امریکہ میں لابنگ کیسے ہوتی ہے؟ پال فنڈلے کی کتاب “They Dare To Speak Out”

0
  • 50
    Shares

محمد عبدالحارث

پال فنڈلے امریکی ریاست الّی نائے (Illinois) کے 20th district سے امریکی کانگریس کے مسلسل بائیس سال تک رکن رہے ہیں۔ وہ 1960 میں پہلی دفعہ کانگریس کے رکن منتخب ہوئے اور 1982 میں وہ اپنی نشست ہار گئے۔ پال فنڈ لے اُن چند امریکی قانون سازوں میں سے ہیں جنھوں نے نہ صرف امریکہ میں اسرائیلی لابی کے اثرات کو محسوس کیا بلکہ ان اثرات کو زائل کرنے کے لئے عملی طور پر کام بھی کیا۔ اس کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیلی لابی اُن کے خلاف سرگرم ہوئی اور اُن کی کانگریس کی رکنیت ختم کرواکر دم لی۔ پال فنڈ لے نے اپنے تجربات پر مُشتمل کتاب ” They Dare to Speak Out” لکھی جن میں اُن افراد اور اداروں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جنھوں نے امریکہ میں اسرائیلی لابی سے ٹکّر لینے کی کوشش کی۔ اس کتاب کو لکھنے کے سلسلے میں کئی افراد نے پال کے ساتھ تعاون کیا لیکن اکثریت نے اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط رکھی۔ کتاب لکھنے کے بعد پال بتاتے ہیں کہ اُنھیں اِسے چھپوانے کے لئے انتہائی دِقّت کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں جن بیس پبلشرز سے اُنھوں نے کتاب چھاپنے کے لئے رابطہ کیا تو اُنھوں نے اُن کی کتاب چھاپنے سے انکار کر دیا۔ سب نے اُن کو تقریباً یہی جواب دیا کہ اُن کی کتاب انتہائی تہلکہ خیز ہے لیکن وہ اُن کی کتاب کے چھاپنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ اس سے امریکہ میں اسرائیل کے اثر و نفوز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ سب کُچھ ایسے ہی نہیں ہے کہ اسرائیل نے جادو کی چھڑی گھُمائی ہوئی ہے۔ اسرائیل نے اس سلسلے میں انتہائی محنت سے کام کیا ہے۔ پال کے مطابق عربوں نے امریکہ میں اپنے کیس کو احسن انداز میں پیش نہیں کیا اس کے باوجود کہ امریکی کانگریس مین عربوں کے نقطہ نظر کو سمجھنا چاہتے تھے (قارئین اس جملے کو پڑھتے ہوئے آپ کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ پال فِنڈلے 1960 سے 1982 تک کانگریس مین رہے ہیں۔ اس زمانے میں امریکی معاشرے میں اتنی تقسیم نہیں تھی جتنی آج ہے۔)


بہرحال لارنس ہِل بُکس نامی پبلشر نے پال کی کتاب شائع کرنے کی حامی بھرلی جس کے بعد بھی پال کے مطابق اُن کی کتاب کی اشاعت میں رکاوٹیں آئیں لیکن بِلآخر اُن کی کتاب1985 میں پہلی دفعہ شائع ہوئی اور بڑی تعداد میں اس کی کاپیاں فروخت ہوئیں۔یہ کتاب نو ہفتے تک واشنگٹن پوسٹ پر بیسٹ سیلر رہی اور ابتدائی ایڈیشن کی ستّر ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں۔ جس کے بعد اُس کا دوسرا ایڈیشن 1989 اور تیسرا ایڈیشن 2003 میں شائع ہوا۔

آئیے قارئین آپ کی خدمت میں اس کتاب کے مصنف کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں اور اسرائیلی لابی کے امریکہ میں مضبوطی کی وجہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر اتنی بڑی عرب آبادی کے مُقابلے میں اسرائیل ایسا کیا خاص کر رہا ہے کہ وہ اُن سب پر حاوی ہے۔

پال فنڈلے جب کانگریس کے رکُن بنے تو سب سے پہلے اُن کو کانگریس کی زرعئی کمیٹی کی رکنیت دی گئی جو اُن کا پسِ منظر بھی تھا۔ جبکہ 1972 میں اُن کو یورپ اور مڈل ایسٹ کی سب کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔ اُس وقت تک وہ اپنے علاقے کی بارہ سال تک نمائندگی کر چُکے تھے لیکن غیر معروف تھے۔ یہ 1972 کے بعد کی بات ہے جب اگلے آٹھ سال پال کو مڈل ایسٹ کے معاملات سے ڈیل کرنا پڑا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہروں میں موجود اسرائیلی لابی کے ارکان پال کے خلاف سرگرم ہوگئے، پال کو اسرائیل کا دُشمن سمجھا جانے لگا اگرچہ عرب دنیا میں پال کی پزیرائی ہوئی لیکن بلآخر 1982 میں نتیجہ پال کی کانگریس کے انتخابات میں شکست کی صورت میں نکلا۔ اس پسِ منظر میں پال فنڈلے کی کتاب کا مطالعہ نہ صرف امریکہ کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے ساتھ ساتھ مسلمان مجموعی طور پر اپنی حکمتِ عملی کی خامیاں بھی پہچان سکتے ہیں۔

پال کے مطابق مڈل ایسٹ کے معاملات میں وہ اُس وقت حادثاتی طور پر ملوّث ہوئے جب 1973 کے موسمِ بہار میں اُنھیں اپنے حلقے کے ایک رہائشی کا خط موصول ہوا جس میں ایک خاتون نے یمن کے شہر عدن میں قید اپنے بیٹے کی رہائی کے سلسلے میں مدد طلب کی تھی۔ خاتون کے بیٹے کا نام ایڈ تھا اور اُس کو جاسوسی کے الزام میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایڈ ایتھیوپیا سے کویت واپس جا رہا تھا کہ اُس کی فلائٹ تاخیر کا شکار ہوکر کینسل ہوگئی۔ ایڈ کی فلائٹ عدن سے reroute کی گئی۔ ایڈ کو عدن کی صورتحال کا اتنا علم نہیں تھا۔ عدن میں روس نواز مارکسسٹ حکومت تھی۔ ایڈ نے غلطی سے ایک ایسی جگہ کی تصویر کھینچ لی جہاں تصویر کھینچنا ممنوع تھا اور نتیجہ پانچ سال قید کی صورت میں نکلا۔

اس سے قبل یمن کی صورتحال یہ تھی کہ 1969 میں حکومت کا تختہ اُلٹ کر وہاں روس نواز حکومت حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس سے امریکی حکومت کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں تھے۔ کانگریس مین پال فنڈلے کو جو کچھ کرنا تھا اپنے بل بوتے پر کرنا تھا۔ پال نے اُس وقت کے امریکی وزیرِ خارجہ سے اس سلسلے میں ایک سفارشی خط لیا اور ساتھ میں یمن کے حکمران کے لئے کُچھ تحائف۔ پال کو اپنی جان کی بھی فکر تھی لیکن ایڈ کی جان بھی بچانی تھی۔

پال بیروت سے دمشق ہوتے ہوئے عدن پہنچے۔ دمشق میں اُنھیں خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب شام کے صدر حافظ الاسد نے اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر اُن سے ملاقات کی۔ شام کے صدر نے امریکی عوام کے لئے اُنھیں نیک خواہشات کا پیغام دیا اس کے باوجود کہ شام اسرائیل کے لئے امریکی تعاون سے خوش نہیں تھا۔ غیر متوقّع طور پر یمن میں پال کا خوشدلی کے ساتھ استقبال کیا گیا اور جس امریکی شہری کی رہائی کے لئے پال یمن گئے تھے یمن کی حکومت نے اُسے رہا کردیا۔ بدلے میں پال سے یمن کے لئے امریکی گندم کی خریداری میں مدد فراہم کرنے کی درخواست کی گئ۔ پال نے امریکہ واپس آکر اس کی کوشش بھی کی لیکن وہ ناکام رہے۔ اس کے علاوہ بھی چند ایسے واقعات ہوئے کہ امریکہ اور یمن کے درمیان خلیج بڑھتی گئی۔ پال کی کوششوں کی وجہ سے جس میں اُن کی صدر کارٹر سے ذاتی ملاقات بھی شامل تھی کچھ مہینوں کی تاخیر سے امریکی وفد کا یمن جانا طے پایا لیکن ابھی یہ وفد یمن پہنچنے ہی والا تھا کہ کمیونسٹ باغیوں نے بغاوت کرکے اُس وقت کے یمن کے صدر علی، جو امریکہ سے تعلُقات بہتر بنانا چاہتے تھے، کو قتل کردیا۔ امریکی وفد راستے سے ہی واپس لوٹ گیا۔

پال نے یمن کے سلسلے میں جو کوششیں کی تھیں اُس میں وہ حتمی طور پر تو کامیابی حاصل نہیں کرسکے تھے لیکن مشرقِ وُسطی کے سلسلے میں اُن کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ امریکہ سے مشرقِ وُسطی جانے اور مشرقِ وسطی سے امریکہ آنے والے لوگ پال سے ضرور ملتے تھے۔ ان میں اسکالرز، تاجر، مذہبی لوگ، اور حکومتی اہلکار شامل تھے۔ کسی کانگریس مین کا مشرقِ وُسطی کے حالات میں دلچسپی لینا اُس وقت ایک غیر معمولی بات تھی۔ پال یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ کو مشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو اپنے قومی مفادات کے حوالے سے دیکھنا چاہئے نا کہ اسرائیل یا عربوں کی عینک سے۔ پال سمجھتے تھے کہ اگر امریکہ مشرِق وُسطیٰ میں امن کا مُتلاشی ہے تو اُس کو عربوں کی سیاسی قیادت سے بات چیت کا دروازہ کھُلا رکھنا پڑے گا۔ اسی نکتہ نظر سے وہ یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ کو پی ایل او کے لیڈر یاسر عرفات سے بات چیت کرنی چاہئے لیکن اُس دوران پال کو پتہ چلا کہ ہنری کسنجر جنھوں نے یمن جانے میں اُن کی مدد کی تھی اُن کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف تھا اور اُن کی طرف سے اسرائیل کو یہ یقین دہانی تھی کہ پی ایل او سے سرکاری سطح پر اُس وقت تک رابطہ نہیں ہونا چاہئے جب تک وہ اسرائیل کو بحیثیت ریاست تسلیم نہیں کر لیتی۔ یہ ایک انتہائی سخت مطالبہ تھا جبکہ اسرائیل اپنے پڑوس میں ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا (اور ہے)۔

پال نے یاسر عرفات کے ساتھ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پال کی یاسر عرفات سے پہلی ملاقات جنوری 1978 میں ہوئی تھی جب وہ کانگریس کے اراکین کے ساتھ مشرقِ وُسطیٰ کے دورے پر تھے۔ پال کے مطابق کُچھ کانگریس کے اراکین اپنی اس مُلاقات کو خُفیہ رکھنا چاہتے تھے تاکہ اُن کے حلقے میں موجود اسرائیلی لابی کو اُس کی خبر نہ ہوجائے۔ پال خود فکر مند تھے کیونکہ اس طرح وہ ہنری کسنجر کی بنائی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ لیکن جب پال نے یاسر عرفات سے مُلاقات کی تو اُن کو ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔ عام تاثر کے برعکس عرفات نے انتہائی نرمی سے بات کی اور پال کی بات توجہ سے سُنی۔ پال کو دوسری مُلاقات میں پال یاسر عرفات سے ایک بیان لینے میں کامیاب ہوگئے۔ حالانکہ عرفات نے اُس بیان پر دستخط نہیں کئے تھے لیکن پال کو اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

بیان میں عرفات مغربی کنارے اور غزہ پر مُشتمل خودمُختار فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کی حامی بھری تھی اور ایسا ہونے کی صورت میں تمام مسلّح کاروائیوں کو بند کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی اور اسرائیل کو قبول کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔

پال کے لئے یاسر عرفات کا بیان نہایت حوصلہ افزاء تھا کیونکہ پی ایل او سرِ عام اسرائیل کو صفحہ ہستی سے ہی مٹانے کی بات کرتی تھی۔ یاسر عرفات اپنے اختیار کردہ موقف کے بدلے صدر کارٹر سے مثبت جواب کی اُمید رکھتے تھے لیکن بدقسمتی سے اس بیان کا امریکہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اُس زمانے میں امریکہ نے رابرٹ اسٹراس کو مشرقِ وُسطیٰ کے لئے خصوصی ایئلچی مقرّر کیا تھا جو یہودی ہونے کے باوجود پال کی اسرائیل کے مسئلے پر کی جانے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ لیکن رابرٹ کو صدر کارٹر کی مکمّل پُشت پناہی کبھی نہیں مل سکی۔ حالانکہ پال کے مطابق رابرٹ میں سفارتکاری کی بہترین صلاحیتیں موجود تھی جو اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل میں بڑی مُفید ثابت ہو سکتی تھیں۔ بعد میں رابرٹ نے پال کو بتایا کہ اگر اُن کے بس میں ہوتا تو وہ مہینوں پہلے عرفات سے براہِ راست بات چیت کرتے۔

وقت کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطی کے معاملات کے ساتھ پال کی وابستگی بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ اگست 1979 کی بات ہے جب اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ہیرالڈ سینڈرس نے پال سے رابطہ کیا۔ معاملہ یہ تھا کہ عرفات کے مطالبہ پر کویت اقوامِ مُتحدہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں قرارداد پیش کرنا جارہا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلق کی بنا پر امریکہ اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالتا لیکن ایسا کرنے کی صورت میں عرب ریاستوں کے ساتھ اُس کے تعلُقات خراب ہوجاتے۔ پال نے یاسر عرفات کے ساتھ رابطہ کیا اور اقوامِ مُتحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کو موخر کرنے پر زور دیا کہ ایسا نا کرنے کی صورت میں اُس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بگڑ جائیں گے۔ یاسر عرفات نے اس سلسلے میں پال کی بات مان لی اور کویت سے اقوامِ متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کو موخر کرنے کے لئے کہا۔ نتیجتاً امریکہ سرِعام عرب ملکوں کی مخالفت کرنے سے بچ گیا۔ اُسی ویک اینڈ پر اقوامِ متحدہ کے لئے کارٹر کے سفیر اینڈریو ینگ نے غیر محتاط رہتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پی ایل او کے مبصّر سے اسی مسئلے پر ملاقات کرلی۔ نتیجتاً ینگ کو استعفیٰ دینا پڑا۔

اس کے بعد جلد ہی امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو پال کی ضرورت پیش آگئی۔ اس بار معاملہ تہران میں امریکی ایمبیسی کے اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا تھا۔ پال اور عرفات کی ملاقاتوں کے دوران عرفات نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کیا تھا۔ پال کے خیال میں اگر اس معاملے پر یاسر عرفات انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر اپنا اثر و رسوخ کرتے تو اس سے وسیع بنیادوں امن مذاکرات کا دروازہ کُھل سکتا تھا۔ پال نے عرفات سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے ہیڈکوارٹر میں نہیں تھے۔ پال کی عرفات کے نائب محمود لبادی کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی۔ محمود نے شکوہ کیا کہ پچھلی دفع امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے کے بدلے فلسطینیوں کو کچھ نہیں ملا تھا۔ نہ ہی یاسر عرفات کا شُکریہ ادا کیا گیا تھا۔ لیکن محمود نے پال کا پیغام یاسر عرفات تک پہنچانے کی حامی بھر لی تھی۔ ایک دفعہ پھر یاسر عرفات نے تعاون کیا اور ایران اپنا نمائندہ بھیجا اور سینڈرس کے مطابق فلسطینی نمائندہ نے پہلے گیارہ یرغمالیوں کی کامیابی کے ساتھ رہائی بھی کروائی۔

اس کے لئے کارٹر انتظامیہ نے عرفات کا نجّی طور پر شُکریہ ادا کیا۔ کارٹر انتظامیہ نے میڈیا میں چلنے والی اُن خبروں کا تدارک کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جس میں تہران میں امریکی سفارتی اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے پیچھے پی ایل او کا نام لیا جا رہا تھا۔ جبکہ حقائق اس کے برعکس تھے۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ وانس نے دفتر چھوڑنے سے قبل پال کو بتایا کے تہران کے بحران کے دوران وہ یاسر عرفات اور اُس کے عملے کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں تھے جن کی مدد سے ایران میں یرغمالیوں کو رہا کروانے میں مدد ملی۔

بعد میں پال لکھتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کی کئی غیر رسمی میٹنگز میں اُنھوں نے صدر کارٹر سے یاسر عرفات کے اختیار کردہ مفاہمانہ رویہ کی سرکاری طور پر ستائش کی درخواست کی اور اُنھیں خبردار کیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انتہا پسند قوتوں کو پنپنے میں مدد ملے گی۔ بعد میں پال کو پتہ چلا کہ پی ایل او کے ساتھ اعلانیہ رابطہ استوار رکھنے کی سب سے زیادہ مخالفت نائب صدر والٹر مو ڈیل نے کی تھی۔

پال کے خدشات درست نکلے اور یاسر عرفات کے نائب محمود لبادی، جنھوں نے پال سے امریکہ کے منفی رویے کا شکوہ بھی کیا تھا، یاسر عرفات کا ساتھ چھوڑ دیا۔ لبادی اور اُس کے ساتھ جانے والے لوگوں نے بعد میں یاسر عرفات کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا۔ لبادی اور اُس کے ساتھی سمجھتے تھے کہ اسرائیلی قبضے کو مسلّح جدّوجہد کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ پال کے مطابق یہ افسوسناک صورتحال تھی کیونکہ مسلح جدّوجہد کا اُن کی نظر میں فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ملنا تھا۔

پال فنڈلے مزید لکھتے ہیں کہ 1979 اور 1980 میںاُنھوں نے حتّیٰ الامکان کوشش کی کہ وہ کارٹر انتظامیہ پر زور ڈالیں کہ وہ اسرائیل پر اپنا اثر و نفوز استعمال کرے کہ وہ لبنان پر جاری اپنے حملے روک دے۔ اسرائیل وقفے وقفے سے لبنان کے دیہات حتّیٰ کہ بیروت کے کچھ علاقوں پر بھی بمباری کر رہا تھا۔ اس بمباری میں عام شہری ہلاک ہو رہے تھے جبکہ حملے میں استعمال ہونے والے جہاز اور بم امریکہ کے فراہم کردہ تھے۔ بلآخر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ وانس نے ایک غیر معمولی قدم اُٹھایا۔ اُنھوں نے کانگریس کو باقائدہ رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے اُس امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس کے مطابق امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ اسلحہ صرف دفاع کے لئے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اس کے بعد منطقی طور پر تو امریکہ کو اسرائیل کی ملٹری امداد معطّل کردینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لیکن یہ بھی پہلی دفعہ ہوا تھا کہ امریکہ نے اعلانیہ اسرائیل کی مخالفت میں سرکاری طور پر بیان جاری کیا ہو۔

پسِ پردہ لیکن کارٹر انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا تھا جو اگرچہ بوجوہ زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا۔ لیکن 1980 کے موسمِ سرما میں صدر کارٹر نے ایک سفارتکار اُس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم Menachem Begin کے دفتر اس وارننگ کے ساتھ روانہ کیا کہ اگر لبنان کے خلاف اسرائیلی حملے جاری رہے تو امریکہ کے لئے اسرائیل کی مدد کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ امریکہ کی اس دھمکی کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اسرائیل کے لبنان کے خلاف حملے رک گئے۔

لیکن صدر کارٹر اسرائیل کے خلاف اس پالیسی کو زیادہ عرصہ جاری نہیں رکھ سکے کیونکہ انتخابات قریب آگئے تھے۔ اسرائیل نے لبنان کے خلاف امریکی ہتھیاروں کا استعمال دوبارہ شروع کردیا لیکن کارٹر انتظامیہ نے اسرائیل کے اس عمل پر خاموشی اختیار کی۔ پال فنڈلے نے اس پر احتجاج کی سدا بلند کی لیکن اس دفعہ اُن کی آواز تنہا تھی اور کیپیٹل ہل میں موجود پالیسی سازوں نے اُسے نظر انداز کردیا۔

لیکن پال فنڈلے کی کوششیں مکمل ناکامی سے دوچار نہیں ہوئیں کیونکہ مشرقِ وُسطیٰ کے حوالے سے اب متعدد جگہوں پر اُنھیں بلایا جانے لگا تھا اور امریکی معاشرے کو ایک دوسرا نکتہ نظر سننے کا موقع میسّر آرہا تھا۔ یہ سب ایڈ فرینکلن کی والدہ کے خط کا نتیجہ تھا جس نے پال فنڈلے کی زندگی کا رخ تبدیل کردیا تھا۔

جس وقت پال فنڈلے تنِ تنہا مشرقِ وُسطیٰ کے امن کے لئے کوششیں کر رہے تھے اسرائیلی لابی اُن کی کانگریس سے چھُٹی کرانے کے لئے سرگرمِ عمل ہو چُکی تھی۔ پال فنڈلے نے اپنے حلقے کی اتنی خدمت کی تھی کہ 1978 کے کانگریس کے انتخابات میں پال نے ستّر فیصد (%70) ووٹ حاصل کئے تھے۔ پال کے مخالفین نے اندازہ لگایا کہ خارجہ اُمور میں پال نے جو کردار ادا کیا ہے اُس کو لے کر انتخابات میں پال کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 1979 میں موسمِ خزاں کے آغاز پر ڈیوڈ رابنسن، جو ریاستِ Illinois کی مجلسِ قانون ساز کے سابق ممبر تھے، نے اُس کانگریس کی سیٹ، جو پال کے پاس اٹھارہ سال سے تھی، کے لئے فُل ٹائم مہم شروع کردی۔ پال کے مطابق ڈیوڈ کو اسرائیلی لابی کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ پھر مارچ 1980 کی پرائمری سے تین ماہ قبل ڈیوڈ نیوان جو Illinois کے شہر Quincy کے مشہور ریپبلیکن میئر تھے نے پرائمری انتخابات میں شامل ہوکر انتہائی منظّم انداز میں پال کو چیلنج کیا۔ پال کے مطابق ڈیوڈ نیوسن کو بھی اسرائیل کی حامی پبلک ایکشن کمیٹیوں اور افراد کی پُشت پناہی حاصل تھی۔ ان ساری سرگرمیوں نے پال کی عوامی شہرت کو بہت نقصان پہنچایا اور پال، جنھوں نے 1978 کے انتخابات میں ستّر فیصد ووٹ حاصل کئے تھے، کی ریٹنگ ریپبلیکن کی پرائمری میں گر کر پچپن (%55) فیصد تک آگئی۔

پال لکھتے ہیں کہ وہ سال (1980) اُن کے لئے سرپرائزز کا سال تھا۔ سب سے زیادہ حیرانی پال کو ڈاکٹر آرتھر برنس کے روئیے پر ہوئی۔ آرتھر فیڈرل ریزرو بورڈ کے سابق چیئرمین اور اُس وقت جرمنی میں امریکہ کے سفیر تھے۔ پال نے آرتھر کو پرائمری انتخابات میں پیش آنے والی مُشکلات کے بارے میں بتایا۔ آرتھر نے امریکہ کے لئے پال کی خدمات کی ستائش کی اور پال کی ممکنہ ہار کو امریکہ کے لئے بڑا نقصان قرار دیا۔ آرتھر کے مطابق پال کا دوبارہ منتخب ہونا امریکہ کے لئے بہت ضروری تھا۔ پال نے آرتھر سے درخواست کی کہ وہ یہ سب ایک تعریفی خط کی صورت میں لکھ کر پال کو دے دیں جس کو پال اپنی انتخابی مہم میں استعمال کرسکیں۔

آرتھر سے تعریفی خط لینا پال کا اوّلین مقصد نہیں تھا لیکن جب آرتھر نے پال کی کھلے انداز میں تعریف کی تو پال نے اُن سے خط لینا مناسب سمجھا جو آرتھر کو بلاجھجھک دے دینا چاہئے تھا۔ آرتھر ایک سینیئر ریپبلیکن رہنما تھے اور اُس وقت اُن کا تعریفی خط پال کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا۔ اس سے قبل بھی آرتھر پال کے لئے مختلف تقریبات میں خطاب کرچُکے تھے۔ لیکن آرتھر کا جواب پال کے لئے اُس کٹھن سال کا بڑا تیکھا جواب ثابت ہوا۔ آرتھر نے کہا کہ پال کے پی ایل او کے بارے میں جو خیالات ہیں اُس کی بنا پر وہ اعلانیہ پال کی حمایت کا رسک نہیں لے سکتے۔

پال لکھتے ہیں کہ اس بات سے قبل اُن کو امریکی سیاست میں اسرائیلی نواز لابی کے اثر و نفوز کا ادراک نہیں تھا۔ آرتھر سے پال کی دوستی بیس برس پُرانی تھی اور آرتھر ایک بے باک انسان تھے لیکن یہودی ہونے کے ناطے وہ اپنی لابی کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں مول سکتے تھے۔ آرتھر اپنے خیالات کو صرف اپنی حد تک رکھنا چاہتے تھے۔

اس دوران ڈیموکریٹک امیدوار رابنسن نے یہودی اخبارات میں اشتہاروں کی بارش کردی جن میں پال کو یہودیوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی۔ پال اور ڈیوڈ دونوں نے اپنی انتخابی مہم کے لئے چندہ جمع کیا اور مجموعی طور پر اُس انتخابی مہم پر بارہ لاکھ ڈالر کی لاگت آئی جو اُس وقت تک کی Illinois کی سب سے مہنگی مہم تھی۔ پال کے مخالف ڈیوڈ کی انتخابی مہم چلانے کے لئے نیویارک، کیلیفورنیا، اور دوسری ریاستوں سے یونیورسٹیوں کے طلباء آئے۔ پال کے مطابق اُن کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے گئے۔ ایک دفعہ وہ خارجہ تعلقات کی شکاگو کاؤنسل کی دعوت پر خارجہ پالیسی پر گفتگو کر رہے تھے کہ کسی نے پکارا کہ ہال میں بم کی اطلاع ملی ہے۔ وہاں پر موجود پانچ سو کا مجمع بھاگ کھڑا ہوا۔ بعد میں پولیس نے اسٹیج پر موجود بڑے پیانو میں ایک پائپ دریافت کیا جس پر ببل گم چپکا دی گئی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد پال ڈیٹرائیٹ، مشّی گن میں ریپبلیکن کنونشن میں مدعو تھے تو رابنسن کے حامیوں نے پال کے خلاف وہاں مظاہرہ کیا۔ اُن کا نعرہ تھا؛
“Paul, Paul, he must go. He supports the PLO.”

پال مزید لکھتے ہیں کہ اُس وقت امریکی صدر ریگن کی صدارتی مہم بھی جاری تھی جس میں ریگن نے اسپرنگ فیلڈ جو پال کا آبائی علاقہ تھا کا بھی دورہ کرنا تھا۔ اسپرنگ فیلڈ کا دورہ کرنا اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ وہ پہلے ریپبلیکن صدر ابراہم لنکن کا بھی ہوم ٹاؤن تھا اور اس ناطے ریپبلیکن کا گڑھ تھا۔ اس لئے جب ریگن اسپرنگ فیلڈ آتے تو پال کا موجود ہونا قدرتی بات تھی لیکن ریگن کے نیویارک کے آرگنائزر نے ریگن کو خبردار کیا کہ اگر ریگن نے پال کے ساتھ قربت اختیار کی تو ریگن نیویارک کو کھو دیں گے۔ اس لئے ریگن کی انتخابی مہم کے ارکان نے اس بات کو یقینی بنایا کہ جب ریگن اسپرنگ فیلڈ کے علاقے کا دورہ کریں تو پال کو ریگن کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا جائے۔

اسرائیلی لابی کے اثرات کا سامنا پال کو ایک اور دفعہ اُس وقت کرنا پڑا جب اُنھوں نے اپنی انتخابی مہم کے ایک ایونٹ کے لئے ہالی وڈ کے مشہور اداکار باب ہوپ کو خطاب کے لئے مدعو کیا۔ اس سے قبل باب ہوپ نے دوسری جنگِ عظیم، کوریا کی جنگ اور ویتنام کی جنگ میں اپنے اختیار کردہ موقف پر شدید دباؤ کا سامنا کیا تھا اور اپنے موقف پر قائم رہے تھے۔ باب کے ساتھ پال کے عرصہ دراز سے تعلقات تھے۔ باب نے شرکت کی حامی بھر لی۔ لیکن ابھی کُچھ ہی دن گُزرے تھے کہ پال کے عملے کے ایک رکن کو باب کے مینیجر وارڈ گرانٹ کی ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس میں گرانٹ نے بتایا کہ پال کے ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کے لئے باب پر بہت پریشر ہے اتنا کہ باب کا وکیل جو جو پینتیس (35) برس سے باب کا وکیل تھا اُس نے باب کو پال کے ایونٹ میں شرکت کرنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی۔ پال نے باب سے براہِ راست بات کرنے کی بہت کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکیں۔

رابطہ نہ ہونے کی صورت میں پال نے باب کو ایک خُفیہ خط لکھا جس میں اُنھوں نے مشرقِ وُسطیٰ میں امن کے لئے کی جانے والی کوششوں میں اپنے کردار کی وضاحت کی جس میں اُنھوں نے یاسر عرفات اور رابرٹ اسٹراس میں تعلقات پیدا کئے تھے۔ پال نے بتایا کہ چونکہ یہ امریکہ کی غیر اعلانیہ پوزیشن ہے اس لئے وہ اس کا عوامی فورم پر کھُل کر اظہار نہیں کرسکتے۔ لیکن اُن کے خط کا باب نے کوئی جواب نہیں دیا نہ ہی اُن کی فون کالز ریسیو کی گئیں۔

اس دوران پال کو ایک خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب رابرٹ اسٹراس، جو خود یہودی تھے اور ایک نامور ڈیموکریٹ تھے، نے پال کی مدد کی حامی بھری۔ پال نے رابرٹ اسٹراس کو اپنی انتخابی مہم میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا۔ رابرٹ نے کہا کہ وہ خود باب سے بات کریں گے اور باب کو پال کی پوزیشن کے بارے میں بتائیں گے۔ لیکن اسرائیلی لابی اپنا کام دکھا چُکی تھی۔ اور عین اُس وقت جب پال کے ایونٹ کے تقریباً تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے تھے پال کے لئے یہ بہت بڑا دھچکہ تھا۔ باب کی جگہ پال نے ایک اور کانگریس مین کو خطاب کی دعوت دی اور خوش قسمتی سے صرف ایک شخص نے ٹکٹ کی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی لابی کے اثرات پال نے اُس وقت بھی محسوس کئے جب سابق امریکی صدر فورڈ نے پال کی انتخابی مہم کے ایونٹ میں شرکت کی حامی بھری لیکن پھر کسی اور مصروفیت کا بہانہ بنا کر شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ پال اس صورتحال کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ پال نے فورڈ کے ساتھ سولہ (16) سال کام کیا تھا جبکہ فورڈ کانگریس میں ریپبلیکن کے لیڈر آف دی ہاؤس تھے۔ اور اب جبکہ ایک ریپبلیکن کانگریس مین اپنے دوبارہ انتخاب کی مہم چلا رہا تھا تو فورڈ کا اخلاقی فرض بنتا تھا کہ وہ اُس کی مدد کریں۔ بلآخر جب فورڈ کا پال سے رابطہ ہوا تو فورڈ نے بھی وہی کہانی سنائی کہ اُن کا مسئلہ پال کے پی ایل او اور یاسر عرفات کے ساتھ تعلقات ہیں۔ فورڈ نے پال سے کہا کہ ایک دن قبل ہی ریگن نے کارٹر پر پی ایل او کو دہشت گرد تنظیم قرار نہ دینے پر شدید تنقید کی تھی۔ اس لئے ریگن کی انتخابی مہم چلاتے ہوئے اگر وہ پال کی حمایت کریں گے تو اُن پر سوالات اُٹھائے جائیں گے اس لئے وہ پال کی حمایت کا رسک نہیں لے سکتے۔

ان پے درپے دھچکوں اور ملک بھر میں اپنے خلاف مہم چلنے کے باوجود پال %56 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پال سمجھتے تھے کہ اُنھوں نے بدترین دور کا سامنا کرلیا ہے۔ لیکن ہوا کُچھ یوں کہ 1981 کے اواخر میں وفاقی عدالت نے اُن کے انتخابی حلقے سے متعلق ایک پیٹیشن کا فیصلہ سناتے ہوئے اُس حلقے کی حدود میں ردّوبدل کا حکم دیا۔ اس کے نتیجے میں پال کے حامی علاقے اُس حلقے سے نکل گئے۔ اُسی وقت امریکی معیشت بھی کساد بازاری کا شکار ہوگئی اور اُن کے نئے حلقے میں بیروزگاروں کی بڑی تعداد بستی تھی اس کے علاوہ غیر مطمئن کسان تھے۔

دو سال بعد پھر انتخابات تھے اور اس بار ڈیموکریٹ کی طرف سے رچرڈ ڈربن اُمیدوار تھے جو ایک تجربہ کار اور معروف شخصیت تھے۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ ریگن کے لوگ اس دفعہ پال کے حمایتی تھے، اس کے علاوہ نائب امریکی صدر جارج بُش نے بھی پال فنڈلے کی انتخابی مہم میں حصّہ لیا حالانکہ اُن سے بھی پال کی اسرائیل مخالف پالیسیوں کی شکایت کی گئی تھی۔ اِدھر پال کے مخالف امیدوار رچرڈ ڈربن کی اسرائیلی نواز لابی نے حمایت کرنی شروع کردی۔ اس پر ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے امریکی حمایتی ایک بار پھر پال فنڈلے کے خلاف انتخابی مہم میں مالی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

اس بار پال کی قسمت میں فتحیاب ہونا نہیں لکھا تھا۔ اور پال 1407 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ یہ فرق ڈالے گئے ووٹوں کے ایک فیصد سے بھی کم تھا۔ پال کی ہار میں اسرائیلی لابی کا بھی اثر تھا۔ الیکشن کے کچھ دنوں بعد امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر تھامس اے۔ ڈائن نے ایک یہودی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی آف الّی نائے کے 150 طلباء سے گلیوں میں کام کرنے اور گھر گھر پال کے مخالف کا پیغام پہنچانے کا کام لیا گیا اور اس نے خاطر خواہ اثر دکھایا اور پال کی شکست کا سامان پیدا کیا۔ تھامس نے مزید بتایا کہ ڈربن کی انتخابی مہم پر ساڑھے سات لاکھ (750,000$) ڈالر کا خرچہ آیا تھاجس میں سے اندازاً چھ لاکھ پچّاسی ہزار (685,000$) ڈالر کی فنڈنگ یہودیوں نے کی تھی۔

پال کے خیال میں اُن کو کانگریس کی نشست سے محروم کرنے کی مہم کا آغاز 1979 کے اوائل میں ہی ہوگیا تھا جو مسلسل چار سال تک جاری رہا۔ پال کے کئی ساتھیوں نے پال کو بتایا کہ اُنھوں نے پال کے خلاف ایک منظم مہم محسوس کی۔ پال کے ایک ساتھی کے بقول پال کی شکست 1982 میں نیویارک کی ایک بڑی لاء فرم کے پارٹنرز کا مشترکہ مقصد تھا۔

پال لکھتے ہیں کہ کانگریس میں بائیس سال گزارنے کے بعد شکست اُن کے لئے مایوس کُن تھی لیکن وہ متذبذب تھے کہ اُنھوں نے ایسا کیا کیا تھا جو اسرائیلی لابی اُن کو ہرانے کے درپے ہوگئی تھی کیونکہ ایک دو مواقع پر اسرائیل کی مخالفت کرنے اور مڈل ایسٹ میں امن کوششوں میں حصّہ لینے کے باوجود پال نے ہمیشہ کانگریس میں اسرائیل کی مالی اور فوجی مدد کی حمایت کی تھی۔ پال کانگریس کے 435 ممبران میں سے ایک تھے اور خارجہ اُمور کی نو رکنی کمیٹی کے ممبر تھے۔ کیا اتنے سارے لوگوں میں اسرائیل کو ایک آواز بھی ایسی ناقابلِ برداشت تھی جو اسرائیل کے کسی معاملے میں اختلاف کرتی۔ اس صورتحال نے پال کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں پر بھی اسرائیلی لابی اسی طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ پال نے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی اور نتیجہ ساڑھے تین سو (350) کے قریب صفحات پر مشتمل اس کتاب کی صورت میں نکلا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: