انجمن ترقی پسند مصنفین کا مَلِکیاتی محاکمہ — فتح محمد ملک/جلیل عالی

0
  • 75
    Shares

انجمن ترقی پسند مصنفین کے تحت چلائی جانے والی ترقی پسند تحریک عمومی طور پر ادب کی جتنی مقبول تحریک رہی ہے اعلیٰ ادبی حلقوں میں اتنی ہی متنازعہ بھی رہی ہے۔ اور اسے متنازعہ بنانے میں کچھ بنیادی نظری اختلافات کے ساتھ ساتھ اس کے ایسے تنظیمی فیصلوں کا ہاتھ بھی ہے جن کا تعلق نظریات سے کہیں زیادہ ماسکو نواز حکمتِ عملی سے تھا۔ چنانچہ اس کے ردِ عمل میں جو دو نمایاں تحریکیں سامنے آئیں اِن میں حلقۂ اربابِ ذوق والوں کا اختلاف یہ تھا کہ ادب کو چند مخصوص موضوعات کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ زندگی اور کائنات کا کوئی بھی پہلو ادب کا موضوع بن سکتا ہے۔ البتہ دیکھنا یہ ہو گا کہ کوئی بھی تحریر ادبی فن پارہ بن پائی ہے یا نہیں۔ دوسرا گروہ جدیدیوں کا تھا، جن کا مؤقف یہ تھا کہ ادب ایک فرد کی آزاد تخلیقی سرگرمی ہوتی ہے۔ تخلیق کار پر باہر سے کوئی منشور یا نظریہ نہیں ٹھونسا جا سکتا۔ اور یہ کہ خارجی منشوریت فرد کی تخلیقی آزادی سلب کر لینے کے مترادف ہے۔

ان دونوں گروہوں سے ہٹ کر فتح محمد ملک صاحب کا خصوص یہ ہے کہ ان کے تنقیدی مطالعات میں برِ صغیر کے مسلمانوں کے الگ تہذیبی وجود اور پاکستانی تناظر کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ وہ اقبال، فیض، منٹو، ندیم اور راشد کے کام کا الگ الگ جائزہ لیں یا ادب کے مجموعی رجحانات پر نگاہ ڈالیں ان کی توجہ بیشتر مسلم تہذیبی عناصر اور پاکستانیت کے امتیازی خد وخال کی تلاش و جستجو پر مرکوز رہتی ہے۔ اس تلاش و جستجو کی دین ہے کہ عہدِ شاہ ولی اللہ سے لے کراب تک کی سیا سی و سماجی تاریخ پر ان کے جیسی گہری نظر کسی اور کے ہاں کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ اسی بصیرت کے وسیلے وہ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی تاسیس کے وقت ایک روحانی و مادی توازن کی حامل ترقی پسند تحریک اقبال اور منشی پریم چند کی تحریروں میں پہلے سے موجود تھی۔ جو انجمن کی تنظیمی حدود اور منشوریت کی پابندیوں کے زیرِاثر بے خدا روسی اشتراکیت کی آلۂ کار بن کر رہ گئی۔ اور وہ ایسا صرف اپنے ذاتی تاثر کی بنا پر نہیں کہتے تاریخی واقعات اور دستاویزی شواہد کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنی کتاب ’’انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں‘‘ جس کا ذیلی عنوان ’اسلامی روشن خیالی یا اشتراکی ملائیت‘ ہے کے صفحات پر اس بابت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح اس کام کے لئے پاکستان کے بہت جلد خاتمے اور بھارت میں ضم ہو جانے کے خواب دیکھنے والے نہرو کے قریبی دوست سجاد ظہیر جیسے سر گرم شخص کو خفیہ طور پر سویٹ رائٹرز یونین کی طرف سے ہدایات آتی تھیں، اور وہ ان ہدایات کے مطابق انجمن کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا تھا۔ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا مؤقف ہو، بھارتی مسلمانوں بارے زیادہ سے زیادہ بھارتی ریاست کے اندر کچھ آزادیوں کی گنجائش پیدا کرنے کی بات ہو، تشکیلِ پاکستان کے بعد کسی پاکستانی کی بجائے بھارتی شہریت رکھنے والے سجاد ظہیر کو انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کا سربراہ بنانے کا معاملہ ہو یا اقبال، منٹو اور کئی دوسرے ممتاز قلمکاروں پررجعت پسندی کا لیبل لگا کر ان کے ادبی مقاطعے کا فیصلہ ہو، اس کتاب میں روسی منشا کی موافقت میں کئے گئے نیم فسطائی فیصلوں کے راج کی پوری روداد قلمبند کر دی گئی ہے۔

فتح محمد ملک کی فکر میں اقبال اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ اقبال نے صرف مسلمانوں کے لئے الگ وطن کی تشکیل کا تصور ہی نہیں دیا بلکہ اپنے مربوط شعر و فکر سے روحانی جمہوریت پر مبنی نظامِ ریاست کے بنیادی خد وخال بھی اجاگر کر دیئے۔ اقبال کے کلام و افکار سے بر آمد ہونے والا اسلامی جمہوری تشخص دشمنانِ پاکستان کو کیسے خوش آسکتا تھا۔ چنانچہ سجاد ظہیر کے زیرِ اثر چلائی گئی انہدامِ اقبال کی مہم کے حوالے سے ملک صاحب لکھتے ہیں۔

’’اقبال کا یہ اندیشہ کہ ’’نفیِ بے اثبات، مرگِ امتاں‘‘سچ ثابت ہوا اور روس کے اشتراکی نظام کی ’’نفیِ بے اثبات‘‘ بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر رہ گئی۔ اقبال کا اسلامی اشتراکیت کا تصور بے خدا اشتراکیت (دہریتِ روس)کے قبولِ عام کی راہ کا سب سے بڑا سنگِ گراں ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پاکستان کا جغرافیائی وجود بھی اقبال کی اسلامی فکر ہی سے پھوٹا ہے۔ ان حقائق کے پیشِ نظر انجمن ترقی پسند مصنفین کے کمیونسٹ نظریہ ساز ایک زمانے میں ردِ اقبالیات کی مہم کے قافلہ سالار بن کر رہ گئے۔‘‘
(انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں صفحہ ۳۲۔ ۳۳)

اس عبارت کے بعد ملک صاحب نے سند کے طور پرفیض احمد فیض کے ثقہ سوانح نگار ایوب مرزا کی کتاب ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘میں موجود فیض کا ایک نہایت اہم بیان درج کیا ہے، جو یوں ہے

’’ ۱۹۴۹ میں حکم ہوا کہ علامہ اقبال کو demolish کریں۔ ۔ ۔ پھر ایک روز مظہر علی کے گیراج میں انجمن کی میٹینگ ہوئی۔ صفدر میر صدر تھے۔ قاسمی صاحب نے علامہ اقبال کے خلاف ایک بھر پور مقالہ پڑھا۔ ہمیں بہت رنج ہوا۔ ہم نے اعتراض کیا کہ یہ کیا تماشا ہے۔ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ یہ تو سکہ بند قسم کی بے معانی انتہا پسندی ہے۔ ہماری نہ مانی گئی۔ ہم بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ اس کے بعد ہم انجمن کی محفلوں میں شریک نہیں ہوئے اور صرف پاکستان ٹائمز چلاتے رہے۔‘‘
(ہم کہ ٹھہرے اجنبی، ڈاکٹر ایوب مرزا، لاہور، ۱۹۷۷ صفحہ۱۳۷۔ ۱۳۸)

حیرت ہوتی ہے کہ وہی ندیم جو اپنے مجموعے ’’جلال و جمال‘‘ کے دیباچے میں اپنی مذہبی رنگ کی شاعری کو ظفر علی خان اور اقبال کے خیالات کی بازگشت قرار دے چکے تھے اور اس اعتراف و عزم کا اظہار بھی کر چکے تھے کہ

’’اسلامی لٹریچر بہت وسیع ہے اور مجھے اس کے گہرے مطالعے کے وافر مواقع نہیں ملے، اس لئے میں اس صنف میں کسی نوع کی انفرادیت پیدا نہ کر سکا، مگر آئندہ چل کر اس رنگ میں بھر پور انداز میں لکھنا میری عزیز تمناؤں میں شامل ہے۔ اورکیا عجب کہ میں اسلام کو ایک آفاقی نظامِ حیات کی صورت میں آئندہ اپنی نظموں میں پیش کر سکوں۔‘‘

وہ انہدامِ اقبال کی مہم میں سب سے پیش پیش نکلے۔

انجمن کے اجلاس میں پڑھے گئے ندیم صاحب کے مضمون کا اصل متن تو شاید کہیں اشاعت پذیر نہ ہوامگر زیرِ نظر کتاب کے ضمیمہ ۴ میں’’اقبال کے خلاف چارج شیٹ ‘‘کے عنوان سے عبد اللہ ملک کی تحریر اندر کوٹ کئے گئے اس کے خلاصے کے چند مختصر مختصر ٹکڑے دیکھئے۔

’’ اقبال تصوف کے مخالف ہیں۔ تصور پرستی، رہبانیت اور انفعالی قسم کی روحانیت کوبرا سمجھتے ہیں۔ مگر اس تصوف سے بھاگ کر ایک اور تصوف میں پناہ لیتے ہیں، جو پہلے تصوف سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، عینیت کی ایک بگڑی ہوئی یا سنوری ہوئی صورت ہے ‘‘

’’اقبال شعوری طور پر نٹشے سے متاثر ہیں اور اس کا سارا فلسفہ انہون نے شاہین میں منتقل کر لیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ نٹشے نے مسیحی فلسفے سے اکتا کر نسلی برتری پر زور دیا۔ اقبال نے مذہبی برتری کا اعلان کیا۔ کروڑوں عوام کی محکومی کے معاملے میں دونوں متفق ہیں۔ اقبال کے مردِ مومن اور نٹشے کے ڈکٹیٹر میں کوئی فرق نہیں۔ ‘‘

’’رہ گئی اقبال کی سامراج دشمنی تو اس کی بنیاد بھی گہری نہیں۔ وہ سامراج کے دشمن ضرور ہیں مگر اپنے کلام میں ملک کی تحریکِ آزادی کی ایک ذرا سی جھلک بھی لانا گوارا نہیں کر سکتے۔ ان میں اتنا بھی حوصلہ نہیں کہ انگریزی بر سرِ اقتدار طبقے کی کھلم کھلا مخالفت کریں۔ ‘‘

انجمن کی طرف سے چند برسوں بعد یہ فسطائی فیصلہ واپس لئے جانے پر اگرچہ ندیم کی اقبال شکن شدت پسندی میں کافی حد تک کمی آگئی مگر اپنی اسلامی ترقی پسندی کی طرف لوٹ آنے اور مذہب مخالف اشتراکی رفقا کی تنقید کا نشانہ بنتے رہنے کے باوجود انہوں نے ایک عرصے تک دھیمے سروں میں استردادِ اقبال کا سلسلہ جاری رکھا اور پہلے سید علی عباس جلالپوری کے اقبال مخالف مضامین اپنے رسالے ’’فنون‘‘ میں شائع کئے اور بعد میں ’’اقبال کا علم الکلام ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی اپنے مکتبے سے نہ صرف ان کی اشاعت کا اہتمام کیا بلکہ محمد خالد اختر اور سید محمد کاظم سے اس کتاب کی حمایت میں مضامین لکھوا کر فنون کا حصہ بنائے۔ مجھے یہ سب اس لئے بھی یاد ہے کہ متذکرہ دونوں صاحبان اور سید علی عباس جلالپوری کے حوالے سے میں نے ایک مختصر اختلافی خط ارسال کیا جسے بنیادی عبارت حذف کر کے ’فنون‘ کے گوشۂ اختلافات میں شامل کیا گیا۔ مگراس کے باوجوداس کی پاداش میں مجھے اڑھائی سال تک فنون بدر رہنا پڑا۔ اور با لآخر محبی اختر حسین جعفری صاحب کی مخلصانہ سعی سے واپسی ہوئی۔ اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر پھر یوں ہوا کہ ندیم صاحب اور سید صاحب کے آپسی تعلقات میں خلل کے باعث خود سید صاحب کی تحریریں بھی فنون میں نظر آنا بند ہو گئیں۔ بعد ازاں ندیم صاحب نے اپنے فکری سفر کا دائرہ مکمل کیا اور ایک بار پھر ان کا قلم بڑی حد تک افکارِ اقبال کے ساتھ ہم آہنگی کے راستے پر رواں دواں ہو گیا۔ اس مرحلے کی بہت سی تحریریں ان کے متوازن ہوتے ہوئے رجحانِ طبع کی ترجمانی کرتی ہیں۔ اس سلسلے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔

’’جس عہد میں ہم زندہ ہیں وہ اقبال کا عہد ہے اور یہ عہد صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے کرۂ ارض پر محیط ہے۔ اس زمین کا ہر وہ مقام جہاں حق و انصاف کی جد و جہد ہو رہی ہے، جہاں سامراج سے نمٹا جا رہا ہے، جہاں محکومی کی زنجیریں توڑی جا رہی ہیں، جہاں قوموں کی انا جاگ اٹھی ہے اور جہاں عظمت و جلال اور استقامت و صلابت کے درس دیئے جا رہے ہیں، اقبال کے اس عہد کی حدود میں شامل ہے۔‘‘
( معنی کی تلاش، لاہور، ۲۰۰۳ صفحہ ۲۱۳)

محمد حسن عسکری کی طرف سے پہلے اسلامی ادب اور پھر عسکری اور ایم۔ ڈی تاثیر کی طرف سے پاکتانیت کو اہمیت دینے اور ریاست کے ساتھ قلمکاروں کی وفاداری کا سوال اٹھائے جانے پر عبد اللہ ملک نے کمیونسٹ مؤقف کی نمائندگی کرتے ہوئے لکھا کہ

’’ترقی پسند ادب کو ریاست سے وفاداری کا مسئلہ پریشان نہیں کرتا۔ اس کا لائحہِ عمل عوام سے وفا داری ہے۔ ترقی پسند ادیب اپنے عوام کا وفادار ہوتا ہے کیوں کہ انہی عوام نے اسے جنم دیا ہے، اسے پالا ہے، پروان چڑھایا ہے اور انہی کی آسوں اور پیاسوں کااظہار ان کے نغموں میں ہوتا ہے۔‘‘
(سویرا، ۴ صفحہ ۱۹۲۔ ۱۹۳)

اسی طرح فتح محمد ملک صاحب نے قومی و ریاستی ترجیحات کے بہت سے دوسرے معاملات میں انجمن اور انجمن سے وابستہ قلمکاروں کی مخالفت اور عدم سروکار کی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ مثلاً وہ تاریخی ریکارڈ کی یہ بات بھی سامنے لاتے ہیں کہ

’’ جب ہندوستانی ادیبوں کی جانب سے کشمیر پر بھارتی قبضے کی پُر جوش حمایت کا بیان سامنے آیا تو اس کے ردِ عمل میں پاکستانی ادیبوں کی طرف سے بھی تنازعۂ کشمیر پرپاکستانی نقطۂ نظر کی حمایت میں ایک مشترکہ اعلان تیار کیا گیا۔ تاثیر صاحب نے اس بیان پرترقی پسند ادیبوں کے دستخط حاصل کرنا چاہے مگر ’’ سوائے فیض صاحب کے سب ترقی پسند ادیبوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘
(انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں از فتح محمد ملک صفحہ ۶۴)

فتح محمد ملک صاحب کا خیال یہ ہے کہ اقبال نے اپنے شعر و فکر کے ذریعے جس اسلامی ترقی پسندی کا ڈول ڈالا تھا وہ ایک طرف انجمن کی ماسکو نواز ترجیحی حکمتِ عملی کا نشانہ بنتے رہنے اور دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں سفید سامراج کے سرمایہ دارانہ میکارتھی ازم کے جابرانہ حربوں میں گھرے رہنے کے باوجود ایک تسلسل کے ساتھ زندہ رہی۔ اس سلسلے میں انہوں نے پروفیسرکرار حسین، محمد حسن عسکری، ایم ڈی تاثیر صمد شاہین، ممتاز شاہین، ڈاکٹر آفتاب احمد، سلیم احمد جیسے نقادوں اور انتظار حسین، ناصر کاظمی، اور منیر نیازی جیسے تخلیق کاروں کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ میرے خیال میں اس ادھوری فہرست میں الطاف فاطمہ، یوسف ظفر، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور جیلانی کامران کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اقبالی روایت زوالِ اشتراکیت اور نائن الیون کے بعدسرمایہ دارانہ انسان دوستی اور لبرل فسطائیت کے موجودہ دور میں بھی ہمارے مرکزی تخلیقی بہاؤ کی صورت زندہ و متحرک ہے۔

اقبال اور قائدِاعظم کے ترجیحی فکری تناظر میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے فکر و کردار پر مبسوط محاکمے کا ایک سلسلہ انیس سو بہتر تہتر کے آس پاس ڈاکٹر وحید قریشی کے قلم سے بھی آغاز ہوا تھا۔ اس کی چند طویل قسطیں ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں شائع ہوئی تھیں۔ مگر اس دور کے کچھ ادبی دوستوں اور بزرگوں نے نزاع بڑھنے کے اندیشے کے پیشِ نظر اپنی مخلصانہ مساعی سے یہ سلسلہ رکوا دیا۔ معلوم نہیں ڈاکٹر صاحب نے وہ کام مکمل کیا یا نہیں اور جتنا لکھا اس کا کیا ہوا۔ اس صورتِ حال میں اس خاص موضوع پر فتح محمد ملک صاحب کے اس تحقیقی و تنقیدی کام کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  فیض: انقلابِ چین سے انقلابِ ایران تک ——- فتح محمد ملک

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: