سیپ نصف صدی کا قصہ، ادبِ عالیہ روشن آغاز ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 13
    Shares

نسیم درانی 1963ء سے ادبی جریدہ ’سیپ‘ نکال رہے ہیں۔ گویا سیپ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ سیپ سے قدیم اور اس کے ہم عصر جریدوں میں ’نقوش‘ ، ’اوراق‘، ’نیرنگ خیال‘ سمیت بیشتر مدیران کے انتقال کے بعد بند ہو گئے۔ اظہر جاوید کے صاحب زادے سونان جاوید ’تخلیق‘ احمدندیم قاسمی مرحوم کی بیٹی ناہید قاسمی اور نواسے نیر حیات قاسمی ’فنون‘ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں فنون کا دو جلدوں پر مبنی ضخیم قاسمی صدی نمبر شائع ہوا ہے۔ اور ’سویرا‘ اپنی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نسیم درانی پچپن سال سے سیپ کوزندہ رکھنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ حال ہی میں سیپ کاستاسی واں شمارہ شائع ہوا ہے۔ حیران کن طور پر بڑے سائز کے تین سو سے زائد صفحات کا جریدہ اب تک دوسو روپے قیمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ کرشمہ نسیم درانی کے ہمت اور عزم کا ہے۔ سیپ کا سرورق حسبِ معمول منفرد مصور جمیل نقش نے بنایا ہے۔ جمیل نقش اور سیپ اب لازم وملزوم بن چکے ہیں۔

حسبِ روایت ابتدا حمد باری تعالیٰ سے ہوئی ہے۔ محمد انیس انصاری کی حمد کے دو دل میں اتر جانے والے اشعار

دل اگر ذکر سے غافل ہو جائے
زندگی قبر میں داخل ہو جائے

میں تری یاد سے روؤں کسی شب
پھر یہ رونا مرا کامل ہو جائے

احمد رئیس اور ریاض حسین چودھری، محمد انیس انصاری اور فرخندہ شمیم کی نعتوں کے بعد نو مضامین قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کیے گیے ہیں۔ سینئر قلمکار ڈاکٹر سلیم اختر نے ’وقت، تار حریر دو رنگ‘ کے عنوان سے وقت کی علمی اور ادبی حیثیت کو بہت خوبصورتی سے پیش کیاہے۔ جس میں مسجد قرطبہ کے حوالے سے علامہ اقبال کے تصور وقت کو پیش کیا۔ اسی بارے میں عظیم سائنس دان آئن اسٹائن کی وقت اور روشنی کے بارے میں تھیوری مختصر اور عام فہم انداز میں بیان کی۔ جس میں ہندی اساطیر اور یہودیوں کی ماضی سے پیوستگی اور دیوار گریہ سے لپٹ کر گریہ وزاری نے مضمون کو انتہائی معلومات افزا بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالکریم خالد نے ’ڈاکٹرسلیم اختر کی نئی تنقیدی جہات‘ کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ سلیم اختر کی کتاب ’تنقید، منطق، سائنس‘ کے اقتباس سے ان کے نظریہ کو بخوبی واضح کیا ہے۔ ’’ہم کیوں کہ انتہا پسند ہیں اس لیے پرامن بقائے باہمی کے قائل نہیں، بالکل اسی طرح تنقیدی تصورات اور ذوق کے پیمانوں کے معاملہ میں بھی ہم پرامن بقائے باہمی کے قائل نہیں۔ زندگی، ادب، تنقید، نظریات، تصورات، اصول و ضوابط اپنے لحاظ سے سبھی درست ہوتے ہیں۔ ان سب میں قطعی طور پر کچھ بھی قطعی نہیں۔ سبھی جزوی صداقت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لیے جزو کو جزو ہی سمجھنا چاہیے، جزو کو کُل تسلیم کر لینا گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

عامر سہیل کا مضمون ’’ادبی تھیوری اور جدید اردو تنقید کا منظر نامہ‘‘ لے کر آئے ہیں۔ ان کا طویل مضمون بھی قابلِ مطالعہ اور معلومات سے بھرپور ہے۔

ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے قیامِ پاکستان کے بعد سعادت حسن منٹو اور حسن عسکری کی زیر ادارت شائع ہونے والے ادبی رسالے ’اردو ادب‘ کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے۔ جس کے صرف دو ہی شمارے شائع ہو سکے تھے۔ ڈاکٹر نیئر نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ نصف صدی سے نایاب اردو ادب کے یہ دو یادگار شمارے مکتبہ جدید کے حسن رامے دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔ جو بلاشبہ اکیس ویں صدی کے قارئین کے لیے بھی تحفہ خاص ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: قائد اعظم کی عائلی زندگی پر ایک منفرد کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

 

شاہد زبیر کا ’قدیم اقوام کی اساطیر‘ کی تحقیق اور ترجمہ اس شمارے کا خاص مضمون ہے۔ جس میں اساطیری داستانوں، ان کے کرداروں کی رنگارنگی اور مذہبی عقائد میں ان کی شمولیت پر دلچسپ بحث کی گئی ہے۔ طویل مضمون میں کیٹلک اساطیر، تخلیقی اساطیر، مصری اساطیر، قدیم یونانی اساطیر اور اسکینڈ ینیوین اساطیر، فلپائنی اساطیر، آئرستانی اساطیر اور میکسیکن اساطیر سے قارئین کو متعارف کرایا ہے۔ اساطیر سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے اس مضمون میں بہت کچھ موجود ہے۔

ڈاکٹر سید طلحٰہ احسن نے خطباتِ اقبال کی آسان اردو تلخیص کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ابتدا میں انہوں نے علامہ کے سات خطبات کے موضوعات کا تعین کیا ہے۔ جس کے بعد خطبہ نمبر ایک علم اور مذہبی تجربہ کی تلخیص ہے۔ یہ ایک بہت عمدہ کاوش ہے۔ علامہ اقبال کے خطبات کافی متنازع بھی ہیں۔ کئی علمائے کرام کا دعویٰ ہے کہ علامہ نے خطبات کے حوالے سے اپنے خیالات سے رجوع کر لیا تھا۔ ڈاکٹر سید طلحٰہ احسن کی اس نئی کاوش سے یہ بحث از سرنو شروع ہو سکتی ہے۔

عامر رضوی نے امرتا پریتم کی سوانح حیات کی روشنی میں ’’عورت کی نفسیات رسیدی ٹکٹ کے آئینے میں ‘‘پیش کیا ہے۔ معروف افسانہ نگار نیلم احمد بشیر نے اپنے والد نقاد، ناول نگار اور خاکہ نگار احمد بشیر کے نام ایک خط لے کر آئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی خط ادبی جریدے ’ادب عالیہ‘ کے چوتھے شمارے میں بھی شامل ہے۔ جو حال ہی میں شائع ہوا ہے۔

آخری مضمون سعدیہ فرحت قدوسی کا آمنہ عالم کے شعری مجموعے ’’شعور کی دستک‘‘ کا طویل اور خوبصورت جائزہ ہے۔ آمنہ کی شاعری کے نمونوں سے ان کی بے پناہ تخلیقی صلاحتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ جیسے یہ شعر

لحن مطلوب ہے نہ یہ سوزِ گلو مانگتی ہے
شاعری اپنے سخنور سے لہو مانگتی ہے

ماں کے موضوع پر اردو شعراء نے بہت خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ آمنہ کا یہ شعر دیکھیں۔

شہر میں چھت ہے ناہی کٹیا کوئی گاؤں میں
پل جاتے ہیں وہ بچے بھی، ممتا تیری چھاؤں میں

آمنہ عالم کی نظم ’خواب نگر‘ بھی کیا خوب ہے۔ جس کے ٹکڑے حیران کر دیتے ہیں۔ ذرا یہ اشعار ملاحظہ کریں۔

گھر تو وہ ٹھکانہ ہے پیار گھول کر جس کی
دل میں نیو رکھتے ہیں

اعتماد ہی گھر کا وہ ستون ہے جس پر
چھت یقیں کی پڑتی ہے

گھرہے گود ممتا کی، گھر ہے باپ کی شفقت
چاہتوں کی گرمی ہے گھر خلوص کی ٹھنڈک

اس نظم کو اگر وطن پر منطبق کیا جائے تو اس کا الگ ہی مزہ ہے۔ شعور کی دستک یقیناً ہر صاحبِ دل کے زیر مطالعہ آنا چاہیے۔ کتاب کی ترویج ہی ایسے مضامین کی کامیابی ہے۔

افسانے، قصے، کہانیاں کا حصہ اس شمارے میں نوے صفحات پر مبنی ہے۔ جن میں تیرہ نئے اور پرانے قلم کاروں کی چودہ تخلیقات شامل ہیں۔ محترمہ بشریٰ رحمٰن دو افسانے لے کر آئی ہیں۔ ان کے دونوں افسانے ’عشق آتش‘ اور ’قمار خانے‘ اپنی مثال آپ ہیں۔ ادب ہی بشریٰ رحمٰن کا اصل میدان ہے۔ اخلاق احمد کا ’جب شہر غائب ہوا‘ ، سینئر افسانہ نگار کا رشید امجد کا ’سنا ہے کبھی یہ شہر تھا‘ اور سلمیٰ اعوان کا ’وہ شاخِ شجر‘ اس شمارے کے بہترین افسانے ہیں۔ دیگر افسانے بھی اپنی اپنی جگہ خوب ہیں۔ اس مرتبہ سیپ کی روایت کے مطابق کوئی طویل مختصر افسانہ یا ناولٹ شامل نہیں۔ اس کی جگہ پہلی بار مدیر سیپ نسیم درانی کی شخصیت اور زندگی میں ان کی کاوشوں کو ’’خود نمائی‘‘ کے عنوان سے خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ جو یقیناً خود نمائی نہیں حق با حقدار رسید کے مترادف نسیم درانی کا حق ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے پرچے میں ہمیشہ گریز کیا۔ انہوں نے سیپ کے ستاسی شماروں میں اپنے صرف دو افسانے شائع کیے۔ ان کے افسانوی مجموعے کا اشتہار آتا رہا۔ لیکن وہ کبھی منظرِ عام پر نہیں آیا۔ سلطان جمیل نسیم کی نسیم درانی سے طویل رفاقت نصف صدی سے قائم ہے۔ انہوں نے ہی سب سے طویل مضمون میں ان یادوں کو قارئین سے شیئر کیا ہے۔

لکھتے ہیں۔ ’’میرا اور نسیم درانی کا حال یہ ہے کہ اگرحساب لگانے بیٹھیں تو نو عمری اور نو جوانی دونوں ہی یاد آنے لگے گی اور سچی بات تویہ ہے کہ اس عمر میں نوجوانی کی باتیں ہی مرغوب ہوتی ہیں۔ مگر ایک الجھن اور ہے، نسیم درانی کے دَم کے ساتھ ’سیپ‘ وابستہ ہے اور سیپ کے ساتھ ادب اور ان تینوں کو الگ الگ خانوں میں بانٹنا میرے لیے ایک دشوار مرحلہ ہے کیونکہ ایک دوسرے کے بغیر بات ادھوری سی لگے گی۔ اسی لیے ایک عرصہ تک ارادے باندھنے کے باوجود نسیم درانی کے بارے میں دو چار جملے بھی نہیں لکھ سکا۔ جب ارادہ کیا تو تین آڑی ترچھی لکیریں کھینچ کر رہ گیا۔ جب رفاقت کی عمر طویل ہو تو یادداشت کے البم میں اتنی تصویریں لگ جاتی ہیں کہ کسی خاص تصور کو چن کر احباب کو دکھانا دشوار ہو جاتا ہے۔‘‘ لیکن سلطان جمیل نسیم نے بڑی خوبی سے یہ جھلکیاں دکھائی ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے ’’سیپ کا موتی‘‘ کے عنوان سے نسیم درانی کی مختلف ادبی کاوشوں کا بخوبی جائزہ لیا ہے۔ اظہر جاوید مرحوم کا مضمون قندِ مکرر کا لطف دیتا ہے۔ جس کے عنوان ’’زنانہ نام والا پٹھان‘‘ ہی سے اس کی دلچسپی عیاں ہوتی ہے۔ نوجوان افسانہ نگار اور مدیر اجرا اقبال خورشید کا ایکسپریس کے لیے لیا انٹرویو ’’سیپ نصف صدی کا قصہ ‘‘ بھی بہت عمدہ ہے۔ مدیر کو لاژ اقبال نظرنے ’’نسیم درانی ایک پتنگ بازسجنا ‘‘کے نام سے مدیر سیپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جس کے آخر میں وہ لکھتے ہیں۔ ’’اسے دیکھ کر اس کی نہیں، اپنی بھی درازیء عمر کی دعا مانگنے کو دل چاہتا ہے۔ اللہ کرے وہ اپنی صحت مند گداز اور چمکیلی مسکراہٹ کے ساتھ ہمیشہ ہمارے درمیان رہے، آمین‘‘ اقبال نظر کی اس دعا میں سیپ کے تمام قارئین بھی شریک ہیں۔

سیپ کی شاعری کا حصہ اس شمارے میں بھی بہت عمدہ اور بھرپور ہے۔ غزلوں کے حصہ اول میں تیس شعراء ستتر غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ جب کہ حصہ دوئم میں شبی فاروقی کی آٹھ اور جان کشمیری کی چھ غزلیں ہیں۔ اس کے علاوہ سترہ شعراء کی ستائیس نظمیں اور شبی فاروقی کے تین گیت بھی شمارے کا حصہ ہیں۔ آخر میں تازہ کتابوں پر تبصرے ہیں۔ غرض سیپ کا یہ شمارہ بھی حسبِ روایت بے مثال اور قارئین کی بھرپور داد کا حقدار ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سیپ اسی طرح اپنی سنچری مکمل کر کے بھی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔

معروف افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار حجاب عباسی کے ادبی پرچے ’’ادب عالیہ ‘‘ کا چوتھا شمارہ بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ جس کی اشاعت کے ساتھ اس کی باقاعدگی بھی ثابت ہو گئی ہے۔ ادبی جریدے کوبروقت شائع کرنا کارِ دارد ہے۔ حجاب عباسی صاحبہ اس کاوش کے لیے داد کی حقدار ہیں۔ تین سو صفحات کے شمارے کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔

پرچے کی ابتدا ریاض ندیم نیازی کی خوبصورت حمد سے ہوئی ہے۔ جس کے دو اشعار بطور نمونہ پیش ہیں۔

مل جائے اگرحمد کی اک بار سعادت
ہو جائیں سبھی زیست کے ادوار سعادت

خالق سے تعلق ہو کہ مخلوق سے اُنکا
دراصل ہیں انسان کے وہ افکار سعادت

خورشید بیگ میلسوی کی نعت کے بھی دو اشعار
ہو دل کے شبستاں میں اُجالا شہ والا
ہو نعت تری میرا حوالہ شہ والا

ہے باعثِ تسکین ترا اسمِ گرامی
دیتا ہے مریضوں کو سنبھالا شہ والا

حمد و نعت کے بعد چھ مضامین ہیں۔ جن میں علی تنہا کا اردو کے بہت ہی اچھے اور منفرد مزاح نگار ’’محمد خالد اختر کے ساتھ گزرے سات سال‘‘ کا خوبصورت احوال ہے۔ علی تنہا لکھتے ہیں کہ ’’میں جنوری دو ہزار دو میں ملتان سے ٹرانسفر ہو کر بہاول پور ریڈیو اسٹیشن گیا۔ وہاں جاتے ہی مجھے محمد خالد اختر یاد آ گئے جو واپڈا سے بحیثیت ایس ای ریٹائرڈ ہو کر اپنے آبائی شہر آئے تھے۔ میری خالد اختر سے دفتر ’فنون‘ میں ملاقاتیں ہوتی رہی تھیں۔ وہ اور محمد کاظم کے ہمراہ ہر اتوار کو احمد ندیم قاسمی سے ملنے آتے۔ دونوں بہاول پوری تھے اور دونوں ہی واپڈا ہاؤس میں سینئر افسرتھے دفتر ’فنون‘ میں محمد کاظم کی نوک جھونک علی عباس جلال پوری سے رہتی۔ دونوں مذاہبِ عالم اور انگریزی ادبیات کے عالم تھے۔ ان کی گفتگو میں محمد خالد اختر زیادہ تر لب بستہ رہتے۔ وہ مزاجاً بھی بے حد کم گو، کم آمیز آدمی تھے۔ محمد خالد اختر اپنے دوستوں پر جان چھڑکتے تھے۔ ظہور نظر کی موت نے انہیں زندہ مار دیا تھا اور جب شفیق الرحمان دو ہزار میں انتقال کر گئے تو ان کی زندگی ویران ہو گئی اور ڈیڑھ برس بعد خود بھی پیوندِ خاک ہو گئے۔‘‘

ایک بہترین انسان سے علی تنہانے بہت عمدگی سے قارئین کومتعارف کرایا ہے۔

مسلم شمیم نے ’’ڈاکٹر مبارک علی، جہانِ فکر و دانش‘‘ پر قلم اٹھایا ہے اور بالکل درست کہا کہ تاریخ ڈاکٹر مبارک کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔ بہت اچھا، طویل اور معلومات سے بھرپور مضمون ہے۔ اس شمارے کا سب سے بہترین مضمون ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کا ’’یوں نہیں یوں!‘‘ طویل اور دلچسپ تحریر میں ڈاکٹرصاحب نے کئی ضرب المثل اشعار کے اصل خالقوں اور درست اشعار کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ جیسے یہ مشہور شعر جو علامہ اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے۔

تندیء بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اڑانے کے لیے

ڈاکٹر قریشی نے بتایا کہ یہ شعر شکر گڑھ کے ایک وکیل شاعر سید صادق حسین کی تخلیق ہے۔ اسلام آباد کے ایک قبرستان میں مرحوم کے لوحِ مزار پر بھی کندہ ہے۔ تقریباً تیس صفحات کا یہ بہت دلچسپ اور چشم کشا مضمون ہے اور ہم جیسے قارئین کی کئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے اور بہت سے غلط العام اشعار کے تصحیح اور خالق کا علم ہو جاتا ہے۔

محمد فیصل لیاقت نے نثار عزیز بٹ کی آپ بیتی ’’گئے دنوں کا سراغ‘‘ کا جائزہ پیش کیا ہے۔ نثار عزیز بٹ معروف سیاستدان سرتاج عزیز کی بہن ہیں۔ انہوں نے اردو کو چار انتہائی خوبصورت ناول دیے۔ ان کی آپ بیتی ’گئے دنوں کا سراغ‘ اردو ادب کی اہم خود نوشتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ انہوں نے قرۃ العین حیدر کی یادوں پر مبنی بھی ایک بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ ان کے شوہر اصغر بٹ بھی ایک اچھے مصنف تھے جن کا طویل ناول کمال کا ہے۔ فیصل لیاقت نے تجزیہ کے لیے بہت اچھی کتاب کا انتخاب کیا ہے۔

عامر رضوی نے اپنے مضمون ’’اشفاق احمد، شفو سے بابا جی تک‘‘ میں مشہور ادیب ، افسانہ نگار، ڈرامہ رائٹر اور دانشور اشفاق احمد کی یادوں کو بڑی خوبی سے تازہ کیا ہے۔ اور ان کی کتاب سفر در سفر کے اقتباسات سے اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا ہے۔ ’عبد العزیز خالد کی نعتیہ شاعری پر عربی زبان کے اثرات ‘پر مضمون ڈاکٹر جہاں آرا لطفی نے لکھا ہے۔ یہ بھی طویل مضمون ہے۔ جس میں وفا راشدی کی خالد کے بارے میں رائے توجہ طلب ہے۔ ’’خالد نے اپنی شاعری کو بہت سی فرسودہ رسوم و قیود سے آزاد کرا لیا ہے۔ انہوں نے شاعری میں اتنے انوکھے اور موہ لینے والے تجربے کیے ہیں کہ اردو ادب کا قاری انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔‘‘ وفا راشدی کی اس رائے پر مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔

غزلوں کے پہلے حصے میں پچیس شعراء کی اتنی ہی غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ جن کی ابتدا مرحوم صبا اکبر آبادی کی غزل سے ہوئی ہے۔ جس کے چند اشعار دیکھیں۔

آؤ گے سامنے مرے تم کس لباس میں
رخنے ہیں لاکھ دامنِ وہم و قیاس میں

کیا شکر ہو نوازشِ ساقی کا پیاس میں
لکنت ہے تشنگی سے زبانِ سپاس میں

کیوں چاک پیرہن پہ پریشان ہو صبا
سجتا ہے حسنِ اہلِ جُنوں ہر لباس میں

مرتضٰی برلاس، نثار ترابی، جان کشمیری، صبا اکرام اور عرفان ستار کی غزلوں کے بھی کئی اشعار بہت خوبصورت ہیں۔ غزل کے دوسرے حصے میں چھبیس شعراء کی اتنی ہی غزلوں کو جگہ دی گئی ہے۔ جن میں پیر زادہ قاسم رضا صدیقی کی غزل ان کے مخصوص رنگ کی عکاس ہے۔

یہ میرے لوگ ہیں میری فضا ہے میں نہیں ہوں
اگر یہ سب ہیں تو کس نے کہا تھا ہے میں نہیں ہوں

زمانہ مجھ سے بچھڑ کر کسی بھی سمت چلے
ہر ایک سمت مرا نقشِ پا ہے میں نہیں ہوں

جہاں جہاں مرے بے حد قریب تھی دنیا
وہا ں وہاں پہ مجھے کہنا پڑا ہے میں نہیں ہوں

اس حصے میں انور شعور، عبد اللہ جاوید، صابر وسیم، جاوید صبا، سلمان صدیقی اور خالد معین کی غزلیں بھی دامنِ دل کو کھینچتی ہیں۔ حصہ شعر میں عشرت آفرین کے ہائیکو اور سید زاہد حیدر کے گیت دلکش ہیں۔

حجاب عباسی نے سید عبد القادر جیلانی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے پیر نظام شاہ نظام کی شخصیت پر عمدہ مضمون پیش کیاہے۔ جبکہ مستنصر حسین تارڑ کا رپور تاژ ’’پہلے پیر کا میلہ اور لاہور کی دیوالی‘‘ ان کی کتاب ’’لاہور آوارگی‘‘ سے لیا گیا ہے اور اس کی دلچسپی کے لیے یہی کہنا کافی ہے کہ یہ مستنصر حسین تارڑ کی تحریر ہے۔

تقریباً سو صفحات پر مشتمل افسانوی حصے میں صرف نو افسانے شامل ہیں۔ جس کی وجہ بیشتر افسانوں کی طوالت ہے۔ لیکن اچھے افسانے میں طوالت گراں نہیں گزرتی۔ محمد حامد سراج کا ’خناس‘ مشرف عالم ذوقی کا ’’گلیشیئر ٹوٹ رہے تھے اور‘ اور اخلاق احمد کا ’ریٹائرڈ بخاری کی نئی زندگی‘ اپنے موضوعات اور برتاؤ کے اعتبار سے اس شمارے کے اہم افسانے ہیں۔ پرچے میں ایک خط ایک افسانہ کے الگ عنوان سے نیلم احمد بشیر کے والد ’احمد بشیر کے نام ایک خط، ایک فسانہ‘ کے عنوان شائع ہوا ہے۔ یہی خط تازہ سیپ میں بھی شامل ہے۔ ایک معروف مصنف کو ایک ہی تحریر دو پرچوں میں بھیجنا کچھ مناسب نہیں۔

مجموعی طور پر حجاب عباسی کا ’ادب عالیہ‘ کا یہ شمارہ قارئین کی توقعات پر پورا اترتا ہے۔ جس میں مضامین کا حصہ زیادہ وقیع ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: