میرا مال ، میرا مال‎ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بشارت حمید

0
  • 2
    Shares

دنیا میں بسنے والے ہر انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے پیسے کی بہت اہمیت ہے۔ دنیا میں کچھ بھی فری نہیں ملتا البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسکی قیمت کوئی اور ادا کر رہا ہو۔ دوسری طرف ہر پیدا ہونے والا بچہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے کوئی بھی پیسہ اپنے ساتھ لے کر نہیں آتا۔ بچپن سے لے کر جوانی تک ماں باپ اسکے اخراجات اٹھاتے ہیں پھر وہ خود کمانے کے قابل ہوجاتا ہے لیکن ہر بچے کے ماں باپ وسائل کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ اس نے زمین کا نظم و نسق چلانے کیلئے انسانوں میں مختلف مدارج رکھے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کو ایک دوسرے سے منسلک کیا ہے۔ یہ ضروریات ہی ہیں جو امیر کی جیب سے پیسہ نکلوا کر غریب ہنر مند کے ہاتھ تک پہنچاتی ہیں۔

اگر کسی کو اللہ نے مال و دولت میں کشائش بخشی ہے تو اس میں انسان کا ذاتی کمال کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر انسان یہ سمجھے کہ میں نے یہ مال اپنی عقل اور سوجھ بوجھ سے کمایا ہے تو عقل کس کی عطا کردہ ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جو جس کو چاہے عقل و فہم عطا کر دے اور جب چاہے کسی دماغی عارضے میں مبتلا کر کے اس کی یہ صلاحیت ختم کر دے۔ تو پھر انسان کا کمال کیا ہوا۔ اسے تو جو کچھ بھی ملا ہے خواہ جسمانی طاقت ہو، حسن ہو، جوانی ہو، مال و دولت ہو، اولاد ہو، عرض کچھ بھی ہو، سب کا سب اللہ کی عطا ہے۔ ان نعمتوں کو حاصل کرنے میں انسان کا اپنا کوئی کمال سرے سے ہے ہی نہیں۔

اگر اللہ کی عطا کردہ دولت سے انسان کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دے کسی کی پریشانی میں اس کی مدد کردے تو اس عمل کا احسان اس ضرورت مند پر چڑھانے کی بجائے یہ سوچ رکھنی چاہئے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے کسی کی مدد کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اگر کسی کو اللہ کے نام پر کچھ دیا ہے اور وہ لینے والا ہماری نظر میں مستحق نہیں تھا تو جس مال کے ہم مالک بن کر بیٹھے ہیں کیا ہم اس کے مستحق ہیں؟ ذرا تجزیہ کریں کیا فرق ہے ایک مل مالک اور ایک مسکین انسان میں، دونوں انسان ہیں، دونوں کو بھوک بھی لگتی ہے اور پیاس بھی، دونوں کو باتھ روم کی حاجت بھی ہوتی ہے اور رات کو نیند بھی آتی ہے، اسی طرح بے شمار معاملات میں یکسانیت مل جائے گی، کیا ہوا اگر اس دنیا میں اللہ نے اس مسکین کو تھوڑا مال عطا کیا ہے اور دوسرے کو زیادہ، اللہ جب چاہے دنوں کو الٹ دے اور آج کا مل مالک کل کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھرے۔

جب اکتوبر 2005 میں زلزلہ آیا اور ہزاروں لوگ متاثر ہوئے وہیں اس کا شکار ہونے والے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو چند لمحے قبل دوسروں کو صدقہ و خیرات دینے والوں میں شامل تھے لیکن چند سیکنڈ میں بازی الٹ گئی اور وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں کی صف میں آ گئے۔ انسان کے اندر مال جمع کرنے کی حرص بہت زیادہ ہے۔ کئی لوگ اگر اللہ کی راہ میں دینے کا احسان کر ہی لیں تو اسے بھولتے نہیں۔ البتہ اگر کوئی ان سے گن پوائنٹ پر کچھ چھین لے تو وہ برداشت ہو جاتا ہے۔

ایک حدیث مبارکہ میں ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال۔ اس کا مال تو وہ ہے جو کھا پی لیا یا پہن کر پرانا کر دیا اور یا پھر اللہ کی راہ میں دے دیا۔ باقی جو کچھ ہے وہ تو وارثوں کا ہے۔

باباجی اشفاق احمد صاحب کی بات یاد آ گئی کہ کوئی سائل آئے تو اسے ضرور کچھ نہ کچھ دینا چاہیئے کہ کون سا اپنے پلے سے دینا ہے یہ تو مالک کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی دینا ہے۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال سے سائل اور محروم کا حق بخوشی ادا کرنا ہے یا اس کے استحقاق کے ثبوت لے کر اس پر احسان کرنا ہے

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: