ہماری نسلی برتری اور ملاوٹ سے خطرہ —— محمد مدثر احمد

0
  • 190
    Shares

سرزمین INDUS یا موجودہ پاکستان کے لوگوں کا جسمانی معیار ہمیشہ غیر معمولی رہا ہے۔ خاص طو رپر اپنے مشرقی ہمسائے کے مقابلے میں یہاں ارد گرد کے خطّوں سے بہت سی قومیں آکر آباد ہو گئیں۔ آریائوں (ARYANS)  نے ڈڑاوڑی (DRAVIDIANS) نسل کے لوگوں کو شکست دی۔ شکست خوردہ قوم جنوبی ہندوستان کی طرف پسپا ہوتی چلی گئی۔ شمال اور مغرب سے لشکر کشی اور مختلف تہذیبوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ چین سے  WHITE HUNSآئے۔ ان کی آباد کاری شمالی علاقہ جات اور چین کی سرحد سے زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ بعض مورخین ان کے اثرات پشاور تک بھی بیان کرتے ہیں۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ قبیلہ بہر حال INDUS کے علاقے میں وارد ہوا اور انہوں نے یہاں آباد کاری بھی کی۔

سکندرِ اعظم کی ہندوستان یا انڈس آمد سے قبل یونانی سردار ٹیکسلا میں گندھارا تہذیب کی مقامی با اثر قبیلوں کے ساتھ مل کر داغ بیل رکھ چکے تھے۔ ٹیکسلا کے علاوہ شمالی علاقہ جات اور وادی سون میں یونانی خاص طور پر آباد ہوئے۔ منگول ہندوستان میں زیادہ کامیابیاں نہ سمیٹ سکے لیکن چغتائی نسل آج بھی اُن کے ہندوستان پر قدیم اثرات کی تصدیق کرتی ہے۔ ہنگو اور منگو چنگیز خان کی نسل سے تھے۔ خیبر پختونخوا کے ایک ضلع کا نام آج بھی ہنگو ہے۔ غوری اور غزنوی افغانستان سے آئے۔ مغل قوم جو کہ منگولوں اور تُرکوں کے ملاپ سے بنی ہندوستان میں آباد ہوئی۔ ایرانی اور عرب نسل کے لوگ انڈس یا ہندوستان میں تجارت، تبلیغ یا مہم جوئی کے سلسلے میں آتے رہے اور آباد ہوتے رہے۔

مختصر یہ کہ اس وقت کے پاکستان میں تاریخی طو رپر مختلف نسلی پس منظر رکھنے والی اقوام آباد ہیں۔ یہ تقریباً تمام تر جنگجو خصوصیات کی حامل اور اعلیٰ جسمانی صلاحیت کی مالک ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق جب زخموں سے نڈھال راجہ پورس سکندرِ اعظم سے دریائے جہلم کی لڑائی میں امن مذاکرات کے لیے ملتا ہے تو سکندر اور اس کے رفقاء راجہ پورس کی مردانہ وجاہت اور جسمانی مضبوطی کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ شاہ نامہ میں فردوسی نے لکھا ہے۔

سکندر بنام پورس
اے عظیم انسان!
ہم دونوں کی فوجیں لڑائی سے تھک ہار گئیں ہیں۔ جنگلی درندے انسانی کھوپڑیاں پیس رہے ہیں۔ گھوڑوں کے پائوں سپاہیوں کی ہڈیاں توڑ رہے ہیں۔ ہم دونوں ہیرو، دلیر اور جوان۔ ہم دونوں ذہین، ہم پلّہ اور زبردست تو پھر سپاہیوں کا قتل عام کیوں؟
یا
تو پھر لڑائی کے بعد ان کی زخمی زندگی کس کام کی۔

دوستو!
تاریخی طور پر چکوال، جہلم، گجرات اور میانوالی صدیوں سے سپاہیوں کا Recruitment area رہے ہیں۔ جو حکمران ان علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیتا باقی ہندوستان پر قبضہ کرنا اور قبضہ کو استحکام دینا آسان ہو جاتا۔ یہ سلسلہ انگریزوں کے دور میں بھی جاری رہا۔ انگریز اس خطے کے لوگوں کو Martial race کہتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ’’INDUS‘‘ کے لوگ بلند قامتی چوڑی ابھری ہوئی چھاتی اور موٹی کلائیوں کی وجہ سے نسبتاً پست قد اور کمزور جسم کے مشرقی ہمسایوں سے جسمانی اور نفسیاتی برتری کا دعویٰ رکھتے آئے ہیں۔ ایوب خان کی کرشماتی شخصیت کا سحر طول و عرض میں طاری رہا۔ مد مقابل پست قد ہندوستانی وزیر اعظم شاستری کو ایوب صاحب حقارت سے ’’ڈیڑھ بالشتیا‘‘ کہتے تھے۔ مغربی پاکستان کے لوگوں کی مشرقی پاکستان کے باسیوں کے جسمانی معیار کے بارے میں رائے بھی کوئی خاص اچھی نہیں رہی۔ ہماری جسمانی قابلیت صرف دعوئوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ بعض معملات جن میں کھیل سر فہرست ہے ہم نے اپنی برتری بارہا ثابت کی۔ اس سلسلے میں ہاکی کے میدان میں ہماری مسلسل فتوحات کا ایک دور گذرا ہے۔

کرکٹ میں ہمیں اس بات پر بڑا فخر ہے کہ ہم تیز گیند پھینکنے والے کھلاڑی پیدا کرتے آ رہے ہیں اور ہندوستان کی اس قدر آبادی کے باوجود ایک بھی حقیقی فاسٹ بائولر موجود نہیں۔ واہگہ پریڈ میں ہمیں رینجرز کے جوان دشمن کی نسبت زیادہ غصیلے اور رعب دار معلوم ہوتے ہیں بلکہ دونوں طرف کے تماشائیوں پر غور کرنے سے ہماری طرف کے تماشائیوں کی رنگت قدرے صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ مشاہدہ یا تقابل آ ج کی بات نہیں۔ برسوں پہلے ممتاز مفتی صاحب ہندوستان کے سفر پر گئے۔ خریداری کے لیے ایک بازار میں کھڑے تھے کہ ایک خاتون نے بڑی بے تکلفی سے پوچھا کہ آپ پاکستان سے آئے ہیں۔ مفتی صاحب نے ہاں میں سر ہلایا اور سوال کیا کہ آپ کو کیسے پتا چلا۔ اس خاتون نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو چہرے کی چمک سے پہچانا ہے۔ وہ سکھ خاتون ائیر انڈیا میں فضائی میزبان تھی۔ اس نے پاکستان کے شہروں کی رونق اور پاکستانیوں کی قوتِ خرید کا بھی ذکر کیا۔ رنگت کے بارے میں ہم اور بھی حساس ہیں۔ 

دوستو!
ہماری نسل، ہمارے قد اور ہماری رنگت کے دعوے اور فسانے اپنی جگہ لیکن زمینی حقائق کے مطابق  ہماری یہ برتری Neutralise  ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری ہر نئی نسل پہلے سے کم Physical properties لے کر دنیا میں آ رہی ہے۔ خوراک کی کمی کے باعث ہمارے بچوں میں Iron کی کمی ہے اور وہ اپنے قد کی اصل قدرتی حد کو چھو نہیں پا رہے۔ ہمارے بچوں کے قد چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ کلائیاں سوکھتی جا رہی ہیں۔ ہاکی کے کھلاڑیوں کی ٹانگوں کی حالت عمر شریف صاحب بیان کرتے رہتے ہیں۔ ہوا اور پانی میں آلودگی ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور پودو ںپر زہر کے اثرات ہیں۔ دودھ میں طرح طرح کے کیمیکل ملے ہوئے ہیں۔ سرخ گوشت میں شک رہتا ہے اور پولٹری کی مصنوعات موٹاپا کر رہی ہیں۔ خالص اشیاء کا حصول نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ ہماری سوسائٹی زرعی سے بتدریج صنعتی ہوتی جا رہی ہے۔ Urbanisation اور سوسائٹی کی Transformation  کی وجہ سے کشادہ صحن کے گھر اور کھیل کے گرائونڈ والے سکول کی جگہ چار مرلے کے مکان اور آٹھ مرلے کے سکول نے لے لی ہے۔ جسمانی کھیلوں کے وسائل میں کمی آ گئی ہے اور بچو ںمیں اس کے شوق کا فقدان ہے۔ اعلیٰ گریڈ لینے کی دوڑ میں والدین اور اساتذہ کھیل اور جسمانی مشق کی اہمیت نظر انداز کر کے بچوں کی دنیا کو درسی کتابوں اور امتحانوں تک محدود کر چکے ہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہم جو کبھی ہاکی اور کرکٹ ورلڈ چمپئین تھے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بھارتی جاپھیوں سے ہمارا raider نکل نہیں پاتا ہے۔ سکواش میں عشروں پر محیط ہماری حکمرانی ختم ہو گئی ہے۔ ایک مدت سے ہم نے اولمپک میڈل نہیں جیتا۔ ہمارا Physical Superiority کا Pride خطرے میں ہے۔ Martial race کا دعویٰ ثبوت کا متقاضی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: