پرانے پاکستان کا نیا بیانیہ : صبا اشفاق

0
  • 14
    Shares

اگر یہ کہا جاۓ کہ سنہ2016 نے پاکستان کی برقی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا بھر میں بلا گنگ کا مادری زبان میں چلن عام ہوۓ ایک عرصہ گزرا، تو پاکستان میں بھی چند ہوش مندوں کو قومی زبان کی آبیاری کا مقدس فریضہ یاد آیا۔ بہر کیف! دیر آ ید درست آ ید۔

اب اگر ان آن لائن جریدوں کا دیگر ممالک سے مقامی زبانوں میں جاری ہونے والے مساوی پلیٹ فارموں کے ساتھ تقابلی جائزہ کیا جاۓ تو عوامی طبقات کی سیاسی راۓ میں ایک یکسانیت نظر آتی ہے۔ مثلاً سب ہی حکومتِ وقت کی کارگردگی سے مطمئن نہیں۔ دوم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی چند زاویوں سے پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سوم طبقاتی فرق کو آۓ روز فروغ دیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہاں اس امر کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ زیادہ تر ممالک جہاں لوگوں کو آزادی راۓ میسر ہے وہیں سے ان آن لائن جریدوں کی اشاعت کی جاتی ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ کہ وہاں سیاست کے علاوہ بھی مختلف بنیادی موضوعات جن میں صحت، خوراک، تعلیم، کاروبار، صنعت اور ٹیکنالوجی وغیرہ شامل ہیں پر لکھا جا رہا ہے۔ اور ان تمام موضوعات کے قابل قدر تعداد میں سنجیدہ قارئین بھی موجود ہیں۔

اب اگر پاکستان میں اہل دانش ان موضوعات پر قلم اٹھانے سے گریزاں ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہمارا تعلق کسی مفلوج معاشرے سے ہے، البتہ ہم ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ بہت سے تیسری دنیا کے ممالک سے اس لئے بھی پیچھے ہیں کہ انہوں نے نظریہ و بیانیہ جیسی اصولی بحثوں کا خاطر خواہ جواب تلاش کر لیا ہے۔

اگر آج امریکہ سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے (جس میں وہ حق بجانب بھی ہے) تو اس کی بظاہر ایک یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اس وقت دنیا کے کم و بیش 60٪ وسائل پر بالواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہے۔ لیکن معاملے کا حق شناسی سے غیر متعصبانہ جائزہ لیا جاۓ تو یہ حقیقت عیاں ہو جا تی ہے کہ آج سے کوئی دو ڈھائی صدی قبل جب ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ کے ‘فاؤنڈنگ فادرز’ نے کمرے میں بند ہو کر ‘دی فیڈرلسٹ پیپرز’ نامی دستاویزات مرتب کیں تو وہ محض چند کاغذ کے پلندے لیکر برآمد نہ ہوۓ بلکہ ان کے ہاتھوں میں وہ مشعل تھی جس نے ان کی قوم کو نشاۃ ثانیہ کی راہ سے روشناس کرایا۔

یعنی کسی بھی معاشرے کو ترقی کی راہ پر تب گامزن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاشرے کے افراد کا نظریہ حیات اور ان پر نافذ نظام ہم جہت ہوں۔ اور ہمارے عوام کے نفوس میں جو چیز شامل ہے وہ ان پر نافذ نظام سے مطلقاً متصادم ہے۔ گویا ہم پر نشاۃ ثانیہ کے حصول کے لئے لازمی ٹھہرا کہ آیا ہم لوگوں کی سوچ کو نافذ نظام کے تابع کر لیں یا پھر عوامی جذبات کو مدِّ نظر رکھتے ہوۓ خود پر نافذ نظام کو بدل ڈالیں۔

اگر پاکستان میں صحت و تعلیم جیسے موضوعات پر بات نہیں ہو رہی تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ آج 70 سال گزرنے کے بعد بھی فکری بےراہروی کا شکار ہے۔ البتہ نظریہ اور بیانیہ کا یہ سوال اس دفعہ انتہائی سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مفکرین اپنے تجربے اور علم کی روشنی میں عوام الناس کی رہنمائی بھی فرما رہے ہیں۔ چاہے ان مباحثوں اور مکالموں کا حل کچھ بھی نکلے، خوش آئند بات یہ ہے کے اب ہم نے من حیث القوم صحیح سمت میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: