ٹیکنالوجی بزنس کی جنگ، گوگل اور پاکستان: حد ہے اور بے حد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرحان شبیر

0
  • 28
    Shares

یورپی یونین کمیشن نے سرچ انجنوں کے بادشاہ گوگل پر جو فائن کیا ہے اسکی مالیت 3۔4 ارب یورو ہے۔ یعنی پاکستان کے روپوں میں یہ رقم 652 ارب روپوں سے زائد بنتی ہے ۔ خیال رہے کہ ہمارا اس سال کا بجٹ 5400 ارب کا ہے ۔ یورپین کمیشن کا کہنا ہے گوگل بادشاہ ناجائز طریقے سے دوسری android فونز یا ٹیبلیٹس بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ اگر یہ دوسری کمنیاں گوگل کا گوگل پلے اسٹور اپنے موبائل یا ٹیب میں رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ساتھ میں گوگل کا ویب براؤزر ’’chrome‘‘ اور گوگل search کی ایپ بھی رکھنی ہو گی۔ اور اس شرط کی وجہ سے دوسری کمپنیوں کو یہ موقع نہیں مل پارہا کہ وہ بھی اپنے سرچ ایپ یا براؤزر ایپ کو صحیح سے مارکیٹ کر سکیں اور یوزر ایکسپیرئنس اور فیڈ بیک حاصل کر کے مزید بہتر بنا سکیں ۔ کیونکہ جتنا زیادہ کسی کمپنی کا سرچ انجن یا براؤزر استعمال ہوگا اتنا زیادہ اسکے پاس یوزر ڈیٹا بیس وسیع ہوگا ۔ اتنا ہی اسے اپنے Algorithm بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

آج صورتحال یہ کہ کچھ بھی جاننا ہو تو دماغ میں جھٹ سے گوگل کا ہی نام آتا ہے۔ حتی کہ آئی فون کا SIRI بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا اب تک۔ یاہو کا سرچ انجن یا اس سے پرانے AOL وغیرہ تو جیسے اب پہلی پہلی محبتوں کی طرح بس خیال ہی ہو کر رہ گئے ہیں۔ گوگل بادشاہ کھا گئے ایک ایک کرکے سب کو حتیٰ کہ اپنے سینئر انٹرنیٹ ایکسپلورر کا بھی زرو توڑا ورنہ پہلے انٹرنیٹ پہ جانے مطلب انٹرنیٹ ایکسپلورر کھولنا ہی ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ ایکسپلورر سے پہلے یاہو بڑا چلتا تھا اس وقت یاہو نے دنیا بھر کی سیر کرانے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر سنبھالی ہوئی تھی اور کمایا بھی خوب۔

اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ گوگل نے اپنا یہ مقام اپنی کسٹمر سروس سیٹیسفیکشن سے حاصل کیا ہے گوگل کا سرچ انجن واقعی لاجواب تھا اور ہے بھی ۔ گوگل نے مارکیٹ میں آنے کے بعد یاہو کو ایک ڈیڑھ سال میں ہی میلوں دور پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔ آج گوگل دنیا میں سب سے زیادہ جانے، بولے اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ناموں میں سے ایک ہے جو دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کے تحت الشعور تک میں رچ بس گیا ہے۔ ہمارے اپنے ملک میں ہماری امائیں تک کم از کم گوگل کا نام ضرور جانتے ہیں۔

اب یورپین کمیشن کے اس فیصلے سے دیگر کمپنیوں کو یورپ میں اپنے پراڈکٹس بغیر کسی کروم یا گوگل سرچ کے بغیر بھی صرف ’’پلے اسٹور‘‘ رکھ کر بھی مارکیٹ کرنے کا موقع ملے گا۔ گوگل کی اس شرط کی وجہ سے سام سنگ اپنا گیلکسی S9 فون صرف گوگل پلے اسٹور رکھ کر اور کروم اور سرچ ایپ کے بغیر ریلیز نہیں کر پارہا تھا۔ جبکہ سام سنگ اور دیگر بڑی ٹیک جائنٹس کی شدید خواہش ہے انکے اپنے براؤزر اور سرچ انجن بھی چلیں۔ کیونکہ دنیا بھر کی کمپنیاں اپنی پراڈکٹس یا ویب سائٹس یا کسی بھی چیز کی انٹرنیٹ پر پبلسٹی کے لئیے گوگل کا ہی دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور یہی ایڈورٹائزمنٹ گوگل کی وہ کمائی ہے جس نے گوگل کو بادشاہ بنایا۔

گو کہ یورپین کمیشن کے اس فیصلے کے بعد سے گوگل اب یورپ میں کروم، سرچ انجن اور پہلے مفت میں دی جانے والی ایپس پر پیسے بھی چارج کریگا لیکن پھر بھی یہ فیصلہ گوگل کے لئیے مستقبل کے خدشات پیدا کر رہا ہے۔ کیونکہ دوسرے سرچ انجن اور براوزرز کا یورپی مارکیٹ میں دوسری ٹیک کمپنیز کے ڈیٹا بیس کو بڑھائے گا اور گوگل کا ڈیٹا بیس دوسری کمپنیوں کے پاس شفٹ ہو گا۔ اور گوگل کے بحیثیت سرچ انجن کے بادشاہ کے طور اسکی ڈیٹا کی جاگیر میں کمی آئیگی۔

گوگل بادشاہ نے اس فیصلے کو چیلنج تو کیا ہے لیکن لگتا ہے دال گلے گی نہیں۔ یورپین کمیشن نے دوٹوک کہہ دیا ہے نو مور بیڈ بزنس پریکٹس اور یورپین کمیشن کے اس فیصلے کو دوسری بڑی کمپنیاں اپنی بزنس آپرچونیٹی کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ ہو یا چین کی Huawei یا خود امریکہ کی موٹرولہ سب کو ہی اب اس فورتھ انڈسٹریل ریولوشن میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا کی جاگیر چاہئیے اور موبائل فونز اس چوتھے صنعتی انقلاب کا سب سے کارآمد ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔ اب اس فیصلے کے بعد دوسری کمپنیاں سام سنگ ، ہیواوے Android سوفٹ ویئر تو استعمال کرینگی اور گوگل پلے اسٹور بھی رکھیں گی لیکن ساتھ میں گوگل کروم اور سرچ کے آپشن رکھنے کی شرط نہیں ہوگی۔ یعنی یہ نہیں کہ گوگل پلے رکھنا ہے تو گوگل کروم اور سرچ بھی رکھو ورنہ پلے اسٹور بھی نہیں ملیگا۔

ہمارے ملک میں عام آدمی ڈیٹا سے مراد بس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا نمبر یا ایک دو اور اضافی معلومات ہی سمجھتا ہے لیکن دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اب فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹا اور واٹس ایپ کی مدد سے مختلف ممالک کے لوگوں کی پسند ناپسند، شاپنگ ٹرینڈز سے لیکر انتخابات کے نتائج تک پر اسی ڈیٹا بیس کی مدد سے اثرانداز ہو رہی ہے۔

برازیل کے تازہ تازہ انتخابات ہوں یا امریکی انتخابات اور برطانیہ میں بریگزٹ پر ریفرینڈم کیمبرج اینالیٹیکا جیسی فرمز پر لوگوں کا ڈیٹا استعمال کر کے انکے سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی وجہ سے یہ کمپنیاں دنیا کے کئی ممالک میں عوام کی تنقید کا نشانہ بھی بن رہی ہیں۔ فیس بک کے مارک زکربرگ نے بھی ڈیٹا بریچ پر معافی تک مانگی لیکن اس معافی باوجود بھی فیسبک سنبھل نہیں پارہا اور اس وقت اپنی ہسٹری کے بڑے بحران کا شکار ہے اور اسکے شئیرز کی قیمت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

چینی سمجھدار تھے انہوں نے ایسی کوئی کوشش کامیاب ہی نہیں ہونے دی۔ چین نے اپنا خود کا سرچ انجن، اپنی فیس بک ٹائپ سے لیکر ٹوئیٹر تک بنائی ہے اور چینی عوام وہ ایپس استعمال کرتے ہیں۔ یعنی جس گوگل کے بغیر آج ہمیں اپنی زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے اس گوگل سے چین کے سوا ارب سے زائد شہری کوئی آشنائی نہیں رکھتے۔ چین نے جتنی تیزی سے اپنی معیشت کو AI آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ منسلک کیا ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔ چین نے پچھلے پانچ سالوں میں الیکٹرانک ٹرانسیکشن اور موبائل فونز سے پیمنٹس کو اتنا آسان کر دیا ہے کہ اس وقت چین ایک طرح سے کیش لیس اور کارڈ لیس ہوگیا ہے۔ سبزی والا بھی موبائل فونز سے پیمنٹس وصول کرلیتا ہے۔

دنیا اس حقیقت کو سمجھ گئی ہے کہ فورتھ انڈسٹریل ریولوشن میں وہی ملک آگے جائے گا جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں آگے ہوگا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے لئیے ڈیٹا کا زیادہ سے زیادہ ہونا ہی کامیابی کی شرط ہے جس کمپنی یا ملک کا ڈیٹا بیس جتنا وسیع، گہرا اور متنوع ہو گا وہی ملک اور اسکی کمپنیاں آگے ہونگی نتیجے میں ملکی کمپنیوں کا بزنس گرو کریگا، لوگوں کو جابس ملیں گی اور وہ بھی اچھی تنخواہوں پر، لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا خود حکومت کے پاس ٹیکس کلیکشن میں اچھا ریونیو آئیگا اور حکومت اچھی ہوگی تو عوام کو اچھا ہیلتھ کئیر اور اچھی ایجوکیشن ملے گی۔

حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کس طرح بزنس اور کاروبار کو اپنے ملکوں کی بقا اور عوام کی بہتری کے لئیے لازم و ملزوم سمجھ کر فائٹ کرتی ہے۔ لیگل بیٹلز ہوتی ہیں۔ کمپنیاں ایک ایک مرحلے کو سنجیدگی سے لیتی ہے یہی وجہ ہے انکی کمپنیاں ایک ایک کمروں سے شروع ہو کر ملٹی نیشنل کا روپ دھار جاتی ہیں ان بڑی کمپنیوں کی مالیت کے حجم دیکھ کر چکر سے آجاتے ہیں۔ جتنے ہم جیسوں ملکوں کے بجٹ نہیں اتنے امریکہ یورپ سنگاپور کی کمپنیاں جرمانہ بھر رہی ہیں۔ کمپنیوں کے اثاثے اور دولت ملکوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ایپل کمنی 1 ٹریلین ڈالر کا سنگ میل عبور کرنے والی پہلی کمپنی بن گئی اور سیلیکون ویلی بھری پڑی ہے ملین ڈالر کمپنیوں سے۔

یعنی سوچ ہے بس، کہ ہمارا ملک پاکستان بارہ چودہ ارب ڈالر کے لئیے پریشان ہے کہ یہ بارہ چودہ ارب ڈالرز مل جائیں تو مسئلہ نمٹ جائے گا بیلنس آف پیمنٹ میں آسانی ہو جائیگی ادھر دنیا کی بڑی ٹیک جائنٹس کے لئیے یہ اماونٹ مانگ پھلی کے برابر ہے۔ Huawei کمپنی نے اس سال کے اپنے بجٹ میں کوئی 9 ارب ڈالرز صرف RND کے لئیے رکھیں ہیں ۔ یعنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ۔ خود Huawei کو ہی دیکھیں دیکھتے ہی دیکھتے موبائل فونز کی دنیا چھا گئی ہے اور نمبر آف یونٹس یعنی تعداد کے لحاظ سے فون بنانے میں ایپل کے بعد دوسری بڑی کمپنی بن گئی ہے Samsung اب تیسرے نمبر پر ہے۔ Huawei کو Tech Wolf کا ٹائٹل مل چکا ہے ۔

افسوس ہی ہوتا ہے اپنے گریبان میں جھانک کر۔ ایک سرچ انجن بنا کر گوگل کا مالک دنیا پر چھا گیا۔ فیس بک، ٹوئٹر کروڑوں انسانوں کے ازہان پر اثر انداز ہوکر ملکوں کے انتخابات کے نتائج تک کو اثر انداز کر رہے ہیں۔ اور ہمارے ہاں ہم پہلے دن سے ہی موبائل فونز باہر کے بنے ہوئے خریدتے تھے اور تیس پینتیس سالوں کے بعد آج بھی باہر کے بنے ہی خریدتے ہیں۔ کسی ایک موبائل فون تیار کرنے والی کمپنی کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ساتھ پاکستان میں کام کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔

انڈیا نے موبائل کمپنیوں کو پابند کیا لہٰذا انڈیا میں موبائل فون پاکستان سے سستے ہیں کیونکہ وہیں مقامی طور پر بنتے ہیں اور کئی کمپنیاں بنا رہی ہیں۔ ہم نوکیا 1100 تک بھی نہیں بنا سکتے۔ دنیا روبوٹکس میں میلوں آگے جاچکی اور ہم انکی چھوڑی ہوئی کال سینٹر انڈسٹری میں قدم جمانے کی کوشش کرہے ہیں۔

قسم سے حد ہے اور بے حد ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: