ایک کروڑ نوکریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرار احمد

0
  • 1
    Share

وہ کمرے میں تنہا تھی کہ ساتھ والے اس کے دیور اور دیورانی کے کمرے سے ہنسنے کی آواز آئی۔ اس کی شادی کو آج بیسواں دن تھا۔ اسکا شوہر ارمان آج سعودیہ واپس چلا گیا تھا۔ وہ بیس دن اس کی زندگی کے بہترین دن تھے ارمانوں بھرے دن۔ ارمان اور اس کے بھائی ذیشان کی شادی اک دن ہوئی تھی اور دونوں کے کمرے بھی ساتھ ساتھ تھے۔ مگر اس سے پہلے کبھی ساتھ والے کمرے سے ہنسی کی آواز نے اس کی سماعت پر ہتھوڑے نہیں برسائے تھے۔ بلکہ ایک دفعہ بجلی جانے پر بھی اسے پنکھا بند ہونے کا پتا نہیں چلا تھا۔ کافی دیر بعد پنکھا کھڑا دیکھ کر اس نے ارمان کو بتایا تو اُس نے کہا سعودیہ جاتے ہی میں پیسے بھیجوں گا تم یو پی ایس لگوا لینا۔ وہ بیس دن اک خواب کی طرح لگ رہے تھے ۔ ساتھ والے کمرے سے وقتاً فوقتاً آنے والی ہنسنے کی آوازیں تڑپ میں اضافہ کر رہیں تھیں۔

ارمان بھائیوں میں بڑا تھا جو سعودیہ میں کام کرتا باقی بھائی گھر پر ہی ہوتے اور چھوٹے موٹے کام کرتے۔ گھر کا زیادہ تر انحصار ارمان پر تھا۔

ساتھ والے کمرے سے آواز آنی بند ہو گئی تھی اور خاموشی اس کے دل پر کچوکے لگا رہی تھی۔ دل میں آنے والے خیالات سے تنگ آ کر اس نے ٹی وی لگایا۔ الیکشن کی گہما گہمی تھی اک پارٹی کا لیڈر پارٹی پلان بیان کر رہا تھا ۔ وہ صرف اتنا سن پائی ہم اک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے تا کہ پردیس میں نوکری کرنے والے گھر سے دور نا جائیں۔ اس نے فیصلہ کر لیا وہ ووٹ ضرور کاسٹ کرے گی۔

ارمان کو گئے دو ماہ ہو چکے اور نئی حکومت بن چکی تھی۔ وہ پیاز کاٹتے ہوئے آنکھوں میں آنے والے آنسو صاف کر رہی تھی۔ پاس بیٹھے اس کے سسر نیوز سن کر تبصرہ کر رہے تھے کہ وزیراعظم نے ڈیم کا اعلان کر کے بہت اچھا اقدام کیا ہے۔ ڈیم سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ پانی وافر ہو گا فصلیں اچھی ہوں گیں اور لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کے اقدام بھی اچھی کوشش ہے ملک کی معیشت بہتر ہو گی۔ ڈالر سستا ہو گا۔

رات کو پھر سے ساتھ والے کمرے کی آوازیں اس کی آنکھیں بھگو رہیں تھیں۔ اس نے ٹی وی لگایا وزیر اعظم کی تقریر جاری تھی اس نے ٹی وی آواز بند کی اور وزیر اعظم سے مخاطب ہو کر کہنے لگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خان صاحب ہم لوڈ شیڈنگ برداشت کر لیں گے یو پی ایس کی بھی ضرورت نہیں۔ فصل کم ہوئی تو اک وقت کھانا کھا لیں گے۔ پٹرول مہنگا ہوا تو کرایہ زیادہ دے لیں گے۔ ڈالر سے ہمارا کیا لینا دینا۔ جو لوٹ کر باہر لے گئے اُن کو چھوڑیں جو باہر جانے سے لٹ گئے اُن کا خیال کریں۔ دو سال بہت زیادہ ہوتے صاحب اور دو سال بعد ایک ماہ پھر دو سال عمریں بیت جاتیں عمریں۔ آپ نوکریاں پیدا کریں فنڈ میں اپنا سارا زیور اور جہیز دے دوں گی۔ کسی کے ارمان باہر رُلنے سے بچائیں۔ ہجر کے دو سال سو صدیوں میں بھی نہیں گزرتے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: