سوزوکی لوگ ——– محمد مدثر احمد

0
  • 17
    Shares

مسٹر سوزوکی کے جادوسے بچنا مُشکل ہے۔ چند سال پہلے ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں جاپان کے سفر کا اتفاق ہوا۔ مسلسل سفر میں رہے۔ کبھی ایک شہر کبھی دوسرا۔ جاپان کے مختلف اداروں کے کام کا جائزہ لیتے رہے۔ دورانِ سفر ایک صاحب جن کا نام بعد میں مسٹر سوزوکی معلوم ہوا سائے کی طرح ہمارے ساتھ رہے۔ ہمارے لیے وہ محض ’’ایک جاپانی‘‘ تھا۔ جو شاید کچھ دوسرے جاپانی میزبانوں کی طرح ہمارا خیال رکھنے کی ڈیوٹی پر معمور تھا۔ یہ ہمارا سامان بس میں رکھواتے تھے۔ خود اتار کر ہمارے حوالے یا کمرے تک لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ گلے میں ایک اچھی کوالٹی کا کیمرہ رہتا تھا جس سے مختلف مواقعوں پر مختلف زاویوں سے ہماری تصویر کشی کرتے تھے۔ بات بات پر مسکراتے تھے۔ ہمارے ساتھ وہ جہاں بھی جاتے میزبان اُن کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ خیر اس بات کو ہم نے شاید کچھ دن تک کوئی خاص اہمیت نہ دی۔ ایک دن یونہی اتفاق سے معلوم ہوا کہ وہ جاپانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ہیں اور ہماری تربیت کے پروگرام کے ناظمِ اعلیٰ ہیں۔ بڑی حیرت ہوئی۔

ہم پاکستانی اس بات کے عادی نہ تھے کہ حکومتی اعلیٰ عہدیدار بغیر کسی رکھ رکھائو اور تکلّفات کے اتنی سادگی اور عاجزی کے ساتھ لوگوں سے برتائو کرے کہ صاحب کے عہدہ کا لوگوں کو احساس تک نہ ہو۔ ہم سارے اُن کے اخلاق سے متاثر ہوئے اور دل سے اُن کی عزت کرنے لگے۔ اُن کے کردار کے کئی حوالے تھے جو قابلِ رشک بھی تھے اور قابلِ تقلید بھی۔ مروت اور احساس اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ایک دفعہ جبکہ ہم ایک گائوں کے تربیتی ہاسٹل میں قیام پذیر تھے۔ برف باری ہو رہی تھی۔ اندرونی عمارت کا درجہ حرارت کنٹرولڈ تھا۔ ہمارے ایک دوست  کو آدھی رات کو کافی کی طلب ہوئی تو پتا چلا کہ دودھ وغیرہ ختم ہے۔ مسٹر سوزوکی ایسے حالات میں بھی ہماری ایک عام سی ضرورت پوری کرنے کے لیئے سخت سردی اور برفباری میں خود گاڑی ڈرائیو کر کے دودھ لے کر آئے۔ یہ تو چند ایک مثالیں ہیں اور کتنی مثالیں پیش کروں۔ الغرض اُن کی مہمان نوازی اور وضع داری کے ہم قائل ہو گئے۔

اس کے برعکس اگر ہم اپنے ماحول کا جائزہ لیں تو صورتِ حال قدرے مختلف نظر آتی ہے۔ ہم اپنی ذات کے خول سے باہر نہیں آتے۔ ہم نے اپنے آپ کو بہانوں بہانوں سے مختلف ڈبوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تعصّب اور اقربا پروری حقیقتیں ہیں۔ جس افسر کے پاس کسی شہری کا کام پھنسا ہو وہ اپنی افسری اور اہمیت ثابت کرنے کا موقع ضائع نہیں کرتا۔ رشوت کا مرض تو خاص مقامی مسئلہ نہیں لیکن ہمارے روّیوں سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ شاید خاص ہمارا ہی شیوا ہے۔ اپنی اہمیت جتانے کی ضرورت عام ہے اور سمجھ سے باہر ہے۔ اسے احساسِ کمتری کہیے یا کیا کہیئے کہ سائل کو عزت دینا اور اس سے منت سماجت کروائے بغیر اس کی مشکل دور کر دینا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں ’’کرسی کا خمار‘‘ قسم کی بات نہیں ہے۔ وزارتوں اور معروف اداروں میں کام کرنے کی روایت پختہ ہے۔ ان اعلیٰ سرکاری مراکز میں روز مرّہ کے معمولات کہ جس سے ایک عام آدمی کا واسطہ پڑتا ہے رشوت کا رجحان بھی بہت کم ہے۔ لیکن ’’احساس‘‘ کا فقدان نظر آتا ہے۔ افسر کی ’’انا‘‘ دوسرا مسئلہ ہے۔ اس معاملہ میں ہمارے ایمان دار افسران صورتِ حال کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ عام آدمی کی دفتروں میں رسائی کو پسند نہیں کرتے۔ سائل کو جھڑک دینا ٹھیک سمجھتے ہیں۔ سائل کے مسئلہ کو حل کرنے والے ساتھی افسر کو رشوت خور گردانتے ہیں۔ ایمان داری کے غرور میں مبتلا ہو کر احساس کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ Lack of Empathy, Sadism اور No Innitiative کی وجہ سے عوام کے مسائل التویٰ کا شکار ہو جاتے ہیں اور مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ترقی یافتہ مُلکوں کے مسٹر سوزوکی بسوں میں سامان بحفاظت رکھ رہے ہوتے ہیں۔ اپنے گلے میں ڈالے ہوئے کیمرے سے تصاویر بنا رہے ہوتے ہیں۔ بستر کی سلوٹیں ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں۔ آدھی رات کو موسم کی شدت کو خاطر میں لائے بغیر پاکستان سے آئے ہوئے طاہر اعوان. کی کافی کی طلب کو پورا کر دیتے ہیں۔ اپنے اعلیٰ ہونے کا احساس اپنے کردار سے دلاتے ہیں۔ یہ لوگ انا پرست نہیں ہوتے۔ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ حساس دل رکھتے ہیں۔ عاجزی اور سادگی سے پیش آتے ہیں۔

میرا خیال ہے پاکستان میں مسٹر سوزوکی جیسے لوگ ہونے چاہئیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: