بے چہرگی کا آسیب۔ اقبال خورشید

0

یہ صدیوں پرانی حکایت ہے، جو صدیوں سے دہرائی جارہی ہے:
سرسبز وادیوں میں ایک شانت ندی بہتی تھی۔ وہ گھنے پیڑوں کے ساتھ ساتھ چلتی۔ ندی کے کنارے ایک گیانی بیٹھا کرتا۔ دانش اُس کی کامل مسکراہٹ اور آفاقی اطمینان میں پوشیدہ تھی۔ قرب و جوار میں اُس کی دانائی کا چرچا تھا۔
اور پھر موسم خزاں کے وسط میں ایک مضمحل نوجوان کی منظر میں آمد ہوئی۔ وہ شکستہ حال شخص میلوں کا سفر طے کرکے وہاں پہنچا تھا۔ وہ دُرویش کی راہ نمائی کا آرزو مند تھا کہ اُس کی زیست بکھر گئی تھی۔
اُس نے ندی سے پانی پیا۔ اور ایک بڑے سے پتھر کو اپنی نشست بنایا۔
راہب کو اس کی موجودی کا ادراک ہوا۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ اسے متوجہ پا کر نوجوان نے اپنی بپتا کا آغاز کیا، جو طویل، دُکھ بھری اور کھردری تھی۔ مدد کا تقاضا کرتی تھی۔
گیانی توجہ سے سنتا رہا۔ جب نوجوان کہہ چکا، تو وہ گویا ہوا۔ ’’بلاشبہہ تمھارا قصّہ غم آگیں ہے۔ مجھے دُکھ ہوا، مگر اب یہ کہانی ماضی کا حصہ ہے۔ ایک گزر چکا واقعہ۔ سوال یہ ہے کہ اب تمھیں کس راستے پر جانا ہے، تمھاری منزل کیا ہے؟‘‘
نوجوان کے چہرے سے شکست خوردگی عیاں تھی۔ وہاں تذبذب تھا، الجھن تھی۔ اُس نے سرد آہ بھری۔ ’’میں نہیں جانتا۔ میں راستے سے لاعلم ہوں۔ نہ میرے پاس کوئی مقصد ہے، نہ منزل۔‘‘
’’اگر تمھارے پاس کوئی مقصد نہیں میرے فرزند۔‘‘ گیانی نے تاسف سے سر ہلایا۔ ’’تو سفر ترک کر دو۔ منزل کا تعین کیے بغیر سفر بے کار ہے۔‘‘
تو یہ ایک قدیم زین روایت ہے، جو چینی بُودھوں میں بے حد مقبول ہے۔ وہ اِسے دہراتے آرہے ہیں، صدیوں سے۔
گوتم بدھ کی بابت پڑھتے، سوچتے اور لکھتے سمے گیانی اور نوجوان کی اِس حکایت سے کئی بار سامنا ہوا، اور ہر بار میرے ذہن کے پردے پر خلفشار کی شکار اِس ریاست کا نقشہ گھوم گیا کہ یہ دانش بھری تمثیل ہمارے مرض، ہمارے مسائل کی دُرست عکاسی کرتی ہے۔
کیسا المیہ ہے۔ ہم مضمحل نوجوان کے مانند تاحال نہیں سمجھ سکے کہ ہمیں کس سمت جانا ہے۔ ہماری منزل کیا ہے۔ چھے عشرے بیت گئے، پر ہم ہنوز متذبذب ہیں۔ بے مقصدیت اور بے چہرگی نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔
ابتری سی ابتری ہے۔ تضاد ہی تضاد ہے۔ ایک جانب ہم دہشت گردی کے واقعات کو بیرونی سازش قرار دیتے ہیں، دوسری جانب اِن واقعات کی ذمے داری قبول کرنے والوں سے مذاکرات کرتے ہیں۔ طالبان کا طرز زندگی اپنانا نہیں چاہتے، اور روشن خیال نظریات کو لادینیت کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ ملا کو فسادی بھی قرار دیتے ہیں، اور اس کے اشارے پر سڑکوں پر بھی نکل آتے ہیں۔ قدیم طرز زندگی اور جدید طرز حیات کی بابت ہم گمبھیر الجھن کا شکار ہیں۔
بدنصیبی ملاحظہ فرمائیں۔ ہم تاحال یہ طے نہیں کرسکے کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے یا وہ یہاں اسلامی نظام کے خواہاں تھے۔ پاکستان کا مطالبہ مذہبی تھا یا معاشی۔ ہر تھوڑے عرصے بعد دائیں بازو کے چند نام نہاد دانش وَر انکشافات بھرے کالم لکھ دیتے ہیں، اور چند نام نہاد روشن خیال دانش وَر دلائل سے لیس میدان میں کود جاتے ہیں۔ تماشا لگ جاتا ہے۔
افسوس، ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری منزل جمہوریت ہے یا آمریت۔ ہم مارشل لا کو خلاف آئین کہتے ہیں، مگر آمروں کو سر پر بٹھاتے ہیں۔ جمہوریت کو سراہتے ضرور ہیں، مگر پارلیمنٹ کی تحلیلی پر مٹھائی بھی بانٹتے ہیں۔
ہم جھولیاں بھر بھر کر مغرب کے زوال کی دعائیں مانگتے ہیں، اور اُسی کی ٹیکنالوجی کے سہارے اپنے شب و روز گزارتے ہیں۔ حصول علم سے متعلق احادیث بیان کرتے ہیں، مگر یونیورسٹیاں تعمیر نہیں کرتے۔ اردو کو قومی زبان کہتے ہیں، مگر دفاتر میں اُسے برتنے سے انکاری ہیں۔ انگریزی کو فرنگیوں کی دَین ٹھہراتے ہیں، اور اپنے بچوں کو انگریزی اسکول میں پڑھانے پر فخر کرتے ہیں۔ پاکستانی فلمیں دیکھنا نہیں چاہتے، اور ہندوستانی فلموں کی نمایش پر پابندی کے مطالبے کرتے ہیں۔ ہندوستان کو دشمن گردانتے ہیں، اور اسی سے تجارتی معاہدے کر لیتے ہیں۔ نئے صوبے بھی چاہتے ہیں، اور دھرتی کی تقسیم کے بھی خلاف ہیں۔ ’’ٹوئٹر‘‘ پر سیاست کرتے ہیں، ’’یو ٹیوب‘‘ پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ جاگیر داروں، وڈیروں کو ایوانوں میں پہنچا دیتے ہیں، اور دودھ جلیبی بیچنے والا صدر بن جائے، تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔
بھلا کون سا غم اِس غم آسا ہوگا!
ہم ہنوز خود کش حملوں کی بابت واضح مؤقف اختیار نہیں کرسکے۔ اُنھیں حرام بھی قرار دیتے ہیں، اور جائز بھی سمجھتے ہیں۔ کبھی اِس جنگ کو اپنی جنگ کہتے ہیں، کبھی امریکا کی۔ حکیم اﷲ محسود ہلاک بھی ہے، اور شہید بھی۔
بدقسمتی کا کیسا گھنا بادل ہے۔ ہم صحرائوں میں بھٹک رہے ہیں۔ اور قطب نما کھو چکا ہے۔
ہم یک سر لاعلم ہیں کہ ہم اگلے دس سال بعد خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم افغانستان کے حال میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں، یا ترکی کے ترقی کرتے طرز زندگی کو رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ ایشین ٹائیگر بننا چاہتے ہیں، یا اسلامی قلعہ۔
خواہش مند ہیں کہ پاکستانی ادب ترقی کرے، مگر اپنے ادیب کو عزت دینے کے روادار نہیں۔ ہم کتاب کو زندگی کی کلید کہتے ہیں، مگر اُسے خریدنا گوارا نہیں کرتے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہمارا کلچر کیا ہے۔ پاکستان آزاد ہونے کے بعد پاکستانی ثقافت کا نعرہ لگ گیا۔ کوئی پوچھے، جناب، کیا تقسیم سے پہلے آپ بے ثقافت تھے۔ اور پھر ثقافت تو صدیوں میں پروان چڑھتی ہے، یہ کوئی مسجد تو نہیں کہ چند ماہ میں کھڑی ہوجائے۔
بین الاقوامی آئینے میں ہم بے چہرہ ہیں۔ جسے دنیا قبول کرے، ہم اُسے رد کرتے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کی بابت ہم بدترین تذبذب کا شکار ہیں۔ شرمین عبید چنائے کی آسکر ایوارڈ یافتہ ڈاکومینٹری پر ہم نے خوب شور مچایا۔ نہ جانے اور بھی کتنی مثالیں ہیں۔ یہ قصّہ طولانی اور اُکتا دینے والا ہے۔
اِس صورت حال کا سبب کیا ہے؟ علم سے دوری یا نرگسیت؟ رائے عامہ کے مفاد پرست نمایندے یا پھر وہی پرانا راگ؛ بیرونی سازش؟
ہماری کوئی منزل نہیں۔ بس کہرا ہے، تاریکی ہے۔
اِس مسئلے کا حل کھوجنے کے لیے ہمیں وادیوں میں بہتی ندی تک جانے کی ضرورت نہیں، جہاں پیڑ تلے ایک گیانی آسن جمائے بیٹھا ہے۔ ہمیں تو بس اپنی منزل کا تعین کرنا ہے۔ تذبذب سے باہر آنا ہے۔ اور یہ نیٹو سپلائی روکنے، قرضے دینے، آمروں کے احتساب اور جلسے جلوسوں سے زیادہ اہم کام ہے۔
اپنی اگلی نسل کو بے چہرگی وارثت میں دینے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے ہاتھ سے اُسے قتل کر دیں۔
اور شاید ہم یہی کر رہے ہیں!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: