راستہ دیجئے —- بشارت حمید

0
  • 7
    Shares

آپ نے کئی بار کسی ایسے چوک میں‌جہاں‌ٹریفک قدرے کم ہوتی ہے اور ٹریفک سگنلز نہیں‌لگے ہوتے وہاں‌ ایک سائن بورڈ دیکھا ہو گا جس پر اردو میں‌ “راستہ دیجئے” یا انگلش میں‌ Give Way لکھا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ذرا رک کر ارد گرد دیکھیں اور تیز رفتار گاڑی کو پہلے گزرنے دیں، کسی بھی چوراہے میں دائیں‌طرف سے آنے والی گاڑی کا حق زیادہ ہے کہ اسے پہلے گزرنے دیا جائے اور پھر بعد میں‌کوئی دوسری گاڑی وہاں سے گزرے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ پرسکون انداز سے جاری رہے اور اس میں‌کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔ اگر اس سائن بورڈ پر لکھے ان دو الفاظ کو ہم اپنی ساری زندگی میں اپنا لیں‌تو سوچئے کہ ہماری زندگی کتنی پرسکون ہو جائے گی۔

ہم دن رات اس تگ و دو میں‌لگے رہتے ہیں‌کہ میں‌فلاں‌رشتہ دار سے زیادہ مال کیسے جمع کرلوں‌ فلاں‌ سے زیادہ جائیداد کیسے بنا لوں‌، فلاں‌سے مقام و مرتبے میں آگے کیسے بڑھ جاؤں، فلاں‌سے زیادہ شہرت کیسے حاصل کروں۔۔۔ غرض‌ ساری زندگی دوسروں‌ سے اپنا موازنہ اور مقابلہ کرتے گزر جاتی ہے لیکن پھر بھی ہم وہی کچھ حاصل کر پاتے ہیں‌جو ہمارا نصیب ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ سوچ کر زندگی گزارنے لگیں‌کہ میرا کسی سے کیا مقابلہ اور کیا موازنہ ہے، کوئی چاہے جو مرضی کرتا رہے مجھے اس سے کیا غرض۔۔ اگر کوئی مال و دولت میں‌آپ سے آگے بڑھنا چاہ رہا ہے تو فوراّ یہ سائن بورڈ ذہن میں‌ لائیے اور اسے راستہ دیجئے اسے گزر جانے دیجئے۔ اگر سڑک پر ڈرائیو کرتے ہوئے کوئی تیز رفتاری سے آگے نکلنا چاہتا ہے تو فوراّ اسے راستہ دیجئے ہو سکتا ہے اسے کوئی ایمرجینسی کا معاملہ درپیش ہو۔ یہ سوچ کر آگے گزر جانے دیجئےکہ اس کی منزل اور حالات اور ہیں جبکہ میری منزل اور حالات اور ہیں میرا اس سے کیا مقابلہ ہے۔

ہماری زندگی میں‌بے سکونی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ مقابلہ بازی کا ماحول ہے۔ خواتین دوسری خواتین سے ہر معاملے میں‌ ممتاز نظر آنا چاہتی ہیں۔ ہر عورت یہ چاہتی ہے کہ کسی محفل میں‌وہ سب کا مرکز نگاہ ہو سب اس کو دیکھ کر اس کے حسن، لباس اور زیورات کی تعریف کریں چاہے وہ تعریف صرف سامنے آ کر زبان سے ہی کر رہے ہوں اور پیٹھ پیچھے اس کی غیبت ہی کر رہے ہوں‌ لیکن نفس کو جھوٹی تعریف سے بھی تسکین ملتی ہے۔ کئی عورتوں‌ کو یہ کریز ہوتا ہے کہ یہ سوٹ ایک فنکشن میں‌ پہن لیا تھا بس اب دوبارہ یہ پہن کر کسی فنکشن میں نہیں‌ جانا لہٰذا اب نیا سوٹ ہی چاہیئے۔۔ بھئی ذرا سوچو تو کہ اس سے کیا فرق پڑجائے گا۔ لیکن یہاں‌ بھی دوسروں‌ کو راستہ دینے کی بجائے مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ زندگی میں‌ بے سکونی اور عدم اطمینان کی صور ت میں‌سامنے آتا ہے۔

دنیا میں‌ پیدا ہونے والا ہر انسان اپنی ذات، اپنی شخصیت اور اپنے کردار میں‌ دوسرے تمام انسانوں سے مختلف ہے۔ کچھ باتیں‌ اور عادات دوسروں‌ کے ساتھ مشترک ہو سکتی ہیں‌ لیکن پرسنیلیٹی کے لحاظ سے کوئی بھی دوسرے کا متبادل نہیں‌ ہو سکتا کہ ہر ایک اپنی ذات میں‌یونیک ہے۔ تو پھر کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم دوسروں‌سے مقابلہ کرنے کی بجائے ان کے ساتھ الجھنے کی بجائے انہیں‌آگے بڑھ جانے دیں۔ اس عاجزانہ طرز عمل سے زندگی میں‌ایک ٹھہراو اور اطمینان کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور جس کو یہ کیفیت میسر ہو گئی وہ بے جا قسم کی پریشانیوں‌ سے چھٹکارا حاصل کر لے گا۔ آپ نے اکثر پرانے بزرگوں‌کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ ماضی میں‌زندگی پرسکون ہوا کرتی تھی اب تو افراتفری کا دور ہے۔ ذرا سوچیں‌ کہ تب کم آمدنی اور کم وسائل کے باوجود سکون کس وجہ سے تھا۔۔ اس لئے کہ تب زندگی نیچر کے قریب تر تھی اس میں‌ مصنوعی پن اور ایک دوسرے سے مقابلے کی فضاء نہ ہونے کے برابر تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے راستہ چھیننے کی بجائے دوسروں‌ کو احترام کے ساتھ راستہ دے دیا کرتے تھے۔ ”پہلے آپ” کا کلچر عام تھا۔ اب بھی اگر ہم زندگی میں‌ سکون چاہتے ہیں‌ تو یہ بات ہر وقت ذہن میں رہنی چاہیئے کہ دوسروں‌ کو راستہ دیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: