صوفی، ادیب اور عالم: کچھ گلے شکوے —– محمد مدثر احمد

0
  • 21
    Shares

مجھے بعض صوفیوں، ادیبوں اور مذہبی سکالروں سے اختلاف ہے۔ صوفیوں سے مراد صرف وہ حضرات ہیں جو کہ روایتی طو رپر شاہی درباروں سے منسلک رہے۔ بادشاہوں کے معاملات میں دخل اندازی سے باز رہے۔ عوام کو حکمران کی اطاعت والی تعلیمات سے بھر پور طریقے سے آگاہ کیا اور اپنے ظالم نفس کی سر کوبی کے لیے جنگلات اور غاروں میں چِلّے اور وظائف کے تصورات کو فروغ دیتے رہے۔ ان کا ہاتھ رعایا کی نبض پر ہوتا تھا۔ لوگوں کے مسائل اور نفسیات سے آگاہ تھے۔ یہ تمام تفصیلات حاکمِ وقت کے علم میں لائی جاتیں۔ پُشت در پُشت اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مروّجہ جاسوسی نظام اور باضابطہ وزرا اور مشیران کی جماعت کے ساتھ صوفی نظام بھی سلطنت کو استحکام بخشنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ بعض صوفیا کرام کی وفات کے بعد گدی نشینی باقاعدہ ایک سیاسی اور مذہبی نظام کی صورت اختیار کرتی گئی جہاں لوگوں کے حقیقی یا روحانی مسائل تو کیا حل ہوتے صرف ان کی معصومانہ مذہبی وابستگیوں کا سودا کر کے سیاسی مقاصد حل کئے جاتے رہے۔ ایک عام مسلمان خود سپردگی یا مریدی کے دائرے میں داخل ہو کر اپنی آزاد سوچ، تحریک کی خواہش یا اختلاف کے حق سے دستبردار ہو گیا۔ یہ سلسلہ خاندانِ غلاماں سے لے کر انگریزوں کے دور حکومت میں بھی اسی صحت کے ساتھ برقرار رہا۔

اس کے بعد ادیبوں کا گروہ ہے۔ ان میں سے بعضوں نے اخلاقیات، حب الوطنی، ما بعد الطبعیات کی طلسماتی دُنیا اور دلچسپ قصّے کہانیوں کا سہارا لیا۔ بعض حساس معملات کے بیان پر بھی زیبِ داستان پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا۔ مافوق الفطرت واقعات کی بنا پر نتیجے اخذ کئے گئے۔ عملی زندگی کی تلخیوں اور حقیقتوں کا مطالعہ اصولی، روحانی اور نظریاتی سطح پر کیا گیا۔ اس کے برعکس یہ ادیب حضرات اپنی تقررّی، تبادلے اور ترقی جیسے ضروری معملات میں کسی نیک دل اعلیٰ بیوروکریٹ کی مدد بخوشی قبول کرتے رہے۔
اس مکتبہ فکر نے جہاں حب الوطنی جیسے بلند خیالات کو فروغ دیا وہاں کچھ مسائل بھی پیدا کر دیئے۔ ایک عام آدمی کو انتہائی اصولی اور محدود بنا دیا گیا۔ عملی زندگی کی سچائیاں اور تقاضے ان ادیبوں کی خوشنما تحریروں کے برعکس بڑے کھردرے اور حوصلہ شکن تھے۔ نتیجتہً مایوسی بڑھی، تضادات سامنے آئے اور اصولوں سے بندھا قاری زمانے کے معروضی  حقائق کے سامنے مُنہ کے بل آ گرا۔
یہ ادیب لوگ گدی نشینوں سے بہر طور بہتر تھے۔ جنگلوں اور ویرانوں سے لوگوں کو بابوں کے ڈیروں تک تو لے آئے۔ وظائف اور چلّوں سے بات جڑی بوٹیوں کے خواص تک آ پہنچی۔ سائنس کی افادیت پر بھی بات ہونے لگی۔

ایک تیسرا گروہ بھی ہے۔ معذرت کے ساتھ یہ وہ علما کرام ہیں جو عہدِ حاضر کے استحصال کے مارے غریب بے روزگار مسائل میں گرے ہوئے عام آدمی کو دنیا کی بے ثباتی و صبر کی عظمت اور جنّت کی آسائشوں کے بارے باخبر کرتے رہتے ہیں۔ نماز اور دیگر ارکانِ اسلام پر کاربند رہنے کی تلقین اتحاد اور بھائی چارے کا فروغ جیسے خیالات کے پرچار سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ یقیناً اس کے بہت سے اچھے نتائج بھی ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن میرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف کے نفاذ کے لیے خوبصورت الفاظ سے سجی شیریں زبانی کی بجائے سادہ انداز میں اصل موضوعات کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اُن کے اجتماعی حقوق و فرائض کی تعلیم چاہیے لیکن ان تینوں INSTITUTIONS نے فرد کی INTELLECTUAL GROWTH شخصی آزادی، RATIONALISM, LOGIC صحت مندی تنقیدی روّیہ، REFORMS پر کوئی خاص کام نہیں کیا۔

ان تینوں گروہوں کے زیرِ اثر ایک ایسا فرد تشکیل پاتا ہے جو اپنی فکری رہنمائی کے لیے خانقاہوں کا رخ کرتا ہے۔ بیماری میں بابا جی کے ڈیرے پر جڑی بوٹیوں سے شفا پاتا ہے۔ عملی زندگی کی دوڑ میں استحصالی قوتوں سے بلا مقابلہ ہار جاتا ہے۔ ظلم اور نا انصافی پر ردِّ عمل ظاہر نہیں رکھتا۔ عارضی دنیا کی زیادہ فکر نہیں کرتا۔ تحریک اور جدوجہد کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے خاموش اور پُرامن رہ کر ایک ادنیٰ یا اوسط درجے کی غیر اثر پذیر انفرادی زندگی گذار کر فانی دُنیا سے کُوچ کر جاتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: