ایک وزیر اعظم ایسا بھی تھا —– سید مظفر الحق

1
  • 84
    Shares

موجودہ حکومت منتخب ہے یامنظور نظر، یعنی elected ہے یا selected یہ توایک اختلافی اور کچھ لوگوں کا نفسیاتی مسئلہ ہے جس کے لئے کہا جاسکتا ہے:
” فکر ہر کس بقدرِ ہمّتِ اوست”

لیکن ایک وزیر اعظم ایسا بھی گزرا ہے جس کے سلیکٹڈ ہونے میں کوئی دو رائے نہیں، جس کی سیاسی جماعت بھی نوزائدہ تھی اور جو ملک گیر سطح پہ مقبول بھی نہیں تھا اور اسے سلیکٹ کرنے والا ایک بہت طاقتور وردی پوش صدر تھا۔

لیکن اس وزیرِاعظم میں بس یہ خوبی تھی کہ وہ خود غرض لالچی، اقربا پرور اور دولت کا پجاری نہیں تھا۔ اس کے دامن پہ کرپشن کے بد نما داغ نہیں تھے اور وہ فطرتاً جمہوریت پسند تھا اس نےجمہوریت کا چولا پہن کر ذاتی اور خاندانی آمریت کو رائج نہیں کیا۔

اس لئے اس نے کبھی اختیارات کی کمی کا عذر پیش کیا نہ ہی اپنی کوتاہیوں کو خلائی مخلوق سے موسوم کیا، اسے اسٹیبلشمنٹ نامی ان دیکھی مخلوق کا بھی کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ وہ زمین زاد تھا اور زمین پہ پاؤں رکھتا تھا اسے یہ خوف نہیں تھا کہ اس کے پاؤں کے نیچے سے قالین کھینچ لیا گیا تو خاک چاٹنی پڑے گی۔

اس سیلیکٹڈ وزیر اعظم نے جسے پاکستان تاریخ کے طاقتور ترین وردی پوش صدر نے نامزد کیا تھا۔
اس شخص نےاس پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کو منسوخ کیا جسے بھٹو اپنے منشور میں ہونے کے باوجود منسوخ کرنے سے منکر ہوگیا تھا۔
اس نے بھٹو کے زمانے سے نافذ ہنگامی حالات کو ختم کر کے بنیادی حقوق بحال کئے۔
جس نے غیر جماعتی انتخاب میں منتخب ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کا احیا کیا۔
جس نے اپنی بدترین سیاست مخالف پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کو بیرونِ ملک سے واپس آنے اور جلسے جلوس کے لئے تمام رعایتیں اور سہولتیں فراہم کیں، جس نے اپنے ایک وزیر پہ الزام عائد ہونے پہ اسے بلا جھجھک کابینہ سے نکال باہر کیا، جس نے اپنے اقتدار بخشنے والے جرنیل اور فوج سے خوفزدہ ہوئے بغیر جنرلوں کو بڑی بڑی پر تعیش کاروں کے بجائے چھوٹی سوزوکی کاروں میں بیٹھنے پہ مجبور کردیا۔

جس نے افغانستان میں روس کے پرخچے اڑانے کے منصوبہ ساز جنرل کے شدید دباؤ کے باوجود اس کی خواہش کو روندتے ہوئے افغان مسئلے کے امریکی حل کو تسلیم کرتے ہوئے جینیوا کانفرنس میں شرکت کی اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی شاطروں اور طالع آزماؤں کو ایک میز پر بٹھا کر اپنے محسن وردی پوش حکمراں کو جمہوریت کی زہر آلود تیغ سے گھائل کیا۔

اسٹیبلشمنٹ،خلائی مخلوق اور جنرلوں کو اپنی برہنگی اور ناطاقتی کا ذمہ دار ٹہرانے والے بدعنوان بزدل اور بدکردار اپنا موازنہ محمد خان جونیجو سے کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ ہاں کھڑے ہیں اور ان کی کہہ مکرنیوں کی کیا حیثیت ہے۔

اور پھر اسی جمہوریت پسند، با کردار اور صلح جو وزیر اعظم کو اس کی اپنی سیاسی پارٹی کے میر جعفر نے پشت میں چھرا گھونپ کر ایسا مجروح کیا کہ اس کی سیاسی طاقت زائل اور خود اعتمادی دھڑام سے نیچے آگری وہ شکستہ اعصاب اصول پسند اور وضعدار شخص کی صحت جواب دینے لگی اور بیرون ملک علاج کے دوران دم توڑ گیا۔

کیا اب بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ صالح فطرت وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھا، اسے وزیراعظم نامزد کرنے والا فوجی حکمراں جنرل ضیا الحق تھا اور اس نے جس جماعت کو حیاتِ نو بخشی اس کا نام مسلم لیگ تھا جو اب اتفاق فونڈری میں ڈھل کر مسلم لیگ نواز کہلاتی ہے اور محمد خان جونیجو کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا بروٹس اس کی پارٹی کا پنجاب کا سربراہ نواز شریف تھا۔
یہ تاریخ کا وہ باب ہے جسے کوئی ہیں یاد کرتا کیونکہ اس کے آئینے میں موجودہ سیاسی لیڈروں کو اپنا بھیانک چہرہ نظر آتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ،خلائی مخلوق اور جنرلوں کو اپنی برہنگی اور ناطاقتی کا ذمہ دار ٹہرانے والے بدعنوان بزدل اور بدکردار اپنا موازنہ محمد خان جونیجو سے کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ ہاں کھڑے ہیں اور ان کی کہہ مکرنیوں کی کیا حیثیت ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: