کھرب پتی سیا ستدانوں کے ککھ پتی سیاسی کارکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ شفیق الرحمن

0
  • 16
    Shares

سیاستدان اپوزیشن میں ہوں تو حصول اقتدار کیلئے دی گئی اپنی کال پر لبیک کہنے اور کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آنے والے سیاسی کارکنوں کو مجاہد، ہیرو، شیر اور قومی سرمایہ قرار دیتے ہیں۔ ان دنوں یہ عیار سیاستدان ان سیدھے سادے جنونی اور نظریاتی کارکنوں کو اپنی جماعت کا ڈھول سپاہی سمجھتے ہیں اوران کے قدموں پر اپنی پلکوں کی جھالریں نچھاور کرنے کیلئے ”ایور ریڈی“ پائے جاتے ہیں۔ اپوزیشن کی سیاست کے دنوں میں یہ اپنے عالی شان محلات کے دروازے غریب غربوں، فقیر فقروں، کمی کمینوں اور مہاتر شاتڑ طبقے سے تعلق رکھنے والے ان شیدائیوں کیلئے انتظار کی آنکھ کی طرح کھلے رکھتے ہیں۔ یہ غریب مسکین، بے در اور بے زر کارکن پرکشش دیہاڑی کے لالچ میں تشریف لاتے نو چائے، شربت، پھل فروٹ، رشئین سلاد، پہلوانی سرد ئی، تلوں والے سرخ نان، روغنی تافتان، چینی سوپ، دہلوی نہاری، اجمیری حلیم، امرتسری ہریسہ، چنیوٹی کنہ، سندھی تہ دار بریانی، شاہجہانی پلاؤ، بونگ، پائے، شاہی مرغ چنے، مٹن ٹکہ، چکن ٹکہ، ملائی ٹکہ، کباب، کوک، پیپسی، سیون اپ چرغوں اور بکروں سے ان کی تواضغ کی جاتی ہے۔ خوشامدی ٹولے میں سے کسی کی چھنگلیا ہاتھ میں پکڑا ہوا کریکر پھٹنے سے بھی کٹ جائے تو اسے فوری طور پر ”مجاہد اول“ کے خطاب سے نواز جاتا ہے۔

ولا یتی دورکی دیسی ہندوستانی ریاستوں کے خودمختار راجوں کی طرح یہ اس پاک سرزمین پر جدی پشتی اور موروثی راج قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہمہ وقت اس کے سندر سپنے دیکھتے ہیں۔ ان کے ہونٹوںپر جمہوریت کے دعوے ہیں اور ان نام نہاد دعووں کے باوجود ان کا طرزِ سیاست اور اندازِ حکومت اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ یہ قرونِ مظلمہ کے شہنشاہوں کی طرح مطلق العنان بننا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ جب یہ مسند اقتدار پر فروکش ہوں تو ریاست کے تمام ادارے جل جلالہ کا ورد کرتے ہوئے صبح و شام انہیں سجدئہ تعظیمی بجا لایا کریں۔

عام کارکن تو انہیں منزل اقتدار تک پہنچانے کیلئے بے خطر آتش نمرود میں کود پڑتاہے اور منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے ان شیشہ مزاج، شبنم نہاد اور گل بدن و گل پیرہن شہزادوں اور شہزادیوں نے جب کسی جلسہ، جلوس، ہڑتال یا ہنگامے کے دوران ایک بھی لاٹھی کھانا ہوتو اس کی ”باقاعدہ منصوبہ بندی‘ کی جاتی ہے۔ واقف کار انتظامی افسران سے رابطہ کر کے انہیں ہدایات دی جاتی ہیں کہ آج کے قائد حزب اختلاف کل کے وزیراعظم نے فلاں تاریخ کو فلاں میدان میں یا فلاں سڑک پر جلسے یا جلوس کے دوران اپنی تواضع چند ہلکی پھلکی لاٹھیوں سے کروانے کی ”اچھوتی اور معصوم“ خواہش کا اظہار کیا ہے۔ کار خاص قسم کے فوٹو گرافروں اور ”خصوصی خبر نگاروں“ کو ان کے میڈیا سیل کے میر منشی ایڈوانس ہدایت نامہ مع ”بھاری بھر کم لفافہ “ارسال کر دیتے ہیں کہ اس ایونٹ کی بھرپور کوریج ہونا چاہئے۔ ادھر متعین پولیس اہلکار کی لاٹھی ایکشن ری پلے سٹائل میں فضا میں لہرانے اور ادھر مستقبل کا/ کی وزیراعظم سر آسمان کی طرف اٹھا کر اور منہ کھول کر درد سے کراہنے کی اداکاری کرتا ہے اور فوٹو گرافر فلیش گنوں کی دودھیا روشنی میں وائیڈ رینج کیمروں سے تاریخی کلوزاپ تیار کر لیتے ہیں۔ اگلے دن کے اخبارات میں حکومتی فسطائیت کا یہ منہ بولتا شہکار چھپتا ہے تو ان کی مقبوضہ جماعت کے تنخواہ دار کارکن اپنے لیڈر کی جرأت اور جگرداری کی خانہ ساز داستانیں سنا سنا کر بھولے بھالے عوام کو بیوقوف بنانے کے مشن پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

جاگیرداروں اور صنعتکاروں کے ”شاہی“ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان وڈیروں، فصلی بٹیروں، سیاسی مچھیروں، سدابہار لٹیروں اورملکی مقدر کے افق پر چھائے دائمی اندھیروں کے موٹے تازہ ہٹے کٹے، نرم و نازک اور شگفتہ و تر و تازہ جسموں پر کبھی کسی تحریک کے دوران ہلکی سی خراش بھی نہیںآتی۔ ان کیلئے تو جیلیں بھی پکنک پوائنٹ بن جاتی ہیں۔ اے کلاس سے تعلق رکھنے والی اے کلاس لیڈر شپ کو جیل میں بھی اے کلاس ہی عطا کی جاتی ہے۔ ان مراعاتیوں اورہر اقتدار کے براتیوں کیلئے تو جیلیں بھی بے فکرے اور کھلنڈرے طالب علموں کے ہاسٹلوں کا روپ دھار جاتی ہیں، انہیں تو جیل کی چار دیواری میں بھی وہ پرتعیش سہولیات حاصل ہوتی ہیں جن کا تصور عام آدمی بڑی جیل (اس ملک) کی آزاد فضاؤں میں بھی نہیں کر سکتا۔ یہ جیلیں جو غریب سیاسی کارکنوں کیلئے عقوبت خانوں ، بوچڑ حانوں اور دوزخ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان صاحب بہادروں کیلئے وینس اور کیپری کا جزیرہ بن جاتی ہیں۔ انہیں تو جیلوں میں ہنی مون منانے کی سہولتیں بھی حاصل ہوتی ہیں، ان کے بھائی بند پس دیوار زنداں ہوں تو انہیں باقاعدگی سے تینوں وقت فائیو سٹار اور سیون سٹار ہوٹلوں کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، یہ تو کال کوٹھڑیوں کو بھی واجد علی شاہ کا مٹیا محل، راجہ اندر کا اکھاڑہ اور محمد شاہ رنگیلا کا قلعہ معلیٰ بنا لیتے ہیں۔ دورانِ اسارت ان کی گردن میں ہلکی سی موچ بھی آ جائے تو بظاہر ان کے ”خون کی پیاسی حکومتیں“ جانِ عالم پیا کی ”نازک گردنیا“ کے پٹھوں کی مالش کیلئے 30لاکھ خرچ کر کے مساج مشین یورپ سے درآمد کرتی ہیں اور اس کے برعکس کبیر تاج، میاں ندیم، سائیں ہرا، سہیل ملک یا روشن علی رکشہ ڈرائیور جیسا کوئی عا م سیاسی کارکن ان کے ہتھے چڑھ جائے تو اس کے جسم کے ہر ٹانکے کو ادھیڑ کر رکھ دیتی ہیں۔

جبر کی تاریکیوں میں ستون دار پر سروں کے چراغ رکھنے والے غریب کارکنوں کی قربانیوں کو برسراقتدار جماعتوں کے حکمرانوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بنیاد کے وہ پتھر جنہوں نے تاج محل کے حسن و جمال کو دوام بخشا ہے، وہ کبھی دکھائی نہیں دیتے۔ اسے کہتے ہیں جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا۔ جاڑے کی چاندنی، صحرا کے دور افتادہ گوشے میں کھلنے والے پھول اور غریب سیاسی کارکنوں کی قربانی کی طرف کسی کی نگاہ نہیں جاتی۔ ستم کی بارش ہو تو یہ اگلے مورچوں پر لڑتے ہیں، نوازشات کا ابر چھائے تو وہ ان صحراؤں پر سے بن برسے گزر جاتا ہے اور سمندروں پر جا کر جل تھل کرتا ہے۔

سو اے کھرب پتی سیاستدانوں کے ککھ پتی سیاسی کارکنو! یہ تو ہوتا آیا ہے کہ دکھ بی فاختہ سہتی ہے اور انڈے کوے کھاتے ہیں۔

پچھلی مرتبہ بھی انڈے کوؤں نے کھائے تھے، اس مرتبہ بھی انڈے کوے ہی کھا رہے ہیں، اگلی مرتبہ بھی انڈے کوے ہی کھائیں گے، بلکہ ہر مرتبہ بی فاختہ کا مقدر دکھ سہنا ہو گا اور انڈے کھا کھا کر کوؤں کی توندوں کا حجم بڑھے گا اور بالآخر دکھی بی فاختہ انڈے دینا چھوڑ دے گی اور کوے!

پس اے سیاسی کارکنو! بس تمہارا کام یہی ہے کہ پیٹ پر پتھر اورآنکھوں پر پٹی باندھ کراپنی اپنی قیادتوں کے گن گاؤ۔ ان کی عظمتوں کے ترانے الاپو۔ ان کی شان و شوکت کے قصیدے پڑھو۔ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی کیوں نہ بہہ جائے، پل بیٹھ ہی کیوں نہ جائیں،تم تھک ہار کر نہ بیٹھو۔ بیٹھنا تمہارے لئے منع ہے، اٹھو اور لرزتے کانپتے اور تھرتھراتے ہوئے پلوں پر کھڑے ہو کر ان کی تعریفوں کے پل باندھو۔ یہ دیوان خاص میں توندوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انیس انیس ڈشیں کھائیں اور منرل واٹر پیئیں۔ اور۔ تم جاؤ خون جلاؤ، غم کھاؤ اور غصہ پیؤ۔

یہ بھی پڑھیے: ہمارے سیاسی لیڈر: ایک تاثر، ایک جائزہ —— محمود فیاض

 

قیادت نامی گناہوں کی ان گٹھڑیوں کو اپنے جھکے ہوئے کاندھوں پر اٹھاؤ اور سروں پر چڑھاؤ۔ قیادت دریائے ٹیمز کے کنارے مٹرگشت کرتے ہوئے سٹرابری کھائے اور تم خود سوزی کرو، جیل جاؤ، کوڑے کھاؤ۔ قیادت کے بچے لندن میں میکڈونلڈ کی آئس کریم اور برگر کھائیں اور تم بھوک سے نڈھال بچوں کے سامنے چولہے پر واسا کے جراثیم آلود پانی سے بھری ہوئی منڈیا میں روڑے ڈال کر خالی چمچہ ہلاتے رہو اور خالی ہنڈیا کے سامنے فرش زمین پر لیٹے ہوئے خالی پیٹ بچوں کو تھپکیاں اور تسلیاں دے دے کر سلانے کی کوشش کرو۔ شاید عمر فاروقؓ کی رعایا پروری کے واقعات سنانے والا حاکم کمر پر آٹے کی بوری لادے تمہارے گھر کی ٹوٹی ہوئی دہلیز پر دستک دے۔ بس خواب دیکھو، شاید تمہارے پیاسے خوابوں کو کبھی تعبیر کا دریا ملے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: