معاشرتی امن اور مکالمہ ۔۔۔ باسط حلیم

1

خاص فلسفہ زندگی کو ماننا، خاص مذہب پر چلنا، فکر اور اظہارِ رائے کی آزادی انسان کے بنیادی حقوق میں سے ہیں انسانی بنیادی حقوق کو ملکی قانون اور معاشرے کے اخلاقیات سلب نہیں کرسکتے۔

مذہب اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بغیر دنیا میں امن ممکن نہیں، جدید دنیا مداہنت پسندی میں امن تلاش کررہی ہے، مگر مداہنت پسندی خود فساد کی مولد ہے۔ مداہنت پسندی کو سمجھنے کے لیے معاشرتی طبقات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 

۱۔ انتہا پسندی

 انتہا پسندی سے مراد زندگی کی جس تعبیر کو میں درست سمجھتا ہوں وہی صحیح ہے دیگر تصوراتِ حیات غلط ہیں اور اگر زندہ رہنا ہے تو میری تعبیر کو ہی درست مان لیا جائے۔

۲۔ مداہنت پسندی

مداہنت پسندی سے مراد اپنے اختیارکردہ فلسفہ زندگی کو درست ماننا، تقارب و ہم آہنگی بین المسالک و بین المذاہب کے لیے دیگر نظریاتِ حیات کو بھی صحیح کہہ دینا، بالفاظ دیگر تم بھی صحیح ہم بھی صحیح، مشترکہ مجالس میں ایک دوسرے کے مذاہب کے محاسن و مشتراکات بیان کرنا وغیرہ 

۳۔

حقیت پسندی

تیسرا طبقہ حقیقت پسند ہے یعنی جس نظریہ حیات کو  مانتا ہے صرف اسے درست سمجھتا ہے اور مخالف نظریہ سے متعلق کُھل کر مدلل بات کرتا ہے۔

یہ تینوں رویے مذہبیین سیکولرز اور لبرلز میں یکساں طورپرپائے جاتے ہیں۔ انتہا پسندی تو بالاتفاق فساد ہے۔

دنیا کی حکومتوں ، لبرلز، سیکولرز ، میڈیا اور مذہبیین نے شدت پسندی کے خاتمہ کے لیے مداہنت کا طریقہ اختیار کیا ہے جو کہ فساد اور تشدد کو تیزتر کرنے کا ذریعہ ہے۔اِس طرزِعمل اوررویے کو مختلف اور متنوع نام دیے گئے جیسے تقاربِ ادیان، بین المذاہب ہم آہنگی، بین المسالک ہم اہنگی وغیرہ۔

تقاربِ ادیان اور بین المذاہب ومسالک ہم آہنگی ، مذہب پر گفتگو نہ کرنا، ظاہری امنِ عامہ کے لیے باہمی مجالس کرنا اور مخالف فلسفہ کے معائب پر پردہ پوشی کرتے ہوئے بتکلف محاسن تلاش کرنا،  دراصل انسان کے بنیای حق سے انحراف کرتے ہوئے منافقت کے بیج بونے کے مترادف ہے ۔ اوریہ عام فہم بات ہے نفاق  فساد کی جڑ ہے۔

دنیا میں امن  حقیقت پسند رویے سے ممکن ہے، جب تک مکالمہ اور دلیل کے ساتھ مکالمہ نہیں ہوگا فساد ختم نہیں ہوسکتا، مکالمہ مباحثہ ، دوسروں کے سامنے عزت اور احترام کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا موقف رکھنا شعوری ارتقا کے لے ناگزیر ہے ۔ جب تک آپ مسئلہ پر بات نہیں کریں گے، مرض کی تشخیص اور علاج ممکن نہیں۔

اگر انسان معاشرہ میں پائیدار امن چاہتے ہیں تو انہیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیارکرتے ہوئے درج ذیل اقدام اٹھانے ہوں گے۔

۔انسان کا حق زندگی تسلیم کیا جائے۔

۔نظریہ اوراظہارے رائے کی آزادی کو یکساں طور پر انسانی بنیادی حق مان لیا جائے۔

۔ مداہنت پسند رویہ چھوڑدیا جائے۔

۔اپنا موقف نظریہ فلسفہ بیان کیا جائے۔

۔اپنے اور مخالف نظریات کے درمیان حد قائم کی جائے۔

۔موقف واضح اور مدلل ہو۔

۔حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پردہ پوشیوں کے ذریعہ سے مسالک میں ہم آہنگی والا طریقہ ترک کرے۔

۔میڈیا مذہب سمیت تمام اُمورپر بات کرے۔

۔ مذہبیین منافقت اور شدت پسندی چھوڑکر واضح موقف اور دلیل کی طرف آئیں۔

۔لبرلز اور سیکولر مذہبیین کا حقِ زندگی مان لیں، مذہبی شعار کے تقدس کا خیال رکھیں۔

۔شب و ستم اورکافرانہ فتاوی کی بجائےسیکولراور لبرل ذہن کے اشکالات و سوالات کا تشفی بخش  جواب دینے پر صلاحتیں صرف کی جائیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: