تسطیر’ 5‘ ایک مکمل ادبی گلدستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 113
    Shares

ادبی جریدے تسطیر کا تازہ شمارہ نمبر پانچ اپنی تمامتر روایات اور دلچسپیوں کے ساتھ منظر عام پر آ گیا۔ سات سو صفحات کے ضخیم شمارے کے لیے بہترین اور معیاری ادبی تحریروں کی فراہمی کے لیے مدیر نصیر احمد ناصر قارئین کی بھرپور ستائش کے مستحق ہیں۔ جبکہ صوری و معنوی حسن سے مزین تسطیر کی بروقت اشاعت کے لیے بک کارنر جہلم کے گگن شاہد اور امر شاہد قابلِ داد ہیں۔ عمدہ اشاعت و طباعت سے آراستہ اس شمارے کی آٹھ سو روپے قیمت بھی انتہائی مناسب ہے۔

تسطیر نے سرورق کے اندرونی صفحے پر ٹائٹل کے مصور سے متعارف کرانے کا اچھا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس مرتبہ سرورق کی مصورہ ماہ نور اسد ہیں۔ جو کہتی ہیں کہ ’’میں اردو زبان پر عبور نہ ہونے کا اعتراف کرتی ہوں۔ والدہ کے ہاتھ میں تسطیر دیکھ کر اس کاٹائٹل پینٹ کرنے کو دل چاہا۔ مجھے نصیر احمد ناصر صاحب کی شخصیت کا دھیماپن بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے نیشنل کالج آف آرٹس سے گریجویشن کی ہے۔ میر ا اصل موضوع پینٹنگ ہے۔ جس میں میں نے ڈسٹنگشن لی ہے۔ شاید یہ میرے مرحوم والد اسد ملک کی طرف سے لاشعور یا جینز میں شامل تھا۔ اسی لیے میں نے آرٹ اور پینٹنگز کو اپنا کیریئر بنایا۔ میں اس فیلڈ میں نو آموز ہوں۔ تسطیر کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز سے کم نہیں۔ حال ہی میں ست رنگ آرٹ گیلری سرینا میں میری پینٹنگز کی مشترکہ نمائش بھی ہوئی ہے۔‘‘

ایک نو آموز مصور کو اس طرح سے متعارف کرانا تسطیر کا بہت اچھا اقدام ہے۔ سرورق کی تصویر اور پس ورق کی تصاویر سے ماہ نور اسد کی روشن مستقبل کی جھلک نظر آتی ہے۔

حمد و نعت کے بعد اس بار مہمان اداریہ صنوبر الطاف نے ’ہم ادب تخلیق کیوں نہیں کرتے؟‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے بجا طور پر ایک اہم مسئلہ کی نشاندہی کی ہے۔ ’’کیا ہمارے ہاں ایسی کتابیں ہیں جو نئے لکھنے والوں کے لیے بطورِ خاص فائدہ مند ہوں؟ ایسی کتابیں جو اس امر پر روشنی ڈالیں کہ لکھنے والے کو کب، کیا اور کیسے پڑھنا چاہیے؟ جن میں اچھی نثر، اچھی تنقید لکھے کے لیے رہنما اصول ہوں۔ کیا تخلیقی سرگرمی اور تخلیقی عمل کے حوالے سے کچھ نصابی کتابیں ترتیب دی گئی ہیں؟ ہمارے کورسز میں کتنے ایسے عملی مضامین ہیں جو طالب علموں کو تخلیق کی طرف راغب کر سکیں؟ کیا ہم ہائی اسکول اور کالج کی سطح پر کری ایٹو رائٹنگ، پوئٹری اور پروزرائٹنگ، کمیونیکیشن اسکل وغیرہ قسم کے عملی مضامین پڑھاتے ہیں؟ ان سب سوالوں کا جواب ابھی تک تو نفی میں ہے۔ ہمیشہ سے ہی ہم سنتے آئے ہیں کہ جس نے لکھنا ہے اس کو پڑھنا چاہیے لیکن اس بات کا جواب آج تک کسی نے نہیں دیا کہ کیا پڑھنا چاہیے؟ ایک نظم نگار کو کیا پڑھنا چاہیے؟ کیا اسے اپنی خدا داد صلاحیت اور تخیل پر بھروسا کرنا چاہیے؟ وہ اسلوب، تکنیک اور موضوع کے حوالے سے مدد کہا سے لے؟ چلیں تکینک کو تو چھوڑیں لیکن وہ فکری بالیدگی جو تکنیک اور اسلوب کو پختہ بناتی ہے وہ کہاں سے آئے گی؟ سچ تویہ ہے کہ ہمار ے پاس نئی نسل کے لیے ایسی کوئی سہولت نہیں ہے۔ سنجیدہ لکھنے والے خود اپنی کوشش اور ہمت سے ہی سیکھتے ہیں۔‘‘

صنوبر الطاف نے بہت کارآمد نکتے کی نشاندہی کی ہے۔ اس پر غور اور ایسی کتب اور مضامین کی اشاعت کا اہتمام بھی ہونا چاہیے۔ جو نئے منصفین اور شعراء کی رہنمائی کر سکیں۔ تسطیر چار میں مدیر نصیر احمد ناصر کے اداریے ’اردو نظم اور تیسری لہر‘ پر ڈاکٹر رشید امجد اور ڈاکٹر غافر شہزاد کا رد عمل بھی اس شمارے میں شامل ہے۔ جس میں موضوع کو مزید واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر غافر شہزاد کہتے ہیں کہ ’’جدید اردو نظم موضوعی نہیں رہی جدید نظم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گلوبل ولیج بن جانے والی دنیا کو ایک بڑے اجتماعی فنامنا کے طور پر سمجھے اور پیش کرے۔ آنے والے برسوں میں پانی اور ایندھن کی حسب ِضرورت دستیابی انسان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ جغرافیائی حد بندیاں بظاہر قائم ہیں مگر ان کے مفہوم بدل گئے ہیں۔ اس سبب سے وطنیت کا بیسویں صدی کا تصور تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگیں، ہتھیار اور جنگ کی وجوہات بدل گئی ہیں۔ انسان کی انفرادی زندگی اور اس کی پرائیویسی کا تصور تبدیل ہو گیا ہے۔ اب اپنے کمرے میں تنہا رہ کر بھی وہ ساری دنیا سے رابطے میں ہے۔ ذرائع ابلاغ کی بے شمار صورتوں نے اسے پل پل خبر دینے کا سامان کر رکھا ہے۔ عالمی سطح پر جمالیات اور جیومیٹری کے مشترکہ معیارات نے اس کو انتخاب کا وسیع میدان دیا ہے۔ ذاتی صلاحیتوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال نے خودی اور انسانی عظمت کے تصور کو تہس نہس کر دیا ہے۔ تخلیقی کام انفرادی ہوتا ہے۔ اس انفراد پر اجتماع کا کیا اثر پڑتا ہے اور اس تخلیقی اظہار کی کیا نئی حسیات تشکیل پاتی ہے؟ آج کی نظم کا اہم سوال ہے۔ اس نئی نظم کے لیے ایک نئی زبان کی تشکیل کی ضرورت ہے جس کا محاورہ تمام زبانوں میں ایک جیسے معنی رکھتا ہو۔ عالمی سطح پر ہونے والے بڑے بڑے مظاہر کو الگ سے سمجھنے لگیں گے تو کنفیوژن اور بڑھے گا۔ اسی لیے نئی نظم کا تناظر بہت وسیع کرنا پڑے گا۔ ہمارے خطے کے ادب اور اردو نظمیہ شاعری کی یہی تیسری لہر ہے، جس کا مطالبہ نصیر احمد ناصر نے اداریے میں کیا ہے۔‘‘

پرچے میں لمسِ رفتہ کے زیرِ عنوان حال ہی میں عالمِ جاودانی کوچ کرنے والے مصنفین کا ذکرِ خیر ہے۔ بھارتی ادیب اور دانشور شمس الرحمٰن فاروقی نے ’عرفان صدیقی کی غزل ‘مختصر اور جامع تعارف کرایا ہے۔ نیر مسعود نے جن کے بارے میں کہاتھا کہ ’’آپ سے جو لوگ بھی واقف ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ سے بہتر شاعر اس وقت ہندوستان، پاکستان میں موجود نہیں ہے، لیکن آپ کا نام اتنا مشہور نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود کہا تھا۔

تم بتاتے تو سمجھتی اسے دنیا عرفان
فائدہ عرضِ ہنر میں تھا ہنر میں کیا تھا

عتیق اللہ نے ’فضیل جعفری اور لحنِ شور انگیز‘ کے نام سے فضیل جعفری اور ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان میں ہمیں بھارتی ادیبوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔ اس مضمون سے قاری کو فضیل جعفری کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع میسر آتا ہے۔

محمد حمید شاہد نے مشہور مترجم محمد عمر میمن کی یادوں کو ’محبت اور مراسلت کے دس سال‘ میں تازہ کیا ہے۔ اردو اور عالمی ادب میں خطوط کا بڑا اہم مقام ہے۔ کیونکہ کوئی ادیب جو بات اپنی تحریر میں نہیں کہہ پاتا وہ ذاتی خطوط میں کھل کر بیان کر دیتا ہے۔ پینتالیس صفحات کی اس طویل مراسلت میں دلچسپی کے بہت سامان موجود ہیں۔ نوجوان افسانہ نگار اور ناول نگار رفاقت حیات نے ’کامریڈ ادیب یوسف حسن مرحوم کی چند یادیں‘ میں لکھا ہے کہ ’’یوسف صاحب کو اپنے ہم عصروں پر ایک سبقت حاصل رہی کہ وہ جس سماجی اور معاشی نظام پر یقین رکھتے تھے، اس کے نفاذ کی خاطر انہوں نے عملی جدوجہد بھی کی۔ انہیں نے مزدوروں، کسانوں، طالب علموں میں سماجی اور طبقاتی شعور پیدا کرنے کے لیے عملی کوششیں کیں۔ وہ ہمیشہ ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ بہت سے ادیبوں شاعروں کے لیے ترقی پسندی اور مارکسی فکر محض ایک ذہنی اور تخلیقی سرگرمی رہی لیکن یوسف صاحب کے لیے یہ فکر ایک مکمل نظریہ حیات تھی۔ اسی لیے انہوں نے اپنی پوری عمر اس نظریے کے لیے وقف کر دی۔ ہمارے معاشرے میں ایسے صاحبانِ فکر و عمل کم یاب نہیں نایاب ہو چکے ہیں۔‘‘

مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر نے بھی یوسف حسن صاحب کو مختصر مضمون ’منافع کی معیشت میں خسارے کا آدمی میں یاد کیا ہے۔ یاسمین رشیدی نے بھارتی مصنف، شاعر اور مدیر زبیر رضوی کی نظم ’بارش اور کینوس‘ کا تجزیہ کیا ہے۔ لمس ِ رفتہ کا آخری مضمون ’زبانِ یارِ من یوسفی‘ میں امر شاہد نے مشتاق احمد یوسفی کا ذکرِ خیر خوبصورتی سے کیا ہے۔

انٹرویوز میں اس بار محمدنعیم الرحمٰن کی مشہور شاعر جلیل عالی سے گفت گو کافی دلچسپ اور فکر انگیز ہے۔ جبکہ ڈاکٹر عظمٰی سلیم نے نذیر قیصر اور ابصار عبد العلی سے ادیبوں کا بچپن کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

سفر نامے میں سلمٰی اعوا ن کا ’تین چوہیاں گھرسے نکلیں‘ کے دلچسپ عنوان سے تحریر مصنفہ کے منفرد انداز کی اچھی تحریر ہے۔ جبکہ عرفان شہود نے اپنے نئے طرز کے سفر نامچوں میں اس بار ’سسی کا شہر بھنبھور اور دیبل کا قلعہ‘ ، ’بحیرہ عرب کا جمالِ رندانہ‘ ، ’جسر ریلوے اسٹیشن، گرداس پور کا آخری موڑ‘ ، ’حویلی سردار جوالا سنگھ اِن پڈھانہ‘ اور ’کوٹ ڈیجی۔ صحرائی رسم الخط‘ لیکر آئے ہیں۔ اور حسب ِسابق ان کی سفر نامچے دلچسپ اور ریڈایبل ہیں۔ عرفان شہود کے سفر نامچے ’سیپ‘ کے تازہ شمارے میں بھی شائع ہوئے ہیں۔

تسطیر کے تازہ شمارے میں افسانوی حصہ ڈیڑھ سو صفحات پر محیط ہے۔ جس میں نئے پرانے تینتیس افسانہ نگاروں کی تخلیقات کو جگہ دی گئی ہے۔ سینئر لکھاریوں میں رشید امجد کا ’سمٹنے کی تمنا‘ ناصر بغدادی کا ’ایک ہی منزل‘ سمیع آہوجا کا ’اکویریم‘ مشرف عالم ذوقی کا ’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتاہے‘ محمد الیاس کا ’وصال ِسرمدی‘ اس شمارے کے بہترین افسانے ہیں۔ ناصر بغدادی منفرد افسانہ نگار ہیں۔ ان کا بہت عمدہ ادبی جریدہ ’باد بان‘ ادب کا قارئین کو اب تک یاد ہے۔ کاش ناصر بغدادی باد بان کی اشاعت ِنو شروع کر دیں۔ ان کے ساتھ بشریٰ اعجاز، منزہ احتشام گوندل، شاہین کاظمی، طارق بلوچ صحرائی کے افسانے بھی یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔ مجموعی طور پر تسطیر کا افسانوی حصہ بہت بھر پور اور جاندار ہے۔

افسانہ نما کے زیر عنوان عائشہ اسلم ملک ’گوتم سے مکالمہ‘ اور ثمینہ اشرف ’ایک طوائف کی خود کلامی‘ لے کر آئی ہیں۔ جبکہ مائیکرو فکشن کے محرک سید تحسین گیلانی ’بندہء خدا‘ اور ’تہی دست‘ دو تحریریں اور حمیدراجہ ’لڑکی اور بوڑھا کتب فروش‘ کے ساتھ شامل ہیں۔ سید تحسین گیلانی نے حالیہ چند برسوں میں مائیکرو فکشن پر بہت کام کیا ہے۔ اور ان کا ادبی کتابی سلسلہ ’انہماک‘ بھی دورِ جدید میں تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے اسی فکشن کے فروغ کا علم بردار ہے۔

افسانوں کی مانند شعری مواد بھی بہت بھرپور ہے۔ دور حاضر میں اردو نظم کے صفِ اول کے شاعر نصیر احمد ناصر کی زیرِ ادارت حسبِ معمول تسطیر کا حصہ نظم منفرد اور شاندار ہے۔ طویل نظموں میں حارث خلیق کی ’سلاطین‘ فرخ یارکی ’پہلی پوہڑی‘ بشریٰ اعجاز کی ’گوندل بار کی بیٹی‘ سلطان ناصر کی ’اپنے فراق میں‘ عمار اقبال کی ’ایڈگر ایلن پو کا کوا‘ اور سدرہ افضل کی نظم ’صادقین‘ اپنی اپنی جگہ خوب سے خوب تر کی ترجمانی کرتی ہیں۔ جبکہ حصہ نظم ستر سے زائد صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ جس میں اکیاون شعراء کی ایک سو تیس تخلیقات موجود ہیں۔ گلزار کی دل چھو لینے والی مختصر نظم ملا حظہ کریں۔

روز کسی فٹ پاتھ پہ رات کو
چاک سے لاش کا خاکہ کھینچ کے
اروند اُس پر سو جاتا تھا
روز صبح پھر اٹھ کر ہنستا تھا، کہتاتھا
کل پھر اپنی لاش سے باہر آن گرا میں کروٹ لے کر
آج کا دن پھر جینا ہو گا
جب سے اس کو مورگ میں لے جا کر رکھا ہے
خاکے سب فٹ پاتھ پہ کروٹ لیتے ہیں!

امجد اسلام امجد کی نظم ’حُسن ہی سچ ہے‘ کی چند خوبصورت لائنیں

حسن اور سچائی خود کفیل ہوتے ہیں
خود ہی لوحِ منزل ہیں
خود ہی اپنے رستوں کے سنگِ میل ہوتے ہیں
مسئلہ نہیں ان کو دوسری گواہی کا
آپ اپنے ہونے کی یہ دلیل ہوتے ہیں
اُن کو کیا بناوٹ سے، ان کو کیا سجاوٹ سے
جن کا روپ ذاتی ہو جو اصیل ہوتے ہیں

فکر و فلسفہ میں دو مضامین شامل ہیں۔ ظفر سپل کا تو نام ہی فلسفہ کے بارے میں اچھی تحریر کی ضمانت ہے۔ ہر ادبی جریدے میں ان کی تحریر کا انتظار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی فلسفی روسو کے بارے میں معلومات سے بھر پور مضمون پیش کیا ہے۔ روسو کے اعترافات دو صدیاں گزرنے کے باوجود اب بھی دنیا کی کسی نہ کسی زبان میں ترجمہ ہوتے رہتے ہیں۔ آپ بیتی میں اپنے بارے میں تلخ سچائی بیان کرنے کا آغاز روسو سے ہی ہوا ہے۔ ظفر سپل نے مضمون میں روسو کے ہم عصر والٹیئر سے اختلافات کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جو معلومات افزا ہے۔ مضمون کے آخر میں روسو کی زندگی کا مختصر گوشوارہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ فرحت ظفر نے چینی فلسفی ’کنفیوشش‘ کے بارے میں عمدہ مضمون پیش کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’کنفیوشش ازم ایک مثالی مذہب تھا۔ لیکن وہ بین الاقوامی حیثیت حاصل نہ کر سکا۔ اس میں کچھ تصورات مبہم تھے جیساکہ آخرت کے بارے میں اس نے کوئی وضاحت نہیں دی۔ کہتا تھا کہ جو بھی ہے بس یہی زندگی ہے۔ سزا اور جزا اسی دنیا میں ہے۔ کنفیوشش خدا کو مانتا تھا۔ اس کی وحدانیت کا دیوانہ تھا۔ لیکن مذہب کے کئی پہلووں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے چینی باشندے کنفیوشش ازم کے ساتھ تاؤ مت اور بدھ مت بھی اپنانے لگے۔ لیکن اب بھی کنفیوشش ازم کے پیروکار چین، کوریا اور جاپان میں پائے جاتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں کنفیوشش ازم چھٹے نمبر پر ہے۔‘‘

نقد و نظرکے تحت تبسم کاشمیری نے ’نیرودا، شاعروں کاشاعر‘ ، ناصر بغدادی نے ’گوئٹے کی خود نوشت، تجزیاتی مطالعہ‘ اور ڈاکٹر سعادت سعید نے ’سر سید احمد خان کی علمی نہج‘ پر عمدہ مضامین پیش کیے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال آفاقی نے مرزا اطہر بیگ کے منفرد اور بے مثال ناول ’غلام باغ‘ کا بھر پور تجزیہ کیا ہے۔ طویل مضمون میں ناول کے اسلوب، کرداروں اور موضوع کا بہت عمدگی سے جائزہ لیا ہے۔ جسے پڑھ کر ناول اگر نہیں پڑھا تو پڑھنے اور اگر پڑھا ہے تو دوبارہ مطالعے کی تحریک ہوتی ہے۔ ایسے عمدہ مضامین فروغِ مطالعہ کے لیے سود مند ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فیصل نے ’اسد محمد خان کے ترجمہ کردہ افسانوں کا تقابلی جائزہ‘ لیا ہے اور ڈاکٹر قیصر زمان نے ’سلطان اختر کی شاعری‘ پر اظہارِ خیال کیا ہے۔

ایک اور عمدہ مضمون محمد عباس کا ’ماڈل ٹاؤن کے افسانے‘ ہے۔ جس میں عابد حسن منٹو اور تسنیم منٹو کے صاحبزادے بلال حسن منٹو کے اولین افسانوی مجموعے کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مضمون سے ادیب، دانشور اور افسانہ نگار والدین کے بیٹے بلال حسن منٹوکے افسانوں کا عمدہ تعارف ہوتا ہے۔

اختر شمار نے منفرد شاعر بیدل حیدری کا خوبصورت خاکہ ’بیدل حیدری استاد شاعر‘ لکھا ہے۔ جس میں ان کی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’بیدل حیدری فنی اعتبار سے واقعتاً استاد کے درجے پر فائز تھے۔ وہ خود خیام الہند سید جلال الدین حیدر دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے ایک تھے۔ حیدر دہلوی دلی کے اساتذہ سخن کی آخری شمع تھے۔ وہ اکثر استاد حیدر دہلوی کا ذکر کرتے۔ ان کے بارے میں بہت سے واقعات انہی کی زبانی سننے کو ملے۔ خانیوال سے جب ٹرین کراچی جاتی ہے تو سبھی مسافروں کے پاس کراچی کے ٹکٹ نہیں ہوتے، کسی کے پاس ملتان کا ٹکٹ ہوتاہے کوئی لودھراں بہاولپور اتر جاتا ہے کوئی رحیم یار خان صادق آباد ہر مسافر کی اپنی منزل ہوتی ہے۔ بیدل حیدری کہتے کہ شاعری کی بھی ایک منزل ہے۔ کہتے فلاں کے پاس بہاولپور کا ٹکٹ ہے ایک نوجوان کے بارے میں ان کا فرمانا تھا کہ یہ جس عمر میں ہے، یہی بوڑھا ہو جائے گا۔‘‘

تراجم کے حصے میں ہندی کے آنجہانی افسانہ نگار نرمل ورما کے افسانے ’پرندے‘ کا بہت اچھا ترجمہ عامر صدیقی نے کیا ہے۔ کئی اور اچھے تراجم بھی اس حصے میں موجود ہیں۔ تسطیر کے حصہ غزل میں نئے پرانے اکتالیس شعراء کی اکسٹھ تخلیقات شامل ہیں۔ جن میں جہاں اساتذہ ظفر اقبال اور جلیل عالی کا عمدہ کلام ہے۔ وہیں کئی ابھرتے ہوئے نوجوانوں نے بھی اپنے کلام سے اپنے بہتر مستقبل کی جھلک دکھائی ہے۔ پرچے میں حسب ِمعمول سندھی ادب اور بچوں کے ادب کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ جبکہ دیر آیدکے تحت بھی چند عمدہ تحریروں کو شامل کیا گیا ہے۔
غرض مجموعی طور پر تسطیر پانچ بہترین ادبی تحریروں کا ایک ایسا گلدستہ ہے۔ جسے شائقینِ ادب اپنی لائبریری کی زینت بنانا پسند کریں گے۔ ایک مکمل ادبی گلدستہ تیار کرنے پر نصیر احمد ناصر کو بھر پور مبارک باد۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: