گٹھ جوڑ (Unity Among Thieves) قرار دینا، مقتدر قوتوں کی جانب سے تصورِ پاکستان سے انحراف کی جانب عوام کی توجہ مبذول کرانے کی سعیء مشکور ہے- مسئلہء ملکیتِ زمین پر دوٹوک انداز میں لکھتے ہیں کہ زمین کا اصل مالک کاشتکار ہے ، جاگیردار نہیں-جو شخص جتنی زمین کاشت کرتا ہے وہ اُس زمین کا مالک ہے -بانیانِ پاکستان کی تفہیم و تعبیر ِ اسلام کے مطابق دینِ اسلام میں جاگیرداری کا کوئی وجود ہی نہیں- 7
جاگیرداری کا خاتمہ تحریک پاکستان کے محرکات و مقاصد میں سے ایک ہے- قیامِ پاکستان کے فورا بعد جب قائداعظم نے زرعی اصلاحات کی کمیٹی تشکیل دی اور قائداعظم کی رحلت کے بعد میاں افتخار الدین کے سے جاگیردار اور شیخ محمد رشید کے سے کسان نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جاگیرداری کے خاتمہ کی جدوجہد شروع کی تو ممدوٹ، دولتانہ وغیرہم نے ان لوگوں کو سوشلسٹ قرار دے کر مسلم لیگ سے نکال باہر کیا- یہ لوگ چلاتے رہے کہ ہمارا مطالبہ اسلام کے زریں اقتصادی تصورات اور کل ہند مسلم لیگ کے منشور سے عبارت ہے- ہم سوشلزم نافذ نہیں کرنا چاہتے ہم تو تحریکِ پاکستان کے دوران اسلامیانِ ہند کے ساتھ کیے گئے وعدے وفا کرنا چاہتے ہیں، ہم تو اسلام کے معاشی انصاف کے تصورات کو پاکستان کی عملی زندگی میں جلوہ گر دیکھنا چاہتے ہیں مگر اس وقت کی مرکزی اور صوبائی حکومت نے کہا کہ نہیں آپ لوگ یہاں سوشلزم قائم کرنا چاہتے ہیں-یہاں مجھے ۱۹۴۳ء میں کُل ہند مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں قائداعظم کاخطاب یاد آتا ہے جس میں انھوں نے دو ٹوک اعلان فرمایا تھا :
’’یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک ایسے ظالمانہ اور شرپسند نظام کی پیداوار ہیں، جس کی بنیادیں ہمارے خون سے سینچی گئی ہیں- عوام کا استحصال ان کی رگوں میں خون بن کر گردش کر رہا ہے، اس لیے ان کے سامنے عقل اور انصاف کی کوئی دلیل کام نہیں کرتی- ہمارے ہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں انتہائی مشقت کے باوجود صرف ایک وقت کی روٹی میسر ہے- کیا یہ ہے ہماری شاندار تہذیب؟ کیا پاکستان کا مطلب یہ ہے؟ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ لاکھوں مسلمان معاشی ظلم کا شکار ہو کر ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے رہیں؟ اگر پاکستان کا مطلب یہ ہے تو میں ایسے پاکستان سے باز آیا-‘‘
قیامِ پاکستان کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور میں کیے گئے معاشی انصاف کے وعدوں کو وفا کرنے کی خاطر اپریل سن اُنچاس میں زرعی اصلاحات کمیٹی قائم کی گئی جس نے موروثی جاگیرداری اور زمینداری سسٹم کو ختم کرنے سمیت متعدد اہم اصلاحات کی سفارش کی- موجودہ پاکستان کے ہر صوبے نے اِن اصلاحات کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا-اِسی پر بس نہیں – ملتان کے پیر نوبہار شاہ ، جھنگ کے کرنل سیّد عابد حسین اور ڈیرہ غازی خان کے نوابزادہ نصر اللہ خان نے اِن زرعی اصلاحات کی مخالفت میں جاگیرداروں کا اتحاد قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں- بالآخر یہ مساعی’’ انجمن تحفظ حقوقِ زمینداراں تحت الشریعہ‘‘ کی صورت میں رنگ لائیں-وزیراعظم لیاقت علی خاں بذاتِ خود پنجاب تشریف لائے اور اُنھوں نے جاگیردار سیاستدانوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ ’’اگر آج وہ رضاکارانہ طور پر زرعی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کریں گے تو کل عوام اُن سے اُن کی زمینیں چھین لیں گے-‘‘جاگیردار سیاستدانوں سے اپنے اِس خطاب کے صرف چھ ماہ بعد لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیااور یوں آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور پر عملدرآمد کی کوششیں بھی شہیدِ ملت کے ساتھ ہی دم توڑ گئیں- فیض احمد فیض اپنے اداریوں کے ذریعے علامہ اقبال اور قائداعظم کے اِس تصور کو عام کرنے میں سرگرمی کے ساتھ مصروف رہے کہ زمین کا اصل مالک اللہ تعالی ہے – اللہ تعالی کی یہ زمین کسان کے پاس ایک امانت ہے- جتنی زمین اُس کے زیرِ کاشت ہے وہ اُس کی اپنی ہے- یوں اسلام میں جاگیرداری کا کوئی وجود نہیں- چنانچہ پاکستان میں جاگیرداری کا نظام بیخ و بُن سے اُکھاڑ پھینکنا تصورِ پاکستان کو حقیقت میں بدلنے کی خاطر لازم ہے- فیض تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کو زندگی کے حقائق میں ڈھالنے کی جدوجہد میں اسی جذب و جنوں کے ساتھ سرگرمِ عمل تھے کہ مارچ پچپن میں اچانک راولپنڈی سازش کی انہونی گھڑی آ پہنچی- خود فیض نے اِس سازش کو سازشِ اغیار سے تعبیر کیا ہے:
قصہء سازشِ اغیار کہوں یا نہ کہوں
ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں
٭٭٭
وہ بات، سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
برسوں بعد رہائی نصیب ہوئی تو ڈیڑھ دو سال کے اندر اندر پروگریسو پیپرز سرکاری تحویل میں چلے گئے اور فیض وقتا فوقتا جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیے گئے- جن وقفہ ہائے زماں میں بھی اُنھیں پاکستان میں رہنا نصیب ہوا وہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ، کبھی لاہور آرٹ کونسل میں اور کبھی بھٹو شہید کے قائم کردہ تہذیب و ثقافت کے اداروں میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی تہذیب و ثقافت کو ثروت مند بنانے میں مصروف رہے-
پاکستان کی تہذیبی زندگی کی شیرازہ بندی اور ثروت مندی کے باب میں فیض کی بیش قیمت خدمات کی شایانِ شان تحسین ہم پر آج تک قرض چلی آ رہی ہے- احمد سلیم نے اپنی مختصر کتاب بعنوا ن’’فیض: یادیں ، باتیں‘‘میں فیض کے تہذیبی فیضان پر روشنی ڈالی ہے- محترمہ شیما مجید نے اِس ضمن میں فیض کی انگریزی تحریروں کو Culture and Identity میں یکجا کر کے شائع کر دیا ہے- اِس کے ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے اِس موضوع پر فیض کی اُردو تحریروںاور تقریروں کو بھی ’’فیض احمد فیض اور پاکستانی ثقافت‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں یکجا کر دیاہے- بھٹو شہید نے اقتدار سنبھالتے ہی فیض کو اپنی سربراہی میں نیشنل کونسل آف آرٹس قائم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی تھی-احمد سلیم نے فیض کی یاد میں اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:
’’۱۹۷۲ء میں شہید بھٹو کا ’نیا پاکستان‘ وجود میں آیا تو نئے نئے ادارے وجود میں آئے- بھٹو نے فیض سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں ان کی مدد کریں….. فیض کلچر رپورٹ کا مسودہ، جو انھوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے دانشوروں کے ساتھ مل کر مرتب کیا تھاکی بنیاد پر فیض نے نیشنل کونسل آف دی آرٹس کا ادارہ قائم کیا جس کے پہلے چیئرمین وہ خود مقرر ہوئے-‘‘۸
دو برس کے قلیل ترین وقفہ ء زماں میں فیض نے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ اپنے ثمرات کی بدولت صدیوں پربھاری ہیں- خود احمد سلیم نے زیرِ نظر کتاب کے ایک باب بعنوان ’’ ثقافت کے ۱۰۰ رنگ، ۱۹۷۲ء-۷۴‘‘ میں لوک ورثہ کے ادارے کی دو برس کی کارکردگی پیش کر کے فیض صاحب کے بے مثال حسنِ کارکردگی کا ثبوت فراہم کر دیا ہے:
’’جلد ہی فوک لور ریسرچ سنٹر، کونسل کا انتہائی اہم شعبہ ثابت ہوا- فیض کلچر رپورٹ کی رُوح کے مطابق اس نے نہ صرف عوامی ثقافتی ورثے کے تحفظ و ترویج کا کام شروع کر دیا تھا بلکہ لوک فنکاروں، عوامی گائیکوں اور دھرتی سے جڑے دستکاروں کو، جو بتدریج صفحہء ہستی سے نابود ہو رہے تھے، کو بچانے کی مقدور بھر کوششیں شروع کر دیں- فیض صاحب کی ذاتی دلچسپی کے باعث لوک ورثے اور لوک روایات کی جمع بندی، تحفظ، ترویج اور توسیع کے لیے سنٹر میں مطبوعات لوک ادب کی ایک جامع لائبریری ٹیپ آرکائیوز ، لوک ورثے کی ساونڈ لائبریری، علاقائی تحقیق اور شعبہء مطبوعات ، فیلڈ سروے کے لیے موبائل ریکارڈنگ یونٹ، اسلام آباد میں ساونڈ سٹوڈیوز اور لوک میلوں اور دیگر سرگرمیوں کے انعقاد کا شعبہ قائم کیا گیا-‘‘۹
خود احمد سلیم فوک لور ریسرچ سنٹرکے ایک اہم کارکن تھے-جس تفصیل کے ساتھ اُنھوں نے اِس عوامی مرکز کی کارکردگی بیان کی ہے ویسا ہی بیانیہ کونسل کے متعدد دیگر شعبوں پر قرض ہے- پاکستان کی منفرد ثقافتی شخصیت کو اُجاگر کرنے ، نکھارنے اور سنوارنے میں عوامی دانش سے استفادہ کرنے کی مہم جس جوش وخروش کے ساتھ شروع کی گئی تھی وہ بعد ازاں فیض صاحب کی قیادت سے محروم ہو کر رہ جانے والے اِن اداروں میں سست پڑنے لگی اور رفتہ رفتہ ختم ہو کر رہ گئی-ڈاکٹر ایوب مرزا نے اپنی دو کتابوں … ہم کہ ٹھہرے اجنبی … فیض نامہ… میں فیض صاحب سے باتوں باتوں میں بہت کچھ سیکھا اور قلمبند کر دیا ہے- اپنی کتاب ’’فیض نامہ‘‘ کے دو ابواب :’’پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی سرگرمیاں‘‘ اور ’’پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے کُوچ‘‘ میں فیض صاحب کے ثقافتی فیضان کے موضوع سے انصاف کیا ہے- فقط دو سال کی قلیل مدت میں فیض صاحب نے آرٹس کونسل ، لوک ورثہ ، فلم اکادمی، نیشنل تھیٹر، اکادمی ادبیات کے سے متعدد اداروں کی بنیادیں اُستوار کر دی تھیں- ڈاکٹر ایوب مرزا نے فیض صاحب کی بیزاری اور دستبرداری کی کہانی درج ذیل الفاظ میں بیان کی ہے:
’’ایک دن میں فیض صاحب کے دفتر پہنچا- وہ منسٹری کے ایک سیکشن آفیسر کے نام ایک سخت گیر قسم کا مراسلہ لکھوا رہے تھے- غصہ لفافے میں بند کرتے ہی اُٹھے اور ہم دونوں اسلام آباد کلب کی پُررونق رومانوی فضا میں سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ گئے- فیض صاحب چپ تھے- انھوں نے غصہ تھوکنے کی بجائے بیئر کے ٹھنڈے گھونٹ کے ساتھ نگل لیا- بولے ’’اس ملک کا نظام نہ جانے کیسے چل رہا ہے- بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ہم کلچر کا سلسلہ آگے بڑھائیں مگر سیکشن آفیسر ایک ایسی چٹھی لکھ دیتا ہے کہ کلچر کی بیخ کنی کر دے- وہ تو پروجیکٹ کے مفہوم ہی کو نہیں جانتا- اُسے خبر ہی نہیں اس کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کیا ہے-‘‘ پوچھا کیا ہوا ہے؟ بولے ’’بھئی ہونا کیا ہے، وہ ہم سے پوچھتا ہے کہ ناچ گانے پر اس قدر رقم کیوں خرچ کی جائے- وہ ناچ گانے کو معیوب سمجھتا ہے اور اُسے کلچرل ونگ میں آفیسر بنا کر بٹھا دیا گیا ہے- بھئی ناچ گانا تو کلچر کا ایک معمولی سا حصہ ہوتا ہے- مگر ضروری ہے- ایسے لگتا ہے کہ ملک سیکشن افسروں کی زد میں ہے- بھئی فائل تو وہی چلاتا ہے- سیکریٹریٹ میں تو اُسی کا سکہ چلتا ہے نا‘‘- جھلا کر بولے ’’یہ کونسل نہیںچلے گی‘‘- وہ کچھ زیادہ ہی پژمردہ دکھائی دے رہے تھے-‘‘
ایسے میں فیض صاحب کو رہ رہ کر وہ زمانہ یاد آتا ہوگاجب کلچر کے یہ تمام ادارے وزارتِ تعلیم سے منسلک تھے اور سیکرٹری تعلیم قدرت اللہ شہاب خود اُن کے دفتر میں آ کر تمام فائلوں پر دستخط ثبت کر کے چلے جایا کرتے تھے- اب اُن کی فائلیں سیکشن آفیسر کے پاس رُکی رہتی تھیں یا پھر منفی ریمارکس کے ساتھ واپس آجایا کرتی تھیں- اِس صورتِ حال سے دلبرداشتہ ہو کر فیض صاحب لاہور جا بیٹھے تھے- یوں کلچر کے یہ تمام ادارے فیض صاحب کی قیادت سے محروم ہو کر رہ گئے- سیّد مظہر جمیل نے اپنی کتاب ’’ذکرِ فیض‘‘ میں ہماری قومی تعمیرِ نو کے متعدد منصوبوں کا ذکر کیا ہے جو ہنوز تشنہء تکمیل ہیں- یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیض صاحب چلتے پھرتے ، سوتے جاگتے پاکستان کی تعمیرِ نو کے خوابوں کو حقیقت کا رُوپ بخشنے کی جستجو میں سرگرداں رہا کرتے تھے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: