یوم دختر ۔ بیٹی کو ماں سے بچانے کا دن — خرم شہزاد

0
  • 45
    Shares

پاکستانی معاشرے میں ایک عمومی رویہ یہی ہے کہ ہمارا مردوں کا معاشرہ ہے اس لیے ہر عیب صرف مردوں میں پایا جاتا ہے، ہر ظلم کرنے والا مرد ہی ہے اور یہاں عورت اپنے کسی بھی روپ میں مرد سے محفوظ نہیں۔ بڑے بڑے آنسو بہاتی عورتیں ہر موقع پر مظلومیت کی چادر اوڑھ کر مردوں کے سر سارے الزامات دھرتے ہوئے ایک طرف ہو جاتی ہیں، جس کے بعد موم بتی مافیا اپنے فنڈز کو حلال کرنے کے لیے خوب خوب موم بتیوں کا خرچہ کر ہے۔ گیارہ اکتوبر دنیا بھر میں بچیوں کے دن کے طور پر منایا گیا اور پاکستان میں بھی جہاں کہیں چھوٹے موٹے پروگرام ہوئے وہاں بچیوں کے لیے مقررین نے اپنے سنہرے خیالات کا اظہار کیا۔ اس دن کو منانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو بچیوں کے حوالے سے تعلیم دی جائے اور بتایا جائے کہ یہ بھی انسان ہیں، انہیں قتل نہیں کیا جا سکتا اور لڑکوں کے ساتھ ان کے برابر کے حقوق ہیں۔ ہر معاشرے اور تہذیب میں اس دن کو منانے کے حوالے سے تقاریر کی نوعیت مختلف رہی ہو گی۔ بھارت میں دیوی کے مختلف روپ زیر بحث آئے ہوں گے اور درگا ماں ، کالی ماتا سے لے کر اور بہت سے حوالوں سے ناری کے لیے جذبات جگائے گئے ہوں گے، اسی طرح ہمارے ہاں مختلف احادیث بیٹیوں کے لیے سنا کر اس دن کی اہمیت اجاگر کی جاتی رہی ہے۔ کہیں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی لڑکیوں کا رونا رویا گیا تو کہیں کم عمری کی شادی کو بھی موضوع بحث بنایا گیا لیکن پورے دن میں کہیں کوئی ایک بھی پروگرام مجھے ایسا دیکھنے کو نہیں ملا جس میں کسی ماں کو بھی بیٹی کی عزت اور تکریم کرنے کی تلقین کی گئی ہو۔

اپنے پڑھنے والوں سے بہت معذرت لیکن میرے تجربات اس حوالے سے بہت تلخ رہے ہیں۔ ہم ایک اسلامی معاشرے کا حصہ ہیں جو کہ ہندو معاشرے کی بنیادوں پر کھڑا ہے اور ہزار بارہ سو سال گزرنے کے باوجود بھی ہمارے ہاں سوچ کی بہت زیادہ تبدیلی ممکن نہیں ہو سکی۔ ہمارے ہاں آج بھی ایک عورت ماں بنتے ہوئے بیٹے کی ماں بننے کی دعا کرتی ہے تاکہ وہ ایک طاقتور بہو کے روپ میں سسرال میں اپنا مقام بنا سکے اور اگر یہ عورت بڑی بہو ہو تو خاندان کو وارث دیتے ہوئے اس کی گردن میں آئی ہوئی اکڑ اور باتوں میں موجود تن فن تو دیکھنے والا ہوتاہے۔ ایک بیٹی کی ماں ہونا آج بھی ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے باعث افسوس ہی ہوتا ہے اگرچہ وہ اس کی ذمہ داری بھی مختلف حوالوں سے مردوں پر ہی ڈالتی ہے لیکن چند فیصد مردوں کا قصور سب کے سر ڈالنا بھی تو کوئی اچھی بات نہیں۔ گھر کے عمومی کاموں اور کھانے پینے میں بھی لڑکے اور لڑکی کے درمیان تفریق سب سے زیادہ ایک ماں ہی کرتی ہے۔

تعلیم کی بات آ جائے تو ’’تم نے سسرال جا کر ہانڈی روٹی ہی کرنی ہے ، اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرو گی‘‘۔۔۔ والا جملہ بھی ماں سے ہی سننے کو ملتا ہے اور یہ ماں ہی ہوتی ہے جو لڑکی کے باپ کے کان بھرتے ہوئے اپنی مرضی کا فیصلہ کرواتے ہوئے لڑکی کی تعلیم کا سلسلہ رکوانے میں کامیاب بھی ہوتی ہے۔ مجھے آج تک لڑکیوں کے تعلیم کے لیے باپ کو رکاوٹ بنتے دو تین فیصد سے زیادہ مرد حضرات دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ آپ بے شک قبائلی حضرات کی مثال دے سکتے ہیں لیکن وہاں بھی انفرادی رکاوٹ بہت کم ہوتی ہے اگرچہ اجتماعی سوچ کے خلاف چلنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے بعد شادی کی عمر آتے ہی لڑکیوں کے مسائل بڑھانے میں ان کی مائیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان میں ستر سے اسی فیصد غلط جوڑ مائیں بناتی اور بنواتی ہیں، کہیں اپنی انا اور ضد کی وجہ سے اور کہیں روپے پیسے کے لالچ میں، کہیں صرف اس لیے کہ بیٹی ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے بس جو بھی مل جائے کر دو۔ کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہوتا کہ لڑکی ہاتھ سے کیوں اور کس لیے نکلتی جا رہی ہے، وہ جو برسوں آپ نے پردہ پوشی کی تھی، کیا اس کے نتائج نہیں آنے تھے۔ ہمارے ہی معاشرے کا ایک تضاد یہ بھی ہے کہ لڑکیاں اپنی ماوں کے قریب نہیں ہوتیں بلکہ باپ اور بھائیوں کے قریب ہوتی ہیں کیونکہ مائیں تو اس وقت بیٹوں کو قابو کرنے میں لگی ہوتی ہیں تاکہ گھر پر حکومت مزید مضبوط کی جا سکے۔ اسی لیے بیٹیاں اگر کسی کو پسند کرتی ہوں تو کسی سے اظہار نہیں کر سکتیں۔ یہی لڑکیاں اگر گھر سے بھاگ جائیں تو ان کی جان کی سب سے بڑی دشمن بھی ان کی اپنی مائیں ہی ہوتی ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ہمیشہ مرد کو ہی قصور وار گردانا جاتا ہے لیکن کیا کسی نے آج تک یہ کھوجنے کی کوشش کی ہے کہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو گھر واپس لانے کے لیے منانے ماں گئی تھی اور پھر لڑکی کو کمرے میں بند کر کے شوہر اور بیٹوں کو سب ظلم کرنے کا موقع بھی یہی ماں ہی دیتی ہے۔ میرے پاس کراچی کے ایک گھر کی دو سال پرانی تصویر موجود ہے جس میں ایک ماں نے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی بیٹی کو منا کر واپس لا کر خود اپنے ہاتھوں سے آگ لگائی تھی۔

ہم عورت کے ساس ، نند ، بھاوج یا کسی اور رشتے کی ابھی بات نہیں کر رہے بلکہ ایک ماں کے رشتے کی بات کر رہے ہیں جس کا سامنا اس کی اپنی بیٹی کو کرنا پڑتا ہے۔ پرانی باتوں کو چھوڑتے ہوئے ابھی کل کی بات ہے کہ کراچی میں نیپئر کالونی کی ایک ماں نے اپنی آٹھ ماہ کی بچی کسی جاننے والے کو دے کر پہلے اغوا پھر جنات کے لے جانے کا ڈرامہ کرتی رہی ہے۔ اسی دوران ایک اور خبر بھی چلتی رہی کہ ایک بچہ لاپتہ ہے جس کی لاش کچھ دن بعد گلی سے ملی۔پولیس کی تفتیش میں پتہ چلا کہ اسے بھی ماں نے ہی مار کر گلی میں ایک بیگ میں ڈال کر رکھ دیا تھا۔ ماوں کے ہاتھوں اپنی ہی بچوں اور خاص کر بیٹیوں پر جس طرح سے ظلم کئے جا رہے ہیں یہ صورت حال معاشرے کو کسی اور ہی سمت میں لے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ہم ظلم اور جبر کی خبریں سنتے ہیں اور مردوں کے معاشرے میں سارا کیا دھرا مردوں کے سر ڈال کر سکون سے آنکھیں موند لیتے ہیں جبکہ حقیقت اتنی بھی سادہ نہیں رہی۔ کیبل اور سمارٹ فونز گاوں دیہات میں ٹیوب ویلوں تک پہنچ گئے ہیں اور اب تو دیہات کی عورت کو بھی پتہ ہے کہ میرے حقوق کا فلاں بل پاس ہو گیا ہے۔ آج گاوں کی عورت بھی شہری عورتوں کی طرح بچوں کے کم سے کم جھنجھٹ میں پڑنے کا پلان بنا رہی ہے اور اس کے جن پیروں تلے جنت کی بات کی جاتی ہے وہ ان میں سے ایک پیر اپنی آزادی اور روشن خیالی کے نام پر بھٹکنے میں مصروف ہے تو دوسرا بہکاوں اور دوسروں کی باتوں میں ازل سے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔

گیارہ اکتوبر بیٹیوں کے نام ہے اور ہر سال یہ دن کسی نئے تھیم اور خیال کے تحت منایا جاتا ہے۔ جس طرح سے ہمارے معاشرے میں مائیں اپنی بیٹیوں کے ساتھ بے حس ، ظالم اور سفاک ہوتی جا رہی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ بہت جلد ہم بیٹیوں کو ماوں سے ، ان کی اپنی سگی ماوں سے بچانے کے خیال سے بھی یہ دن منا رہے ہوں گے اور یہ دن کوئی بہت دور کی بات نہیں ہوگا۔ اسلام ہمیں بیٹی کی اہمیت اور پیار سے بارہ سو سال میں آشنا نہیں کر سکا تو کیا سال کا ایک دن ہمیں بیٹی کی محبت کا قائل کر سکے گا، میں تو سوچ رہا ہوں، آپ بھی سوچیں ، شاید کوئی حل نکل ہی آئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے : ہراسگی, صنف نازک اور فیشن — ڈاکٹر مریم عرفان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: