’’شور کے انسانی صحت پر مضر اثرات‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عزیر خالد برکاتی

0
  • 1
    Share

میں نے قلم انسانی صحت کے بارے میں لکھنے کے لئے اٹھایا ہےاور میری پوری کوشش ہے کہ میں ماہرین کی تحریروں میں دئیے ہوئے اصولوں سے صحت حاصل کرنے کے طریقے قارئین تک پہنچا سکوں۔ میں کچھ ایسی باتیں بھی لکھنا چاھوں گا جنھیں عام زندگی میں لوگوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ میں پہلے مرحلے میں شور سے انسانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کا ذکر کر رہا ہوں۔

شور کو ہم عام زندگی میں کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے لیکن رفتہ رفتہ شور کے ذریعے سے انسانی صحت پر اتنے برے اثرات پڑتے ہیں کہ آئندہ زندگی میں ان کا مداوا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: ریکی ایک صحت بخش توانائی: محمد فرقان حیدر

بڑے شہروں میں خرید و فروخت کے مراکز اور وہ علاقے جہاں ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے اس کے قرب و جوار میں رہنے والوں کی صحت بھی اس مستقل شور سے بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ شور کی وجہ سے وہاں رہنے والوں کے ساتھ ساتھ آنے والوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

شور کی وجہ سے انسانی جسم کے ہارمونوں پر بھی اثر پڑتا ہے جو دیگر امراض کے علاوہ دل کی بیماری کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو مسلسل سر کے درد کی شکایت رہتی ہے۔ مزید براں شور کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑے پن، ہائ بلڈ پریشر، ذہنی تناؤ اور مسلسل بے خوابی کی شکایت بھی رہتی ہے۔ شور کی وجہ سے بہرے پن میں بہت اضافہ ہو رہا ہے اور بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

شور کے اتار چڑھاؤ کو ناپنے کا پیمانہ ڈیسی بل ہے۔ ہمارے وطن پاکستان میں شور کی آلودگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک اور صنعت نے شور میں مزید کئی ڈیسی بل اضافہ کر دیا ہے اور افسوس کہ حفاظتی اصولوں سے ناواقفیت کی وجہ سے یہ اضافہ روز افزوں ہے۔ خاص طور پر صبح دفاتر اور اسکولوں کے شروع ہونے کے اوقات، دوپہر کو اسکولوں کی چھٹی اور دوپہر کے کھانے کا وقفہ اور پھر شام کے وقت دفاتر کے ختم ہونے کے اوقات پر تو اتنا شور اور رش ہوتا ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ بعض جگہوں پر تو یہ شور اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ آپ کو تھوڑی دور کھڑے شخص کو آواز دینے کے لئے پوری قوت صرف کرنی پڑتی ہے اور پھر یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ وہ شخص آپ کی آواز سن لے ورنہ آپ کو خود چل کر اس شخص تک رسائی حاصل کرنا پڑتی ہے۔

مختصراً ہم کہ سکتے ہیں کہ شور کے نقصانات کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے انسانی صحت تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ اگر انسان شور والی جگہوں سے دور رہے تو وہ بہت سی بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ انسانی جسم ایک حد تک شور برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اُس حد سے بڑھنے سے صحت متاثر ہوتی ہے۔

انسانی صحت کو بچانے کے لئے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تا کہ گنجان آباد علاقوں اور خرید و فروخت کے مراکز میں شور کی آوازیں ایک حد سے زیادہ نہ بڑھیں۔ اگر افراد صحت مند ہوں گے تو معاشرہ صحت مند ہو گا اور معاشرہ صحت مند ہوگا تو ملک ترقی کرے گا۔ اگر صحت ہی نہیں ہو گی تو یہ ترقی اور یہ خوبصورت تجارتی مراکز ہمارے کس کام آئیں گے۔

ہم سب کو اس خاموش قاتل یعنی شور کو قابو میں رکھنے کے لئے انتہائی سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: