ایک نماز جو خوف میں ادا کی گئی —— یوسف ابو الخیر

0
  • 29
    Shares

گزشتہ دنوں ایک دوست کے والد محترم داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

وہ دوست چونکہ فقہہ جعفریہ سے تعلق رکھتے ہیں، تو نمازجنازہ مسجد و امام بارگاہ امام میں تھی۔ میں احتیاطاً ذرا پہلے امام بارگاہ پہنچ گیا تھا، جنازہ میں مجھ سمیت چند ایک غیر شیعہ کے علاوہ اکثریت شیعہ حضرات ہی کی تھی۔ میں وضو کر کے مسجد و امام بارگاہ کی بالکونی میں کھڑا ہوگیا اور آنے والوں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرنے لگا۔ لوگ آتے جارہے تھے اور وضو کرنے کے بعد امام بارگاہ کی صحن کے بیچوں بیچ نصب علم کے چبوترے کو چومتے اور آنکھوں سے لگا کہ علم کی جانب دیکھ کر کچھ پڑھتے اور آگے بڑھتے جاتے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ عبادت کا کوئی لازمی جزو ہو۔ میرا یہ کسی امام بارگاہ میں باقاعدہ جماعت کے ساتھ شیعہ امام کے پیچھے ان کی اقتدا میں باجماعت نماز پڑھنے کا پہلا اتفاق تھا۔ میں ذرا کنفیوژ اور کسی حد تک گھبرایا ہوا بھی تھا کہ پتہ نہیں ان کی نماز کیسی ہو اور مجھے اپنے طریقے پر نماز پڑھتا پا کر یہ لوگ مجھ پر چڑھ نہ دوڑیں، یا کوئی ناپسندیدہ حرکت سرزد نہ ہو جاے۔ فقہ جعفریہ میں قالین یا دری کی صورت میں بچھائی گئی صف پر سجدہ کرنے کے بجائے ایک مخصوص مٹی کا ٹکڑا سجدہ کی جگہ پر رکھا جاتا ہے اور پیشانی اس پر رکھی جاتی ہے، میں نے سجدے کی جگہ پر وہ سجدہ گاہ بھی لے کر نہیں رکھا تھا۔ یہ تو مجھے معلوم تھا کہ اہل تشیع حضرات ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں، مگر ایک نماز کے اختتام اوردوسرے نماز کے درمیان وقفے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ نہیں تھا۔ میں نے صف میں اپنے ساتھ کھڑے نمازی سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ ظہر کی نماز کے اختتام پر وقفہ تو ہوگا ناں؟ نمازی بھائی نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ بھانپ چکا تھا کہ میں ان کے مذہب سے نہیں ہوں، لہذا اس نے اور بھی کچھ بنیادی باتیں فوری طور پر مجھے سمجھا دیں جس سے مجھے نماز کی ادائیگی میں بہت آسانی ہوئی۔ خیر جماعت کھڑی ہوئی اور میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ تکبیر اولیٰ کے بعد ہاتھ باندھ لیا۔ ایک میرے علاوہ باقی سارے نمازی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھ رہے تھے، اس گھبراہٹ اور دھڑکن کے بے ترتیب ہونے کی وجہ سماج میں بری طرح پھیلی ہوئی اور چھائی ہوئی وہ غلط فہمیاں اور شدت پسندی تھی جس کی وجہ سے ایک عام شیعہ ایک عام سنی سے اور عام سنی عام شیعہ سے ایک انجانا سا خوف محسوس کرتا ہے، دونوں جانب عدم اطمیان اور عدم اعتماد کی سی ایک مستقل کیفیت رہتی ہے جس کے ذمہ دار دونوں جانب کے شدت پسند مولوی اور ذاکرین حضرات ہیں۔

خیر، کچھ ہی دیر میں مجھے دوران نماز ہی اطمیانِ قلب میسر آچکا تھا، میں قدرے سکون سے اپنے طریقے پر نماز پڑھ رہا تھا جبکہ باقی نمازیوں کے طریقے پر بھی میرے دل میں کسی قسم کا کوئی اعتراض یا الجھن نہیں تھی۔ کیونکہ اطمینان اس بات کا تھا کہ بھلے یہ لوگ ہاتھ کھولے کھڑے ہیں، مگر پڑھ تو نماز ہی رہے ہیں ناں، ان کا طریقہ کار ذرا مختلف سہی مگر عبادت تو وہ خالقِ کائنات کی ہی کر رہے ہیں ناں۔۔ ان کی تسبیحات ذرا مختلف سہی، مگر حمد تو یہ اسی رب العالمین کی کر رہے ہیں جو ساری کی ساری تعریفات کامستحق و سزاوار ہے۔ درود و سلام بھی انہوں نے اسی نبی آخرالزماں ﷺ کو بھیجا جن کے ہادی برحق ہونے پر ہم بھی ایمان لاتے ہیں اور ان کی ختم نبوت پر جان نچھاور کرنا سعادت مانتے ہیں۔

ایک ایک کر کے چاروں رکعت مکمل ہوئی، نماز کے تمام ارکان ادا کیے گئے جو میں نے اپنے یعنی غیر شیعہ طریقے سے کیے اور نماز مکمل کی۔ نماز کے اختتام پر ہم جس طرح اختیاری فعل کے طور پر سلام پھیرتے ہیں، اہل تشیع اس طرح سلام پھیرنے کے بجائے کسی اور طرح سے نماز ختم کرتے ہیں۔سلام پھیرتے ہوئے ایک بار پھر مجھے تھوڑی سی گھبراہٹ ہوئی کہ اب شاید پچھلی صف سے کوئی بڑے میاں یا جذباتی نوجوان کھڑا ہوگا اور مجھے گریبان سے کھینچتا ہوا اپنے امام بارگاہ کے گیٹ سے نکال باہر کرے گا۔ مگر حیرانگی تب ہوئی جب وہ لوگ اپنی نماز کے اختتام پر تین بار تکبیر اور ہاتھ اٹھانے کے بعد اختیاری فعل کے طور پر جس طرح اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی آپس میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں، سب اسی محبت اور اپنائیت سے مجھ سے بھی ہاتھ ملانے لگے۔ نہ کسی نے انکھیں پھاڑ کر نفرت سے مجھے گھورا، اور نہ ہی مجھے دیکھ کر کچھ بڑبڑایا۔ میرے ساتھ والے شیعہ نمازی دوست نے مسکراتے ہوئے مجھے کہا کہ اب ہم عصر پڑھیں گے، آپ چاہیں تو شرکت کریں ورنہ آپ کی ظہر کی نماز ہوگئی۔ میں نے اس کا پرخلوص شکریہ ادا کیا اور صف سے باہر آکر نماز جنازہ کا انتظار کرنے لگا۔ قصہ مختصر، نماز جنازہ بھی ذرا مختلف طرح سے ادا کی گئ لیکن وہاں بھی ہمیں (غیر شیعہ دوستوں کو) کسی قسم کی مشکل یا ناخوشگوار واقعے کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ جنازے سے فراغت اور شاہ صاحب سے تعزیت کے بعد جب میں امام بارگاہ سے نکلنے لگا تو ایک عجیب احساس میرے سینے میں موجزن تھا کہ سب کچھ کتنا نارمل ہے، مگر یہ مذہب کے بیوپاری ہم عام مسلمانوں کو کس طرح ایک دوسرے سے بدظن اور متنفر کیے رکھتے ہیں۔

میری اپنے تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ شیعہ دوست سنی مساجد میں اور سنی دوست امام بارگاہوں میں جاکر کبھی کبھار نمازیں ادا کرلیا کریں، اس سے فضا میں موجود بے جا تناؤ اور دوریوں کا خاتمہ ہوگا اور ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ انشااللہ
خدا ہم سب کو حق پر قائم رکھے اور خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آ

یہ بھی پڑھیے: حضرت قنبیط علیہ السلام کی قبر: ایک روداد — ظاہر محمود‎

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: