ناجائز آپریشن —– رب کی پکڑ سے ڈریے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود

0
  • 33
    Shares

اسلام آباد میں ناجائز تجاوزات کے نام پر آپریشن نے اب غریبوں کی جھونپڑیوں کا رخ کر لیا ہے۔ میں نے ہمیشہ لوگوں کو عمران کے لیے دعا کرتے دیکھا ہے لیکن اب ایک عجیب نظارہ ہے۔ بارہ کہو کے اس پار ملبے پر ایک بوڑھی ماں بیٹھی تھی، اس کی جھریوں سے آنسو ٹپک رہے تھے اور وہ جھولی پھیلا کر بد دعائیں دے رہی تھی۔

بیچ میں گاہے وہ رکتی اور اپنے اس بیٹے کو ایک دو تھپڑ جڑ دیتی جس کے کہنے پر اس نے عمران خان ہی کو ووٹ دیا تھا۔

میں ایک نظر اس ماں کو دیکھتا رہا پھر میری آنکھیں بھر آئیں ۔چشم تصور سے میں نے سوچا: شوکت خانم بھی اس ماں جیسی ہی ہوں گی۔ آپ یقین کریں، یہ منظر دیکھے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن اس کا تصور کرتا ہوں تو جسم کانپنے لگتا ہے۔

عمران خان اگر یہ سمجھتے ہیں جھونپڑیوں اور مرلوں میں رہنے والی مائوں کی بد دعائیں بنی گالہ کے محلات کی فصیلوں سے ٹکرا کر دم توڑ جائیں گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ یہ آہیں تو عرش کو ہلا دیتی ہیں۔

لوگوں نے اتنے چائو سے یہ حکومت اس لیے نہیں بنائی تھی کہ آتے ہی لوگوں کے دکھوں میں اضافہ کر دے۔ یہ احساس اب دن بدن طاقت پکڑتا جا رہا ہے کہ عمران غلط نہیں کہتے تھے، یہ واقعی ایک سونامی ہے جس نے ہنستی بستی آبادیوں کا رخ کر لیا ہے۔

ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بالکل ہونا چاہیے لیکن کیا اسلام آباد کے بھرے شہر میں ناجائز تجاوزات وہی چند مرلوں کے گھر ہیں جو لوگوں نے اپنی ملکیتی زمینوں پر یا نالوں کے ساتھ ساتھ آباد کر رکھے ہیں۔ لوگوں کے گھروں اور قبرستانوں کو بلڈوز کر کے بنائے جانے والے محلات کیا ناجائز تجاوزات کے زمرے میں نہیں آتے۔

ابھی سپریم کورٹ بار کے وکلاء کے لیے کالونی بنانے کا فیصلہ ہوا تو غریبوں کی ایک ہنستی مسکراتی بستی کو حکم ملا علاقہ چھوڑ دو یہاں کی ریاست اب ماں کے جیسی ہو چکی ہے۔ وہ اب احتجاج کر رہے ہیں اور کوئی سننے والا نہیں۔

جن کے باپ دادا کی زمینیں تھیں وہ ناجائز ہو گئے اور قانون کی آڑ میں ان کی زمینوں پر قانون دان مسلط کیے جا رہے ہیں۔وکلاء کیا سمجھتے ہیں کل اللہ کی عدالت نہیں لگے گی؟ کیا اللہ کی عدالت میں بھی لینڈ ایکویزیشن کا یہی قانون کام آ جائے گا؟

جیسے جیسے شہر پھیلتا رہا، بستیوں کو حکم دیا جاتا رہا گھر خالی کر دو۔ تم جاہل گنوار لوگ ہو یہاں رئیس لوگوں کے لیے سیکٹر بنیں گے۔ آپ آج بھی اسلام آباد کے بڑے بڑے فارم ہائوسز کے پہلو سے گزریے۔ مرکزی شاہراہ پر راول چوک کے اس پار ایک چھوٹا سا قبرستان ہے۔

اس قبرستان کے پاس موٹر سائیکل سوار کبھی کبھار رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ فاتحہ پڑھ سکیں۔ پولیس انہیں بھگا دیتی ہے یا چالان کر دیتی ہے۔ ان قبروں میں ان کے وہ بوڑھے دفن ہیں جن کی زمینیں تھیں۔ اب یہی زمین ان کے لیے اتنی پرائی ہو چکی کہ وہ یہاں فاتحہ پڑھنے کے لیے بھی رکیں تو قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔

حکومت نے سیکٹرز وغیرہ بنانے کے لیے کچھ علاقے قبضے میں لے لیے تو کچھ علاقے چھوڑ دیے۔ جو علاقے چھوڑ دیے وہاں کے لوگوں کو اجازت دے دی کہ یہ ایکوائرڈ لینڈ نہیں یہ آپ کی ملکیت ہے۔ لوگوں کے خاندان بڑھتے گئے اور گھر بھی نئے بننے لگے۔ باہر سے لوگ آنے لگے تو پانچ پانچ دس دس مرلے انہیں بیچ دیے جانے لگے اور انہوں نے بھی گھر بنا لیے۔

اب عمران خان بنی گالہ کے آخری کونے میں رہائش پزیر ہیں۔ ملکیتی زمین پر نہیں شاملات کی زمین پر۔ جب وہ اپنے محل سے نکل کر اسلام آباد کا رخ کرتے تو ان کی زمینی جنت کی راہ میں یہ پانچ پانچ چھ چھ مرلے والے گھر حائل ہو کر علاقے کا حسن متاثر کرتے۔

عمران کے خوابوں کی جنت کا راستہ ہو اور بیچ مین یہ چار چار مرلوں والے قوس قزح جیسے رنگوں میں بھنگ ڈالنے آ جائیں۔ یہ کیسے گوارا ہو تا؟

اب ان کے ہاتھ حکومت آئی ہے تو ان گھروں پر ان کے اہلکار قہر بن کر نازل ہو رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے نالوں کی چار سو فٹ زمین خالی کروانا ہے۔ نوٹس بھیجے جا رہے ہیں اور شہر عذاب کی گرفت میں ہے۔ اس وقت نالوں کی عمومی چوڑائی قریبا ایک سو فٹ ہے اور یہ کافی سے زیادہ ہے۔

باقی کی زمینوں پر لوگوں نے گھر بنا لیے ہیں جو کسی طور بھی ناجائز نہیں۔ یہ انہی کی ملکیت زمین ہے اور نالے رخ بدلیں تو بچ جانے والی زمین مقامی لوگوں ہی کی ہوتی ہے۔ چار چار پانچ پانچ مرلوں والے ہزاروں گھر گرائے جانے کا منصوبہ تیار ہے۔

سوال یہ ہے کہ نالوں کی یہ زمین حکومت نے ایکوائر کی تھی؟ کیا لوگوں کو اس کی قیمت دی تھی؟ کس اصول کی بنیاد پر ہزاروں ہنستے بستے گھر اجاڑنے کی تیاری ہے؟

بنی گالہ میں عمران خان کا محل بھی اتنا ہی قانونی اور جائز ہے جتنے یہ گھر۔ بلکہ شاید اس سے زیادہ کیونکہ عمران کا محل شاملات کی زمین پر بنا ہے جب کہ ان گھروں کی اکثریت ملکیتی زمین پر قائم کی گئی ہے۔عمران خان کا گھر محفوظ ہے۔ بڑی بڑی ہائوسنگ کالونیاں بھی محفوظ ہیں۔

محکمہ جنگلات کے سترہ سو ایکڑ پر قبضہ کر کے جنہوں نے ہائوسنگ سوسائٹیاں بنا لی ہیں ادھر بھی کوئی رخ نہیں کرتا۔ صحافی بھی تگڑے ہیں اس لیے اس بات کی تحقیقات بھی نہیں ہو رہیں کہ میڈیا ٹائون جنگلات کی زمین پر بنا ہے یا جائز بنایا گیا ہے۔

علیم خان کی ہائوسنگ سوسائٹی کو سی ڈی اے این او سی جاری نہیں کر رہا تھا جیسے ہی عمران خان کی حکومت بنی چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اسے سی ڈی اے نے این او سی جاری کر دیا۔ قانون کی حکمرانی کے لیے اب غریب اور متوسط طبقے کے گھر بچے ہیں جو گرائے جا رہے ہیں یا چند پروفیسرز ملے ہیں جنہیں ہتھ کڑیاں پہنا کر تسلی کر لی گئی کہ وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی قائم ہو چکی ہے۔

آج اقتدار عمران خان کے پاس ہے۔ ان کی جنبش ابرو سے لوگوں کے گھر زمین بوس ہو رہے ہیں لیکن وہ نہ بھولیں اقتدار کے خمار سے بڑا دھوکہ اور کوئی نہیں اور رب کی پکڑ بہت شدید ہے۔ غریب کی آہوں سے ڈریے ۔ یہ جہانگیر ترین کے طیارے سے زیادہ تیز رفتار ہوتی ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: