ستارہ شناس —– پیر پگارا کا خاکہ، فاروق عادل کے قلم سے

0
  • 21
    Shares

دوسری گھنٹی پر فون اُٹھا لیا گیا،
’’اسلام علیکم!‘‘
’’والیکم !‘‘
’’پیر صاحب بات کر رہے ہیں؟‘‘۔
’’بو لو بابا!‘‘
میں نے ادب سے سوال کیا: ـــــ
’’پیر صاحب! بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ۔۔۔۔‘‘
’’بے نظیر لانگ مارچ کرے گی؟‘‘۔
’’جی انھوں نے یہی اعلان کیاہے‘‘۔
’’تو پھر تمھیں کیا تکلیف ہے؟‘‘۔

فون بند کر دیا گیا اور میں سوچتا ہی رہ گیا کہ اس ایک جملے سے کیا خبر بناؤں؟ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہفتہ وار صحافت کو خیر باد کہہ کر میں نے روزانہ صحافت میں قدم رکھا ہی تھا۔ بے نظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کی پہلی حکومت کے خلا ف لا نگ مارچ کا اعلان کیا تو ایڈیٹر نے حکم دیا کہ اس پر پیر پگاڑا کا ردِ عمل لا سکو تو جانیں! اخبار میں پیرصاحب کے کھٹے میٹھے بیانات سے محظوظ ہونے کا تجربہ طویل تھا مگر کبھی اُن کی خدمت میں حاضر ہونے اور براہِ راست گفتگو سننے کی سعادت حاصل نہ ہوئی تھی۔ یہ اسائنمنٹ ملا تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ محمد علی خالد ۱؎ رہنمائی نہ کرتے تو معاملہ بالکل ہی ہاتھ سے نکل جاتا۔ ا نھوں نے کوئی پس منظر بتائے بغیر ایک ٹیلی فون نمبر دیا اور کہا کہ یہ نمبر گھمائو پھر اللہ کی قدرت کا تماشا دیکھو۔ میں نے فون ملا یا تو جواب میں نیم کھردرے، نیم تراشیدہ لہجے میں مجھ سے’’تکلیف‘‘ پوچھی گئی تو ہاتھ پائوں ایک بار پھر پھول گئے۔ محمد علی خالد تو یہ کہہ کر چلتے بنے کہ بس یہی ردِ عمل ہے۔ اس کے بعد میں نے کسی نہ کسی طرح اس ایک جملے کو خبر کی شکل تو دے لی لیکن اگلے روز کے اخبارمیں جب اس خبر کو بھی بے نظیر کے لانگ مارچ کی خبر جتنی ہی نمایاں جگہ ملی تو میرا حوصلہ بڑھ گیا۔ سرخی تھی:

’’بے نظیر کے لانگ مارچ سے آپ کو کیا تکلیف ہے‘‘۔

وہ ایک جملہ جسے میں پیر صاحب کی طرف سے ایک نوآموز صحافی کے لیے ڈانٹ سمجھا تھا، اپنے عہد کے اسرارِ سیاست کی شاہ کلید بن چکا تھاکیونکہ اِس سے ا گلے روز کئی اخبارات کے اداریوں اور پاکستان کے نامور کالم نگاروں کے کالم کا موضوع یہی بیان تھا جس کا مطلب تھا کہ طاقتور قوتوں کا ہاتھ منتخب حکومت کے سر پر اب نہیں رہا۔

ذو معنی اور کاٹ دار جملے پیر پگاڑا کی پہچان تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے خِلاف پاکستان قومی اتحاد کی ہنگامہ خیز تحریک کے دِن تھے۔ اتحاد کی کم و بیش پوری قیادت جیل میں تھی جب پیر صاحب اِس کے قائم مقام صدر کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں اترے۔ بھٹو صاحب دبنگ لیڈر ہی نہیں بلکہ سیاسی بیان بازی کے ایک نئے اسلوب کے بانی بھی تھے، وہ حزب اختلاف کے سیاست دانوں کا مضحکہ اُڑاتے اور اپنے خلاف عوامی تحریک کو سختی کے ساتھ کچل دینے کی دھمکیاں دیا کرتے۔ حزبِ اختلاف کے سیاست دان ایک خاص پس منظر رکھتے تھے، اُن کے لیے بھٹو صاحب جیسا لب ولہجہ اختیار کرنا ممکن نہ تھا، لہٰذا جواب میں خاموش رہتے۔ اس فضا میں اصغر خان پہلے سیاست دان تھے جنھوں نے بھٹو صاحب کو ترکی بہ ترکی جواب دیا اور انھیں کو ہالہ کے پل پر لٹکانے کی جوابی دھمکی دی۔ اس تلخ نوائی سے تلخ ماحول تلخ تر ہو چکا تھا۔ اس صورت حال میں پیر پگارا نے رمز، کنایے اور سندھی محاورے کی آمیزش سے ذو معنی جملوں کے ذریعے نشانہ لگانے کا نیا اسلوب متعارف کرایا اور سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں کو چونکا کر رکھ دیا۔ عوام، سیاست دانوں اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ فن کاروں کے لیے بھی یہ اسلوب حیران کن حد تک نیا تھا جس کے سبب اُس عہد کے مقبول ترین کارٹونسٹ ۲؎ پیر صاحب کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے ایک کارٹو ن بنایا جس میں پیر صاحب کسی شریر بچے کی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے درخت کی ٹہنی پر بیٹھے غلیل سے دشمن کا نشانہ لیتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ پیر پگاڑا کی شخصیت، سیاست اور ان کے اندازِ گفتگو پر اس سے زیادہ بلیغ تبصرہ میری نظر سے نہیں گزرا۔

پیر پگاڑا سیاست کے افق پر نمایاں ہوئے تو وہ زمانہ بھٹو صاحب کے چل چلائو کا تھا، اُن کے اصل جوہر جنرل ضیاالحق کے زمانے میں کھلے جس میں جمہوریت پسندوں نے انھیں مارشل لا کی بی ٹیم اور خود انھوں نے اپنے آپ کو جی ایچ کیو کا بندہ قرار دے رکھا تھا لیکن فوجیوں کے اس بندے کے سب سے بڑے فوجی یعنی جنرل ضیاالحق کے ساتھ تعلقات رسہ کشی کے کھیل کی طرح تھے جس میں کبھی ایک کھلاڑی بے بس ہو جاتا ہے کبھی دوسرا۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی ملاقات دو رقیبوں کی طرح ہوتی جس میں کوئی فریق ہار ماننے کو تیار نہ ہوتا۔ ایک بار جنرل ضیاء سے ملاقات کے بعد انھوں نے بیان دیا:

’’وہ مجھے سموسہ کھلانا چاہتے تھے لیکن میں نے گلاب جامن پر اصرار کیا‘‘ ۳؎ ۔

پیر صاحب کے اس ڈائیلاگ میں محمد خان جونیجو کی شکل میں مارشل لا کو ادھار پر وزیر اعظم فراہم کرنے کے باوجود جنرل ضیاء اور پیرپگاڑا کے درمیان قربتوں اور فاصلوں کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

۱۹۹۷ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے مضبوط حکومت بنائی جس سے یہ احساس قوی ہوا کہ اب ملک میںدو جماعتی نظام جڑ پکڑ چکا اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ پیر پگاڑا اُن چند سیاست دانوں میں سے ایک تھے جنھوں نے نظام کی کمزوری کو ابتدا میں ہی محسوس کر لیا اور ان چند لوگوں میں شاید وہ تنہا تھے جنھوں نے اس کے بارے میں زبان کھولی اور اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ اُنھیں بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر سب کچھ کہہ دینے کی یہی شہرت تھی جس کے سبب جنرل پرویز مشرف اُن سے کچھ امیدیں لگا بیٹھے اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اس سے پہلے کہ یہ ملاقات ہوتی پیر صاحب کے ایک بیان نے ان کی امیدوں کا تاج محل زمین بوس کر دیا۔ انھوں نے کہا:
’’ میں نے سنا ہے کہ جنرل مشرف دِلّی والے ہیں مگر دِلّی والے تو ٹھگ ہوتے ہیں‘‘۔

اُن کی صاف گوئی اور منہ پر بات کہہ دینے کی عادت سے لوگ بہت جزبُز ہوا کرتے مگر اُن کی حیثیت کے پیش نظر پلٹ کر ان ہی کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) شہری سندھ میں سیاہ و سفید کی مالک تھی لیکن اپنے طرزِ سیاست اور دیگر سرگرمیوں کے سبب اکثر مشکلات کا شکار رہتی اور اس طرح کی صورت حال کو اپنی ’’حق پرستی‘‘ کی سزا قرار دیتی۔ کوئی ایسا ہی موقع تھا جب ایم کیو ایم کے وفد نے ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے اس جماعت کے نعرے ’’حق پرستی‘‘ کی رعایت سے کا م لیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنادیا:
’’حق پرستی اور مفاد پرستی میں بال برابر ہی فرق ہوتا ہے ‘‘۔

جنرل ضیاالحق کے زمانے کی بات ہے، حکومت کے ساتھ اُن کے اختلافات چل رہے تھے، کسی صحافی نے کوئی چبھتا ہوا سوال پوچھا تو کہا:
’’بھئی، ہم تو جی ایچ کیو کے آدمی ہیں‘‘۔

پیر صاحب کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ وابستگی کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ وہ خود کو جی ایچ کیو کا آدمی کہا کرتے تھے، انھیں وہیں کا آدمی سمجھا گیا، حالاں کہ انھوں نے ایوب خان کے زمانے میں مادر ِملت کا کُھل کر ساتھ دیا تھا لیکن اس کے بعد وہ ہمیشہ بوٹ والوں کے ساتھ پائے گئے۔ یہ طرز عمل بالکل ویسا ہی تھا جیسا ہمارے ہاں وڈیروں کا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اس اسلوبِ سیاست کو چوہے بلی کا کھیل قرار دیا کرتے جس کا مطلب یہ تھا کہ چوہا یوں تو بلی کے مقابل خم ٹھونک کر کھڑا نہیں ہو سکتا لیکن اپنے دانتوں سے تو کام لے سکتا ہے، یہ کام انھوں نے ہمیشہ کیا اور خوب کیا۔ جنرل ضیا نے ۱۹۸۵ء میں جماعتی انتخاب کرانے سے انکار کر دیا تو پیر صاحب نے کہا کہ ہم غیر جماعتی انتخابات میں بہ طور احتجاج شریک ہوں گے۔ انھیں مارشل لا کی بی ٹیم کا طعنہ دیا گیا، لیکن ان ہی کی حکمت عملی کامیاب رہی جس کا ثبوت یہ ہے کہ ضیا آمریت کے مقابلے میں تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کی غیر لچک دار سیاست نہ چل سکی، اس کے مقابلے میں پیر صاحب کے چوہے بلی کا کھیل کامیاب رہا کیوں کہ ۱۹۸۵ء کے غیر جماعتی انتخاب کے ذریعے ہی ملک میں سیاسی عمل اور سیاسی جماعتوں کی بحالی کا راستہ ہموار ہوا۔

اُس زمانے میں سیاست دانوں کو بیان دینے کی اجازت تھی نہ سیاسی جماعتوں کو جلسہ کرنے کی لیکن یہ اعزاز پیر صاحب ہی کو حاصل ہے کہ انھوں نے گھٹن کے اس دور میں بھی سیاست کو زندہ رکھا۔ سال گرہ کی تقریب منعقد کی اورجلسہ کر لیا، سالگرہ منعقد نہ ہو سکی تو ستاروں کا حال بتا کر بیان دینے کی راہ نکال لی۔ اُن کا یہ منفرد اسلوب اتنا مقبول ہوا کہ بعض سادہ لوح آج بھی انھیں ستارہ شناس سمجھتے ہیں۔

پیر صاحب کی سال گرہ کی تقریبات اِس فضا میں تازہ ہوا کا جھونکا تھیں لیکن مارشل لا کے خاتمے کے بعد اِن تقریبات کی اہمیت نسبتاً کم ہو گئی لیکن روایت چونکہ بن چکی تھی اُس لیے جمہوری ادوار میں بھی یہ تسلسل برقرار رہا۔ اِن تقریبات میں کنگری ہاؤس کا لان سیاست دانوں، صحافیوں اور بڑے بڑے زمینداروں سے بھر جاتا۔ پیر صاحب ایسے اجتماعات میںدیر سے تشریف لاتے اور پلاسٹک کی کرسی کا رخ پلٹ کر موٹر سائیکل کی طرح اُس پر سوار ہو جاتے۔ لوگ باتیں کرتے رہتے،  پیر صاحب انگلیوں میں سگار دبائے بیچ بیچ میں کوئی نہ کوئی چٹکلہ چھوڑ تے جاتے۔ اگلے روز اخبارات میں اُن کے یہی چٹکلے نمایاں جگہ پاتے۔ ان چٹکلوں کی حیثیت عام طو ر پر پیشین گوئی کی ہوتی جو عموماً پوری بھی ہوجاتی لیکن ان کی دو پیشین گوئیاں ایسی ہیں جو کبھی پوری نہ ہوسکیں، میاں نواز شریف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تیسری بار وزیراعظم نہ بن سکیں گے۔ بلاول زرداری کی پیدائش پر انھوں نے کہا تھا:

’’اس بچے کی منزل مسلم لیگ ہے‘‘۔

پیر صاحب کا ایک بیان اکثر اخباروں کی زینت بنتا جس میں وہ مطالبہ کیا کرتے تھے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دیا جائے۔ پیر صاحب اپنی عادت کے مطابق ایک آدھ جملے میں اس موضوع پر اشارۃً بات کیا کرتے تھے لیکن اس کی افادیت کیا ہو گی، یہ کسی کی سمجھ میں نہ آتا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ایک ملاقات میں؛ میں نے اُن سے اس تجویز کی افادیت کے بارے میں دریافت کیا۔ پیر صاحب کا خیال تھا کہ کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دینے سے سندھ کے لسا نی مسائل کے حل میں مدد ملے گی اور سندھی مہاجر کش مکش کا خاتمہ ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: کاریگر —- شیخ رشید کا تذکرہ، فاروق عادل کے قلم سے

 

کنگری ہائوس۴؎ میں رکھ رکھائو کا خاص خیال رکھا جاتا جہاںپیر صاحب کی حیثیت ایک بادشاہ کی طرح تھی جو عام لوگوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے اور نہ ان سے بے تکلف ہو ناپسند کرتے، اُن کے مرید ننگے سر ان کے سامنے نہیں آسکتے تھے، وہ سفید ٹوپی اور سفید موزے پہنتے اور ہاتھ باندھے، سرجھکائے پیر صاحب کے سامنے کھڑے رہتے۔ صحافی بھی اُن کے احترام میں کمی نہ آنے دیتے۔ جس روز میں نے کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دینے کی تجویز کے بارے میں اُن سے سوال کیا، گفت گو مکمل ہونے کے بعد وہ کمال مہربانی سے ہمیں اپنی قیادت میں کھانے کی میز تک لے گئے اور مجھے تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے پلیٹ پیش کر کے کھانا شروع کرنے کی دعوت دی جس پر ایک سینئر صحافی نے مجھے کہنی مارتے ہوئے کہا:
’’تمھارے سوال نے پیر صاحب کو خوش کر دیا ہے‘‘۔

اہلِ تصوف میں ایک طبقہ ملامتی بزرگوں کاپایا جاتا ہے جو رضائے الٰہی کے حصول کے لیے بدنامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں، اگر اہل سیاست میں بھی ایسی کوئی روایت ہوتی تو میں پیر صاحب کو ملامتی سیاست دان قرار دیتا جنھوں نے غیر جمہوری قوتوں کی صف میں کھڑے ہو کر جمہوریت کے لیے لڑائی لڑی اور کامیاب رہے۔


۱۔ محمد علی خالد، کراچی کے ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار۔
۲۔ جاوید اقبال کارٹونسٹ۔
۳۔ راوی، طاہر حنفی، پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی)کے نامہ نگار، پیر پگارا کے بااعتماد صحافی۔۲۰۱۵ء میں قومی اسمبلی کے افسر اعلیٰ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
۴۔ کنگری ہائوس، کارساز روڈ کراچی پر واقع پیر صاحب پگارا کا گھر۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: