بھارت کا تاریخی شہر ’الہٰ آباد‘ کا نام ’پریاگ راج‘ —- ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 53
    Shares

ہندوستان کے معروف تاریخی شہر ا لہٰ آباد کا نام تبدیل کر کے’ پریاگ راج ‘رکھ دیا گیا ہے۔یہ قرار داد بھارتی ریاست اتر پردیش (یوپی) کی حکومت نے وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں منظور کی۔ الہٰ آباد اب ’پریاگ راج‘ کہلائے گا اور الہٰ آبادی اب ’پریاگی‘ کہلائیں گے۔ بھارت کے متعصب حکمراں کوئی نہ کوئی کام ایسا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو، انہیں تکلیف پہنچے۔ یہ شرارت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی نظری آتی ہے۔ اس کے پیچھے مسلمان دشمنی کے سوا کوئی اور مقصد نظر نہیں آتا۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی خوش نودی حاصل کرنے کی غرض سے اس قسم کے کانامے انجام دیتے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کو طرح طرح کی پریشانیوں سے دوچار کیا، گائے کے گوشت پر پابندی عائد کی، تاریخی تاج محل کو مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے عام عمارت قرار دیا تاکہ اس کی تاریخی اہمیت ختم ہوجائے۔ اب انہوں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مسلمانوں کے تاریخی شہر کا نام ہی بدل دیا جائے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ الہٰ آباد کا قدیم نام ’پریاگ‘ تھا۔ مسلمانوں کے دور حکمرانی سے قبل یہ شہر پراگ کہلاتا تھا۔ 1583ء میں مغل حکمراں شہنشاہ اکبر نے اس کا نام الہٰ آباد رکھا جب سے یعنی 435سال سے یہ شہر الہٰ آباد ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کو بھی 71سال ہوگئے کسی بھارتی حکمراں کو اس بات کا خیال نہیں آیا کہ الہٰ آباد کا نام تبدیل کردیا جائے حالانکہ تقسیم ہند کے بعد اب تک بھارت کے کئی وزیر اعظم ایسے گزرے ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی طور الہٰ آباد سے رہا، وہ یہاں پیدا ہوئے یا پھر انہوں نے یہاں تعلیم حاصل کی جن میں جواہر لال نہرو، لال بہادر شاشتری، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، گلزاری لال نندا، وشواناتھ پرتاپ سنگھ اور چندر شیکھر شامل ہیں۔ ان حکمرانوں کو اس بات کا خیال کبھی نہیں آیا۔ اتر پردیس کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کو نہ معلوم کیوں یہ خیال آیا کہ مسلمانوں کو اس طرح بھی تکلیف پہچا ئی جاسکتی ہے، ان کی انا کو ٹھیس پہچائی جاسکتی ہے۔ اس طرح دو کام ہوں گے مسلمانوں میں بے چینی پھیلے گی اور ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی بھی خوش ہوجائیں گے۔ اس لیے کہ وہ تو ہمیشہ سے ہی متعصب ہندوؤں کے حمایتی ہیں۔

مسلمانوں نے تو اس پر احتجاج کرنا ہی تھا اور وہ کر ہی رہے ہیں۔ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے الہٰ آباد کا نام تبدیل کرنے کے حکومتی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے مشہور الہٰ آباد کا نام بدلنے سے علاقے کی پہچان متاثر ہوگی اور اس کا اثر تعلیمی معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا۔ کانگریس کی جانب نام کی تبدیلی کی مخالفت اور جواز انتہائی مناسب ہے کاش کانگریس یہ بھی کہہ دیتی کہ ایسا کرنے سے مسلمانوں کے جذبات بھی مجروح ہوں گے۔ اتر پردیس کابینہ کے سینئر وزیر سدھارتھ سنگھ نے حکومت کے اس اقدام کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ حکومت مستقبل میں بھی دیگر شہروں کے نام تبدیل کرسکتی ہے۔ بہت خوب سدھارتھ سنگھ صاحب ضرور ایسا کیجئے، ذرا سوچئے کہ اگر ہم صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کا نام تبدیل کردیں تو آ پ کو کیسا لگے گا۔سوچئے گا تنہائی میں، لیکن فکر نہ کریں ہم ایسی سوچ نہیں رکھتے، ہم ایسا ہر گز نہیں کریں گے۔ اسی طرح دہلی کی معروف شاہرہ ’اکبر روڈ‘ کا نام تبدیل کرکے مہارانا پرتاب روڈ رکھنے کی خبریں بھی ہیں۔ ویسے ہمارا کیا لینا دینا، آپ کا ملک ہے جو چاہیں کریں، کشمیر میں بھی تو آپ کارنامے انجام دے ہی رہے ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے سے آپ کی انا کو تسکین ہوتی ہے تو ضرور ایسا کیجئے۔ یاد رکھیے الہٰ آباد اپنی شناخت ختم نہیں کرے گا۔

پاکستان میں بھی ایسا ہوا کئی شہروں، عمارتوں اور جگہوں کے نام تبدیل کئے گئے اس کے پیچھے کسی بھی اقلیت کو تکلیف پہچانا نہیں تھا کراچی کی بندر روڈ کا نام ایم اے جناح روڈ رکھا گیا لیکن وہ آج بھی بندر روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ہندو باغ اب مسلم باغ، لاہور میں حبیب کوٹ وغیرہ مثالیں ہیں۔ پاکستان میں بے شمار شہروں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ہیں انہیں تبدیل نہیں کیا گیا۔ بہت سے نام تبدیل بھی کئے گئے۔ پاکستان میں ناموں کی تبدیلی اس اعتبار سے مناسب تھی یہ پاکستان ایک مسلم ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے مقابلے میں جو علاقہ بھارت کہلایا اس میں مسلمانوں کی آبادی اور اور علاقے بڑی تعداد میں موجود رہے۔ بھارت میں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت ضرور ہے لیکن مسلمانوں کی آبادی 172ملین ہے۔ یہ تعداد 2011 کی مردم شماری کی ہے اس میں یقینا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ بھارت پاکستان اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ بھارت کے شہر دہلی میں مسلمانوں کی تعداد 2,161,167 ہے، گجرات میں 5,857,212 مسلمان، الہٰ آباد میں مسلمانوں کا تناسب 13.38 فیصد ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر جس پر بھارت قابض ہے اور کشمیری اپنے حقوق کی جنگ عرصہ دراز سے لڑ رہے ہیں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان 96.4 فیصد ہیں جب کہ کشمیر ویلی میں ہندو اور سکھ ملاکر صرف 2.45 فیصد ہیں۔ بھارت کو اپنے عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے وہاں کی بڑی اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ معروف کالم نگار رضا علی عابدی نے اپنے کالم میں درست لکھا کہ ’’دھرم سے لگاؤرکھنے والوں کو کون بتائے کہ آپ کی سرزمین کا نام ’’ہند‘‘ کس نے رکھا۔ جواب میں عرض ہے کہ نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ باہر سے آنے والے مسلمانوں نے۔ وہ اس کو ہند ہند پکارتے ہوئے آئے۔ اب کوئی پوچھے کہ اسی مناسبت سے یہاں آباد لوگوں کو ’’ہندو‘‘ کا نام کس نے دیا؟ اور یہاں کی بولی کو ہندی یا ہندوی کہہ کر کس نے پکارا؟ یہ سب مسلمانوں کا کیا دھرا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سرزمین پر مسلمانوں کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ آپ کس کس کا نام مٹائیں گے اور کس کس کے نام پر سیاہی پھیریں گے‘‘۔ ہندو اور سکھ متعصبوں کو یہ بات نہیں معلوم تو اب معلوم ہو جانی چاہیے۔ اس قسم کے کام کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

الہ ٰ آبادی ایک تاریخی شہر ہے یہ گنگا جمنا کے سنگم پر آباد ہے، یہ یوپی کا قدیم شہر ہے۔ بڑا تجارتی مرکز، ہندوؤں کا مقدس مقام اور ریلوے کا بڑا جنکشن یہاں موجود ہے۔ مسلمانوں کے حوالے سے اس شہر میں شہنشا ہ اکبر کا ایوان، جامع مسجد، اشوک کی لاٹھ، زمین دوز قلعہ، خسرو باغ کے علاوہ کئی تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔ یہاں مسلمانوں نے طویل عرصہ حکومت کی۔ اس شہر کو بھارت کے ایک گنجان آباد شہر کی حیثیت حاصل ہے۔ اسے سٹی آف پرائم منسٹر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے موجود ہیں اسے تحقیقی اداروں کا مرکز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ الہٰ آباد کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں 1930میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا جس میں شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے تاریخی خطبہ دیا، یہ خطبہ ’’خطبہ الہٰ آباد‘‘ کے نام سے تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اسی خطبہ میں اقبال نے مسلمانوں کے مستقبل اور ان کی آئندہ کی منزل کی نشاندھی بھی کی تھی۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ الہ ٰ آباد کو بھارت کے وزرائے اعظم کا شہر بھی کہا جاتا ہے اس لیے کہ بھارت کے7وزرائے اعظم کا تعلق کسی نہ کسی طور اس شہر سے رہا۔ گاندھی خاندان کا تعلق اسی شہر سے ہے یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے الہٰ آباد کے نام کی تبدیلی کی سختی سے مخالفت کی ہے۔الہٰ آباد کی سرزمین علمی اور ادبی اعتبار سے بھی بڑی زرخیز رہی ہے۔ اس مٹی نے اردو ادب کے بے شمار شاعر اور ادیبوں کو جنم دیا جنہوں نے ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ اکثر شاعر اور ادیب اپنے نام کے ساتھ الہٰ آبادی لگانے پر فخر سمجھتے تھے۔ معروف شاعروں میں اکبر الہٰ آبادی، نوح ناروی، فراق گورکھپوری، شبنم نقوی، راز الہٰ آبادی، عتیق الہٰ آبادی اور دیگر شامل ہیں۔الہٰ آباد میں مسلمانوں کے علاوہ ہندوں بڑی تعداد میں آباد ہیں ان کے علاوہ سکھ، مسیحی، پارسی، جین اور بودھ مذہب کے پیروکار آباد ہیں۔ اس شہر میں ہندی کے علاوہ اردو، اودھی، انگریزی، بنگالی اور پنجابی بولی جاتی ہیں۔ یوپی کی حکومت کو یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ اپنے شہر کا نام تبدیل کرلے، اسے کوئی نہیں روک سکتا لیکن اس ریاست میں بسنے والوں کے جذبات کا خیال رکھنا بھی حکومت کا فرض ہے۔ وزیر اعلیٰ کو صرف ہندوؤں اور سکھوں نے ہی ووٹ نہیں دیے ہوں گے بلکہ مسلمانوں نے بھی ان کے انتخاب میں حصہ ڈالا ہوگا اس لیے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کو اپنی راج دھانی میں آباد مسلمانوں کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے الہٰ آباد کو الہٰ آبادی ہی رہنے دینا چاہیے۔ ماضی میںیہ پریاگ ضرور تھا لیکن سالوں سے اس کی شناخت الہٰ آباد ہی ہے اسے اس کی شناخت سے محروم نہ کریں تو اچھا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: