سنہری یادوں سے بھرپور ایک شگفتہ کتاب —- جو اکثر یاد آتے ہیں

0
  • 17
    Shares

تبصرہ: نعیم الرحمان

احمدحاطب صدیقی عرف ابو نثر انتہائی دلچسپ اور شگفتہ کتاب ’’جو اکثر یاد آتے ہیں‘‘ اچانک ہاتھ آگئی۔ جسے ایمل پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ دوبارہ پڑھ کر کتاب کی دلچسپی پہلے سے بڑھ کرمحسوس ہوئی۔ کتاب میں ابونثر نے اپنے احباب، ملنے جلنے والوں اور بزرگوں کی سنہری یادوں کو تازہ کیاہے۔ ایمل پبلشرز نے مختلف صفحات پر تصاویر اور روایتی انداز کے بجائے دوکالمی اشاعت سے ناصرف کتاب کی خوبصورتی میں اضافہ کیاہے۔ بلکہ اس میں زیادہ مواد بھی سمو دیا ہے۔ جس کے لیے پبلشر شاہداعوان مبارک بادکے حقدار ہیں۔ ابونثرکی تحریر میں موجود شگفتگی نے اس کی دلچسپی کو دوچند نہیں سہ چند کر دیا ہے۔ قاری کو کتاب شروع کرنے کے بعدختم کرنے پرمجبورکردیتی ہے۔ ’جواکثریادآتے ہیں‘ میں اڑتالیس معروف اور غیر معروف افراد کی یادوں کو تازہ کیا گیا ہے۔ یہ نہ خاکے ہیں اور نہ ہی سوانح بلکہ مصنف جن لوگوں سے ملتا جلتا رہا۔ ان کے ساتھ پیش آنے والی چند دلچسپ یادوں اور واقعات کو اپنے دلچسپ اورشگفتہ اندازمیں بیان کردیا۔ دو سو اسی صفحات کی بے مثال کتاب کی قیمت چارسو اسی روپے بھی انتہائی معقول ہے۔ یہ تحریریں مختلف اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔

کتاب کاانتساب ’’ان تمام لوگوں کے نام کہ ہنگامہء روزشب میں ’نہیں آتی تویاد اُن کی مہینوں تک نہیں آتی۔ ۔ مگرجب یاد آتے ہیں، تو اکثر یادآتے ہیں‘۔‘‘ ’عذرِگناہ‘ کے نام سے پیش لفظ میں ابو نثرکہتے ہیں کہ ’’ان تحریروں میں آپ کوکسی کی مکمل سوانح عمری ملے گی نہ کوئی جامع شخصی خاکہ۔ یہ تو بس تنہائی میں آنے والی چند یادیں ہیں جو آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ ان منتشر یادوں کو تحریری شکل دینے پر اُکسایا عزیزم رئیس احمد مغل نے۔ کتابی صورت میں لانے کے لیے ڈانٹ ڈپٹ کی مشفقِ محترم ملک نواز احمد اعوان نے۔ رہے برادر شاہد اعوان توبرائے طباعت واشاعت ان تحریروں کے جمع و انتخاب میں اعانتِ مجرمانہ کے مرتکب بھی ہوئے ہیں نیز اس نومولود کتاب کانام بھی ان ہی کا تجویز کردہ ہے۔ یہ تمام یادداشتیں مختلف زمانوں، مزاج کی مختلف کیفیتوں اور احساسات کے مختلف موسموں میں تحریر کی گئی ہیں۔ سو، طرزِ تحریرمیں فرق اسی وجہ سے ملے گا۔
سینے میں کچھ اور تھا، لفظوں میں ہے کچھ اور
غم کے کئی انداز، بیاں میں نہیں ملتے‘‘

عرضِ ناشر میں شاہد اعوان لکھتے ہیں کہ

’’برادرحاطب نے اپنی تحریر کو ’عذرِگناہ‘ کا نام دیا تو گویا کتاب کی صورت میں اپنے گناہ کاخود ہی اعتراف کرلیا۔ اس کے بعد میراکچھ لکھنا بد تر از گناہ کے زمرہ میں نہ آتا ہو اسی ڈرسے شذرہ کا عنوان ’برتر از گناہ‘ رکھ چھوڑا۔ وہ اگراس طور گناہگار ہوئے توہم بھی گویا مومن مبتلاٹھہرے۔ موصوف سے پہلی بالمشافہ ملاقات استاد محترم عنایت علی خان کے اعزاز میں ارشاد کلیمی کے گھر منعقدہ ایک نشست میں ہوئی اورخلاف ِ توقع ابونثر کے مصداق نہ پاکرحیرت بھی ہوئی۔ بعد میں ہونے والی مسلسل ملاقاتوں نے تصور کو خوبصورت حقیقت میں بدل ڈالا۔ ’اوقات‘ کے فرق نے ملاقاتیں مشکل بنادیں اور فرق کیوں نہ ہوتا آنجناب کو مالک کون و مکاں نے مالک مکان بنا دیا تھا۔ دل میں گھرکرنے والا اپنے مکان میں گھر کر چکا تھا۔ کوئی دوست ایسے میں ان کو پوچھتا تو ہم کہتے کہ وہ تو اپنے گھر کے ہوگئے۔‘‘

پیش لفظ اورعرضِ ناشرمیں ہی شگفتی کی جو لہر شروع ہوتی ہے۔ وہ کتاب کے اختتام تک برقرار رہتی ہے اور اسے ریڈیبل بنا دیتی ہے۔ منفرد مزاح نگار ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کہتے ہیںکہ’’ابونثرصاحبِ طرزمزاح نگار، پختہ کار کالم نویس اور میرے پسندیدہ مزاح نگار ہیں۔ اطہر ہاشمی اظہارِ خیال کرتے ہیں کہ ’’ابونثرکے کالموں میں جہانِ معنی آباد ہے۔ ان کے کالم پاکستان کے کسی بھی اچھے کالم نگارسے کم نہیں بلکہ کبھی کبھی وہ بہت آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم ان کے کالم پڑھتے تھے اورجلتے تھے کہ ہم ایسا کیوں نہیں لکھتے۔ مرحومین کے خاکے تو انہوں نے ایسے لکھے کہ مرنے والوں کے جی اُٹھنے کی حسرت پیدا ہوگئی۔‘‘ ڈاکٹر طاہر مسعود کا ارشاد ہے کہ ’’ابونثرکے تمام کالموں میں مقصدیت چھپی ہوتی ہے۔ وہ ایک دلِ دردمند رکھنے والے کالم نگارہیں۔ اور پڑھنے والوں کو اپنی تحریروں سے محظوظ کرناچاہتے ہیں چنانچہ ان کی تحریریں شگفتہ ہوتی ہیں۔ وہ اول وآخر ایک سچے مسلمان اورکھرے پاکستانی ہیں۔ انہیں اپنی تہذیب و اقدارسے لگاؤ ہے۔ اپنے وطن سے پیار ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہرطرف تلخیاں بکھری ہوں، اخبارات میں روزانہ دُکھ دیتی اور آنسو رُلاتی خبریں چھپتی ہوں، ابونثرکے نثر پارے ہوا کا تازہ اورخوشگوار جھونکا ہیں۔‘‘ مزاح نگارمظفر بخاری کا کہنا ہے کہ ’’ابونثر دنیائے صحافت کے مشتاق احمدیوسفی ہیں۔‘‘ سلیم منصورخالد نے لکھاکہ ’’ابونثر اس نثرکے بادشاہ ہیں، جس میں ایمان کی خوشبو، مقصدیت کی روشنی اور مزاح کی چاشنی اس شان سے بانہوں میں بانہیں ڈال کرچلتے ہیں کہ سچائی مجسم شکل اختیارکرلیتی ہے۔ ‘‘خاکہ نگار فاروق عادل نے ان الفاظ میں اب و نثرکو سراہا ہے کہ ’’ابونثر نے فقط بڑی شخصیات ہی کو تو اپنا موضوع نہیں بنایا بلکہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی تو منتخب کیاہے، شہرت اورشاید دولت بھی جن سے دور رہی مگر جن سے ملیں توان کے لمس سے محبت کی گرمی اور سانسوں سے خلوص کی خوشبو آتی ہے۔ ان کے خاکے پڑھ کر مجھے وہی مزہ آتا ہے جو بڑی بوڑھیوں کی کرخنداری زبان میں گفتگو سن کر آتا ہے۔‘‘ لیکن سب سے بڑا خراج ِ تحسین استاد محترم اورصاحبِ طرز ادیب اورخاکہ نگار ڈاکٹر اسلم فرخی نے ابونثر کو ان الفاظ میں پیش کیا ہے کہ ’’عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ وقتی موضوعات اور ہنگامی حالات پرلکھے جانے والے کالم بہت جلد اپنی مقصدیت اوراہمیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ لیکن ابونثرکے کالموں کو مزاح کی پھلجڑیوں نے مقصدیت اور طویل دورانیہ عطا کیا ہے۔ ان کا ہرشگفتہ، فکر انگیز، تہ دار اورمعنی خیز فقرہ آج بھی ذہن کو گدگداتا ہے، چٹکیاں لیتاہے اورغور و فکرکے نئے در، بازکرتا ہے۔ آج کی صحافت میں تجزیاتی اور معلوماتی کالموں کادور دورہ ہے۔ لیکن مزاحیہ کالم عنقا ہوگئے ہیں۔ ہماری صحافت غیر معمولی سنجیدگی اور خشکی کا شکار ہوگئی ہے۔ طنزو مزاح کا پیرایہ اول تونظرہی نہیں آتا اور اگر کہیں ہے تو ٹھونسم ٹھاس کے طور پر۔ ابونثرکے مزاحیہ کالم شگفتگی، زندہ دلی اور ان کے پس پشت زندہ و توانا قلب و نظرکی نشاندہی کرتے ہیں۔‘‘

ان بڑے لوگوں کے اظہارِ خیال کے بعد اگر اڑتالیس ممدوحین کے بارے میں ابونثرکی خاکہ نما ان تحریروں کا سرسری جائزہ بھی لیاجائے تو مضمون شیطان کی آنت بن جائے۔ ان افراد میں شاعر افتخار عارف، دانشور ڈاکٹر حمیداللہ، سیاستدان پروفیسر غفور احمد، محسنِ قوم حکیم سعید، مزاح نگارمشتاق احمد یوسفی، ڈکٹیٹر ضیاالحق، سے لیکرآصف فرخی، مشفق خواجہ، سید قاسم محمود اور مزاحیہ شاعرعنایت علی خان، میجرآفتاب احمد اور ایک نامعلوم شخص اور نور محمد پاکستانی تک عام اور خاص ہرقسم کی شخصیات شامل ہیں۔ اور ہر تحریرقاری کے دل میں اترجاتی ہے۔

کتاب کی پہلی یاد افتخار عارف سے متعلق ہے۔

یاد آتا ہے کہ جامعہ کراچی آرٹس لابی کی ایک منڈیر پر تنہا (کسی بلبل کی طرح) اُداس بیٹھا تھا کہ یکایک استاد محترم سحرانصاری کاوہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے آئے، (کبھی ایسے اساتذہ بھی ہوتے تھے) پوچھا ’ہاں میاں بتاؤ کیا بات ہے؟‘ اپنے حالات کے تجزیے کی روشنی میں ان سے کہا ’سر نوکری چاہیے!‘ انہوں نے میز کی دراز سے ایک کاغذ نکالا۔ واسکٹ کی جیت سے قلم کھینچا، کچھ دیرتک قلم سے کاغذ پر مشقِ سخن کرتے رہے۔ کرچکے تو اپنا لکھا تہہ کرکے ہمیں تھماتے ہوئے بولے، بھئی اس وقت ہم تمہارے لیے کچھ اور تو نہیں کرسکتے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن، کراچی مرکز میں ہمارے ایک دوست ہیں، افتخار عارف۔ یہ پرچہ لے کر ان کے پاس چلے جاؤ۔ اگرکچھ ہو سکا تو وہ ضرور تمہاری مدد کریں گے۔ ہم جامعہ کراچی کے بس سے نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے اسٹاپ پر اُتر گئے۔ وہاں سے پیدل پی ٹی وی پہنچے۔ استقبالی کلرک ہمیں ہرحیلے بہانے ٹالنے کی کوشش کرتا رہا۔ نہ ٹلے تو آخر افتخار عارف صاحب سے فقط فون پر بات کروائی۔ انہوں نے سحرانصاری کانام سنتے ہی ہمیں فوراً اندر بلوا لیا۔ پرچہ (یا رائج الوقت الفاظ میں پرچی) پڑھنے کے بعد افتخارصاحب نے ہم سے چند بنیادی سوالات کیے۔ کہ ہمیں خوف آنے لگا کہ اب ہم سے یہ بھی پوچھیں گے کہ اچک دانہ بچک دانہ کسے کہتے ہیں؟ سوہم نے اس کا بھی جواب سوچ لیا کہ نوکری دینے سے انکار کو کہتے ہیں۔ ہرچند کہ ہمارے جوابات سے خاصے متاثرنظرآئے۔ مگریہ پوچھ کرہمیں مایوس کر دیا کہ بیٹے، کہاآپ کاپی رائٹرکی حیثیت سے کام کرلیں گے؟ہم نے دل ہی دل میں بڑی تیزی سے کاپی رائٹر کا اردو ترجمہ کیا نقل نو یس اور فوراً انکار میں گردن ہلادی۔ نہیں، کاپی رائٹر تو نہیں۔ کوئی بہترکام ہو تو بتائیے!افتخارعارف صاحب ہماراجواب سن کر مسکرا دیے۔ ممکن ہے کہ بعدمیں مسکرامسکرا کرتمام کاپی رائٹرصاحبان کو ہمارا یہ جواب سنایا ہو اور اُن کے تلملانے سے لطف اُٹھایا ہو۔ مگر ہم سے تو اُس وقت یہی فرمایا تھا کہ ’اچھا بیٹے، کوئی بہترکام نکلا تو میں سحر انصاری صاحب کو مطلع کر دوں گا۔‘ اے صاحبو، افتخار عارف صاحب کی لاعملی دیکھیے کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمیں کاپی رائٹرکا مطلب نہیں معلوم۔ جس روز پہلی بار معلوم ہوا کہ یہ نہ صرف تخلیقی کام ہے بلکہ یہ واحد تخلیقی کام ہے جس میں آمدنی بھی ہوتی ہے تو ہماری حالت اسی شخص کی سی ہوئی جس نے پہلی بارگینڈا دیکھ کر یہ جانا کہ بیس برس پہلے اُس شخص کی گینڈے سے کیا مراد تھی۔

کیا دلچسپ انداز ہے واقعہ بیان کرنے کا۔ ہنسی ہی ہنسی میں پرانے اساتذہ کااپنے شاگردوں سے دلی تعلق، افتخارعارف کی سحرصاحب سے عقیدت اوران کے حکم کی تعمیل کی کوشش اوراپنی نالائقی کوبیان کیاہے۔ اس کاجواب نہیں۔ یہی انداز بیان معروف مذہبی اسکالر اور دانشور ڈاکٹرحمیداللہ کے واقعہ میں بھی ہے۔ یہ واقعہ خود ڈاکٹرصاحب کے الفاظ میں سنیے۔ وہ کہتے ہیں۔ ’’ایک مرتبہ ایک فرانسیسی نن نے تعدد ازدواج کے متعلق اعتراض کیا۔ میں نے اسے جواب دیاکہ’ اگر اور لوگ مجھ پریہ اعتراض کریں توقبول، لیکن مجھے تم سے اِس اعتراض کی توقع نہیں تھی، کیوں کہ تمہارے اپنے عیسائی مذہب کے مطابق نن خداکی بیوی کہلاتی ہے۔ اس طرح تمہارے شوہرکی تو لاکھوں بیویاں ہیں، جب کہ تم صرف چار بیویوں پرمجھ پرمعترض ہو۔ ‘ واضح رہے کہ ڈاکٹرصاحب کی ایک بھی بیوی نہیں تھی۔ انہوں نے تمام عمرشادی ہی نہیں کی۔ اُ ن کی شادی تحقیق وتصنیف و تالیف سے جوہوگئی تھی۔ اس مختصر واقعے سے ابونثر نے ڈاکٹرحمیداللہ کی قابلیت اور دلیل کے ساتھ کسی بھی اعتراض کاجواب دینے کی قدرت کوبیان کیاہے۔ اسی طرح کی کئی واقعات اس خاکے میں موجود ہیں۔

حکیم محمد سعید شہید کے خاکے میں کیاسبق آموز واقعہ درج ہے۔ کہنے لگے کہ

’’ہمدرد والوں کو اپنی سالانہ تقریب کے لیے کوئی مہمان خصوصی نہیں ملتا تو مجھے بلا کر کرسیء صدارت پر بٹھا دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب کے اختتام پر محترمہ پرنسپل صاحبہ نے اعلان کیا ’ہر بچہ اپنی اپنی کرسی خود اُٹھا کر واپس ہال میں پہنچائے گا‘ میں کرسی صدارت پر بیٹھا تھا۔ میں نے بھی بچوں کی طرح اپنی کرسی اپنے سر پر اٹھا لی۔ حاطب میاں، آپ کو شاید علم ہوکہ کرسی صدارت کتنی بھاری ہوتی ہے۔ بچوں کی قطار میں اپنے سرپراپنی کرسی لیے ہال کی طرف چلاجا رہا تھا کہ میں نے دیکھاایک خاتون بچے سے کرسی چھین کراُسے پرے پھینک رہی ہیں۔ اُسی حالت میں (سر پر اپنی کرسی اُٹھائے ہوئے) میں تیزی سے ان کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ یہ دیکھنے کے باوجود کہ میں نے خوداپنے سرپرایک کرسی لادی ہوئی ہے، مجھ سے کہنے لگیں، میں نے اپنے بچے کوآپ کے اسکول میں اس لیے داخل نہیں کیاکہ وہ کرسیاں ڈھوئے۔ میں نے اُن سے نرمی سے عرض کیا، پھر آپ کل سے اپنے بچے کوہمارے اسکول نہ بھیجیں! اوریقین کروکہ میں نے اگلے دن فون کرکے معلوم کیاکہ وہ بچہ اسکول تونہیں آیا؟۔ ‘‘اسی خاکے میں حکیم سعید کی شہادت کے بارے میں تحریر ہے کہ ’’ایک اردو اخبارنے اپنے ذرائع سے حکیم سعید کے قتل کی سازش کی مکمل روداد مفصل شائع کی تھی۔ سازش کے شرکاء کے نام بھی بتائے۔ منصوبہ سازوں نے برنس روڈ کی ایک قدیم عمارت میں قاتلوں کو نشہ پلا پلا کر جگائے رکھا۔ جب صبح پونے سات بجے حکیم صاحب کی گاڑی وہاں آکر رُکی تو انہیں بتایا گیاکہ اس میں سے جو شخص اُترے گا، اُسی کونشانہ بنانا ہے۔ ملزموں میں سے ایک شخص نے اخباری نمائندوں کو روتے ہوئے بتایا، ہمیں واپس لے جا کر سلا دیا گیا تھا۔ شام کو اُٹھ کرجب اپنے گھر پہنچا تو میں نے اپنی ماں کوبری طرح روتے ہوئے دیکھا۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے پوچھا اماں کیا ہو گیا؟ کیوں رو رہی ہو؟ ماں نے ہچکیوں کے بیچ میں بتایا آج صبح کسی بدبخت نے حکیم سعید کو شہید کردیا ہے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ حکیم سعید تھے۔

کس قدر دلدوز واقعہ ہے۔ جس سے علم ہوتاہے کہ ہمارے معاشرے میں قاتل خود نہیں جانتے وہ کسے اورکیوں قتل کررہے ہیں۔ مشتاق احمدیوسفی کے بارے میں ابونثرلکھتے ہیں کہ’’ہماری چوکڑی یاچھکڑی یوسفی صاحب کی تحریروں کا باجماعت مطالعہ کرتی تھی۔ باجماعت مطالعہ ہماری کمزوری نہ تھی۔ ضرورت بن گئی تھی۔ وجہ اس کی یہ سمجھ آتی ہے کہ یوسفی صاحب کافقرہ پڑھتے ہی جی چاہنے لگتا تھاکہ فوراً جاکرکسی کو سنائیے۔ ہمارے ایک دوست تویوسفی صاحب کے حافظ ہوگئے تھے۔ اُن سے آپ کسی وقت بھی اورکوئی بھی معلومات حاصل کرسکتے تھے۔ پوچھ سکتے تھے کہ یوسفی صاحب نے اس موضوع جوبات کہی ہے، یااس فقرے سے ملتی جلتی جوبات کہی ہے وہ کیاہے؟ حضرت نہ صرف فقرہ مطابق اصل سنادیتے تھے۔ بلکہ کوئی لفظ آگے پیچھے کرتے تھے نہ ہونے دیتے تھے۔ اگرکوئی کربیٹھے توفوراًتصحیح کرتے تھے۔ متعلقہ کتاب اورمتعلقہ مضمون کاحوالہ بھی دیاکرتے تھے۔ اُ ن کاکہنا تھاکہ یوسفی کے فقروں کوپروف ریڈروں جیسی مہارت سے پڑھناپڑتاہے۔ ہماری توجہ اس امرکی طرف انہی نے مبذول کرائی تھی کہ جس فقرے کوہم ہمیشہ یوں پڑھتے رہے کہ ’کھانے کی ترکیبیں بھی ذہن نشین کراتے جاتے تھے‘ وہاں غورسے دیکھ کر پڑھو۔ ’ذہن نشین ‘نہیں، ’دہن نشین‘ لکھاہے۔ یہ مختصر خاکہ مشتاق احمدیوسفی کے فن کاکیاشاندارمحاکمہ ہے۔ جس سے یوسفی صاحب کی تحریر کو زیادہ باریک بینی سے پڑھنے کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

جو اکثریادآتے ہیں میں ہرصفحے پرایسی چونکادینے والی یادیں جگمگارہی ہیں۔ جوسبق آموزبھی ہیں اوران سے صاحبِ خاکہ کی خوبیاں یا فنی کمال قاری پر واضح ہوتا ہے۔ ابونثرکا مزاحیہ طرزِ تحریر کسی بھی جگہ دلچسپی کم نہیں ہونے دیتا۔ اس اسلوب کی جھلک ڈاکٹر طاہر مسعود کے خاکے میں ملاحظہ کریں۔

’’ڈاکٹرطاہر مسعود نے دنیائے ادب وصحافت کوبہت سی ایسی کتابیں دی ہیں جوایک مدتِ مدیدتک حوالہ بنی رہیں گی۔ انہیں کتابوں میں ’یہ صورت گرکچھ خوابوں کے‘بھی ہے۔ جوانہوں نے ہمیں بڑے پیارسے دی تھی۔ اِس کتاب میں اُس وقت کے عہد ِحاضرکے چوبیس اہم ادیبوں کے انٹرویو، شامل ہیں۔ جن اہم ادیبوں سے انٹرویوکیے گئے اُن میں فیض احمدفیض، غلام عباس، سلیم احمد، مجنوں گھورکھپوری، اخترحسین رائے پوری، قدرت اللہ شہاب، ممتازمفتی، شوکت صدیقی، اشفاق احمد، منیر نیازی، کرنل محمدخان، جمیلہ ہاشمی اورمشفق خواجہ شامل ہیں۔ انٹرویو دینے والے ان چوبیس ادیبوں میں اکثر ادیب انتقال کر گئے ہیں۔ مگران سب ادیبوں کے انتقال کرنے کے اسباب جدا، اورطبعی ہیں۔ اس میں انٹرویو کا کوئی دخل نہیں۔‘‘

یہاں اس تحریر کی آخری پنچ لائن نے ساری بات کوکہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اورایک کتاب پر چند تعارفی جملوں نے یکلخت قاری کے چہرے پرمسکراہٹ سجادی۔ آصف فرخی کاخاکہ کچھ اس انداز سے شروع ہوتاہے۔ ’’ہماراادبی نصاب اورنظامِ تعلیم جہالت کو فروغ دے رہاہے۔ یہ قولِ فیصل ہمارانہیں۔ ہمارے ملک کے ممتازادیب، افسانہ نگار، نقاد، مترجم، مدیر اور ناشر ڈاکٹر آصف فرخی کاہے۔ ہم اُن کے اِس قول کی تردید یا تصدیق کی پوزیشن میں نہیں۔ تردید اِس وجہ سے نہیں کرسکتے کہ ’بات تو سچ ہے، مگربات ہے رُسوائی کی‘ اورتصدیق اِس بناپرنہیں کر سکتے کہ ہم اورڈاکٹرآصف فرخی ایک ہی نصاب اور نظامِ تعلیم کے ’جہالت یافتہ‘ ہیں۔ تصدیق کاکام کسی اور ’ڈاکٹر‘ کو کرنا چاہیے۔ تو کیوں نہ یہ’ کیس‘ ڈاکٹرطاہر مسعود کو ریفر کر دیا جائے؟ اکثر معترضین کا اعتراض یہی ہوتاہے کہ ہمارے نصابِ تعلیم اورنظامِ تعلیم دونوں کاحاصل کچھ نہیں ہے۔ مگرایک شخص جو مروجہ نظام سے ڈاکٹریٹ کرچکا ہو، اگریہ کہتاہے کہ یہ جہالت کو فروغ دے رہاہے، تو ہمارے خیال میں معترضین کے خیال کا ابطال ہوجاتا ہے۔ ‘‘

کس خوبی سے باتوں ہی باتوں میں ہمارے نظامِ تعلیم کے بخیے ادھیڑ دیے۔ ابونثرکی خوبی ہے کہ وہ چندلفظوں یافقرں میں بات کا نچوڑ یکسر مختلف انداز میں پیش کردیتے ہیں۔ جس سے قاری لطف اندوز ہی نہیں ہوتا، اس کی سوچ کے در بھی وا ہوتے ہیں۔ معروف ادیب آباد شاہ پوری کے بارے میں ابونثرلکھتے ہیں کہ’’اردوڈائجسٹ کے ذریعے ہماراتعارف محترم آبادشاہ پوری سے ہوا۔ ان کا طرزِ تحریراتناسادہ، سہل، سلیس، دلچسپ اور پُراثر تھا کہ ان کا ہر مضمون دل میں اترتا چلا جاتا تھا۔ ’عظمت کے مینار‘ کے عنوان سے ایک مستقل سلسلہ ہر شمارے میں شائع ہوتا تھا۔ جس میں صحابہ کرامؓ، تابعین اورتبع تابعین اور دیگر بزرگانِ سلف کے واقعات ایسے پُرکشش افسانوی انداز میں تحریر کرتے کہ قاری اپنے آپ کو اُسی ماحول میں موجود محسوس کرتا تھا۔ آبادشاہ پوری ہمارے آئیڈیل بن گئے اور اُن کاسا اندازِ تحریر اپنانا ہماری تمنا ہو گئی۔ ‘‘

شفیع نقی جامعی کاتازہ سراپا کچھ یوںبیان کرتے ہیں۔

’’اُس روزشفیع نقی جامعی کوبی بی سی ٹیلی ویژن کی اردو سروس میں سخن سرا دیکھا تو دل دھک سے رہ گیا۔ کیا یہ وہی گھبرو جوان شفیع نقی جامعی ہے، جسے ہم نے جامعہ کراچی میں دیکھاتھا؟اورجس سے بہت جونیئرہونے کے باوجود ہمارا اُس سے ایک طرح کایارانہ تھا؟ اُس زمانے میں شفیع کا چہرہ چوکور، چوڑا اور چاکلیٹی رنگ کاہوتاتھا۔ اس چوڑے چوکور چہرے پروہ باریک سنہرے فریم کی عینک لگایاکرتے تھے۔ اب اُنہیں بالکل ہی فارغ البال دیکھ کریقین نہیں آتاتھاکہ یہ وہی حضرت ہیں جن کے بال کبھی بہت گھنے اور گھنگھریالے ہوتے تھے، جنہیں وہ اُس وقت کے فیشن کے مطابق کانوں کی لوسے نیچے تک بڑھاکراُس ٹوپی کی طرح ہر وقت لٹکائے رہتے تھے، جسے جج صاحبان صرف مقدمہ سنتے وقت پہنتے ہیں۔ مانگ درمیان سے نکالتے تھے۔ جامہ زیب تھے، جوبھی لباس پہنتے اُن پراچھا لگتا۔ ‘‘

کیا شگفتہ انداز میں وقت کی ایک خوبروجوان پرڈھائی ستم ظریفی بیان کی ہے۔ جس سے قاری لطف اندوز ہوتاہے۔ اردو کے بڑے فکاہیہ کالم نگار نصراللہ خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ابونثر لکھتے ہیں کہ

’’اُ س زمانے میں اُن کا کالم ’آداب عرض‘ روزنامہ حریت میں بلاناغہ چھپاکرتاتھا۔ روتے ہوئے قارئین کومُسکروانا اورمسکراوانے کے بعدقہقہے لگوانااُنہی کاکام تھا۔ سو یارِعزیزسلیم فاروقی کے ساتھ اُن کے گھرپہنچے۔ اورپہنچتے ہی پہلاسوال یہ کیا، مرغی بھی انڈاروز نہیں دیتی۔ مگرآپ کا کالم ہرروزناشتے کی میزپردھراہوتاہے۔ آخرآپ روزانہ کالم کیسے لیتے ہیں؟ مسکرادیے اورکہا، ہرصبح اخباراُٹھانے سے پہلے ہاتھ اُٹھاتا ہوں اوردعاکرتاہوں کہ یااللہ! آج کسی بڑے آدمی نے کوئی حماقت کی بات کہی ہو۔ شایدہی کوئی دن ایسا گزرا ہوجس دن یہ دعاقبول نہ ہوئی ہو۔ یوں تواسی دن سے ہم بھی مرشدکی بتائی ہوئی دعا کو وظیفہ بنائے ہوئے ہیں۔ مگراس وقت اپنی الجھن دورکرنے کے لیے پوچھ لیا، اگرکسی دن بڑے آدمیوں سے یہ حماقت سرزد ہوجائے کہ وہ حماقت کی کوئی بات کہنا بھول جائیںتواُس روز آپ کیاکرتے ہیں۔ جھٹ جواب دیا، اُس روزمجبوراً اپنی ہی حماقتوں پرلکھتے ہیں۔ ایک روز انہوں نے ٹِڑنگ کی معنویت پرایک کالم لکھا تھا۔ یہ وہ آوازتھی جوریڈیوپاکستان اپنے دواشتہارات کے درمیان نکالا کرتا تھا تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ ایک اشتہار ختم ہوا، دوسرا شروع ہوتاہے۔ کرتے کرتے ٹڑنگ میں اس قدرمعنویت پیداکردی کہ لطف آنے لگا۔ فرمایا، اگرفیض کے اشعارمیں ڈال دیاجائے توزیادہ معنی خیزہوجتاہے۔ جیسے

گلوں میں رنگ بھرے، بادِنوبہارچلے ٹِڑنگ
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے ٹِڑنگ
مقام، فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے توسوئے دارچلے ٹِرنگ‘‘

کیا خوبصورت انداز ہے ایک بڑے کالم نگارکے انداز تحریرکو سراہنے کاکہ بات دل میں اترجاتی ہے۔ اورنصراللہ خان کامنفرد اور دلچسپ اسلوب تحریر بھی قاری کے سامنے واضح ہو جاتا ہے۔ ابونثرکے مطابق ایک روزاخبارمیں دوکالمی خبرکی چار سرخیاں یہ افسوسناک اطلاع دیتی نظرآئیں کہ ’’مایہ ناز ادیب، مصنف، مترجم اور ناشر سید قاسم محمود اکتیس مارچ دو ہزار دس کوبہ عمر بیاسی سال انتقال کرگئے۔ اسلامی انسائیکلو پیڈیا، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا اور شاہکار سستی کتب کے خالق تھے۔ صدارتی ایوارڈ لینے سے انکارکردیا۔ مینارِ پاکستان پرنصب تختیوں کے مدیر رہے۔ میں بچپن سال سے کاغذ پر قلم گھس رہا ہوں۔ لیکن اگرمجھ سے فرمائش کی جائے کہ سیدقاسم محمود کی طرح تن تنہا، وسائل کی کم مائیگی کے باوجود محدود مدت میں ڈیڑھ ہزارصفحات کی انسائکلوپیڈ یا قلم بند کرکے چھاپ دو۔ تومیں بے ہوش نہیں تو حواس باختہ ضرور ہو جاؤں گا۔ الف سے لے کرے تک اشیاء، افراد، یادگار واقعات، تاریخی حوادث، مذہب، مکاتیب، فلسفہ و معاشرت، جغرافیائی مقامات، شہر، ملک، سمندر، دریا غرض اِن تمام چیزوں کا ذکر اختصارکے ساتھ کہ جن کاجاننا ہرشخص کے لیے ضروری ہو۔‘‘

چند پیروں میں سید قاسم محمودکی پوری زندگی اوران کے کارناموں کاذکراس عمدگی سے کرنا ابونثرکا ہی کمال ہے۔ انہوں نے بجاطور پر سرسید سے وابستہ جملہ سیدقاسم محمودکے حوالے سے لکھاہے۔ ’ہماری باتیں ہی باتیں ہیں، سید کام کرتاتھا‘۔

معروف لوگوں کے ذکرکے ساتھ ابونثر نے ’جو اکثر یاد آتے ہیں‘ میں کچھ غیر معروف افرادکا بھی ذکرِخیرکیاہے۔ ’ایک نامعلوم شخص ‘نام سے انیس سو پچھہترکے کوئٹہ کاواقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

’’کراچی کے برعکس، کوئٹہ کی سڑکوں پر فجرکے بعد ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ سڑک کنارے واقع ایک ریستوران، ناشتہ کنندگان سے لبالب بھرانظرآیا۔ ایک عجیب و غریب منظرسامنے تھا۔ ہرشخص کے آگے لسی کا گلاس رکھا ہوا تھا مگرملائی والی چائے سے لبریز۔ پراٹھا اتنا طویل اور ایسا ترچھا تھا جیسے تندورسے تناول کی میزتک آنا ہی نہ چاہتاہو۔ کھینچ کھانچ کر زبردستی لایا گیا ہو۔ سوندھی سوندھی خوشبو نے اشتہا بڑھا دی اور بھوک چمکا دی۔ مگرخیال آیا کہ ایسا لذیذ ناشتہ کو خاصا مہنگا ہوگا۔ دیکھنا چاہیے یہ عیاشی کی بھی جاسکتی ہے یانہیں؟ ایک صاحب سڑک سے لگی ہوئی میزکے سامنے ایک کرسی پراکیلے بیٹھے نظر آئے۔ ان کے پاس پہنچے اور سلام کیا۔ انہوں نے سلام کاجواب دیتے ہوئے مصافحہ کیا۔ ان سے جھجک بھرے لہجہ میں پوچھا، اس ہوٹل میں چائے کتنے کی ملتی ہے اورپراٹھاکتنے کا؟انہوں نے پہلے تواپنے مخاطب کوسرسے پیرتک دیکھا۔ شلوار، قمیض، واسکٹ اورٹوپی پہننے والوں کے شہرمیں پینٹ، شرٹ میں ملبوس اوررم لیس فریم کی عینک لگائے ہوئے ہوئے، بلوچی یاپشتوکے بجائے، ایک اردو بولتانوجوان اُن کے سامنے کھڑا تھا۔ انہوں نے پشتو لہجہ اور شُستہ اردو میں جواب دیا یہاں پراٹھے کی قیمت پچاس پیسے اورچائے کی پچیس پیسے فی گلاس ہے۔ گو دونوں چیزیں ہمارے شہرکے مقابلے میں مہنگی تھیں۔ تاہم وارے میں آتی تھیں۔ ریستوران کے اندرگئے گوشہ تنہائی میں بیٹھتے ہی ایک چائے اورایک پراٹھے کا آرڈر دے ڈالا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ایک روپے کانوٹ نکالا اور کاؤنٹر پرادائیگی کے لیے پہنچے۔ تو جواب ملا آپ کے پیسے ادا ہو چکے ہیں۔ عرض کیا، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم اس شہرمیں نووارد ہیں۔ اس شہرمیں ہمیں کوئی نہیں جانتا ہمارا بل کون ادا کرے گا؟ انہوں نے بتایاکہ وہ سامنے اس کرسی پرجوصاحب بیٹھے تھے۔ جن سے آپ اندرآنے سے پہلے بات کررہے تھے۔ وہ آپ کے پیسے دے گئے ہیں۔‘‘

آج اس واقعہ کو کتنے برس گزرگئے۔ اپنے اس محسن میزبان کی جب بھی یادآتی ہے۔ جس سے صرف چند ثانیے بات ہوئی تھی۔ دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ ابونثرکی اس یاد کے ساتھ اُس دور اور آج کاتقابل ذہن میں ہونے لگتاہے۔ کبھی ہمارے وطن میں اجنبیوں کی بھی ایسی مہمان داری ہوتی تھی۔ لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے تھے۔ ’جو اکثر یاد آتے ہیں‘ میں شامل شخصیات کے ایسے بے شمار واقعات درج ہیں۔ یہ ایک من موہ لینے والی کتاب ہے۔ جسے پڑھ کر پبلشر شاہد اعوان اور مصنف ابونثرکے لیے دل سے دعانکلتی ہے۔ اور ابونثرکے مزید کالموں کی طلب بھی ہوتی ہے۔

نوٹ: واضح رہے کہ یہ کتاب بازار سے ختم ہوچکی ہے اور اب نایاب ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: