نگارشاتِ ظفر علی خان —– فتح محمد ملک

0
  • 37
    Shares

مولانا ظفر علی خان ہمارے دورِ غلامی کی تاریک رات کا ایک تابندہ ستارہ ہیں۔ اس یگانۂ روزگار بطلِ حریت نے قلمی جہاد کے ساتھ ساتھ سیاسی مزاحمت کا حق ادا کرتے ہوئے ہماری تاریخِ حریت کا ایک ایسا روشن باب رقم کیا ہے جو ہماری موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ ایک ایسی نادر و نایاب ہمہ جہت شخصیت تھے جو زندگی بھر صحافت، ادب اور سیاست میں حریتِ فکر و عمل کی کٹھن راہ پر رواں دواں رہے۔ تحریکِ پاکستان کے مصروف ترین مؤرخ جناب احمد سعید گزشتہ کئی برس سے مولانا ظفرعلی خان کی حریتِ فکر و نظر کے گُم شدہ اوراق کی بازیافت اور اشاعت میں مصروف ہیں۔’ گفتارِ ظفر علی خان‘ کے بعد اب وہ ’نگارشاتِ ظفر علی خان‘ کی پہلی ضخیم جلد کا تحفہ لائے ہیں۔ انھوں نے بڑے جذب و انہماک اور بڑی دقتِ نظر کے ساتھ اِن بے حد قیمتی اوراق کی تلاش و تدوین کا حق ادا کیا ہے۔ ۱۹۱۳ء میں جب مولانا ظفر علی خان اپنے سفرِ لندن پر روانہ ہوئے تونیاز فتح پوری نے انھیں ایک طویل خط لکھا تھاجو احمد سعید نے ڈھونڈھ نکالاہے اور یوں ہمیں مولانا ظفر علی خان سے نیاز فتح پوری کی محبت اورعقیدت سے آشنا ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

مولانا ظفر علی خان ہمارے دورِ غلامی کی تاریک رات کا ایک تابندہ ستارہ ہیں۔ اس یگانۂ روزگار بطلِ حریت نے قلمی جہاد کے ساتھ ساتھ سیاسی مزاحمت کا حق ادا کرتے ہوئے ہماری تاریخِ حریت کا ایک ایسا روشن باب رقم کیا ہے جو ہماری موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ ایک ایسی نادر و نایاب ہمہ جہت شخصیت تھے جو زندگی بھر صحافت، ادب اور سیاست میں حریتِ فکر و عمل کی کٹھن راہ پر رواں دواں رہے۔

تحریکِ پاکستان کے مصروف ترین مؤرخ جناب احمد سعید گزشتہ کئی برس سے مولانا ظفرعلی خان کی حریتِ فکر و نظر کے گُم شدہ اوراق کی بازیافت اور اشاعت میں مصروف ہیں۔’ گفتارِ ظفر علی خان‘ کے بعد اب وہ ’نگارشاتِ ظفر علی خان‘ کی پہلی ضخیم جلد کا تحفہ لائے ہیں۔ انھوں نے بڑے جذب و انہماک اور بڑی دقتِ نظر کے ساتھ اِن بے حد قیمتی اوراق کی تلاش و تدوین کا حق ادا کیا ہے۔ ۱۹۱۳ء میں جب مولانا ظفر علی خان اپنے سفرِ لندن پر روانہ ہوئے تونیاز فتح پوری نے انھیں ایک طویل خط لکھا تھاجو احمد سعید نے ڈھونڈھ نکالا ہے اور یوں ہمیں مولانا ظفر علی خان سے نیاز فتح پوری کی محبت اور عقیدت سے آشنا ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’پیارے ظفر، اب جو تو نہیں تو یہ معلوم ہوا کہ ہم کو تجھ سے بہت الفت تھی۔ جب تک تو یہاں رہا صرف وقعت کی نگاہ سے تجھے دیکھا اور اب جو تو آنکھوں سے اوجھل ہے تو قلب تیری پرستش کرنا چاہتا ہے۔ آہ محبت بھی دھوکا دیتی ہے۔ تجھ سے گلہ تو جب کریں جب تیری بے قراریوں سے جائے شکایت ہو، تجھ پر الزام تو جب دھریں جب تیرا نشتر کدۂ دل ناگوار ہو ہائے انہیں تیری خصوصیات نے مار ڈالا مگر خیر جہاں کہیں بھی ہو مسرت و کامرانی تیری انیس ہو اور عزت و شادمانی تیری جلیس۔ اے پردہ دارانِ حریمِ نبوی، مسلمانانِ ہند کی طرف سے یہ پیغامِ ظفر آتا ہے مگر اس کا لحاظ رکھنا کہ اس کی ہستی نہایت مجروح اور اس کی روح سخت متالم ہے۔ تمہارے درد مند بھائیوں کا دردمند پیغام ہے۔ خاطر مدارت اگر نہ کر سکو تو کم از کم ا سے زیادہ دل شکستہ نہ ہونے دینا۔ وہ نہایت غیور ہے۔خدارا اپنے طرزِ عمل سے اسے ہلاک نہ کر ڈالنا۔ یہ مسلمانانِ ہند کی نظمِ ہستی کا ایک مصرعہ برجستہ ہے۔ اپنے بے کیف انداز سے اُس کے وجودِ شعری کو تباہ و برباد نہ کرنا۔ تمہارا ہمدرد بن کر آتا ہے اُس کے لیے بے درد نہ ہونا۔ اک پُرسوز قلب لے کر آتا ہے جلا کے خاک سیاہ نہ کر ڈالنا۔ اگر وہ تم کو ہلاکت کا سبق دے تو سننا کیونکہ وہ بھی تمہارے ساتھ ہلاک ہونے والا ہے۔ اگر وہ تمہارے پیراہنِ ہستی میں شرر فگن ہو تو دیکھو اُس کے ملبوس میں بھی شعلے بھڑک رہے ہیں یا نہیں۔ وہ تم کو زخموں کے ہار پہنانے آتا ہے کیونکہ وہ خود سراپا جراحت ہے۔ وہ تم سے نالہ و شیون چاہتا ہے کیونکہ وہ خود اک آہ ہے طویل۔ اک زاری ہے بے اختیار۔ وہ تم کو یہ سکھانے آتا ہے کہ نخلِ اسلام صرف تلواروں کی چھاؤں میں شاداب و خرم رہ سکتا ہے۔ وہ تم کو یہ بتلانے آتا ہے کہ اسلام غلام بن کر اسلام نہیں رہ سکتا۔ جیو تو غیرت و عزت کے ساتھ جیو، ورنہ فنا ہو جاؤ۔ قبل اس کے کہ غلام بنو اپنی روح کو آزاد کر دو۔‘‘۱

اس طویل مکتوب سے درج بالا طویل اقتباس پیش کرتے وقت مجھے بار بار اس کی طوالت پرمعذرت کرنے کا خیال ستاتا رہا مگر اب مجھے معذرت کی کوئی ضرورت اس لیے محسوس نہیں ہوتی کہ علامہ نیاز فتح پوری کی جانب سے مولانا ظفر علی خان کو اس خراجِ تحسین کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرہ مولانا کی شخصیت و کردار کا بلیغ ترجمان ہے۔ مولانا ایک ایسی یگانۂ روزگار ہستی تھے جو اردو، فارسی،عربی اور انگریزی زبانوں پر قابلِ رشک عبور رکھتے تھے۔ وہ قرآنِ پاک سے مکتسب بصیرت کے ساتھ جدید سائنسی نظریات کی تحسین کا فریضہ بھی سرانجام دیتے رہے۔ زیرِ نظر کتاب کا آخری حصہ اُن تراجم پرمشتمل ہے جو ترجمے کی بجائے تخلیق کی شان سے وقتاً فوقتاً شائع اور مقبولِ عام ہوتے رہے۔ میں یہاں اس ضمن میں’ ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘ اور ’تصوف کی تاریخ‘ کی مثال پیش کرتا ہوں۔ اوّل الذکر علامہ اقبال کے ایک خطبے کا تخلیقی ترجمہ ہے اور ثانی الذکر تصوف کی تاریخ پر پروفیسر رینالڈ اے نکلسن کی کتاب کا ترجمہ ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شامل طبع زاد کے ہیرو میں مجھے طویل مضمون’ فلسفۂ عشق ‘نے بہت متاثر کیا ہے۔ یہاں مولانا نے مسلمانوں کی ادبیات میں خونِ حیات بن کر رواں فلسفۂ عشق کی تفہیم و تعبیرمغربی ادب و حکمت کی روشنی میں کی ہے۔ میں عشقِ رسولﷺکے موضوع و مطالب پر ان کے متعدد مضامین کو فلسفۂ عشق کی منفرد و ممتاز تعبیر سمجھتا ہوں۔ یہی جذبۂ عشق مولانا کے سیاسی نظریہ و عمل کا سرچشمہ ہے۔لندن میںاپنے قیام کے آغاز ہی میں وہ برطانیہ کی سامراجی سیاسی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اپنا مضمون ’مسلم انڈیا‘ علامہ اقبال کے اس شعر سے شروع کرتے ہیں:’مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری/تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا‘۔ مسلمانوں کے دورِ عروج کی یاد تازہ کرنے کے بعد وہ برطانوی حکومت کو یوں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں:

’’موجودہ لبرل وزارت نے جب سے برطانیہ کی شریفانہ و مردانہ روش کو پسِ پشت ڈال کر اپنے آپ کو اس مسلم آزار بلکہ مسلم کش حکمتِ عملی کا تابع بنا لیا ہے جس سے بڑھ کر غیر مآل اندیشانہ روش اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ انگلستان کے تمام سربرآوردہ اخبارات عام اس سے کہ وہ لبرل ہوں یا کنسرویٹو اِلاّ ماشاء اللہ اس حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت بن گئے ہیں اور جس حد تک کہ انگلستان کی اسلامی حکمتِ عملی کا تعلق ہے ان اخباروں کی سرگرمیاں صرف یہیں تک محدود نہیں ہیں کہ یا تو حکومت کی باتوں کو اپنی طرف سے نمک مرچ لگا کر دُہرا دیں یا حکومت کے ارکان کی شان میں بیٹھے ہوئے قصیدے لکھا کریں یا ضمیر بہت ہی ملامت کرے تو منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ رہیں۔ یہ کسی کو خیال نہیں آتا کہ حکومت کو اس کی غلطیوں پر متنبہ کرنا اور اسے نیک مشورہ دینا پریس کا سب سے بڑا فرض ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ تعصب اور بطلان پرستی کی وہ کلیسائی لہر جو آج کل مسیحی دنیا پر چھائی ہوئی ہے انگریزی اخبارات کو بھی ایک غوطہ دیئے بغیر نہیں رہی۔‘‘۲

مولانا ظفر علی خان جس شدتِ احساس کے ساتھ سلطنتِ برطانیہ کی سامراجی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اُسی طرزِ فکر و احساس کے ساتھ خود اپنے رہنماؤں کا احتساب بھی کرتے رہے۔ ’یہودی کے ترکش کا آخری تیر‘ کے عنوان سے چھ قسطوں پرمشتمل اُن کے مضمون کا آغاز یوں ہوتا ہے:

’’ہم مسلمانانِ ہند کی قومی حمیت بھی عجب خود فراموش واقع ہوئی ہے۔ دنیائے ماورائے ہند کے کسی اسلامی حصہ پر بھی مصیبت آئے ہم سراپا نالہ بن جاتے ہیں اور اپنی فریاد و فغاں سے آسمان کی بنیادیں ہلا ڈالتے ہیں لیکن خود ہم پر ہزار بلائیں نازل ہوں، گرد و پیش کے حوادث کا سیلاب ہماری کارگاۂ ہستی کو بہا لے جانے کے لیے امنڈ امنڈ کر آئے، ہمارا ناموس برباد ہو، ہماری عزتیں خوار ہوں، ہمارے حقوق پامال ہو جائیں، پھر کیا مجال جو ہم ٹس سے مس بھی ہوں۔‘‘۳

اس خود تنقیدی اور خود احتسابی کا رُخ مولانا کے معاصرین کی جانب ہے۔ غیر ہوں یا اپنے مولانا کی حق گوئی و بیباکی ہمیشہ اُن کی گفتار کا محرکِ اول رہی ہے۔ زیرِ نظر کتاب مولانا ظفر علی خان کی بیش قیمت نگارشات کی پہلی جلد ہے۔ جناب احمد سعید بڑے انہماک کے ساتھ دوسری جلد کی تیاری میں مصروف ہیں۔ یہ ایک ایسی مبارک علمی سرگرمی ہے جس کے پایۂ تکمیل کو پہنچنے کے ساتھ ہی ہمارے ہاں جہادِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کی تاریخ نئے سرے سے رقم کی جا سکے گی اور یوں جن صاحبان نے عز و شرف کو ہم فراموش کربیٹھے ہیں اُن کی یاد تازہ ہو کر ہماری آئندہ نسلوں کی تربیت کا سامان بن جائے گی!


حواشی
۱۔ نگارشاتِ ظفر علی خان، ترتیب و تدوین احمد سعید، لاہور، اکتوبر۲۰۱۷ء، صفحہ xix۲۔ ایضاً، صفحہ ۱۵۴۳۔ ایضاً، صفحہ ۲۸۵

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: