سر سید، تحریک علی گڑھ اور جاپانی میجی انقلاب — عمیر فاروق

0
  • 38
    Shares

 سترہ اکتوبر اٹھارہ سو سترہ تاریخ پیدائش ہے انیسیویں صدی کے شائد اہم ترین مسلم مفکر اور مصلح کی۔

سرسید احمد خان کا تاریخ میں حقیقی مقام کیا تھا اس لئے ضروری ہے کہ انکو انکے اپنے عہد کے عالمی تناظر میں جانچا جائے۔

۱۸۵۰ کا عشرہ ایشیا کی تاریخ کا بہت ہنگامہ خیز عشرہ تھا اسی عشرہ میں برصغیر آزادی کی آخری کوشش کے بعد تاج برطانیہ کے ماتحت ہوگیا۔ ادھر مشرق میں جاپان کے ساحلوں پہ امریکی کموڈور پیری وارد ہوا۔ جاپان نے صدیوں سے اپنے دروازے غیرملکیوں پہ بند کئے ہوئے تھے غیرملکیوں کا جاپان میں داخلہ منع تھا اور جاپانی ثقافت، روایت اور روایتی علوم میں ہی مسائل کا جاپانی حل ڈھونڈا جاتا تھا۔

موجودہ اوکیناوا کی بندرگاہ پہ لنگر انداز ہوتے ہی پیری نے جاپانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اس بند دروازے کی پالیسی سے دستبردار ہوکر جاپان کا دروازہ باقی دنیا کے لئے کھول دیں۔ جاپانیوں نے مزاحمت کی لیکن خلیج میں لنگر انداز جنگی جہازوں کی بمباری نے انہیں بہت جلد یہ احساس دلا دیا کہ یہ جنگ جیتی نہیں جاسکتی تو وہ جاپان کے دروازے کھولنے پہ مجبور ہوگئے

جاپانیوں کو خطرہ تھا کہ مغرب سے کھلی تجارت کے باعث وہ مغربی اشیا کے ساتھ ساتھ مغربی ثقافت کے سیلاب کی زد میں آئیں گے اور یہ سیلاب انکی ثقافت و روایات کے ساتھ ساتھ انکی آزادی کو بھی خس وخاشاک کی طرح بہا کر لیجائے گا۔

ذہین جاپانیوں نے ایک انوکھا فیصلہ کیا، کہ اپنی ثقافت کو براقرار رکھتے ہوئے جدید سائنسی علوم کی تحصیل پہ زیادہ سے زیادہ زور دیا جائے کہ یہی وہ راستہ ہے جس پہ وہ اپنی روایات اور آزادی کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ اسے میجی انقلاب یا تحریک کہا جاتا ہے۔

ادھر غلام ہندوستان میں مسلم عالم اور مدبر سرسید احمد خان نے انگریزوں کی آمد، فتح اور کامیابی کا گہرا مشاہدہ کیا اور وہ بھی اسی نتیجہ پہ پہنچا اپنی ثقافت اور روایات کی قربانی دیے بغیر زیادہ سے زیادہ سائنسی علوم کا حصول ہی وہ راستہ ہے جس سے مسلمان آج کی دنیا میں باعزت مقام حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ آج اسے علی گڑھ تحریک کہا جاتا ہے یہ دونون انیسیویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں شروع ہوئیں۔

جاپانی میجی انقلاب کو جاپانی معاشرہ کا مکمل تعاون حاصل تھا جاپانی مذہبی طبقہ اور روایتی علوم کے علما کی طرف اس سوچ کے خلاف کوئی مزاحمت نہ ہوئی بلکہ ادھر سے بھی تعاون ہی ملا تو بہت جلد جاپانی طلبہ مغرب کی معروف یونیورسٹیز میں جدید تعلیم حاصل کررہے تھے۔

ادھر مسلم ہندوستان کی کہانی مختلف تھی یہاں مسلم علما اور مذہبی طبقہ نے علیگڑھ تحریک کی شدومد سے مخالفت کی سرسید پہ کفر کے فتوی لگے اس تحریک کے وابستگان کو ملحد یا نیچری وغیرہ کہا گیا۔ یوں جاپان میں میجی تحریک بلاکسی مخالفت کے تیزی سے بڑھتی چلی گئی لیکن مسلم انڈیا میں علی گڑھ کی تحریک بے پناہ مخالفت کی وجہ سے لنگڑا کر چلتی آئی۔

۱۹۰۵ ایک دلچسپ سال تھا اس سال مسلم ہندوستان میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا جس کو قائم کرنے والے تحریک علی گڑھ کے ہمدرد تھے بلکہ اسی تحریک کا تسلسل بھی کہا جاتا ہے انکا یہ عمل سرسید کے ابتدائی مشورہ کے برخلاف تھا کیونکہ سرسید نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے اس سے انحراف کرکے یہ ثابت کیا کہ اس تحریک میں روایتی مسلم علمی تحاریک کا سا جمود یا اکابر پرستی موجود نہیں ہے۔

دوسری طرف جاپان میں میجی تحریک کا پھل کاٹنے کا وقت بھی اسی سال ۱۹۰۵ میں آیا جب جاپان اور روس کی جنگ ہوئی۔ روس ایک سکہ بند مغربی طاقت تھا۔ لیکن پورٹ آرتھر کی بحری جنگ میں جاپان نے روس کو شکست دیکر عالمی قوتوں میں اپنی جگہ منوا لی۔

دونوں تحاریک میں فرق صرف یہ رہا کہ جاپانی تحریک کو معاشرہ کی مکمل حمایت تھی اور جاپانی مذہبی یا روایت پسند طبقہ اپنی ذاتی بقا کے کسی خوف کا شکار نہ ہوا جبکہ مسلم برصغیر میں مذہبی طبقہ نے بری طرح خوفزدہ ہوکر تحریک علی گڑھ کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو اس کے اثرات بہت محدود اور سست رہے۔

یہ سمجھنا چنداں دشوار نہیں کہ اگر مذہبی طبقہ اس تحریک کی مخالفت کی بجائے اس کی حمائت کرتا تو مسلم برصغیر ترقی میں جاپان کے برابر تو نہیں لیکن کافی بہت قریب ہوتا شائد یہ کافی ہے تاریخ میں سرسید احمد خان کا مقام سمجھنے کے لئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: گڈ بائی ٹو سر سیّد —— سلیم احمد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: