وہ کمر جو کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔ کاشف نصیر

0

 گزشتہ کچھ دنوں سے اس طرح خوف و حراس پھیلایا جارہا ہے، گویا جیسے ملک میں سہ سالہ کامل امن و امان کے بعد اچانک دہشتگردی کا جن دوبارہ بوتل سے باہر نکل آیا ہو حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ کبھی روکا ہی نہیں تھا۔ ایک طرف موجودہ عسکری قیادت کے حوالے سے بے چینی پھیلائی جارہی ہے تو دوسری طرف یکے بعد دیگرے دو بڑے تنازعات سے مجروح ہوجانے والے سابق متنازع چیف کو دوبارہ ہیرو بنانے کی اپنی سی کوشش ہورہی ہے۔ ساوتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق 2014 میں پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے چھوٹے بڑے 402 واقعات رونما ہوئے جن میں مجموعی طور پر 2736 افراد جاں بحق ہوئے۔ جبکہ اسی طرح 2015 میں 322 واقعات میں 2923 اور 2016 میں 172 واقعات میں 1369 زندگیوں کے چراغ گل ہوئے۔ یوں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ بعض ”مخصوص” وجوہات کی بنا پر دہشتگردی کے تناسب میں پچھلے چند برسوں کے مقابلے میں تیس سے چالیس فیصد فیصد کمی آئی تھی لیکن یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی تھی۔ دہشتگردی کے کئی دلخراش واقعات جیسے سانحہ کراچی ائیرپورٹ، سانحہ آرمی پبلک اسکول، سانحہ اسلام آباد چھاونی، سانحہ کوئٹہ کچہری، سانحہ باچا خان یونیورسٹی اور سانحہ شاہ نورانی سابق چیف کے دور میں ہی وقوع پزیر ہوئے تھے۔ اسی طرح پاکستانی سرزمین پر امریکی حملے میں ملا منصور اختر کی ہلاکت بھی اسی دور کا واقعہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب حالیہ تاریخ پاکستانی قوم کے ساتھ سب سے بڑا مزاق تھا، نہ کوئی سرکردہ دہشتگرد لیڈر پکڑا گیا نہ کوئی نامی گرامی کمانڈر مارا گیا اور نہ آج تک شمالی وزیرستان سمیت کسی بھی قبائلی علاقے میں کوئی صحافی آزادانہ نقل و حرکت کرسکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو ہرگز غلط نہ ہوگا کہ سوات آپریشن، آپریشن ضرب عضب کے مقابلے میں کہیں بہتر تھا لیکن جنزل کیانی کی بدقسمتی یہ تھی کہ انہیں کسی عاصم باجوہ کی خدمات حاضر نہ تھیں۔ آپریشن ضرب عضب سے متعلق دعووں کے برعکس ٹی ٹی پی اپنے تمام ڈھڑوں کے ساتھ موجود ہے، تمام قائدین افغانستان کے ناقابل کنڑول علاقوں میں روپوش ہیں اور جنگجو ہتیار ڈالنے کے بجائے ملک بھر میں پھیل گئے ہیں۔ صرف انکے حملے ہی نہیں، خاموشی بھی خطرناک ہے۔ ایک طرف وہ ہر چند ماہ بعد کوئی بڑی کاروائی کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں تو دوسری طرف وہ اپنے گوریلا نیٹ ورک کو غیر محسوس انداز میں قائم رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ عسکری و سول قیادت ان معاملات کو پہلے سے بہتر انداز میں دیکھ رہی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلے ادوار کی سازشی روایات ختم ہورہی ہیں، وقار کے نام پر سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کی کردار کشی کم ہوگئی ہے، جبری گمشدگی کی پالیسی پر بھی نظر ثانی ہوئی ہے، افغانستان کے اندر محفوظ ٹھکانوں پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے اور اور سب سے بڑھ کر گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق نظر نہیں آرہی ہے۔ یقینا اب بھی بہت سے معاملات آئیڈیل نہیں ہیں، تحقیقی اور تفتیشی اداروں کی صلاحیت، سیکورٹی اداروں کی اہلیت اور پولیس ریفارم کا حال بھی بدستور غور طلب ہے لیکن گزشتہ چند ماہ میں کم از کم سمت ضرور بہتر ہوئی ہے 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: