افغان، پٹھان اور پاکستان: خوگرِحمد سے تھوڑا سا گِلہ بھی سن لے ۔۔۔۔۔۔۔ عبد الطیف آرائیں

0
  • 78
    Shares

افغان دوستوں کے موقف میں بہت تضاد ہے۔ یہ پاکستانی پختون بھائیوں کو خود سے کمتر گردانتے ہیں اور ان کو حقارت آمیز القاب سے پکارتے ہیں اور جب پاکستانی پختون اپنے وطن پاکستان سے محبت کا اظہار کرتا ہے تو اس عمل کو اسلامی اخوت کے خلاف قرار دے کر اس کی مذہبی حمیت کوچیلنج کرتے ہیں۔ ارے افغان دوستو جب آپ خود جارحانہ افغان قوم پرستی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دشنام طرازی کرتے ہیں تب آپ کا اسلامی بھائی چارہ کہاں ہوتا ہے کیاآپ کے خیال میں پاکستان میں مسلم نہیں رہتے ؟

دوسرا مدعا افغانستان میں مداخلت کا۔ مجھے تسلیم کہ ایک وقت میں پاکستان اپنے دفاع اور آپ کے تحفظ کے لئے اس عمل میں شریک تھا اور میری خوش گمانی کہتی ہے پاکستان کا یہ عمل مخلصانہ تھا اس کا ثبوت پاکستان نے 30 لاکھ افغانوں کی باضابطہ اور 20 لاکھ کی غیر اندراج شدہ میزبانی پچھلے 41 سال سے کر کے دیا ہے ۔ یہ افغان مہاجرین بےشک ہمارے بھائی ہیں یہ کمزور سہی مگر محنتی اور عزتدار ہیں ہاں ان کی آڑ میں چند ہزار بدبخت افغانوں نے پاکستان کو اسلحہ ، منشیات اور اسمگلنگ سے بھر کر پاکستان بھر کو بالعموم اور پختون بیلٹ کو بالخصوص تباہ و برباد کیا ہمارے معاشرتی ڈھانچے اور سوشل فیبرک کو ناقابلِ تلافی نقصان دیا اس کے باوجود پاکستان جیسی غریب قوم اپنے محدود وسائل سے اپنےافغان بھائیوں کی اب بھی اعانت کر رہی ہے۔ اور آپ بھول گئے کہ آپ کو روس کی غلامی میں جانے سے بچانے کے لئے ہزاروں پاکستانیو نے آپ کے شانہ بشانہ اپنی جانوں کا نذرانہ اسی اسلامی اخوت کے تحت پیش کیا اور ان میں پنجابی اتنی زیادہ تعداد میں تھے کہ آپ ہر پاکستانی کو پنجابی ہی سمجھا اور کہا کرتے تھے۔ ایسا نہ ہو کہ مورخ افغانوں کو احسان فراموش لکھے۔

تیسرا یہ کہ آپ افغانستان میں صرف ایک کروڑ پچیس لاکھ ہو جبکہ پاکستان میں پشتون ساڑھے چار کروڑ ہیں تو پختونوں کا واضح وطن پاکستان ہے نہ کہ افغانستان۔ چوتھا یہ کہ آپ افغانستان میں مسلسل پسپا ہو رہے ہو اور شمالی اتحاد آگے بڑھ رہا ہے ، کابل آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور آپ مسلسل پاکستانی بارڈر کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف سمٹ رہے ہو ۔ افغانستان کی فوج ، پولیس اور بیوروکریسی پر شمالی اتحاد کا غلبہ ہے اور آپ غیر موثر ہو چکے ہو۔

جبکہ اس کر برعکس پاکستان میں پختون آگے بڑھ رہے ہیں ۔آبادی صرف اٹھارہ فیصد ہے لیکن فوج میں نمائندگی 36 فیصد ہے اور سینیٹ آف پاکستان میں 35 فیصد ، اس کے ساتھ دو صوبوں کے پی کے اور بلوچستان کے دارالحکومت پشتون شہر ہیں جبکہ سندھ کا دارالحکومت کراچی دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر ہے اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا سارا بڑا کاروبار پختونوں کے پاس ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں تمام بڑے شہروں بشمول اسلام آباد اور راولپنڈی میں پورے عزت و وقار کے ساتھ پختون آبادکاری اور خوشحالی کا عمل جاری ہے لہذا پختونوں کا مستقبل پاکستان ہی ہے اور آپ انہیں گمراہ نہیں کر سکتے۔

پانچواں یہ کہ اب پاکستان افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنی قومی ترجیحات پر توجہ دینا چاہتا ہے لیکن جب آپ ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کو اپنی گود میں بٹھا کر ہمارے وجود کے خلاف سازشوں میں اس کی مدد کرو گے تو آپ ہمیں اپنی بقاء کی جنگ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں پھر خواہ اس جنگ کا میدان کوئی بھی ہو گلہ نہ کیجئے گا۔

چھٹا یہ کہ میں ایک پنجابی پاکستانی ہوں لیکن اگر انڈیا کی طرف سے کوئی پنجابی ہمارے پاکستان پر گولی چلائے گا تو میرے پاس اس کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے نہ ہی کوئی بہانہ۔

ساتواں آپ کو افغان میزبانی بھی یاد دلا دوں کہ جب متحدہ ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے دوران علماء نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر وہاں سے ہجرت کا فتویٰ دیا تو ہزاروں مسلمانوں نے افغانستان کو دارالاسلام سمجھ کر افغانستان کی طرف ہجرت کی جہاں کی حکومت نے تو ان کو دھتکارا ہی اور افغانوں نے ان کی مہمان نوازی اس طرح کی کہ ہزاروں مسلمان مردوں کو قتل کر دیا ان کا مال اسباب لوٹ لیا اور عورتوں اور بچوں کو پامال کر دیا اور آپ دیں گے ہمیں مہمان نوازی کے طعنے۔

آٹھواں یہ کہ ہندو دشمنی میں ہم نے افغانستان سے آنے والے ہر مجاہد اور چور ڈاکو لٹیرے کو بھی اپنے سر آنکھوں پر بٹھایا اور اپنا ہیرو قرار دیا اور اس کو طاقت مہیا کی لیکن چند کے علاوہ آپ نے ہمیں ہی تاراج و برباد کیا اور آپ ہمیں ملی اخوت کا درس دیں گے۔

نواں یہ کہ اگر آپ کی غیرت زیادہ ابال کھا رہی ہے تو اہنے افغان ہم وطن مہاجرین کو واپس بلا کر پاکستان سے ملنے والی سرحد پر دیوار اٹھا لیں اگر نہیں تو ہم یہ دیوار ضرور بنائیں گے تا کہ آپ کی سازشوں سے اپنے ہم وطنوں کو محفوظ بنا سکیں۔

نہیں جناب کہیں تو آپ کو بھی رکنا ہو گا اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا اور جہاں تک رہی زبان کی بات تو قطر بھی عرب ہے اور سعودیہ اور یمن بھی اور شام بھی اور عراق بھی زبان اگر وجہِ قرار ہوتی تو یہ سب آج بےقرار نہ ہوتے اور لبنان میں تو عیسائی , یہودی ، مسلمان سب ہی عرب تھے پھر کیوں لڑتے رہے۔ امریکہ بھی انگریز تھا اور برطانیہ بھی پر انگلش زبان امریکہ کو برطانیہ سے آزادی کی جنگ لڑنے سے نہیں روک سکی۔ اپنے گھر کو ٹھیک کیجئے اپنی پسماندہ معاشرت اور اندرونی تضادات کی خرابیوں کا ملبہ پاکستان پر مت انڈیلئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: