عمران کو ووٹ دیا تھا یا الہٰ دین کا چراغ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود

0
  • 60
    Shares

خدا کے بندو تم نے عمران کو ووٹ دیا تھا یا الٰہ دین کا چراغ؟ اگر الٰہ دین کا چراغ اس کے ہاتھ میں دے آئے تھے تو شکوہ واجب ہے کہ کہ وہ اس چراغ کو رگڑتا کیوں نہیں کہ ایک جن حاضر ہو اور پوچھے کیا حکم ہے میرے آقا؟ اور عمران مسکرا کر اسے کہے: جائو، معاشی بحران حل کرنے کے لیے قومی خزانے کو ڈالروں سے بھر دو۔ لیکن اگر آپ نے اسے الٰہ دین کا کوئی چراغ نہیں تھما رکھا، صرف ووٹ دیا ہے تو پھر اتنی بے تابی کیسی؟

عمران خان کے پاس الٰہ دین کا کوئی چراغ ہے نہ عمرو عیار کی کوئی زنبیل کہ وہ کھڑے کھڑے ملک میں ڈالر کی ریل پیل کر دے۔ اس پر کوئی حکم اس کی پالیسیوں کی روشنی میں لگے گا۔ اس جرم میں نہیں کہ وہ کوئی جادو کر کے کیوں نہیں دکھا دیتا۔ عقیدت اور تعصب کا معاملہ الگ ہے اور دیانت کا الگ۔

عقیدت عمران کی غلط پالیسی کا بھی دفاع کرتی ہے اور تعصب اس کے اچھے اقدام کی تعریف بھی نہیں کر پاتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عمران کی پالیسیوں کا جائزہ اکثر انہی دو نفسیاتی کیفیات کے تحت لیا جا رہا ہے۔ دیانت سے اگر معاملہ کیا جائے تو جہاں عمران پر تنقید بنتی ہے وہیں اس کی تعریف بھی لازم ہے۔ عمران خان سے غلطیاں بھی ہوئیں اور ان سطور میں، کوئی لحاظ کیے بغیر ان پر بات کی گئی۔

عمران خان کی ٹیم ٹھوس معاشی پروگرام دینے میں ناکام نظر آئی۔ یوں محسوس ہوا اسد عمر کے پاس بلند بانگ دعوے تو بہت تھے مگر تیاری نہیں تھی۔ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اولین مرحلے میں عوام پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا جس نے غریب آدمی کو کچل کر رکھ دیا۔ اسد عمر کی کوئی تیاری ہوتی تو عوام کو اس بلا سے بچایا جا سکتا تھا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ کہانی میں ایک اور باب بھی ہے۔

اندر کی خبر میرے پاس نہیں ہوتی، دستیاب خبروں پر کفایت کریں تو معلوم ہوتا ہے عمران اسد عمر پر خفا بھی ہوئے اور یہ خبر بھی ہم نے سنی کہ معیشت کو اب وہ خود بھی دیکھ رہے ہیں۔ گویا انہوں نے یہ بات تسلیم کر لی کہ معیشت ایک سنجیدہ عمل ہے اسے محض اسد عمر پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ حکومت معیشت پر عوام کو اعتماد میں نہ لے سکی۔

ایک کمیونیکیشن گیپ پیدا ہوا اور اس نے غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی۔ حکومت کے ترجمان جب بھی میڈیا پر آئے کشتوں کے پشتے لگا دیے مگر عوام کو کسی نے اعتماد میں نہ لیا کہ معیشت کس رخ پر جا رہی ہے۔ حتی کہ خود اسد عمر نے بھی اس کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔ اس سے ہیجان کی کیفیت پیدا ہوئی۔ لیکن اب معاملات کچھ قابو میں آتے دکھائی دے رہے ہیں اور احساس پیدا ہو رہا ہے کہ بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

ایک الجھن یہ تھی کہ حکومت کبھی کہتی ہے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا، ہم دوست ممالک کے پاس جائیں گے ،پھر کہتی ہے ہم آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں اور چند روز بعد کہا جاتا ہے شاید ہم آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں۔ اس پر حکومت کی بھد اڑا دی گئی اور سوشل میڈیا پر اسے سینگوں پر لے لیا گیا۔ لیکن جناب اسد عمر نے کسی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اس سے اضطراب پیدا ہوا کہ یا تو حکومت کو کہیں سے مالی امکانات دستیاب نہیں ہو رہے، ہر کوئی انکار کر رہا ہے یا پھر اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کس سے معاملہ کرنا ہے۔ یہ وضاحت بھی عمران خان کو کرنا پڑی۔ عمران خان نے وضاحت سے بتایا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے لیکن معاملات کو حتمی طور پر طے کرنے سے پہلے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دوست ممالک سے بات ہو اور ہمیں ان سے کچھ رقم مل جائے۔

جب ہم دوست ممالک سے بات کر کے دیکھ لیں گے کہ ہماری کتنی ضرورت پوری ہو چکی ۔ہم باقی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے معاملہ کریں گے۔ اور ہو سکتا ہے کہ دوست ممالک سے اتنی رقم مل جائے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی نہ پڑے۔ عمران خان کی اس وضاحت سے پہلے جو بات مجموعہ تضادات لگ رہی تھی، وہ ایک حکمت عملی بن کر سامنے آئی۔ یہی وضاحت وزیر خزانہ اسد عمر نے کر دی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

اب عمران خان کا سعودی عرب کا دورہ کامیاب ہوا ہے اور سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کا تیل تین سال کے لیے ادھار پر دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ادائیگیوں کا توازن بہتر بنانے کے لیے مزید تین ارب ڈالر پاکستان کو دے گا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ سعودی عرب سی پیک میں خاصی بھاری سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے اور اگلے سال کے اختتام تک قریبا دس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ چھ ارب دالر کا معاملہ تو فوری طور پر حل ہوا۔

یو اے ای اور چین سے کچھ امکانات اگر حقیقت کا روپ دھار لیں تو سمجھیے آپ کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ موجودہ حالات میں کیا یہ معمولی کامیابی ہے؟ عمران کی مخالفت کسی کی نفسیاتی گرہ بن چکی ہو تو معاملہ الگ ہے ورنہ اس سوال کا جواب نفی میں نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

عمران خان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ الٰہ دین کا چراغ رگڑ کے راتوں رات تبدیلی لے آئے اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ درست سمت میں درست پالیسیاں لے آئے۔اسد عمر کی خاموشی سے تاثر پھیلا کہ حکومت کے پاس ٹیکس اور مہنگائی کے علاوہ کوئی پلان نہیں۔

یہ تاثر دورہ سعودی عرب سے زائل ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ معاشی پالیسیوں میں خیر کا پہلو بھی موجود ہے اور حکومت کی ایک سمت بھی ہے۔ سخت معاشی فیصلے بھی برداشت کیے جا سکتے ہیں اگر سمت درست ہو۔ سوال وہی ہے: آپ نے عمران کو ووٹ دیا تھا یا الٰہ دین کا چراغ؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: