جماعت اسلامی کو دس مشورے —- فرحان کامرانی

0
  • 96
    Shares

جماعت اسلامی اس ملک کی واحد نظریاتی سیاسی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی ایسی واحد جماعت ہے جو فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتی۔ جماعت اسلامی ایسی واحد جماعت ہے کہ جس کے کسی رہنما پر کبھی بھی بدعنوانی کا کوئی الزام نہ لگا، مگر ان تمام خواص کے باوجود بھی عملاً یہ جماعت انتخابات میں ناکام ہی رہتی ہے۔ 1971ء سے لے کر 2018ء تک کے انتخابات یہی ثابت کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی سیاست اس ملک میں ناکام ہے۔ اس ناکامی پر ہم چند مفروضوں کی بنیاد پر کوئی رائے دے سکتے ہیں۔ ہمارے پاس جماعت کے لئے چند مشورے ہیں جو ہم بحیثیت خیر خواہ دے رہے ہیں تاہم  اگر کوئی ہماری بات کو طنز باور کرنا چاہتا ہے تو ہماری بلا سے۔

  1. جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کو اپنی مخصوص آبادیوں سے باہر عام شہر میں رہنے کی تلقین کرے۔ یوں منصورہ میں Ghetto بنا کر آپ لوگ ایک نوع کی خانقاہیت کا شکار ہو گئے ہیں اور حقیقی دنیا سے بڑی حد تک کٹ گئے ہیں۔
  2. اپنی اولادوں کی غیر جماعتیوں میں بھی شادیاں کریں۔ آپ لوگ کوئی الگ مذہب یا فرقہ نہیں ہیں۔ نہ ہی آپ کسی نوع کی بند تاجر کمیونٹی ہیں اور نہ ہی آپ کو یہ بننا چاہئے۔
  3. اپنے بچوں کو غیر جماعتی اسکولوں میں بھیجئے تا کہ وہ معاشرے سے ایک زندہ تعلق استوار کر سکیں اور ایک بند گروہی فضا سے باہر سانس لے سکیں۔
  4. جسارت پڑھنا بند کر دیں، اس اخبار میں محض شاہنواز فاروقی صاحب کے مضامین قابل توجہ ہیں تو وہ تو آپ اُن کی ویب سائٹ پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اس کالم کو نکال دیجئے تو یہ اخبار ایک تیسرے درجے کی چیز ہے اور یہ آپ کے اذہان کو بڑی حد تک مائوف کر چکا ہے۔
  5. ایک دفعہ غور سے ایک ذہنی ایکسرسائز کیجئے کہ خود کو ایک تھر کا ہاری تصور کیجئے اور خود سے سوال کیجئے کہ آپ کو جماعت اسلامی کو کیوں ووٹ دینا چاہئے؟ پھر خود کو لالو کھیت کا مہاجر،چاغی کا بلوچ، ٹنڈو الٰہیار کا سندھی اور لائل پور کا پنجابی تصور کر کے یہی ذہنی مشق کیجئے اور خدارا! اس مشق میں خود کو ایک غریب انسان تصور کیجئے گا، بجائے اس کے کہ خود کو ’’مڈل کلاسیا ‘‘ہی سمجھ کر بس علاقے بدل بدل کر خیالی قلعے بناتے رہیں۔
  6. ایک مرتبہ اپنے اکابرین کی کتب ایک طرف رکھ کر حضرت احمد رضا خان بریلویؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتب بھی پڑھیے۔ ان دونوں مکاتب فکر کے اختلافات اور ان میں موجود مماثل کو پڑھئے اور پھر اپنے اوپر غور کیجئے اور یہ بتائیے کہ آپ میں اور بریلوی، دیوبندیوں میں کیا مماثل ہے؟ اور اگر آپ ان دونوں غالب گروہوں کے درمیان کسی نوع  کی خلائی مخلوق( Alien)  ہیں تو آپ ان میں مذہب کا نعرہ لگا کر کیسے مقبول ہو سکتے ہیں؟
  7. اپنے بچوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ جماعت کو ووٹ دیا کریں، ہر کام گھر سے ہی تو شروع ہونا چاہیے!
  8. تعلیمی اداروں کو یرغمال بنا کر آپ اپنی اقتدار کی خواہش کو جس طور سے Compensate کرنا چاہتے ہیں تو حضور چوسنی سے بھوک تو نہیں مٹی ناں؟
  9. مولانا فضل الرحمن سے جان چھڑائیں۔ انکو آپ اچھی طرح جانتے ہیں مگر پھر بھی آپ بار بار ڈسوانے کے لیے اتحاد کر لیتے ہیں، تو کیا یہ آپ کی کسی نوع کی بے ساکھی ہے؟ اگر نہیں تو آپ کب تک خود کو بیوقوف بناتے رہیں گے؟
  10. اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، CA وغیرہ بنانے کے علاوہ اپنے کچھ بچوں، بچیوں کو علماء اور حفاظ بھی بنایئے۔ان کو بھی مدارس کا ماحول دکھایئے، آپ ایک مذہبی جماعت ہیں تو اتنی دنیا داری کیوں بھلا؟

راقم الحروف سلیم احمد کا سچا معترف ہے اور دل سے ان کو اپنا استاد مانتا ہے مگر حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے اپنے استاد محترم محمد حسن عسکری کی ہدایت کے برخلاف جماعت کی طرف مائل ہو گئے اور اس میں کسی نوع کی اسلامی نشاۃ ثانیہ کی قابلیت دیکھنے لگے۔ سلیم احمد مرحوم کا ڈاکٹر طاہر مسعود کو دیا ایک انٹرویو جماعت اسلامی سے ہضم نہ ہو سکا اور انہوں نے اس عظیم دیدہ ور کو اپنے معمولی سے اخبار جسارت میں کالم لکھنے سے منع کر دیا۔ یہ ہے وہ لکڑی کا جماعتی دماغ جو اس کی ناکامیوں کی وجہ ہے۔ سلیم احمد نے اس انٹرویو میں ایسا کیا کہا تھا جو جماعت ہضم نہ کر سکی؟ وہ انٹرویو آج انٹرنیٹ پر موجود ہے، غور سے پڑھئے گا۔ جماعت اسلامی تو اسی روز ناکام ہو گئی تھی جب اس نے سلیم احمد جیسے سچے خیر خواہ اور حقیقی مفکر کے ساتھ یہ گھٹیا سلوک کیا تھا۔ یادش بخیر سلیم احمد وہ شخص ہے جو جماعت کے 1971ء کے انتخابات میں ناکامی پر ٹوٹ سا گیا تھا اور تب شہرہ آفاق طویل نظم مشرق لکھی تھی۔ یہ حساس شخص کئی دن اس صدمے سے نڈھال رہا تھا، روتا رہا تھا اور لکھتا رہا تھا۔ مگر جماعت نے اس عظیم شخص کی تحریر پر پابندی لگا کر اس کے خلوص کا جواب دیا۔ مگر عسکری نے تو خیر پہلے ہی جماعت کے بابت پیشین گوئی کر دی تھی۔

2018ء کے انتخابات جب جماعت اسلامی ہاری تو راقم بھی اس دن سے لکھ رہا ہے مگر سلیم احمد کے برخلاف نہ مغموم ہے نہ رو رہا ہے بلکہ خوش ہے۔ یہ Ghettos میں رہنے اور جسارت پڑھنے والے، سفید موزا پہننے والے اور ٹائی لگا کر دفتر جانے والے، پنشن اور گریجویٹی کے طالب، چلے ہوئے کارتوس، نجانے کیوں عنبر شہزادے کی نقل میں ہر ہر انتخاب میں کھڑے ہو جاتے ہیں؟ پھر انتخابات میں ہار کر عجیب عجیب باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ارے آئینہ تو دیکھئے، آپ بہت صاف ہیں مگر آپ کا اس معاشرے سے تعلق کیا جو کوئی آپ کو ووٹ دے گا؟ آخر Alien بھی کبھی انسانوں کے انتخاب میں جیت سکتے ہیں؟ مگر انسان بننے کے لئے آپ کو طلسم ہوشربا اور الف لیلیٰ پڑھنی پڑے گی اور پھر منٹو نامہ۔ تھوڑی ہمت کیجئے اور اپنے Ghettos سے باہر نکلئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: