الحاد کا چیلنج اور ہماری ذمہ داری ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی

0
  • 5
    Shares

الحاد یا atheism سادہ لفظوں میں خدا کے وجود کو تسلیم نہ کرنا اور اس کو دنیا کا خالق و مالک نہ ماننا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ ہی کچھ لوگ ایسے پایے جاتے رہے ہیں مگر رہے وہ ہمیشہ اقلیت میں۔ اور بعض یونانی فلسفیوں کو چھوڑ کر ان کا الحاد زیادہ تر ایک آزاد منشی اور مذہبی قیود و حدود سے بے زاری پر مشتمل رہا ہے مگر دور جدید میں الحاد نے باقاعدہ فلسفیانہ اور نظریاتی بنیادیں تراش لی ہیں۔ اور وہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے tools کو استعمال کر کے جدید تعلیم یافتوں میں تیز ی سے پھیل رہا ہے۔ مسلمان نام رکھنے والے بہت سے پڑھے لکھے لوگ ملتے ہیں، ان کے ناموں سے پتہ نہیں چلتا مگر جب ان سے بات کیجیے یا ان کی کوئی تحریر پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ وہ ملحد ہیں۔ بعض لوگ باقاعدہ اپنے نام کے ساتھ ex Muslim یا Atheist کا لاحقہ بھی لگاتے ہیں۔ اور یہ مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں ہر کمیونٹی، ہر مذہب و ملت میں ایسے افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

یوں مذہب بیزاری موجودہ دورکا عمومی رویہ ہے۔ (ویسے مذہب کی طرف واپسی کا رجحان بھی دنیا میں دیکھنے میں آ رہا ہے، لیکن وہ انفرادی سطح پر ہے اور اکا دکا واقعات ہی میں اس کا مظاہرہ ہو رہا ہے، عمومی کلچر خاص کر ماڈرن تعلیم یا فتوں میں مذہب بیزاری کا ہی ہے۔) مذہب بیزاری کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ مذہب میں عام طور پر انسانی توہمات، دیومالا اور رسمیات کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اور کسی مذہب کا بھی اس سے استثنا نہیں۔

مذہب کی اس عوامی صورت میں جدید ذہن کے لیے کوئی Attraction نہیں ہے۔ اس کا دوسرا سبب یہ ہے کہ مذہبی فکر صدیوں سے ایک جامد فکر بن کر رہ گئی ہے، اس میں کوئی ارتقاء نہیں ہو رہا ہے کیونکہ مذہب کے اجارہ دار کسی نئی بات، نئی تحقیق اور نئے تغیر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ زمانہ تیزی سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی نے ایسی زبردست ترقیات کر لی ہیں کہ عقل حیرت زدہ ہے اور دنیا کی ان مادی ترقیات میں مذہب اور اہل مذہب کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تمام ترقیاں اور تحقیقات ان سائنس دانوں نے انجام دی ہیں جن کو اہل مذہب کے ہاتھوں شدید ٹارچر اور تعذیب کا نشانہ بننا پڑا۔ سائنس داں اور جدید تعلیم یافتہ لوگ تمام مذاہب کو ایک ہی پیمانہ سے ناپتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ سبھی مذاہب کے ترجمان اور مذہی رہنما ایک دوئی کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ (مستثنیات کی بات دیگر ہے ) مسلمان علما بھی عصر جدید اور اس کی ترقیات سے لطف اندوز خوب ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی اس کو کفر، نظام کفر اور طاغوت کا پیدا کردہ بھی بتاتے ہیں، موجودہ زمانہ میں خود ان کا کوئی کنٹری بیوشن نہیں ہے۔ لہذا مذہب سے جدید تعلیم یافتوں کی بیزاری اور بڑھ جاتی ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اہل مذاہب تقلید جامد، عقل دشمنی اور بے جا روایت پسندی کا رویہ ترک کریں، اپنی زندگیوں سے دوئی اور دوغلے پن کو نکال دیں اور حقیقت پسندانہ ایپروچ اختیار کریں۔

جدید مغربی ذہن تمام مذاہب کو ایک ہی عینک سے دیکھتا ہے ان کے نزدیک مذہب فی نفسہ ایک جامد روا یت Tradition ہے۔ چنانچہ وہ مذاہب کا مطالعہ اسی نقطہ نظر سے کرتے ہیں اور مختلف مذاہب کو Crhrsitian Tradition, Judaic tradition Islamic tradition وغیرہ کہتے ہیں اور اسی لیے کہتے ہیں کہ اس لفظ سے ایک جمود گرفتہ چیز کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

تاہم اسلامی روایت جامد نہیں ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے اُس اسلامی روایت کو پوری تاریخیت، ایماندار ی، تحقیق و رسرچ کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اسلام کو دخیل اجنبی اثرات سے پاک کر کے اُس کی اوریجنل صورت میں صرف قرآن و سنت کی روشنی میں عصری اسلوب میں یعنی سائنٹیفک طریقہ سے سامنے لانے کی شدید ضرورت ہے۔ تبھی ہم آج کے الحاد کا سامنا کر سکیں گے۔

موجوہ زمانہ میں سائنس دانوں کی بہت بڑی تعداد مذہب کے معاملہ میں یا خدا کے ثبوت کے سلسلہ میں نیوٹرل (neutral) بنی ہوئی ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم مذہب کا یا خدا کا انکار نہیں کرتے مگر ہمارے پاس اس کو ثابت کرنے کی بھی کوئی دلیل نہیں۔ البتہ بعض یہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر بھی رکھتے ہیں کہ سائنس کا دائرہ کار مذہب کے دائرہ کار سے بالکل الگ ہے اس لیے ہم مادیات پر بات کرتے ہیں رسرچ و تحقیق کرتے ہیں مذہب اور روحانی یا وجدانی چیزیں ہمارے دائرے سے باہر کی چیزیں ہیں اس لیے ہم اس بارے میں گفتگو نہیں کر سکتے۔ حالانکہ ایسے سائنس دانوں کی بھی کمی نہیں جو یہ مانتے ہیں کہ قوانین طبیعی کے بارے میں جتنی رسرچ کی جا رہی ہے وہ کائنات کے پیچھے ایک شعوری وجود (mind) کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یعنی کائنات اتنی زیادہ منظم ہے کہ اس کے ڈھانچہ میں معمولی سی تبدیلی بھی نظام کائنات کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ ’’مثال کے طور پر ساری کائنات ایٹم سے بنی ہے اور ہر ایٹم نیوٹران اور پروٹان کا مجموعہ ہے۔ نیوٹران کسی قدر وزنی ہوتا ہے اور پروٹان کسی قدر ہلکا۔ یہ تناسب بےحد اہم ہے کیونکر اگر اس کا الٹا ہو، یعنی پروٹان بھاری اور نیوٹران ہلکا، تو معلوم قوانین کے مطابق ایٹم کا وجود ہی نہ رہے گا۔ جب نیوکلیس نہ ہو گا تو ایٹم بھی نہ ہو گا اور جب ایٹم نہ ہو گا تو کیمسٹری بھی نہیں ہو گی اور جب کیمسٹری نہیں ہو گی تو زندگی بھی نہ ہو گی۔ (مولانا وحید الدین خاں اظہار دین، گڈور ڈبکس 2014ص ۱۷)

حال ہی میں انتقال کرنے والے برطانیہ کے مشہور عالم ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ نے جو سنگل اسٹرنگ تھیوری دی یا سائنس دانوں کے ایک مشترکہ پروجیکٹ کے نتیجہ کے طور پر سامنے آنے والا ’گاڈ پارٹیکل‘ سب وحدت ِخالق کی طر ف اشارہ کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اشارے کو ایک سائنسی دلیل میں تبدیل کر دیا جائے جس کو جھٹلانے کا کسی کے پاس موقع نہ ہو۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق

 

قدیم متکلمین صنعت سے صانع کے وجود پر استدلال کرتے تھے جس کو آج ڈیزائن کا آرگومینٹ بھی کہتے ہیں کہ ڈیزائن ہے تو کوئی ڈیزائنر بھی ہو گا۔ آسان لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی صنعت ہے تو صانع بھی ہو گا، اگر کوئی کرسی ہے تو کوئی اس کا بنانے والا بھی ہو گا تو اگر کائنات مادی وجود رکھتی ہے تو کوئی اس کا خالق بھی ہو گا۔ یہ دلیل ہمیشہ سے دی جاتی رہی ہے اور اس کو لاجیکل سمجھا جاتا رہا ہے مگر آج بہت سے سائنس داں اس لاجک کے منطقی نتیجہ کو الٹتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ کائنات کو قوانین فطرت Laws of nature منظم طور پر کنٹرول کر رہے ہیں اور یہ قوانین کہیں باہر سے نہیں آئے بلکہ خود نیچر نے اپنے آپ ڈیولپ کیے ہیں دوسرے لفظوں میں کائنات نے خود اپنے آپ کو بنا لیا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ماناجائے تو  پھر سوال ہو گا کہ چلیے مان لیجئے کہ کائنات کو کسی ڈیزائنر (خالق ) نے بنایا مگر خود اس ڈیزائنر کو کس نے بنایا؟ یہ سوال جمیس بل، جولین ہکسلے اور برٹرنڈرسل جیسے ذہین لوگوں نے اٹھایا ہے۔ لیکن ان ملحد فلاسفہ اور سائنس دانوں سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ آپ نے بلا دلیل اور مفروضہ کی بنیاد پر کائنات کو تو بغیر خالق کے مان لیا مگر خالق کے وجود کو بغیر اس کے خالق کے ماننے کے لیے کیوں تیار نہیں؟ اس سوال کا کوئی منطقی اور راست جواب ان کی طرف سے نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ کئی بڑے سائنس داں عموماً حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کائنات بامعنی ہے۔ اس کے پیچھے ایک اعلی شعور کام کر رہا ہے تاہم اپنی ذہنی کنڈیشنگ کے باعث وہ لفظ ’’خدا‘‘ نہیں بولتے بلکہ دوسرے لفظوں سے اس کو تعبیر کرتے ہیں مثلاً: سرجیمس جینز (وفات 1717) نے اپنی کتاب The Introduction of Universe میں کہا ہے کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی شہادت دیتی ہے۔ برٹش عالم فلکیات سر فریڈبائل ( 2001 ) نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہ کر کیا کہ ہماری کائنات ایک ذہین کائنا ت ہے۔ امریکی سائنس داں پال ڈیویز نے اقرارکیا کہ کائنات کے پیچھے ایک باشعور ہستی ( conscious mind) موجود ہے۔ برٹش سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن ( 1744 ) نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہ کر کیا کہ کائنا ت کا مادہ ایک ذہین مادہ ہے۔ (حوالہ ٔبالاص ۶۳)

ذہین تخلیق کو سائنس داں مان لیتے ہیں مگر ذہین خالق (Intelligent Creator) کو نہیں مان رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسا ہی جیسے آپ نے کسی پیچیدہ مشین کو مان لیا مگر اس کے انجینئر کونہ مانا۔ مولانا وحید الدین خاں نے ڈاکٹر فریڈبائل کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ ’’سائنس کے ابتدائی دور میں مسیحی چرچ نے سائنس دانوں کے خلاف جو متشددانہ کارروائی کی وہ ابھی تک لوگوں کو یاد ہے، وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ یہ اعلان کر دیں کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین خالق کے وجود کا ثبوت مل رہا ہے تو قدیم مذہبی تشدد دوبارہ واپس آ جائے گا۔ (حوالہ ٔبالا ص ۲۳) ظاہر ہے کہ یہ کوئی منطقی اور لاجیکل بات نہ ہوئی یہ تو ایک بلا وجہ کا خوف ہے جو سچائی کے اعتراف میں مانع بن رہا ہے۔

کائنات بہت بڑی ہے جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے، خود سائنس داں کہتے ہیں کہ سار ی تحقیقات کے باوجود ابھی تک ہم کائنات کے صرف چار فیصد (4%) حصہ کو جان سکے ہیں، باقی سب ابھی Dark matter ہے۔ کائنات میں ملینوں کہکشائیں ہیں اور ایک ایک کہکشاں میں بلینوں سیارے اور ستارے ہیں تا ہم زندگی انسان کے ابھی تک کے علم کے مطابق صرف زمین میں پائی جاتی ہے۔ حالانکہ اسٹیفن ہاکنگ اور دوسرے سانئس دانوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں میں بھی زندگی کا امکان موجود ہے، خلاقی مخلوق aliens سے رابطہ کے امکان کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ کائنات میں ہماری زمین نقطہ کے ہزارویں حصہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتی مگر اتنی حقیر اور چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی انوکھی صفت ہے کہ یہاں زندگی موجود ہے اور زندگی کے اسباب بھی متناسب انداز میں موجود ہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم اور متناسب لحاظ سے زندگی کے اسباب کی فراوانی بتاتی ہے کہ یہاں ایک ارادہ اور منصوبہ بند تخلیق کار فرما ہے اور اس کا وجود خود بتاتا ہے کہ ارادہ کرنے والی اور صاحب تخلیق ہستی موجود ہے۔ جو لوگ کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں وہ بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں: ربنا ماخلقت ہذاباطلا، سبحانک (اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے کار پیدا نہیں کیا، پاک و برتر ہے تو! (آل عمران :۱۹۱ )

انسان کو جو دکھ تکلیف دنیا میں ہوتی ہے اس کو بھی خدا کے وجود میں تشکیک کی وجہ ماناجاتا ہے۔ رچرڈ ڈاکن جیسے ملحد ماہر طبیعیات کہتے ہیں کہ اگر خدا موجود ہے اور وہ انصاف کرتا ہے تو جب انسان انسان پر ظلم کرتا ہے تو خدا کہاں ہوتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر دنیا کو خدا نے بنایا ہے تو اس میں اتنی سفرنگ کیوں ہے؟ مشکلات اور نا انصافیوں سے بھری دنیا خدا نے کیوں بنائی؟ اس دنیا میں حادثات ہیں، بیماریاں، کرپشن، ظلم و زیادتی، نفرت تشدد اور استحصال کیوں ہے؟انسانی دنیا میں جرائم، فسادات، سرکشی اور دوسری برائیاں موجود ہیں تو کیوں ہیں؟ فلسفہ کی زبان میں اس کو وہ Problem of evil کہتے ہیں۔ اگر ان باتوں کا جواب مذہب کی روشن میں یہ دیاجاتا ہے کہ اس طرح انسان کی آزمائش مقصود ہے تو ملحد فلاسفہ اور سائنسٹ کہیں گے کہ چلیے مان لیا بالغ اور بڑے انسانوں کی آزمائش تو سمجھ میں آتی ہے مگر چھوٹے اور معصوم بچے بھی اذیتوں، شدید بیماریوں اور تکلیفوں کا شکار ہوتے ہیں تو ان کو خدا کیوں تکلیف دیتا ہے؟ اس طرح کے سوالوں کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔

ان atheist اور بےخدا لوگوں سے بھی یہ سوال بنتا ہے کہ پرابلم آف اول صرف اس دنیا میں کیوں ہے؟ اور کائنات میں صرف انسان کے اندر ہی برائی کیوں ہے؟ دوسرے لفظوں میں کہیے تو بات یہ بنتی ہے کہ یہ مسئلہ انسان کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ کہیں وہ ماں باپ اور بزرگوں سے وراثت میں ملتا ہے کہیں قبیلہ اور قوم سے اور کہیں اس کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسان کی سفرنگ کبھی اس کے ماحول اور اس کی تاریخ اور علاقہ کی پیدا کردہ ہوتی ہے۔

کائنات کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے وہ کیسے وجود میں آئی؟ اس پر انسان ہمیشہ سے غور و فکر کرتا رہا ہے، مذہبی فکر تو Creation کو مان کر ان سوالات کو حل کر لیتی ہے مگر فلسفیانہ طرز فکر نے مزید الجھاؤ پیدا کیا ہے۔ ہاں ہو سکتا ہے کہ سائنس کے مسلمات انسان کو شاید پھر Creation تک ہی پہنچا دیں۔ طبیعیاتی میدان میں گزشتہ چار صدیوں میں تین بڑے نظریات ان سوالوں کے جواب میں آئے ہیں۔ سب سے پہلے نیوٹن نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ کائنا ت کی اساس مادہ matter پر ہے۔ بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس داں آئن اسٹائن مانا جاتا ہے اس نے بتایا کہ کائنات کی تخلیق میں اصل جوہری فیکٹر توانائی Energy ہے۔ آج نظریاتی سائنس میں بڑا نام امریکی سائنس داںDavid Bohm کا ہے، جس کی تحقیق میں تخلیق کائنا ت کی بنیادی اینٹ شعور consciousness ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شعور کسی عظیم mind کے وجود کو بتاتا ہے۔ وہ عظیم مائند مذہب کے نزدیک خدا ہے جو کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اس طرح یوں کہا جا سکتا ہے کہ سائنس ابھی لاالہٰ تک پہنچی ہے، الا اللہ کہنا باقی ہے۔ شاید کہ وہ دن بھی آئے جب سائنس پورا کلمہ پڑھ لے۔

موجودہ زمانہ میں سائنسی علم اور سائنسی طریقہ کار سب سے اہم، مصدقہ اور ثابت شدہ مانا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کی سائنس میں جو غرور و ادعا arrogance اور تعلی تھی، اس کی بنیاد پر ڈارون، فرائڈ اور کارل مارکس کے نظریات کے باعث بعض مفکرین یہ کہنے لگے کہ ہم نے زندگی کے سب راز دریافت کر لیے۔ وہ یہ جسارت کر بیٹھے کہ God is dead کا نعرہ مارنے لگے۔ وہ مفروضہ، مشاہدہ اور تجربہ پر مبنی سائنسی طریقہ کار سے ماوراء کسی علم کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اسی لیے وحی و الہام کشف و انسانی وجدان سب کا انکار کرنے لگے اور سب کی بایو لوجیکل یاحیاتیاتی توجیہ کی جانے لگی۔ مگر بیسویں صدی میں آئن اسٹائن جیسے بڑے سائنسی دماغ نے یہ مان لیا کہ :No absolute frame of reference is exists۔ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کا ہر علم اضافی قرار پایا نہ کہ حقیقی۔ لہٰذا مبنی بر وحی علم یا وجدان و اشراق و کشف کا انکار کرنا درست نہیں۔ جب سائنس اس اعتراف تک آ گئی ہے تو اب مذہبی ذہن کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ سائنسی حقائق اور تحقیقات کو خدا کے وجود کے اثبات کے لیے کام میں لائے۔ اس سلسلہ میں مذہب کے نمائندوں میں عیسائیوں نے خدا کے اثبات پر بہت سا کام کیا ہے جبکہ مسلمانوں میں عبد الباری ندوی، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، وحید الدین خاں، شہاب الدین ندوی وغیرہ اور ترکی کے بعض اسکالروں کے کام کے علاوہ کوئی باضابطہ کوشش نظر نہیں آتی۔

نظریہ ارتقاء :
کائنات میں ارتقاء ہوا ہے، اس طرح کائنات میں زندگی بھی مختلف ارتقائی مراحل سے گزری ہے۔ قرآن کی بعض آیات سے استدلال کرتے ہوئے مسلمان حکماء میں ابن مسکویہ اور صوفی شیخ جلال الدین رومی کا یہی مسلک ہے۔ البتہ انسان کی تخلیق کے بارے میں مذہب اور موجود سائنس دونوں ایک دوسرے کی متضاد سمتوں میں کھڑے معلوم ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کی بڑی اکثریت ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو مانتی ہے بلکہ اس کے لیے تعصب رکھتی ہے۔ کائنات اور زندگی کے ارتقاء سے Creation کی نفی نہیں ہوتی یہاں تک کہ ڈارون نے بھی نہیں کی۔ اس نے اپنی کتاب The Origin of Species کے آخر میں لکھا ہے کہ خدائی تخلیق کا یہ طریقہ کس قدر عجیب ہے۔ مگر اس کے نظریہ ارتقاء کو ملحدین اپنے لیے زبردست دلیل کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں حالانکہ ارتقاء کی ڈاروینی تھیوری ابھی تک قیاسی ہے۔ جتنے شواہداس کے لیے ڈھونڈ ے گئے ہیں ان پر اعتراضات وارد ہوتے ہیں مگر اس کو قریب قریب ایک حقیقت کے مان لیا گیا ہے اور اس کے لیے سائنس کمیونیٹی میں زبردست تعصب پایا جاتا ہے اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں اس کو ایک مسلمہ کی طرح پڑھایا جاتا ہے۔ اور جن سائنس دانوں نے اِس سے شدید اختلاف کیا ہے ان کی آراء و افکار پر کما حقہ توجہ نہیں دی جاتی۔ جولین ہکسلے اور رچرڈ ڈاکن جیسے سائنسداں الحاد کو پھیلانے اور خدا کے عدم وجود پر استدلال کرنے کے لیے اس تھیوری کا استعمال کرتے ہیں۔ اور قریب قریب ایک ثابت شدہ حقیقت اس کو قرار دیاجاتا ہے۔ حالانکہ یہ قیاس سے ابھی آگے نہیں بڑھی۔ چونکہ اس تھیوری کی رو سے کائنات میں مختلف قوانین فطرت کام کر رہے ہیں اور اِنہی Laws of nature کے ظہور کے عمل کے نتیجہ میں زندگی کا وجود اور نشو و نما ہوا پھر اس میں درجہ بدرجہ ارتقاء ہوتاچلا گیا اور آخر میں ملینوں سال گزرنے کے بعد انسانی زندگی کا ظہور ہو گیا لہذا کسی creation اور خالق کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ تا ہم یہ سوال ابھی بھی لا ینحل بنا ہوا ہے کہ خود قوانین فطرت کس نے بنائے وہ کس طرح وجود میں آئے۔ اس کے جواب میں سائنس داں یہ کہتے ہیں کہ قوانین فطرت بھی فطرت کے اپنے اندر سے پھوٹنے چاہییں نہ کہ کسی خارجی ایجنسی (مثلاً خدا) کے ذریعہ وجود میں آئیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک قیاس ہے جس کی کوئی دلیل نہیں لہذا مذہب کا مقدمہ یہاں زیادہ بامعنی معلوم ہوتا ہے کیونکہ خالق کو مانے بغیر اس کائنات کے وجود کی اور کوئی معقول توجیہ ممکن نہیں۔

فلاسفہ اور بڑے انسانی اذہان جنہوں نے جدید مادی تہذیب پر بڑا اثر ڈالا ہے، ہمیشہ آئڈیل کی تلاش میں رہے ہیں۔ افلاطون نے یوٹوپیا کا خواب دکھایا جس میں فلاسفر حکمراں ہوں گے اور کوئی برائی نہ ہو گی۔ موجودہ سائنس دانوں اور نظریہ سازوں نے دعوی کیا کہ مغرب کی موجود تہذیب اعلی انسانی تہذیب ہے جس کے بعد مزید ترقی کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ایلون ٹافلر نے 1970 میں لکھی گئی اپنی کتاب ’’فیوچر شاک ‘‘ میں بتایا کہ اب دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہو رہی ہے۔ اب مکمل آٹومیشن کا دور آئے گا اور پش بٹن کلچر (Push butten culture) ہر طرف عام ہو جائے گا۔ جینیٹک انجینرنگ نے مصنوعی انسان پیدا کرنے کی بات شروع کر دی ہے۔ مغرب کے مفکرین میں فوکویا نے کتاب لکھی :The End of History (تاریخ کا خاتمہ) یعنی اب انسانی تاریخ اپنے نقطہ عروج کو پہنچ رہی ہے اور مغربی تہذیب کے بعد کوئی تہذیب نہ ہو گی۔ یہ تہذیب ہمیشہ غالب رہے گی۔ یہ سب کہا جا رہا تھا کہ عین اسی اثناء میں گلوبل وارمنگ کا مسئلہ سامنے آ گیا، لائف سپورٹ سسٹم کے ختم ہو جانے کی وارننگ سائنس داں دینے لگے۔ بعض نے تو اس کی مدت کا تعین بھی کر ڈالا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئڈیل کی انسان تمنا کر رہا ہے وہ اس دنیا میں پورا ہونے والا نہیں۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک دوسری دنیا کا ہونا ضروری ہے جسے مذہب کی زبان میں آخرت کہتے ہیں اور اس کا تصور بغیر خدا کے وجود کو مانے ممکن نہیں۔ بے خدا کائنات میں بہت بڑا خلا ہے جبکہ باخدا کائنات کا آغاز بھی بامقصد ہے اور انجام بھی بامعنی، اور یہی خدا کے وجود کی دلیل ہے۔

ملحدین کے جو سوالات و اشکالات عالمی سطح پر مذہب کے سامنے ہیں وہی اشکالات مشرق میں بھی ہیں۔ یہاں بھی جدید تعلیم یافتہ اذہان عموماً وہی اشکالات پیش کرتے ہیں۔ مذہبی ذہن محض روایات و رسمیات سے ان کا جواب دینا چاہتا ہے، جو کہ ناکام طریقہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل مذاہب اور خاص کر مسلمان موجود دور کے سائنسٹفک اسلو ب اور سائنسی ذہن کو سمجھیں۔ آج جینیٹک انجینرنگ جو مسائل لے کر آ رہی ہے اور super human یا Post human کا جو خواب دیکھا جا رہا ہے، سائنٹیفک ڈرگس سے انسان کی ماہیت بدلنے کی تیاری ہے اس کے جذبات و احساسات پر کنٹرول کی بات کی جا رہی ہے۔ ایسے روبوٹ بنائے جا رہے ہیں جو انسانی شعور بھی رکھتے ہوں۔ انسان کو لازوال بننے اور موت پر قابو پانے کا شوق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اس طرح کے پرجیکٹوں پر کام ہو رہا ہے۔ کلوننگ کے نئے تجربات اب بھیڑ بکریوں سے آگے بڑھ کر ذات انسانی پر ہوا چاہتے ہیں۔ یہ جو چیلنج آئے گا اس کے مقابلہ کی کوئی تیاری مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ وہ آج بھی روایتی ذہن سے سوچتا ہے۔ مسلمان علما آج بھی سائنس کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے الحاد جدید کا مقابلہ ان کے بس کی بات نہیں ہے اس کے لیے نئے افراد کار تیار کرنے ہوں گے۔

(نوٹ : اس مضمون کو تیار کرنے میں ڈاکٹر محمد رفیع الدین کی کتاب: قرآن اور علم جدید، مولانا وحید الدین خاں کی کتاب اظہار دین، مذہب اور سائنس اور ماہنامہ اشراق جولائی 2017 المورد لاہور سے خصوصی مدد لی گئی ہے۔ )

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: