ڈرامہ یا سازش — سید ریحان احمد

0
  • 69
    Shares

بھائی یہ سب ڈرامے بازی ہے، مجھے تو یہ حکومتی سازش لگتی ہے، اپوزیشن ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، بلیک لیبل کی بوتل میں شہد تھا اُسے شراب ثابت کرنے کے لئے میرے خلاف حکومت سازش کررہی ہے، شرجیل میمن کی چھاپے میں برآمد ہونے والی بوتلوں میں دراصل شہد اور زیتون کا تیل تھا، یہ میڈیا والے ہر وقت ڈرامے بازی کرتے رہتے ہیں، یہ نئی بہو تو ایک نمبر کی سازشی ہے، یہ الیکشن ہم نے جیتا ہُوا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے خلاف سازش کرکے ہمیں ہرادیا وغیرہ وغیرہ۔ آج اس طرح کہ کلمات زبان زد عام ہیں، بقول فیض صاحب

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

کسی زمانے میں یہ سازشی کیفیت ایک نفسیاتی بیماری کہلاتی تھی، اور اس مرض میں مبتلا شخص سارے زمانے کو سازشی قرار دیتے ہوئےاپنا دشمن سمجھتا تھا مگر اب یہ بیماری ہماری اجتماعی نفسیات کا حصہ بن گئی ہے.

اس کے کئی محرکات ہیں جن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک خدادادِ پاکستان میں تمام حکومتی ادارے، سیاسی جماعتیں، افواج، عدلیہ عوامی اعتماد کھوچکے ہیں گزشتہ سات دہائیوں میں ایک طرف جہاں ہر نئی آنے والی حکومت جمہوریت کے لبادے میں اپنے پیسے کھرے کرنے میں مصروف ہے تو دوسری جانب ہمارے سابقہ فوجی آمر اور اشرافیہ ہاوؑسنگ سوسائیٹیز، بینکس، جوتوں اور کھاد کی فیکٹریاں لگانے اور کاروبار کو وسعت دینے میں مصروف ہے مظلوموں اور بے کسوں کے لاکھوں مقدمات عدالت میں زیرالتوا ہیں اور چیف جسٹس ڈیم بنانے اورہچکی فلم دیکھنے کے مشورے دے رہے ہیں اور وزراِاعظم بھینسیں خریدنے اور فروخت کرنے میں مگن ہیں ریاستی اداروں میں سفارش اور رشوت کے بغیر پرندہ پر نہیں مارسکتا، سیاسی جماعتیں موروثی، لسانی یا اسلامی ہیں اور اپنی ستر سالہ کارکردگی کی بنیاد پر عوامی اعتماد کھوچُکی ہیں کوئی اُمید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی کے مصداق تیرگی اس قدر مسلسل ہے کہ روشنی کی اُمید دلانے والا بھی سازشی نظر آتا ہے یعنی معاشرے کی کوئی قدر، جہت، نظریہ، ادارہ، اکائی اب اس قابل نہیں رہی جس پر اعتماد کیا جاسکے

یہ بداعتمادی احساس محرومی کو جنم دیتی ہے اور زندہ معاشروں میں انقلاب کی بنیاد بنتی ہے مگر ہمارے اس اقدار، شعور اور نظرئے سے عاری معاشرے میں اس احساس محرومی کا شکار فرد متوقع ردعمل دینے کے بجائے اسے ڈرامے بازی یا سازش کی ٹوکری میں پھینک کر وقتی طور پر پرسکون ہوجاتا ہے یا پھر سوشل میڈیا پر جگالی شروع کردیتا ہے مگر آواز جہاں اُٹھانی چاہیئے نہیں اُٹھاتا قدم جہاں بڑھانا چاہئے نہیں بڑھاتا بس مسائل کا رونا روتا رہتا ہے مگر وہ شاید جانتا نہیں

کچھ نہ کہنے سے بھی چھین جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

ہم اُن مسائل کا شکار ہوچکے ہیں جن کا شمار دیگر ممالک میں مسائل میں نہیں ہوتا مثلا میرا تین برس کا بھانجا دبئی سے پہلی بار پاکستان آیا حسب معمول لائٹ چلی گئی اُسکی بے چینی اورحیرانی اوربار بار سوئچز کو آن آف کرنااور پنکھے کو گھورنا دیدنی تھا ہم نے کہا بیٹا لائٹ چلی گئی لائٹ جانا کیا ہوتا ہے اس تصور سے وہ عاری تھا مگر اگلے روز وہ اس کا عادی ہوگیا اور جب لائٹ گئی تو چیخ کر بولا لائٹ چلی گئی اور ہم اپنی ہمشیرہ کے استفسار پر گویا ہوئے یہ سب کے الیکٹرک کی ڈرامہ بازی ہے اور حکومتی سازش، تاکہ عوام ان چھوٹے چھوٹے مسائل بجلی، پانی، گیس، پیٹرول، دودھ، آٹا، بسوں کے کرائے وغیرہ میں گھرے رہیں اور اصل مسائل پر آواز نہ اُٹھاسکیں۔۔۔۔۔۔ دیکھو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: