میاں تم نے ہماری برسوں کی محنت ضائع کردی: کچھ یادیں — عطا محمد تبسم

0
  • 36
    Shares

میں ایک ہزار میل کا سفر کرکے احمد ندیم قاسمی کے دفتر پہنچا، قاسمی صاحب مصروف آدمی تھے۔ میرا کوئی تعارف نہ کوئی پرچی، بس اللہ کا نام لے کر ایک کاغذ پر اپنا نام اور شہر کا نام لکھ کر بھیج دیا۔قاسمی صاحب نے جلد ہی بلا لیا، ان سے ملنے کے لیے اور بھی لوگ بیٹھے تھے۔ لیکن میری قسمت نے یاوری کی، قاسمی صاحب کے پاس ڈاک کا ڈھیر تھا، وہ ایک ایک خط کو کھولتے، ایک نظر اس پر دوڑاتے اور بڑی بے رحمی سے اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے۔ میں دل ہی دل میں لرز رہا تھا۔ ایسا بے رحم آدمی جو لوگوں کے محبت سے لکھے خطوط کو یوں ردی کی ٹوکری کی نذر کررہا ہے، وہ میری جانب کیا توجہ دے گا۔ تھوڑی دیر بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے، جی فرمائیے، میں نے عرض کی، میں آپ کے لیے یہ اجرک کا تحفہ لایا ہوں، سندھ میں اجرک محبت کا اظہار ہے، لیکن احمد ندیم قاسمی صاحب کا جملہ بہت تیکھا اور تلخ تھا۔ ایسی اجرک یہاں اسٹیشن پر بہت ملتی ہیں، میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، تو کیا ایک ہزار میل کا سفر بھی یہاں اسٹیشن پر مل جاتا ہے؟ قاسمی صاحب اس ایک جملے سے ہل سے گئے، ارے نہیں میاں۔۔ ان کے منہ سے جملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ میں نے کہا، احمد ندیم قاسمی صاحب میرا یہاں لاہور میں کوئی اور کام نہیں ہے، میں صرف آپ سے ملاقات کرنے اور اپنی ایک بہن کا افسانوں کا یہ مجموعہ لے کر آیا تھا۔ اس کی خواہش ہے کہ اس کا دیباچہ آپ لکھیں گے، تو کتاب شائع ہوگی، ورنہ یہ شائع نہیں ہوگی۔ اسی لیے میں نے یہ ہزار میل کا سفر کیا ہے۔ قاسمی صاحب نے مجھے دیکھا میں نے مسودے کا لفافہ بڑھا دیا۔ افسانہ نگار خاتون کے افسانے کسی ادبی رسالے، کسی اخبار میں شائع نہیں ہوئے تھے، یوں ادبی دنیا میں غیر معروف تھیں۔ قاسمی صاحب گویا ہوئے، اگر یہ کوئی شعری مجموعہ ہوتا تو شائد میں ایک نظر دیکھ کو ابھی دوچار جملے لکھ دیتا۔ یہ تو افسانے ہیں انھیں تو دیکھنا پڑے گا۔ آپ چھوڑ جائیں میں دیکھ کر آپ کو لکھ بھیجوں گا۔ میں تھوڑی دیر گومگو کے عالم میں رہا۔ پھر قاسمی صاحب کی بیٹی نے مجھے دلاسا دیا۔ ابو کہہ رہے ہیں تو وہ آپ کو بہت جلد لکھ کر اپنی رائے بھیج دیں گے۔ آپ بے فکر ہو کر جائیں۔ میں بے فکر ہو کر چلا آیا۔

ایک ہفتے بعد ہی احمد ندیم قاسمی صاحب کا خط آگیا۔ انھوں نے حسب وعدہ فلیپ لکھا، ایک ایسی افسانہ نگار خاتون کی کتاب پر جو پہلے ادبی سطح پر کہیں نمودار نہیں ہوئی تھیں۔ یہ بڑے لوگ تھے۔


میں ممتاز بھٹو سے انٹرویو کرنے گیا، مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈے سوں۔ سندھ ہماری دھرتی ماں ہے۔ سندھ کے حوالے سے اور ایسے کئی بیانات سے ممتاز بھٹو کی شخصیت بہت متنازعہ رہی ہے۔انھوں نے ایک اور بیان میںمہاجروں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ان لوگوں کو صوبہ بنانے کا شوق ہے تو یہ لوگ یوپی واپس جا کر اپنے لئے صوبہ بنا لیں۔ میں ممتاز بھٹو سے انٹریو کے لیے ان کی وسیع عریض لائبریری میں بیٹھا تھا، جہاں شیلف کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ممتاز بھٹو آئے، میں احتراما کھڑا ہوگیا۔ بابا کیا انٹرویو کرنا ہے، کیا پوچھنا ہے، بابا چائے وائے پیو۔ میں دل میں سوچنے لگا کہ اب اگر یہ انٹرویو نہ ہوا تو بہت مشکل ہوگی۔ میں نے کھڑے کھڑے ہی ان سے سوال کیا کہ یہ آپ مہاجروں کے اتنے دشمن کیوں ہیں؟ ان کے چہرے کے تاثرات یک لخت بدل گئے، ارے نہیں بابا۔ میں مہاجروں کا دشمن کیوں ہوں، میری ان سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں تو الطاف حسین کے خلاف ہوں۔ تھوڑی دیر میں انٹرویو کی باتوں کا دورانیہ کئی گھنٹوں پر محیط ہوگیا۔


فرمان فتح پوری سے انٹرویو کے لیے وقت لیا۔ پہلے دن ملاقات کے لیے گیا تو انہوں نے اگلے دن پر ٹہلادیا۔ اگلے دن گیا تو کسی سے ٹیلفون پر گفتگو کر رہے تھے۔ تم نے میاں ہماری ناک کٹوادی، ہماری برسوں کی کری کرائی محنت پر پانی پھیر دیا، بڑی مشکل سے پنجاب میں جگہ بنائی تھی، برسوں کی محنت تھی۔ سب ضائع کردی۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے فون رکھ دیا۔ مزاج برہم تھا۔ میں نے پوچھا کس سے بات ہو رہی تھی۔ الطاف حسین تھے۔ انھوں نے مختصر سا جواب دیا۔ پھر کہنے لگے ہاں میاں پوچھو کیا پوچھنا ہے؟ میں نے پوچھا فرمان صاحب آپ کی زندگی میں وہ کیا حادثہ تھا کہ آپ نے اپنے ایک دوست کی حادثاتی موت کے بعد اپنا نام ہی اس کے نام پر رکھ لیا؟ فرمان صاحب ایک سکتے کی کیفیت میں آگئے۔ اور ماضی کی یادوں میں کھو گئے۔ فرمان فتحپوری کا اصل نام سید دیدار علی تھا۔ جبکہ وہ زندگی بھر اپنے قلمی نام سے پہچانے گئے۔ اس انٹرویو کے دوران انھوں نے مجھے دس کتابیں تحفے میں دی اور کئی گھنٹے گفتگو کی۔ اختر علی اختر کی باتیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہورہی تھی، غفار غوری، لیاقت علی خان اور میں دم سادھے ان کی صحافتی فتوحات اور معین اختر کے قصے سنتے رہے۔ یہ تو پہلی نشست تھی۔ ابھی تو یہ سلسلہ چلے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: