صحافت، حکومت اور اشتہارات — اسامہ مقبول

0
  • 16
    Shares

عمران خان بر سر اقتدار آئے تو میڈیا بہت خوش ہوا۔ اس کا خیال ہو گا کپتان کو ہیرو بنا کر سکرینوں پر بٹھا ئے رکھا اور لوگوں کے سامنے اس کی تعریفوں کے پل باندھ باندھ کر اس کی جیت کی راہ ہموار کی ہے تو اب جواب میں عمران خان بھی ان کے لیے راہیں ہموار کریں گے۔ بات تو درست ہی تھی۔ میڈیا نے جتنا عمران خان کو ہیرو بنایا اور جتنا وقت انہیں دیا گیا اتنا وقت اگر دانش کنیریا کو دیا جاتا تو وہ نجات دہندہ بن چکے ہوتے۔ میڈیا کو اگر امید تھی کہ اب وزیر اعظم عمران خان ان کی خدمات کے صلے میں قومی خزانے کا منہ ان پر کھول دیں گے تومروجہ روایات کی روشنی میں یہ غلط نہ تھی۔ پاک سر زمین میں اس سے پہلے ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔یہی امید لیےہوئے جب اخباری مالکان عمران خان کے پاس پہنچے اور مبارک دی تو عمران نے میڈیا کی خدمات کو تو سراہا لیکن یہ کہہ کر سب کو مایوس کر دیا کہ اشتہارات اب اس طرح نہیں ملیں گے جس طرح بادشاہ سلامت نواز شریف کے دور میں ملا کرتے تھے۔

اشتہارات سے یاد آیا شہباز شریف صاحب نے ایک دن تو اخبارات کو آدھے صفحے کا اشتہار جاری کر دیا اور س پر ان کی بڑی سی تصویر کے ساتھ لکھا تھا کہ تفصیلات کل کے اخبار میں ملاحظہ فرمائیں۔ اجتماعی لنگر خانہ کھلا تھا اور انفرادی لنگر بھی جاری تھا کبھی بیرونی دورے، کبھی اعلی عہدے، انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔ اور یہ حال گذشتہ تمام حکومتوں کا تھا، اشتہارات کو ہمیشہ سیاسی مقاصد کے لئے مال مفت دل بے رحم کے مصداق بے دردی سے استعمال کیا گیا۔

کل کے اخبارات میں ایک اور خبر پڑھی، وزیر اعظم سے اخباری مالکان ملے اور وزیر اعظم نے اخباری کاغذ پر ڈیوٹی معاف کر دی۔ لیکن مراعات اور اشتہارات دینے سے صاف انکار کر دیا۔ انکا یہ طرزعمل مثبت اور جرات مندانہ ہے۔

اشتہارات کو ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنے کی انتہائی غلط روایت کا اب خاتمہ ہونا چاہئے، ایسا کسی بھی مہذب معاشرہ میں نہیں ہوتا۔ اخبارات اور چینلز کو اشتہار دیجیے لیکن ضرورت کے تحت دیجئے، رشوت کےطور پہ نہیں۔ یہ کام اب تک کوئی نہ کر سکا۔ یہ کام وہی کر سکتا تھا جس کا دامن صاف ہو۔عمران خان نے اگر صحافت کے سامنے باوقار رویہ رکھا تو یہ تبدیلی ہو گی اور ہم کہیں گے تبدیلی آ نہیں رہی آ چکی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: