پیسہ اہم ہے یا فیملی ‎۔۔۔۔۔۔۔ بشارت حمید

0
  • 39
    Shares

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیسہ زندگی کی ایک بہت اہم ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں روزگار کی عدم دستیابی کا مسئلہ ہے وہیں روزگار کیلئے مناسب عملی تربیت کا شدید فقدان ہے۔ ہمارا نقل اور سفارش زدہ بوسیدہ تعلیمی نظام جن طلباء کو ڈگریاں جاری کر رہا ہے انکو معاشرے میں عملی زندگی کے بارے کوئی رہنمائی نہیں دی جاتی۔ اس وجہ سے یہ ڈگریاں ردی کے ٹکڑے سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں کر پاتیں۔ پھر ہمارے ہاں قناعت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے لوگ ایک دوسرے سے دولت جمع کرنے کے مقابلے، بے جا نمود و نمائش اور زیادہ سے زیادہ جائیدادیں بنانے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں تو زندگی سے سکون اور اطمینان رخصت ہو جاتا ہے۔ جب یہاں رہتے ہوئے بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کی فرمائشیں پوری نہیں کر پاتے تو پھر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستانی روپے کی کم قیمت کی وجہ سے باہر کی تھوڑی کمائی بھی کنورٹ ہو کر زیادہ بن جاتی ہے اور یہی چیز ہمیں باہر رہ کر کام کرتے رہنے کیلئے تحریک دینے کا سبب بنتی ہے۔

اگر تو کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے تو اسے اچھی جاب ملنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے جس کے ساتھ اسے فیملی ویزہ اور رہائش بھی مل جاتی ہے لیکن دوسری طرف جو ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ لوگ بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں اور اکیلے طویل عرصہ تک باہر رہتے ہیں انکی زندگی جس نفسیاتی اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اس کا اندازہ پیچھے رہ کر ان کی کمائی پر عیاشی کرنے والے لوگ نہیں کر سکتے۔ اگر تو کوئی شخص اپنے بیوی بچوں کو ساتھ رکھتا ہے تو پھر معاملہ ٹھیک رہتا ہے لیکن اکیلے باہر رہنا اور بیوی بچوں کا پاکستان میں رہنا جو مسائل پیدا کرتا ہے ان کا خمیازہ بندے کو تب بھگتنا پڑتا ہے جب ساری جوانی بچوں کے مستقبل کیلئے پیسے کمانے کی راہ میں جھونک کر وہ مستقل وطن واپسی کی راہ لیتا ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ جن کے لئے اپنا آپ برباد کیا جن کی سب فرمائشیں پوری کرنے میں خود روکھی سوکھی کھائی وہ اب اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ کیونکہ اب اے ٹی ایم بند ہو چکی ہے اور سال ہا سال بیرون ملک گزار کر واپس دیسی ماحول میں ایڈجسٹ ہونا یہاں کوئی کام دھندا شروع کرنا اور اس میں کامیاب ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

باہر طویل عرصہ گزارنے والے جب یہاں ہر کام میں رشوت سفارش اور لاقانونیت کا غلبہ دیکھتے ہیں تو انکی سانسیں پھول جاتی ہیں اور شدید مایوسی انکا منہ چڑانے لگتی ہے۔ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کس راہ پر چلیں تو کامیاب ہوں گے۔ الٹا انکے پاس جو جمع پونجی ہوتی ہے اس پر قریبی رشتہ دار اور یار دوستوں کی نظریں لگی ہوتی ہیں اور یہ لوگ ان سے کسی نہ کسی بہانے پیسے اینٹھنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ اکثر واپس آنے والے لوگ ماحول میں ایڈجسٹ نہیں کر پاتے اور اپنے پیسے غلط جگہ لگا کر گنوا بیٹھتے ہیں ۔۔ کچھ لوگوں‌کو یہ صورتحال دوبارہ دیار غیر کا مسافر بنا دیتی ہے تو کچھ ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔جب ان کے ہاتھ کچھ نہیں رہتا تو پھر وہ بیوی بچے جن کے مستقبل کیلئے خود کو برباد کیا تھا وہ بھی لفٹ نہیں کرواتے کہ انکے حصے کی محبت بھی پیسے کمانے کی نذر کر چکے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ لوگ نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی الجھنوں میں گھر جاتے ہیں۔

یہ تو ہے اس مسئلے کا معاشی پہلو۔اب آئیے ذرا دوسرے پہلو پر بھی بات کر لی جائے۔ میاں بیوی کا تعلق محبت، عزت اور جذبات پر منحصر ہوتا ہے۔ آپس کی محبت اور قرب ہی اس تعلق کو مضبوط تر بناتا ہے۔ پھر ایک دوسرے کی جسمانی ضروریات جن سے لمبے عرصے تک دوری اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا وہ بھی صرف میاں بیوی کے رشتے میں بندھے ہوئے مرد و عورت آپس میں پوری کر سکتے ہیں۔ اگر شوہر دو سال چار سال بیوی سے دور رہتا ہے صرف چار پیسے زیادہ کمانے کیلئے تو یہ ضرورت کیسے پوری ہو سکتی ہے۔۔۔ میں سب کو الزام نہیں دیتا لیکن اکثر یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرد اور عورت اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے اس ضرورت کیلئے غلط راہ پر چل نکلتے ہیں یا اپنے جذبات کو اتنا دبا لیتے ہیں کہ پھر ایک دوسرے کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر کوئی یہ کہے کہ وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود اکیلا رہتے ہوئے اتنا لمبا عرصہ پاک دامنی سے گزار سکتا ہے تو موجودہ انٹرنیٹ کے دور میں وہ یا تو اللہ کا ولی ہے یا پھر غلط بیانی کر رہا ہے۔

اگر نئی شادی ہونے کے چند دن بعد شوہر باہر چلا جاتا ہے تو بیوی سسرال کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ اس کے خواب اور ارمان بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ ایک نئی زندگی کی خوشیاں حاصل ہونے کی بجائے وہ چار سو حرکت کرتے سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ میں آ جاتی ہے جو اسکی ہر کمی کوتاہی کو مرچ مصالحے لگا کر شوہر تک پہنچانا ثواب دارین سمجھتے ہیں اور اس کی حیثیت کام والی بے تنخواہ کی ماسی کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ زندگی سکون کی بجائے عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔ اور اگر الگ گھر میں بیوی چھوٹے بچوں کے ساتھ رہتی ہو تو شوہر اور باپ کی عدم موجودگی میں پیچھے بیوی اور اولاد کو جو کھلی چھوٹ ملی ہوتی ہے اور جس انداز میں بچے باپ کی تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں یہ چیز اولاد کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح اپنی خواہش سے مجبور ہو کر بیویاں بھی کوئی راستہ ڈھونڈ لیتی ہیں۔ اگرچہ سب ایسی نہیں ہوتیں لیکن اکثر ایسا ہی ہوتا نظر آتا ہے۔ جب بندہ چھٹی پر آتا ہے تو چند دنوں کے بعد بیوی اور بچے اپنے معمولات ڈسٹرب ہو جانے کی وجہ سے تنگ پڑنے لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بندہ واپس کام پر چلا جائے۔ اور اگر کہیں وہ بندہ مستقل طور پر واپس آ جائے تو پیچھے کے حالات و واقعات دیکھ کر اور سن کر یا تو خود نفسیاتی مریض بن جاتا ہے یا پھر بیوی بچوں کے اسے قبول نہ کرنے کی وجہ سے در بدر ہو جاتا ہے۔ تب سوچنے اور پچھتانے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

جنسی جذبہ انسانی فطرت کا ایک منہ زور تقاضہ ہے۔ کوئی بھی صحت مند مرد یا عورت اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ دور خلافت راشدہ میں اسلامی فوج کے سپاہیوں کی گھر سے لمبے عرصے کی دوری پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لازم قرار دیا تھا کہ ہر سپاہی کو چار ماہ کے بعد لازمی چھٹی دے کر گھر بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے فطری تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ وہ لوگ اصحاب رسول تھے جو ہم جیسے گنہگار اور دنیا دار لوگوں سے کہیں افضل مقام پر ہیں اور وہ اللہ کی راہ میں جہاد پر نکلتے تھے ہماری طرح پیسے کمانے کی غرض سے نہیں۔ لیکن فطری تقاضوں کو جائز راستے سے پورا کرنے کیلئے انہیں بھی چار ماہ بعد لازم کیا گیا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹیں۔ اور ہم سال ہا سال دور رہ کر پارسائی کے دعوے کریں تو بات سمجھ میں نہیں آتی۔

زندگی میں سب کچھ پیسہ ہی نہیں ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اس پیسے کی خاطر ہم اپنی بھرپور جوانی میں‌ اپنی بیوی کا ساتھ اور بچوں کے سر سے اپنا سایہ اپنے جیتے جی چھین کر انہیں ایک لحاظ سے یتیمی کی کیفیت میں دھکیل کر انکا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک بنا رہے ہیں۔ ہاں اگر آپ اس لیول کے تعلیم یافتہ یا ہنر مند ہیں کہ بیوی بچوں کو اپنے ساتھ بیرون ملک رکھ سکتے ہیں تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ورنہ آخری عمر میں واپس آ کر سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: