سرسید، لیاقت علی اور سردار نشتر: تاریخ کے مظلوم — احمد الیاس

0
  • 38
    Shares

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سرسیّد کے علی گڑھ کالج نے بہترین تحفہ کونسا دیا تو میں لیاقت علی خان شہید کا نام لوں گا۔

لیاقت علی خان کی تحریر و تقریر کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس اعلٰی پائے کے سیاسی دانشور تھے، اسلام کے سیاسی و سماجی آئیڈیل، فکرِ اقبال، معاشیات اور بین الاقوامی امور جیسے متنوع موضوعات پر انہیں کیسی زبردست گرفت تھی۔ اگر پاکستان ابتدائی سالوں میں شدید ترین مشکلات کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا تو یہ بھی صرف اور صرف لیاقت علی خان کا کارنامہ ہے۔ ملک کی تاریخ کی واحد مستقل دستوری دستاویز قرارداد مقاصد جو پاکستان کی فکری بنیاد کی بہترین مظہر ہے، لیاقت کا ہی کریڈٹ ہے۔ اور اس امیر کبیر نواب زادے کے شہادت کے وقت جو انتہائی برائے نام اثاثے تھے، انہیں دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رض ہی دماغ میں آتے ہیں۔

مگر ہمارے ہاں لیاقت کی شخصیت سے دو بڑی زیادتیاں کی جاتی ہیں۔

ا) اقبال اور جناح کے بعد ملک کے اس تیسرے بانی کو انتہائی افسوسناک حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مگر یہ خصلت تو ہماری گُھٹی میں ہے۔ تاریخ کے تشدد نے ہماری خود اعتمادی کو اس بری طرح تباہ کردیا ہے کہ ہم نے یہ فرض کرلیا ہے کہ ہم کوئی بڑا شخص پیدا ہی نہیں کرسکتے۔ جب تک گورا صاحب سرٹیفیکیٹ نہ دے، ہم اپنے ہیروں کا بھی کوئلہ ہی کہتے ہیں۔ جناح جناح کی رٹ بھی مغرب زدہ سیکولر کلاس نے سٹینلے والپرٹ اور جسونت سنگھ کو دیکھ کر لگانی شروع کی ہے ورنہ انہیں بھی کہاں لفٹ کراتے تھے۔

2) لیاقت کے خلاف بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔ اس کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ لیاقت کی اقبال اور اسلام سے محبت بہت سے لوگوں کو کھٹکتی ہے مگر اس بات کو کرنے کی ہمت نہ پاکر لیاقت پر جو الزام لگایا جاتا ہے وہ یہ کہ انہوں نے ہمیں امریکہ کا اتحادی بنا دیا اور سوویت یونین سے دور کردیا۔ ایسا کرتے وقت یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ قائد نے بھی امریکی عوام ہی سے براڈ کاسٹ پر خطاب کیا تھا، روسی عوام سے نہیں اور بائیں بازو کی کانگریس کے مخالف دائیں بازو کی قّوت مسلم لیگ کا جھکاؤ فکری طور پر جناح دور سے ہی کیمونسٹ روس کے مقابل آزاد جمہوری معاشروں کی طرف تھا۔ اور یہ بھی بھلا دیا جاتا ہے کہ اگر لیاقت واقعی امریکہ کے حاشیہ نشیں ہوتے تو امریکہ افغان حکومت کی مدد سے ان کو شہید نہ کرواتا۔ اس بات کی اب تصدیق ہوچکی ہے کہ سی آئی اے نے لیاقت علی خان کو قتل کروایا۔

(حوالہ: https://www۔pakistantoday۔com۔pk/…/secret-is-out-americans…/ )

شہیدِ ملت کی شہادت ملک کی تاریخ کا بدقسمت ترین موڑ ہے۔ اسلامی تاریخ میں جو نحوست شہادتِ علی المرتضیٰ رض کے لمحے سے جڑی ہے وہ پاکستانی تاریخ میں لیاقت کی شہادت کے لمحے سے منسلک ہے۔ شہادتِ علی رض نے امت کو ہمیشہ کے لیے ٹریک سے ہٹا کر بادشاہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو شہادتِ لیاقت نے پاکستان کی سمت غلط کردی اور انگریز کی پیدا کی ہوئی مغرب زدہ اور جاگیردار کلاسز ہم پر مستقل مسلط ہوگئیں۔

سردار عبدالرب نشتر لیاقت علی خان کے فطری جانشین تھے اور لیاقت دور میں مسلم لیگ کے دوسرا اہم ترین قائد سمجھے جاتے تھے۔ آپ ایک بہترین شاعر، ادیب اور دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور قائدِ اعظم کے تربیت کردہ ذہین سیاستدان بھی تھے۔ مگر مسلم لیگ کمیٹی نے ان کو صرف اس لیے مسترد کردیا کہ وہ نمازی پرہیزی اور عملی صوفی ہیں، ‘دنیادار’ نہیں ہیں۔ ان کی جگہہ غلام محمد جیسے بدنام زمانہ کو لایا گیا جس نے پاکستانی سیکولرازم کے بانی جسٹس محمد منیر کے ساتھ مل کر ملک کا جو ستیاناس کیا وہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جس گولی سے لیاقت علی خان شہید ہوئے اسی گولی سے محسن الملک، امام اقبال رح اور قائد اعظم کی مسلم لیگ بھی شہید ہوگئی۔ مسلم لیگ کے نام پر جو پیچھے بچا وہ فکری طور پر یونینسٹ پارٹی کی باقیات اور برٹش راج کا تیار کردہ جاگیردار ٹولہ تھا جو آج تک مسلط ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: