پاکستان کی شناخت کا مسئلہ؟ — احمد الیاس

0
  • 42
    Shares

تقدیر کے کھیل بے سبب نہیں ہوتے اور واقعات کا تسلسل یوں ہی قائم نہیں ہوجاتا۔ وجود بے وجہ عدم کے پردے سے ظہور پذیر نہیں ہوتا۔ ہم دنیا کے نقشے اور تاریخ کے صفحات پر احمقوں کی طرح نہیں دیکھ سکتے کہ اپنے مقام اور کردار کا تعین ہی نہ کریں۔

میں ان دنوں اکثر بیٹھ کر اس سوال کے بارے میں سوچتا ہوں کہ آج کی خطرات سے دوچار دنیا میں پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟

جب ہماری حالت کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی تین دائروں میں گزار رہے ہیں۔ پاکستان اور پاکستانیت اس مقام پر واقع ہے جہاں یہ دائرے سنگم پاتے ہیں۔ یہی تین دائرے ہماری توجہ کا خصوصی مرکز ہونے چاہییں۔

ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ایک لسانی و ثقافتی دائرہ ہمیں گھیرے ہوئے ہے جو ہماری سرحدوں سے نکلا ہوا ہے۔ ایران کے بلوچ، افغانستان کے پٹھان، مقبوضہ کشمیر کے کشمیری اور بھارت کے پنجابی، سندھی اور اردو بولنے والے۔۔۔۔ یہ سب ہمارے تمدنی و قومی وجود سے براہ راست متصل ہیں۔ ہماری تاریخیں مشترک ہیں اور ثقافت مماثل۔

اس کے ساتھ ساتھ کیا ہم اس بات سے نظر چرا سکتے ہیں کہ ہم ایشیاء کا قلب ہیں؟ وہ ایشیاء جس سے امکانات کا سونامی ٹکرا رہا ہے۔ چین، وسطی ایشیاء اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیاء۔۔۔۔ یہ خطے ہمارے معاشی افق کا نور ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، امت کے تصور کے خلاف ہمارے دانشوروں کی تمام سطحی جذباتیت بھی کیا اس بات سے انکار کرواسکتی ہے کہ عالم اسلام کے ساتھ فقط ہماری فکری اور روحانی کہانی ہی نہیں جڑی بلکہ ایسے تمدنی و معاشی دھاگے بھی ہیں جن سے نکلنے کی کوشش کی گئی تو یہ پاؤں میں اڑ کر ہمیں منہ کے بل گرائیں گے۔

تقدیر کے کھیل واقعی بے سبب نہیں۔ یہ محض غیر اہم اتفاق نہیں کہ ہمارا ملک ہندی اور ایرانی ثقافتی و لسانی روایت کے سنگم پر واقع ہے اور ہمارے سرحدوں سے پرے بھی کئی لوگوں کی زندگیاں ہماری زندگیوں سے گڈمڈ ہے۔ یہ بھی نہیں بھلایا جاسکتا کہ ہم چین، وسطی ایشیاء، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء جیسے اہم ترین خطوں کی مرکزی گزرگاہ ہیں، امن و تجارت اور ایٹمی جنگ کی لکیر پر براجمان ہیں اور دنیا کی اکثریتی آبادی والے اس خطے میں جاری غربت اور نمو، تعصب اور بقائے باہمی کی جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور یہ بھی بہت بامعنی امر ہے کہ اسلامی تہذیب اور صوفی ورثے جیسی عظیم الشان روایت نے مشرق وسطیٰ میں منگول تباہ کاری کے بعد سندھ و ہند کی مسلم برادری میں پناہ حاصل کی تھی۔

یہ سب بنیادی معروضی حقیقتیں ہیں جن کی ہمارے زندگیوں میں ناقابل اندازہ حد تک گہری جڑے ہیں۔ ہم جو بھی سوچیں، کہیں یا کریں۔۔۔ اپنے قومی وجود کے ان عناصر سے بھاگ نہیں سکتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: